وجود

... loading ...

وجود

وزارت دفاع نے کے الیکٹرک چینی فرم کو فروخت کرنے کی اجازت دیدی

هفته 30 ستمبر 2017 وزارت دفاع نے کے الیکٹرک چینی فرم کو فروخت کرنے کی اجازت دیدی

تہمینہ نقوی
وفاقی وزارت دفاع نے ابراج کمپنی کو کے الیکٹرک میں اپنے 66.4 فیصد شیئرز چین کی شنگھائی الیکٹرک پاور کو فروخت کرنے کی اجازت دیدی ہے ۔اطلاعات کے مطابق کے الیکٹرک کو اپنے 66.4 فیصد شیئرز کی شنگھائی الیکٹرک پاور کو فروخت سے کم وبیش ایک بلین ڈالر ملیں گے۔
کے الیکٹرک کو اپنے شیئرز چینی کمپنی کو منتقل کرنے کے حوالے سے وزارت داخلہ پہلے ہی اجازت دے چکی ہے اس طرح وزارت دفاع کی اجازت کے بعد اب اس سودے کو حتمی شکل دینے کی راہ ہموار ہوگئی ہے،تاہم وزارت دفاع نے اس سودے کی منظوری کے ساتھ یہ شرط بھی عاید کی ہے کہ کے الیکٹرک کی خریدار چینی کمپنی کو تمام دفاعی تنصیبات کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی جاری رکھنے کی ضمانت دینا ہوگی۔
کے الیکٹرک کے پاس موجود 66.4 فیصد شیئرز کی فروخت کے لیے اس سے قبل کئے جانے والے معاہدے اور اس کے بعد اس میں ترمیم کے معاہدے کی مدت بھی ختم ہوچکی ہے اس لیے اب نجکاری کمیشن نے پاور ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ اب ایک نیا قانونی معاہدہ کیاجائے جس میں خریدار کو دفاعی تنصیبات کو بلا تعطل بجلی فراہم کرنے کی ضمانت کی شق بھی شامل کی جائے تاکہ خریدار کمپنی دفاعی تنصیبات کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کی پابند ہو اور اس معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکے۔اطلاعات کے مطابق نجکاری کمیشن نے کے الیکٹرک کو شیئرز کی خریدوفروخت کامعاہدہ کمیشن کے ساتھ شیئر کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن کے الیکٹرک نے اس سے انکار کردیا۔
تجارتی کمپنیوںکی خریدوفروخت اور ان کے مالکان میں تبدیلی کوئی نئی بات نہیں ہے، دنیا بھر میں موجود ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی اپنا خسارہ یا اخراجات کم کرنے اور منافع میں اضافے کے لیے ایک دوسرے میں ضم اور فروخت کی جاتی ہیں،اس اعتبار سے کے الیکٹرک کی فروخت کے حوالے سے اس خبر پر کسی کوتعجب نہیں ہونا چاہئے ،لیکن کے الیکٹرک اور عام کاروباری کمپنیوں میں ایک فرق یہ ہے کہ کے الیکٹرک اس شہر کے کم وبیش ڈیڑھ کروڑ عوام کو بجلی فراہم کرنے والا واحد ادارہ ہے یعنی اس ادارے کو شہر کی بجلی کی تیاری اور فراہمی پر اجارہ داری حاصل ہے ، اس لیے اس کی فروخت سے قبل یہ دیکھاجانا ضروری ہے کہ یہ کمپنی جس کے حوالے کی جارہی ہے اس کے ماضی کاریکارڈ کیا ہے، اور آیا یہ کہ وہ اس شہر کے عوام کو بلاتعطل بجلی فراہم کرنے کی ذمہ داری پوری کرنے کی اہلیت رکھتی بھی ہے یانہیں، یہ کا م یقینا ارباب حکومت اور خاص طورپر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی یعنی نیپرا کا ہے ، لیکن ایسا معلوم ہوتاہے کہ ارباب اختیار اور نیپرا کے حکام نے اس حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے کچھ نہیں کیاہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے ، کے الیکٹرک کی خریداری کا معاہدہ کرنے والی شنگھائی الیکٹرک اگرچہ عوامی جمہوریہ چین کی زیر نگرانی کام کرنے والے متعدد اداروں میں سے ایک ہے اور یہ ادارہ پاکستان میں ایک ایٹمی پلانٹ بھی چلارہا ہے جس کے بارے میں ابھی تک کوئی شکایت منظر عام پر نہیں آئی ہے لیکن اس کے باوجود اگر شنگھائی الیکٹرک کا سابقہ ریکارڈ کچھ اچھا نہیں ہے اوراطلاعات یہ بھی ہیں کہ یہ کمپنی ان اداروں میں شامل ہے جن کا نام پانامہ پیپرز میںکرپٹ طریقہ کار اختیار کرنے والی کمپنیوں میں شامل ہے اور اس پر مالٹا میں 360 ملین ڈالر کی کرپشن کے سنگین الزامات بھی سامنے آچکے ہیں۔ظاہر ہے کہ مالٹا جیسے چھوٹے اور کم وسیلہ ملک میںمبینہ طورپر اتنی بڑی کرپشن میں ملوث بتائی جانے والی کسی کمپنی کو کراچی جیسے شہرکے لیے بجلی کی تیار ی اور فراہمی کی ذمہ داری سونپ دیاجانانہ صرف یہ کہ کسی طوربھی اس شہر کے لوگوں کیلیے مناسب نہیں ہوگا بلکہ اس طرح کامعاہدہ اس شہر کے لوگوں کیلیے جو پہلے ہی بنیادی سہولتوں کی کمیابی اور عدم فراہمی پر شدید ذہنی کرب کاشکار ہیں ایک مذاق کے مترادف ہے۔ اصولی طورپر نیپرا کو اس معاہدے کی منظوری دیتے ہوئے وزارت دفاع کی طرح اس کمپنی کو شہریوں کوبلاتعطل بجلی کی فراہمی اور شہریوں سے غیر قانونی طورپر زائد بلوں کی وصولی اور اوور بلنگ کاشکار نہ بنانے کی ضمانت حاصل کرنا تھی تاکہ شہریوں کو لوڈ شیڈنگ اورہوشربا بلوں کے اس عذاب سے نجات مل سکتی جو کے الیکٹرک نے ان پر مسلط کررکھا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ملک میں احتساب کاعمل تیز ہونے اور اس حوالے سے سپریم کورٹ کی جانب سے سخت موقف اختیارکئے جانے کے بعد کے الیکٹرک کے موجودہ کسٹوڈین ابراج کمپنی اس معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ وہ اس ڈیل میں سے اپنے حصے کی رقم وصول کرکے بیرون ملک منتقل ہوسکیں۔ اس حوالے سے اطلاعات کے مطابق کے الیکٹرک کے کرتا دھرتا افسران نے گزشہ دنوں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے بھی ملاقات کی تھی اور اس ڈیل کو جلد مکمل کرنے کے حوالے سے ان سے مدد اور تعاون کی درخواست کی تھی۔بعض حلقوں کاخیال ہے کہ وزارت دفاع کی جانب سے ادارے کی شنگھائی الیکٹرک پاور کو فروخت کی منظوری اس ملاقات کے نتیجے ہی میں ممکن ہوئی ہے۔ وزارت دفاع نے معاہدے کی منظوری دیتے ہوئے خریدار کمپنی کو دفاعی تنصیبات کو تو بلاتعطل بجلی کی فراہمی کی شرط عاید کردی لیکن اس شہر کے کم وبیش ڈیڑھ کروڑ عوام کے مفادات کے تحفظ کی کوئی شق اس معاہدے میں شامل کرنے کی سفارش نہیں کی ہے جس کی وجہ سے اس معاہدے پر اس شہر کے عوام میں تشویش پیداہوناایک فطری امر ہے کیونکہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتاکہ اس سے قبل نومبر2005 میںکے ای ایس سی کے 73 فیصد شیئرز سعودی عرب کی الجمیرہ ہولڈنگ کمپنی کے سپرد کئے گئے تھے تو بھی اس شہر کے عوام کو یہ تاثر دیاگیاتھا کہ اس معاہدے کے نتیجے میں کراچی کے شہریوں کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے گی اور اس کمپنی کی جانب سے کی جانے والی سرمایہ کاری کے نتیجے میں شہر کے لوگوں کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات مل جائے گی ،تاہم یہ تمام وعدے اور دعوے تصوراتی ثابت ہوئے جنھیں سبز باغ سے زیادہ کوئی اور نام نہیں دیاجاسکتا۔ آج سے 11سال قبل29نومبر 2005 میںجب حکومت نے کے ای ایس کے73 فی صد شیئرز اور اس کا انتظامی کنٹرول سعودی عرب کی الجمیرہ ہولڈنگ کمپنی کے سپرد کردئے تھے توکے ای ایس سی کاانتطام الجمیرہ کمپنی کے سپرد کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نجکاری سے متعلق امور کے اس وقت کے وفاقی وزیر نے اپنی تقریر میں دعویٰ کیا تھا کہ کے ای ایس سی کی نجکاری سے اس ادارے کی کارکردگی بہتر ہوگی اور صارفین کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی کی صورت حال میں بہتری آئے گی۔ کے ای ایس سی کی نجکاری اور اس کا انتظام غیر ملکی کمپنی کے حوالے کئے جانے کے موقع پر ارباب اختیار نے کے ای ایس سی کی نجکاری کے اس فیصلے کو بجلی کے شعبے میں ترقی کی جانب ایک اہم قدم اورایک سنگ میل قرار دیا تھا۔کے ای ایس سی کاانتظام سنبھاتے ہوئے اس ادارے کے اس وقت کے چیف ایگزیکٹو انجینئر فرینک شمٹ نے کہاتھا کہ وہ اس شہر کو حقیقی معنوںمیں روشنیوں کاشہر بنادیں گے اور کے ای ایس سی کومزید سرمایہ کاری، بہتر ٹیکنالوجی کے حصول اوراستعمال اورملازمین کے حالات کار بہتر بناکر صارفین دوست ادارہ بنادیں گے۔ ادارے کی نجکاری کے وقت طے پانے والے سمجھوتے کے تحت بھی کے ای ایس سی کے نئے منتظمین کو ادارے میں 3 سال کے عرصے میں 50 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا تھی،جس میں سے 2005-2006 کے دوران ایک نئے بجلی گھر کے قیام پرساڑھے 7کروڑ ڈالر خرچ کرنا تھے اور اس مجوزہ نئے بجلی گھر کوایک سال کے اندر ہی موسم گرما کے دوران بجلی کی پیداوار شروع کردینا چاہئے تھی،لیکن حقیقت میں کیا ہوا وہ سب کے سامنے ہے کے ای ایس سی کی نجکاری کے بعد کراچی میں بجلی کا بحران کم ہونے کے بجائے برابر بڑھتا چلاجارہا ہے ،جس کی وجہ سے روشنیوں کایہ شہر تاریکی کے عمیق غار میں گرتا چلاجارہا ہے،کراچی میں بجلی کے بحران نے جہاں اس شہر کے مکینوں کا دن کاچین اور رات کا آرام چھین لیا ہے وہیں بجلی کی اس طویل بندش نے اس شہر کی صنعتی اورکاروباری سرگرمیوں کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے ، جس سے صنعتکاروں اور تاجروں کے ساتھ ہی متوسط اور خاص طور پر غریب مزدور طبقے کے مسائل ومشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے اوران کے لیے اپنی روزی پیدا کرنا مشکل ہوگیا ہے۔بعد ازاں الجمیرہ ہولڈنگ کمپنی نے اس کمپنی کے اثاثوں یہاں تک اس کے بلک صارفین تک کو بینکوںمیں گروی رکھ کر یہ کمپنی 2009 میںخاموشی سے361 ملین ڈالر میں متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے ابراج گروپ کو فروخت کردی اس فروخت کے معاہدے کے وقت بھی شہریوں کو بجلی کی فراہمی بہتر بنانے کاخواب دکھایاگیاتھا ابراج گروپ کے چیف ایگزیکٹو نے یقین کے ساتھ کہاتھا کہ وہ اس ادارے کو بہت جلد منافع دینے والے ادارے میں تبدیل کردیں ، ادارے کو منافع بخش ادارہ بنا دینے کے حوالے سے انھوں نے اپنا وعدہ پورا کیا جس کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ اب کے الیکٹرک سالانہ کم وبیش 22 ارب روپے سالانہ منافع کما رہا ہے اس طرح کے الیکٹرک اس ادارے کی خریداری پر خرچ کی جانے والی رقم سے کہیں زیادہ منافع کمانے کے بعد اب شنگھائی الیکٹرک سے 1.77 بلین ڈالر بھی وصول کررہاہے ،لیکن اس ادارے کو منافع بخش بنانے کے لیے اس شہر کے عوام کو کس طرح پیسا اور نچوڑا گیا وہ سب کے سامنے ہے۔
وزارت دفاع کی جانب سے کے الیکٹرک کی فروخت کے لیے کلیئرنس فراہم کئے جانے کے بعد اگرچہ کے الیکٹرک اور شنگھائی الیکٹرک پاور کے درمیان ڈیل کی راہ میںبظاہر کوئی بڑی رکاوٹ باقی نہیں رہی لیکن اس ڈیل سے قبل کے الیکٹرک کو ادارے پر مختلف اداروں کے واجبات کی ادائیگی کرنا ہوگی۔ایک اطلاع کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی اور نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی ( این ٹی ڈی سی) کا کے الیکٹرک پر گیس ، بجلی کی لاگت اور ادائیگی میں تاخیر پر سرچارج کی شکل میں 1.24 بلین ڈالر کادعویٰ ہے اور کے الیکٹرک کو ڈیل سے قبل اس دعوے کے حوالے سے معاملات طے کرنا ہوں گے۔ابراج گروپ ان واجبات پر سود یا منافع ادا نہیں کرنا چاہتااور اس کی خواہش ہے کہ اصل رقم پر تصفیہ کیاجائے،ابراج گروپ کاموقف یہ ہے کہ چونکہ مارک اپ کی ادائیگی کامعاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس لیے اس کو ڈیل سے نہیں جوڑنا چاہئے جبکہ سوئی سدرن گیس اور پاور ڈویژن کے الیکٹرک کے اس موقف کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں، دوسری جانب ابراج گروپ کے سامنے یہ مشکل بھی حائل ہے کہ معاہدے کے مطابق اسے اس سال کے آخر تک یعنی دسمبر کے آخری ہفتہ تک اس ڈیل کو مکمل کرناہے ورنہ ڈیل منسوخ ہوجائے گی اور پھر اسے تمام معاملات از سرنو طے کرنا ہوں گے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ بین الوزارتی کمیٹی جو اس ڈیل کی راہ کی رکاوٹوں کودور کرنے کے لیے تشکیل دی گئی ہے اور جس کا اجلاس گزشتہ دنوں وزیر خزانہ کی عدم دستیابی کی وجہ سے منسوخ کرنا پڑا تھا ،اس حوالے سے کیافیصلہ کرتی ہے۔جہاں تک پاور ڈویژن کاتعلق ہے تو سیکریٹری پاور ڈویژن یوسف نسیم کھوکھر کاکہناہے کہ ہمارے لیے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں کتنی رقم ملتی ہے جس کے بارے میں ابھی تک ہمیں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ واجبات کی ادائیگی کامعاملہ کے الیکٹرک کو ہی طے کرناہوں گے اور اس کے بغیر یہ ڈیل نہیں ہوسکے گی،یوسف نسیم کھوکھر کاکہنا ہے کہ بین الوزارتی کمیٹی اس معاملے کو دیکھ رہی ہے اورتمام معاملات طے ہونے کے بعد ہی یہ ڈیل مکمل ہوگی اوراس ادارے کوشنگھائی الیکٹرک کے حوالے کیاجاسکے گا۔ تاہم یوسف نسیم کھوکھر نے بھی عوام کو ریلیف کی فراہمی کے حوالے سے ڈیل میں کوئی شرط رکھے جانے کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا ان کاکہنا تھا کہ ان تمام معاملات کا فیصلہ بین الوزارتی کمیٹی ہی کرے گی۔


متعلقہ خبریں


عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

مضامین
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

ہندوتوا کی حجاب کے خلاف مہم وجود منگل 16 جون 2026
ہندوتوا کی حجاب کے خلاف مہم

عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر