وجود

... loading ...

وجود

اسحاق ڈار نے پاکستان کو قرضوں جال میں جکڑدیا‘سودقوم اداکرتی رہے گی

بدھ 27 ستمبر 2017 اسحاق ڈار نے پاکستان کو قرضوں جال میں جکڑدیا‘سودقوم اداکرتی رہے گی

وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر نیب کی جانب سے قائم کردہ مقدمات اور نیب عدالت کی جانب سے ان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے جانے کے بعد بظاہر یہی نظر آتاہے کہ اپنے سمدھی نواز شریف کی طرح انھیں بھی وزارت سے ہاتھ دھونا پڑیں گے ۔صورت خواہ کچھ بھی ہو حقیقت یہ ہے کہ اسحاق ڈار نے اپنے سوا چار سالہ دور میں اس ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے اس طرح دبادیاہے کہ پوری قوم کو برسہابرس تک بھاری رقم سود کے طورپر ادا کرنا پڑے گی اور جو رقم اس ملک کے عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ ہونی چاہئے تھی وہ سود کی ادائیگی پر ضائع ہوتی رہے گی۔
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دور میں لیے گئے قرضوں کاجائزہ لیاجائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ وزیر خزانہ نے محض پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو خوبصورت کرکے پیش کرتے رہنے کے لیے قرض پر قرض حاصل کیا صورت حال کی سنگینی کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ اسحاق ڈار نے صرف رواں سال کے دوران مختلف مالیاتی اداروں سے 2.5 ٹریلین روپے یعنی ڈھائی کھر ب روپے کے قرض حاصل کئے جس کے نتیجے میں رواں سال جون تک پاکستان پر قرضوں کا مجموعی بوجھ 25.1 ٹریلین یعنی 25 کھرب 10 ارب روپے تک پہنچ گیا، قرضوں کے بوجھ میں اس اضافے کی وجہ سے پاکستان پر قرضوں اور اس پر سود اور سروسز چارجز وغیرہ کی ادائیگی کابوجھ بھی بڑھتاچلاگیا اور اب ملک کو برسہابرس تک سود اور سروسز چارجز کی مد میں اپنی مجموعی قومی آمدنی کاایک بڑا حصہ ان مالیاتی اداروں کو ادا کرنے پر مجبور رہنا پڑے گا۔اگرچہ اب بھی حکومتی حلقے اس سنگین صورت حال کے باوجود اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ وزیر خارجہ کی حیثیت سے اسحاق ڈار کی کارکردگی خراب نہیں تھی لیکن اعدادوشمار ان دعووں کی نفی کرتے نظر آتے ہیں۔
اسحاق ڈار کی غلط منصوبہ بندی کاسب سے خوفناک پہلو یہ ہے کہ ان کے دور میں پاکستان پر غیر ملکی قرضوں اور واجبات کی مالیت میں تیزی سے اضافہ ہوا اور گزشتہ مالی سال کے اختتام تک اس کی مالیت 83 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی۔جس کے نتیجے میں اب ملک کو ہرسال ان قرضوں پر سود اور سروسنگ کی مد میں کم وبیش 8.2 بلین ڈالر یعنی کم وبیش8 ارب 20 کروڑ ڈالر ادا کرنا پڑیں اور اس ادائیگی کا سلسلہ قرضوں کی مکمل ادائیگی تک جاری رہے گا،جس کی وجہ سے اس بات کے خطرات اپنی جگہ موجودہیں کہ ملک کو کسی بھی مرحلے پر اس رقم کی ادائیگی کے لیے مزید قرض حاصل کرنے پر مجبور ہونا پڑسکتاہے جس سے قرضوں کی مالیت میں مزید اضافہ ہونا ناگزیر ہے۔اس صورت حال سے یہ ظاہرہوتاہے کہ اب پاکستان پر موجود قرضوں اور سود اور سروسنگ چارجز کی ادائیگی کے لیے ملک کو ہرسال اپنی مجموعی ملکی پیداوار یعنی جی ڈی پی کا 78.7 فیصد حصہ عالمی مالیاتی اداروں کے حوالے کرنا پڑے گا ، جس کے بعد ملک کے بعد اپنی دفاعی ضروریات اور عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے مجموعی قومی پیداوار کا بمشکل 21 فیصد حصہ بچے گا ۔ یہ صورت حال پاکستان جیسے کم وسیلہ اور مسائل میں گھرے ہوئے ملک کے لیے کسی طرح بھی مناسب محفوظ قرار نہیں دی جاسکتی۔اس صورت حال کے پیش نظر اب یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان پرقرضوں کا بوجھ خطرناک حد سے بھی تجاوز کرچکاہے۔اس طرح یہ کہاجاسکتاہے کہ اسحاق ڈار نے پوری قوم کو قرضوں کے ایسے جال میں جکڑ دیاہے جس سے باہر نکلنا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن نظر آرہاہے۔
یہ درست ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کی شرح نمو میں اضافہ ہواہے اور شرح نمو سنگل سے ڈبل ڈجٹ میں آگئی ہے لیکن اس کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان پر واجبات کی شرح ملک کی اقتصادی شرح نمو سے کہیں زیادہ یعنی11 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اورماہر معاشیات اسد عمرنے گزشتہ روز اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاتھا کہ صورت حال خراب نہیں جیسا کہ ہم سوچ رہے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ صورت حال خراب کی حد پار کرکے بدترین کی حد تک پہنچ چکی ہے۔
پاکستان پر واجب الادا بیرونی قرض کے اس بوجھ کے علاوہ حکومت پر اندرونی قرضوں کابوجھ بھی 21.4 ٹریلین یعنی 21 کھرب 40 ارب روپے سے تجاوز کرچکاہے ،اسٹیٹ بینک پاکستان کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران حکومت پر اندرونی قرضوں کی مجموعی مالیت میں 1.732 ٹریلین یعنی ایک کھرب 73 ارب20 کروڑ روپے کااضافہ ہوا۔قرضوں کے اس بوجھ کو چھپانے کے لیے وفاقی وزارت خزانہ نے گزشتہ سال دومرتبہ اندرونی قرضوں کی تعریف تبدیل کی ،وزار ت خزانہ کے دعوے کے مطابق ملک پر اندرونی قرضوں کابوجھ 19.64 ٹریلین یعنی 19 کھرب64 ارب روپے ہے لیکن حزب اختلاف کی پارٹیاں حکومت کے پیش کردہ ان اعدادوشمار کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں اور پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کے پیش کردہ ان اعدادوشمار کو چیلنج کرنے کافیصلہ کیاہے۔ملک پر واجب الادا قرضوں کی مالیت کی شرح ملک کی مجموعی ملکی پیداوار کے
67.2 فیصد کے مساوی ہے۔قرضوں کی یہ شرح ملکی قرضوں کے لیے خود پارلیمنٹ کی جانب سے مقرر کردہ سطح سے کہیں زیادہ اور پارلیمنٹ کے وضح کردہ اصولوں اور ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
پاکستان پر واجب الادا قرضوں کے حوالے سے ان اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ پاکستان اس وقت بارود کے ڈھیر پر بیٹھاہواہے اور اگر مارکیٹ کے دبائو کی وجہ سے کسی بھی وقت پاکستان کو اپنی کرنسی کی قیمت میں کمی کرنے پر مجبور ہونا پڑا تو پاکستان پر واجب الادا قرضوں کی مالیت میں بے تحاشہ اضافہ ہوجائے گا ،جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان زیادہ دنوں تک اپنی کرنسی کی قیمت مصنوعی طورپر اپنی جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکے گا ۔کیونکہ ایسی صورت میں پاکستان کاتجارتی خسارہ بڑھتاچلاجائے گا اور پاکستان کو اس خسارے کاتوازن برقرار رکھنے کے لیے مزید قرض لینے پر مجبور ہونا پڑے گا۔اس صورت حال یہ کہناغلط نہیں ہوگا کہ نااہل قرار دئے گئے وزیر اعظم نواز شریف کے سمدھی اس قوم کابال بال قرض میں جکڑچکے ہیں جس کی وجہ سے قوم طویل عرصے تک قرضوں پر سود ادا کرتے رہنے اور اس طرح پیداہونے والی مہنگائی پر ان کوکوسنے دیتی رہے گی۔

 


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر