وجود

... loading ...

وجود

پاکستان کے تجارتی خسارے میں مسلسل اضافہ،شاہدخاقان عباسی کے قابل تقلید اقدام

جمعرات 28 ستمبر 2017 پاکستان کے تجارتی خسارے میں مسلسل اضافہ،شاہدخاقان عباسی کے قابل تقلید اقدام

تہمینہ ایچ نقوی
سرکاری اعدادوشمار سے ظاہر ہوتاہے کہ پاکستان کے تجارتی خسارے میں مسلسل اضافہ ہورہاہے اورہماری وزارت خزانہ ملک کو اس پریشان کن صورت حال سے نجات دلانے کے لیے اب تک کوئی قابل عمل حکمت عملی تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے ، جس کااندازہ اس طرح لگایا جاسکتاہے کہ سرکاری اعدادوشمارکے مطابق گزشتہ 8ماہ میں 20 ارب ڈالر سے زائد تجارتی خسارہ ریکارڈ کیا گیا ،اعدادو شمار سے یہ بھی ظاہرہوتاہے کہ پاکستان میں گزشتہ 2 ماہ کے دوران موبائل فونز کی درآمدات میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ ملک میں موبائل فونز کی مانگ بڑھ گئی ہے اور سابق صدر جنرل پرویز مشرف موبائل فونز کی فروخت میں اضافہ عوام کی قوت خرید میں اضافے اور ان کامعیار بلند ہونے کاپیمانہ قرار دیتے تھے۔گزشتہ 8 ماہ کے دوران صرف موبائل فونز ہی نہیں بلکہ کاروں کی درآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا۔ریکارڈ کے مطابق کاروں کی درآمدات میں 108 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔وفاقی حکومت کے ادارے محکمہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی اور اگست 2017 میں موبائل فونز کی درآمدات میں 40 فیصد اضافہ ہوا، تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ کس طرح کے موبائلز کی درآمدات زیادہ ہوئیں۔اعداد و شمار کے مطابق اسی عرصے کے دوران کاروں کی درآمدات میں بھی 108 فیصد اضافہ ہوا، اور 2 ماہ میں مجموعی طور پر 105 ارب روپے کی کاریں درآمد کی گئیں۔جولائی اور اگست 2017 کے درمیان پیٹرولیم مصنوعات کی دیگر درآمدات میں بھی اضافہ ہوا، اور مجموعی طور پر 214 ارب روپے کی پیٹرولیم کے شعبے میں درآمدات کی گئیں۔ادارہ شماریات کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ 8ماہ کے دوران ملک میں 10ارب روپے کی چائے درآمد کی گئی، جب کہ اسی عرصے کے دوران 37 ارب 90 کروڑ روپے کا پام آئل بھی درآمد کیا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے اگست 2017 تک 10 ارب 81 کروڑ روپے کی دالیں، جب کہ 118ارب روپے کی دیگر کھانے پینے کی اشیا درآمد کی گئیں۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا ایٹمی اسلحہ اور دیگر سامان حرب کے انبار کسی ملک کے مضبوط اور مستحکم ہونے کے لیے ضروری ہے لیکن اب ملکوں کی ترقی اور طاقت کااندازہ اس کے پاس موجود صرف ایٹمی اسلحہ اور دیگر اسلحہ سے نہیں کیاجاتا بلکہ آج خود کو ’’زبر‘‘ اور دوسرے کو ’’زیر‘‘ کرنے کا سب سے موثر ہتھیار ترقی یافتہ مضبوط معیشت ہے اس کی تازہ ترین مثال سویت یونین ہے جو امریکہ سے زیادہ عسکری قوت کے باوجو د کمزور معیشت کے باعث امریکہ کی ہمسری کرنے سے قاصر ہے، دوسری مثال چین کی ہے جوتیز رفتار معیشت اور صنعتی ترقی کی بدولت پوری دنیا کی مارکیٹوں پر چھایا ہوا ہے صدر ایوب خان کے دور میں پاکستان بھی صنعتی ترقی کی دوڑ میں شامل ہوا مختلف صنعتوں بالخصوص ٹیکسٹائل صنعت کے جال نے ترقی و خوشحالی کے نئے امکانات روشن کئے پاکستانی برآمدات صنعتی ترقی یافتہ ملکوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بن گئے پھر ان ممالک نے اس وقت سکھ کا سانس لیا جب ذوالفقار علی بھٹو کے نیشنلائزیشن کے اقدام نے صنعتی ترقی کے عمل کو سبوتاژکردیا۔ بعد ازاں مختلف اقدامات و مراعات کے ذریعے نجی شعبے کی ڈھارس بندھائی گئی اور ملک میں صنعت و تجارت کو دوبارہ سنبھالا ملا۔
موجودہ حکومت نے غالباً اس راز کو سمجھنے کی کوشش نہیں کہ اپنی بقا ‘ ترقی اور دوسرے سے آبرومندانہ تعلقات کے لیے سفارتی و دیگر اقدامات کے ساتھ ایک موثر ذریعہ تجارت بھی ہے چنانچہ کاروبار دوست سوچ پر مبنی پالیسی اپناناضروری ہے ،اس حوالے سے یہ خبر دل خوش کن ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بیرونی تجارت کی جانب سنجیدگی سے توجہ دیتے نظر آرہے ہیںاور اس کے دْوررس نتائج کا حصول ناممکننہیں ہوگا۔
لندن میں تجارتی کمپنیوں کے سربراہوں اور نیویارک میں غیر ملکی سربراہوں سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ملاقاتوں کو اس پس منظر میں دیکھا جاسکتا ہے ان ملاقاتوں میں دو طرفہ علاقائی بین الاقوامی معاملات کے ساتھ باہمی تجارت پر بھی قابل ذکرتوجہ دی گئی ،شاہد خاقان عباسی نے لندن میں جنرل الیکٹرک کے وائس پریذیڈنٹ جان رائس سے ملاقات کی انہوں نے کہا پاکستان میں بیرونی کمپنیوں کی سرمایہ کاری کے لیے روشن امکانات کے دروازے کھلے ہیں، جنرل الیکٹرک کے ساتھ دیگر برطانوی کمپنیوں کا بھی خیر مقدم کیا جائے گا ۔پاکستان ثمر آور ’’کنزیومر زسوسائٹی‘‘ہے 20 کروڑ صارفین کی شاندار مارکیٹ بلاشبہ برطانوی صنعت کاروں اور تاجروں کے لیے باعث ِ کشش ہے اور یہ خوش آئند ہے کہ دونوں ممالک باہمی تجارت‘ سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافہ میں گہری دلچسپی لے رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو برآمدات کرنے والی برطانوی کمپنیوں اور برطانیہ کی اشیا وسروسز کی خریداری کرنے والوں کے لیے برٹش ایکسپورٹ کریڈٹ کمپنی اور یو کے ایکسپورٹ فنانس کی رقومات میں 400 ملین پونڈز یعنی 40کروڑپونڈکا اضافہ کیا جارہا ہے جبکہ 200 ملین پونڈ یعنی20کروڑ پونڈ کی اضافی رقم بھی مختص کی جائے گی جس سے برطانوی برآمدکنندگان کو برآمدی معاہدوں کی ادائیگیوں میں مدد ملے گی اسی طرح پاکستانی کاروباری ادارے برطانیہ میں تجارتی سرگرمیوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
پاکستان میں ٹیکسٹائل مصنوعات ‘ ادویات سازی‘ کھیلوں کا سامان‘ انجینئرنگ‘ کٹلری‘ پھلوں میں آم‘ کینو‘ لیگل اور بزنس سروسز جیسے شعبوں کی عالمی اقتصادیات میں جگہ بنانے کے وسیع امکانات ہیں یہ بھی خوش آئند ہے کہ یورپی یونین کی ا سکیم جی ایس پی پلس سے برطانیہ میں پاکستان کے استفادہ کا عمل جاری ہے اور یورپی یونین سے الگ ہونے کے بعد بھی پاکستان کے لیے برطانیہ جی ایس پی پلس کی مراعات جاری رکھے گا وزیر تجارت کے بقول جی ایس پی پلس کے پاکستان پر مثبت اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو یورپی یونین کی حمایت حاصل ہے جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے بینظیر بھٹو کے سانحہ قتل کا ذکر کرتے ہوئے اس کا ذمہ دار جمہوریت اور خواتین کے حقوق کے دشمنوں کو قرار دیا۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ کے ساتھ ساتھ جی ایس پی پلس کی شرائط انسانی و مزدوروں کے حقوق ‘ ماحول کی بہتری اور گڈ گورننس کے سلسلے میں قابل ذکر پیش رفت کررہا ہے۔
تاریخ کے آئینہ میں دیکھا جائے تو پاکستان اور برطانیہ کے باہمی بالخصوص تجارتی تعلقات تو قیام پاکستان کے وقت سے استوار ہوگئے تھے گزرتے وقت نے جس میں اضافہ کیا دونوں دولت مشترکہ اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک ہیں البتہ باہمی تعلقات میں 1972 میں تب رخنہ پڑا جب برطانیہ کے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے پرپاکستان دولت مشترکہ سے الگ ہوگیا۔ تاہم 1989میں پاکستان دوبارہ دولت مشترکہ میں شامل ہوا اگرچہ دونوں ممالک میں فری ٹریڈ ایگریمنٹ نہیں ہے لیکن یکم جنوری 2014 میں ملنے والے جی پی ایس پلس سے پاکستان برطانیہ میں بھی مستفید ہورہا ہے۔ 2014کے بعد حالات میں بہتری آئی دونوں ملکوں کے تاجروں اور سرمایہ کاروں سے ایک دوسرے ممالک کے دورے کئے جس سے نئے تجارتی مواقع پیدا ہوئے اور 2.535 بلین ڈالر کی تجارت ہوئی جو 2013 کے مقابلے میں 14% زیادہ ہے صرف توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں تعاون بڑھنے سے 2015میں 2.5 بلین ڈالر کی تجارت ہوئی۔ پاکستانی برآمدات میںخاطر خواہ اضافہ ہوا بالخصوص خواتین کے کپڑے برطانیہ میں ہاٹ کیک کی طرح فروخت ہوتے ہیں پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ برطانیہ میں مقیم بھارتی خواتین بھی جن کی خریدار ہیں اس وقت برطانیہ کی 100کمپنیاںپاکستان میں کام کررہی ہیں۔
حال ہی میں پیرس میں منعقدہ ٹیکسٹائل مصنوعات کی نمائش میں پاکستان کی 36 کمپنیوں نے شرکت کی۔ جس میں نشاط ملز ‘ کوہ نور‘ سپیرئیر‘ لبرٹی ٹیکسٹائل‘ کمال لمیٹڈ‘ مسعود ٹیکسٹائل اور لکی ٹیکسٹائل بھی شامل ہیں نمائش میں پاکستان کی مصنوعات بالخصوص کاٹن اور جینز میں خصوصی دلچسپی لی گئی اس نمائش سے یورپی مارکیٹ میںپاکستانی مصنوعات کی کھپت اور تجارت کی نئی راہیں کھلیں گی۔
برطانیہ کے بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سربراہان مملکت و حکومت سے ملاقاتوں میں عالمی برادری کو پاکستان میںہونیوالی اقتصادی ترقی سے آگاہ کیا۔ پاکستان امریکہ بزنس کونسل‘ ایران کے صدر حسن روحانی‘ ترکی کے صدر طیب اردگان، امریکی نائب صدر اور دیگر سربراہ سے باہمی تجارت کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا ترکی کے صدر طیب اردگان نے دونوں ملکوں کے مابین فری ٹریڈ ایگریمنٹ کو جلد حتمی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ان ملاقاتوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بذریعہ تجارت ملک کو جلد از جلد معاشی قوت بنانے کی خواہش کا مظہر معلوم ہوتاہے یہ سمجھنے کے لیے کسی بقراط کے ذہن کی ضرورت نہیں کہ کمزور معیشتیں رکھنے والے ممالک کا وجود خطرات کی آندھیوں کی زد میں رہتا ہے ویسے بھی عام کہاوت ہے ’’خالی پیٹ والے کے ہاتھ‘ ہتھیار کا وزن نہیں سنبھال سکتے‘‘۔
اب جبکہ ہمارے وزیر خزانہ خود احتساب کے گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں اور نواز شریف کے لیے منی لانڈرنگ ان کے گلے کی ہڈی بنی ہوئی ایسا معلوم نہیں ہوتاکہ حکومت معیشت کو مستحکم کرنے اور کاروباری خسارہ کم کرنے کے لیے کوئی مثبت حکمت عملی کرسکے گی۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر