وجود

... loading ...

وجود

سندھ کابینہ میں توسیع کیوں ملتوی ہوئی؟

منگل 19 ستمبر 2017 سندھ کابینہ میں توسیع کیوں ملتوی ہوئی؟

حکومت سندھ کے بھی عجیب و غریب فیصلے ہوتے ہیں ۔ وفاقی حکومت اور حکومت سندھ کے مابین روزانہ کھٹ پٹ جاری رہتی ہے۔ لیکن پی پی پی کی اعلیٰ قیادت روزانہ حکومت سندھ پر نت نئے تجربات کرتی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت سندھ چوں چوں کا مربہ بن چکی ہے۔ حکومت سندھ کو وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے فعال تو بنا رکھا ہے لیکن اس کا کیا فائدہ جب کوئی ایک فیصلہ ہی نہ ہو پائے اور کوئی مستقل مزاجی دیکھنے کو نہ ملے۔ حکومت سندھ کو پہلے پارٹی قیادت ایک حکم دیتی ہے اس پر ابھی عمل ہو بھی نہیں پاتا کہ دوسرا حکم اس کے برعکس آجاتا ہے پھر پہلے والا فیصلہ منسوخ کردیا جاتا ہے اور نئے فیصلے پر عمل کرنے کی کوشش شروع کی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت سندھ پارٹی قیادت کے کسی ایک بھی فیصلے کا کھل کر دفاع بھی نہیں کرپا رہی ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ کوئی بھی فیصلہ صلاح مشورے سے نہیں کیا جاتا اس لیے پھر ہوم ورک بھی نہیں ہوپاتا۔ وزراء اور ارکان پارلیمنٹ کے لیے دشوار ہوتا ہے کہ کسی بھی فیصلے کے حق میں دلائل دے سکیں ۔
پارٹی کے فیصلے بھی اچانک غیر متوقع اور حیران کرنے والے ہوتے ہیں ۔ پارٹی کو کون سمجھائے؟ پھر ہر کوئی ایک تماشا دیکھ رہا ہوتا ہے۔ حال ہی میں پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت نے ملک اسد سکندر سے صلح کے بعد سندھ کابینہ میں توسیع کا فیصلہ کیا تو کئی ارکان سندھ اسمبلی کے نام نئے وزراء کے طور پر لیے جانے لگے اور کم از کم تین وزراء کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ یوں تین وزراء کو ہٹا کر تین نئے وزراء لینے کی منظوری بھی دے دی گئی۔اس فیصلے سے جہاں تین وزراء مایوس ہوئے تو تین ارکان سندھ اسمبلی خوشی سے نہال ہوگئے ۔ کیونکہ انھیں صوبائی وزیر بننے کی خوش خبری سنادی گئی تھی۔انھیں انتظارتھا توصرف اس بات کا کہ کب حکم نامہ آئے اوروہ اپنے عہدوں کاحلف اٹھائیں ۔لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔
نئے صوبائی وزراء کے لیے روزانہ نئے نام سامنے آنے لگے۔ جن وزراء کے نام ہٹائے جانے والوں کی فہرست میں شامل تھے ،ان کاپریشان ہوناتولازمی تھالیکن جن کے نام وزراء کے نام ہٹائے جانے والوں کی فہرست میں شامل نہیں تھے ان کو بھی اس لیے پریشانی لاحق ہوگئی کہ ان کو بھی یہ کہا جانے لگا کہ وہ کسی بھی وقت ہٹائے جاسکتے ہیں ۔ اس کاسب سے بڑانقصان یہ ہواکہ وزراء نے اپنے دفاتر ہی آنا چھوڑ دیا اور وہ اپنی وزارت بچانے کے چکر میں لگ گئے۔اس دوران صورتحال دلچسپ اس طرح ہوئی کہ کچھ ہمدرووں نے وزراء کو سمجھایا کہ جاکر بڑوں سے بات کرو ’’کچھ لو ۔ کچھ دو‘‘ کی پالیسی اختیار کرو ۔ مشورہ معقول تھا اس لیے ان وزراء نے سب کام چھوڑ کر ’’بڑے گھر ‘‘ کے چکرلگانا شروع کردیے اور اس گھر کے بڑے ’’مکینوں ‘‘ کو راضی کرنے میں مصروف ہوگئے ۔
کہتے ہیں کہ ڈھونڈنے سے خدا بھی مل جاتا ہے تو ان وزراء نے جب اپنا مشکل کشا ڈھونڈنا شروع کیا تو ان کی مشکل کشائی ہوگئی۔ انہوں نے اب تک’’ محنت‘‘ کرکے جو کچھ ’’حاصل‘‘ کیا تھا وہ نذرانے کے طور پر پیش کردیا۔ ’’بڑوں ‘‘ کو ان وزراء کی یہ ادا بہت پسند آئی اور انہوں نے وزراء کی پیٹھ پر تھپکی دیتے ہوئے کہا کہ جاؤ بچو جاکر اپنا کام جاری رکھو ان کو کچھ نہیں ہوگا۔ جاؤ موج مستی کرو۔ پھر کیا تھا وزراء کے وارے نیارے ہوگئے ،وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے، ان کی اندرون خانہ وزیر اعلیٰ نے بھی مدد کی، یوں ان کی وزارت بچ گئی اور جن کو نئی وزارت ملنے کا آسرا تھا ان کی امیدوں پر پانی پھر گیا اور وہ مایوس ہوکر بیٹھ گئے ۔
اس صورتحال میں پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے نجی محفلوں میں اپنی خفت مٹانے کے لیے جو موقف اختیار کیا ہے وہ یہ کہ چونکہ اب عام الیکشن میں آٹھ ماہ کا وقت پڑا ہے اس لیے اگر اس وقت وزراء ہٹادیے گئے تو پھر مخالفین ان کے لیے مسائل پیدا کریں گے۔ الٹا پروپیگنڈا ہوگا تو ووٹرز کی پریشانی بڑھے گی اور مخالفین اس صوتحال کو کیش کروا کر زیادہ ووٹ لینے کی کوشش کریں گے۔ یوں پارٹی کو عام الیکشن میں نقصان ہوگا۔ اس لیے فی الحال سندھ کابینہ میں توسیع نہ کی جائے تو بہتر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ بھی سندھ کابینہ کے موجودہ ارکان کو برقرار رکھنے کے حامی ہیں ۔ ان کا بھی یہی خیال تھا کہ نئے وزراء 8 ماہ میں کچھ بھی نہیں کرسکیں گے۔ پرانے وزیر ہٹا دیئے تو وہ اپنے حلقے میں مخالفین کے طعنے برداشت کریں گے۔
لہٰذا فی الحال عام الیکشن تک سندھ کابینہ کو برقرار رکھا جائے۔ جب صورتحال واضح ہوگئی تو ارکان سندھ اسمبلی میں پیدا ہونے والی غیر یقینی کی صورتحال بھی ختم ہوگئی اور اب تو ارکان سندھ اسمبلی ’’بڑے گھر‘‘ کے بڑے مکینوں سے کوئی سفارش بھی نہیں کرواتے کہ ان کو وزیر بنایا جائے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اب وزیر بننے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔


متعلقہ خبریں


ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران اس نوعیت کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، ایران کی طرف سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ،اس خبر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی علی لاریجانی کی ہلاکت ایرانی حکومت کے خاتمے کے ہمارے منصوبے کا حصہ ہے، ہم ہارڈ لائنر کو نشانہ بنا ...

ایران کے سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کو شہید کرنیکا دعویٰ

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

بس کردیں اور بانی کاعلاج کرائیں، جب ملاقات ہو گی تو انھیں بتائیں گے کتنے لوگوں نے ان سے اظہار یکجہتی کیا،اعتزاز احسن کے شکر گزار وہ آئے اور ہمارے ساتھ بیٹھے ،جدوجہد جاری رکھیں گے اگر عید کے بعد علاج نہ کروایا اور ملاقات نہیں ہونے دی تو حالات بدلیں گے، چیف کمشنر کی بات پر کیسے ی...

عمران خان کی دوسری آنکھ خراب ہونے کا خدشہ ،سرکاری ڈاکٹر اور رپورٹس پر یقین نہیں، علیمہ خانم

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

امریکہ، اسرائیل طاغوت، شیعہ سنی تفریق پیدا کرنیوالے ان کے آلہ کار ہیں، امیر جماعت اسلامی جماعت اسلامی اسٹیبلشمنٹ نہیں عوامی تائید سے اقتدار چاہتی ہے، حلقہ خواتین کی تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ وزیراعظم بے اختیار، فارم سنتالیس سے آئے...

وزیراعظم بے اختیار،فارم47 کے حکمرانوں کو عوام کی پرواہ نہیں،حافظ نعیم

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم وجود - بدھ 18 مارچ 2026

ملک کی پیٹرولیم درآمدات کی سپلائی چین بہتر بنانے کیلئے وزیر پیٹرولیم مزید متحرک ہوں شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس،کفایت شعاری کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ حالات کی بہتری تک تمام متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں، ملک کی پیٹرولیم...

حالات کی بہتری تک، متعلقہ ادارے ہنگامی اقدامات کیلئے تیار رہیں،وزیراعظم

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک وجود - منگل 17 مارچ 2026

بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب وکٹوریہ بیس پر ڈرونز اور راکٹوں سے حملہ، آگ بھڑک اٹھی ،8 افراد زخمی ،عراقی مزاحمتی تنظیم کی امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے کی کوشش،روسی ٹی وی کا دعویٰ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے17 ویں روز ایران پر حملوں کا سلسلہ جاری ، اسرائیل کے وسطی علاقوں...

تہران پر بمباری، عراق ودبئی میں ڈرون حملہ،10امریکی فوجی ہلاک

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی وجود - منگل 17 مارچ 2026

رقم کی وصولی کے سلسلہ میںخواتین دوکان کی چھت پرچڑھ گئیں جس سے کمزورچھت اچانک زمین بوس ہوگئی،ضلعی انتظامیہ متعدد کی حالت تشویشناک علاقہ بھرکی فضاسوگوار،وزیراعلیٰ پنجاب کانوٹس، رپورٹ طلب کرلی، لواحقین سے اظہارتعزیت بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کی رقم وصولی کے دوران دوکان کی چھت گر...

بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام، ادائیگی مرکز کی چھت گرنے سے 8 خواتین جاں بحق، 70سے زائد زخمی

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم) وجود - منگل 17 مارچ 2026

بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے،شہباز شریف ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس میں بات چیت وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی ق...

عالمی سطح پر جاری کشیدگی، کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں(وزیر اعظم)

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا وجود - منگل 17 مارچ 2026

سروے میں 100فیصد موٹرسائیکل سوار دھوکا دینے میں ملوث نکلے ،ڈی آئی جی ٹریفک آئی جی سندھ کے احکامات پر عید کے بعد بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کرلیا شہر قائد کے موٹرسائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرادیا ، ڈی آئی جی ٹریفک نے انکشاف کیا سروے میں 100 فیصد موٹرسائیکل س...

کراچی کے موٹر سائیکل سواروں نے ای چالان سسٹم کو بھی ہرا دیا

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں وجود - پیر 16 مارچ 2026

اصفہان میں15 افراد شہید، کئی زخمی ہو گئے،لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں جاری ،ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے موجودہ شرائط امریکا کیلئے قابل قبول نہیں ہیں، امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل میںایرانی پاسداران انقلاب کے میزائل حملے سے بڑے پیمانے تباہی ، متعدد مقامات پر آگ...

اصفہان پر امریکی اسرائیلی حملہ، ایران کے تابڑ توڑ جوابی کارروائیاں

گورنر ہاؤس میںکتنے پیسے خرچ اور کہاں استعمال ہو ئے، مکمل آڈٹ کراؤں گا، گورنر سندھ نہال ہاشمی وجود - پیر 16 مارچ 2026

کراچی اور سندھ کے خلاف منفی بات نہ کی جائے،میں سیاسی کارکن ہوں،ہم ہوں یا نہ ہوں، صوبہ اورشہر ہمیشہ قائم رہیں گے ، پروپیگنڈا نہیں کریں گے، وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کو لایا جائے گا سوشل میڈیا ویڈیوبنا کر فنکار نہیں بنائیں، نوازشریف جیل جا سکتے ہیںملک کو نقصان نہیں پہنچاسکتے، میںغل...

گورنر ہاؤس میںکتنے پیسے خرچ اور کہاں استعمال ہو ئے، مکمل آڈٹ کراؤں گا، گورنر سندھ نہال ہاشمی

نیتن یاہو کو ہر حال میں نشانہ بنائیں گے، پاسداران انقلاب کی دھمکی وجود - پیر 16 مارچ 2026

اسرائیلی وزیر اعظم زندہ ہیں تو وہ ایرانی حملوں کا ہدف رہیں گے، بچوں کا قاتل قراردیتے ہوئے سخت بیان نیتن یاہو محفوظ اور ہلاکت سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے خبروں کو مسترد کردیا ایران کی پاسداران انقلاب نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف سخت بی...

نیتن یاہو کو ہر حال میں نشانہ بنائیں گے، پاسداران انقلاب کی دھمکی

آپریشن غصب للحق،684 شدت پسند ہلاک، 252 چوکیاں تباہ وجود - پیر 16 مارچ 2026

مسلح افواج کی کارروائیوں میں 912 زخمی،دہشتگردوں کی44 پوسٹوں پر قبضہ 229 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں تباہ کی گئیں، وزارت اطلاعات کا بیان آپریشن غضب لِلحق کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کی کارروائیوں میں دہشتگردوں اور افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ وز...

آپریشن غصب للحق،684 شدت پسند ہلاک، 252 چوکیاں تباہ

مضامین
چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری وجود جمعرات 19 مارچ 2026
چاہ بہار پر بھارتی سرمایہ کاری

خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو وجود جمعرات 19 مارچ 2026
خلیجی لڑائی کے کچھ حیران کُن پہلو

پاک افغان بگڑتے تعلقات وجود بدھ 18 مارچ 2026
پاک افغان بگڑتے تعلقات

نیتن یاہو کا بھائی یا قصائی ؟ وجود بدھ 18 مارچ 2026
نیتن یاہو کا بھائی یا قصائی ؟

کفن چور وجود منگل 17 مارچ 2026
کفن چور

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر