وجود

... loading ...

وجود

سبزیاں اوراناج اُگانے کے لیے آلودہ پانی کااستعمال

پیر 18 ستمبر 2017 سبزیاں اوراناج اُگانے کے لیے آلودہ پانی کااستعمال

’انوائرمینٹل ریسرچ لیٹرز‘ نامی ریسرچ جرنل میں شائع ہونے والی ایک تازہ جائزہ رپورٹ میں انکشاف کیاگیاہے کہ پاکستان بڑے پیمانے پر شہروں اور صنعتوں کی نکاسی کا پانی زراعت میں استعمال کرنے والے اُن پانچ بڑے ممالک میں شامل ہے۔ جن میں چین، ایران، بھارت اور میکسیکو شامل ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پوری دنیا کے کم وبیش 60 ممالک میںآلودہ پانی سے فصلوں کو سیراب کرنے کا رحجان عام ہے اور یہ رحجان گزشتہ تخمینوں کے مقابلے میں بھی 50 فیصد زیادہ ہے۔ ریسرچ لیٹرز‘ نامی ریسرچ جرنل میں شائع ہونے والی اس روایتی کیس اسٹڈی کے ساتھ ہی کیلی فورنیا یونیورسٹی برکلے کی پروفیسر این لوئیس تھیبو نے جیوگرافکل انفارمیشن سسٹم (جی آئی ایس) کی طرز پر پوری دنیا سے ڈیٹا جمع کیا ہے۔ اس ڈیٹابیس سے انکشاف ہوا ہے کہ براہِ راست گندے پانی سے اُگائی جانے والی فصلوں اور زراعت سے لگ بھگ 85 کروڑ افراد کی صحت کو خطرات لاحق ہیں۔
رپورٹ کے مصنفین کے مطابق زرعی مقاصد کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر آلودہ پانی کے استعمال کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اول تو زراعت کے لیے صاف پانی ( بلیو واٹر) کی شدید قلت ہے اور دوم کسانوں کا اصرار ہے کہ اس سے فصل اچھی ہوتی ہے اور مہنگی مصنوعی کھادوں اور کیڑے مار ادویہ کی ضرورت بھی کم ہوجاتی ہے۔
ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ نکاسی کے آلودہ پانی میں فاسفیٹ اور نائٹریٹس کی بڑی مقدارپائی جاتی ہے جو ایک حد تک فصلوںکے لیے بہتر ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ انسانی فضلے سے بھرپور پانی بھی فصلوںکے لیے مفید ہوتا ہے۔کسانوں کے لیے اس کی اہمیت کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ میکسیکو میں جب فصلوں کو بھیجے جانے والے آلودہ پانی کو کم کرنے کی کوشش کی گئی تو کسانوںنے اس کے خلاف باقاعدہ احتجاج کیا۔لیکن اب ماہرین، زراعت کے لیے آلودہ پانی کے استعمال کے اس کا خطرناک اور تاریک پہلوکو اجاگر کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں شہروں اوردیہات کے گندے پانی سے فصلوں اور سبزیوں کی کا شت انسانوں کی جانوں سے کھیلنے اور انھیں مختلف بیماریوں کاشکار کرنے کے مترادف ہے ،ماہرین کااصرار ہے کہ ایسے پانی سے افزائش کی جانے والی فصلوں، سبزیوں اور پھلوں میں بیماریوں کے جراثیم، بیکٹیریا، حشرات اور ان سب سے بڑھ کر بھاری دھاتیں شامل ہوتی ہیں۔جو یہ فصلیں استعمال کرنے والوں کو مختلف بیماریوں میں مبتلا کردیتی ہیں ۔
ماہرین کاکہناہے کہ’آلودہ پانی میں فصلوں کے لیے مناسب اجزاموجود ہوتے ہیں جو فصلوں کے لیے اچھے ہوتے ہیں لیکن ان میں بھاری دھاتیں بھی پائی جاتی ہیں جو نہ صرف انسان بلکہ خود زرخیز مٹی کو بھی نقصان پہنچاسکتی ہیں،‘ ان خیالات کا اظہار پروفیسر رفیع الحق نے کیا جو انٹرنیشنل یونین فار دی کنزرویشن آف نیچر (آئی یوسی این) پاکستان کے مشیر اور ماہرِ ماحولیات ہیں۔
پاکستانی زراعت میں بھاری دھاتوں کی موجودگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاں تک پاکستانی زراعت میں بھاری دھاتوں کی موجودگی کاتعلق ہے تو اس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ2013 میں پاکستان کے دو اہم صنعتی شہروں سیالکوٹ اور وزیرآباد کی صنعتوں سے خارج ہونے والے آلودہ پانی، اس میں موجود بھاری دھاتوں اور ان کے فصلوں پر اثرات کا ایک جائزہ لیا گیا اور ساتھ ہی ٹیوب ویل کے پانی سے اس کا موازنہ بھی کیا گیا تھا۔یہ تحقیق قائدِاعظم یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیاتی حیاتیات کے ماہرین نے کی تھی۔ انہوں نے آلودہ اور ٹیوب ویل کے پانی سے اُگائی گئی فصلوں کا جائزہ لیا جن میں پیاز، بینگن، پالک، پودینہ، گاجر، مولی، ٹماٹر اور گندم وغیرہ شامل تھے۔ یہ فصلیں ایک نالے اور پلکو ندی سے اگائی جارہی تھیں۔تب ماہرین نے یہ حیرت انگیز انکشاف بھی کیا تھاکہ بالخصوص پتے دار سبزیوں میں کیڈمیئم، سیسے اور کرومیم کی مقداراجازت کردہ مقررہ پیمانے سے بھی کہیں زیادہ نکلی جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سبزیاں کسی طرح بھی کھانے کے قابل نہیں تھیں۔
کراچی میں آغا خان یونیورسٹی میں کمیونٹی ہیلتھ کے ماہر ڈاکٹر ظفر احمد فاطمی کہتے ہیں کہ اگر کیڈمیئم دھات غذا میں شامل ہوجائے تو گردے اور پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ بچے ہوں یا بڑے، یہ ہڈیوں کو کمزور کرکے بار بار فریکچر کی وجہ بنتی ہے۔ڈاکٹر ظفر فاطمی کاکہنا ہے کہ سیسہ بچوں میں دماغی نشوونما کو روکتا ہے اور خون کے امراض کی وجہ بن سکتا ہے۔ ایک اور دھات جست ہے جو آلودہ پانی میں موجود ہوتی ہے اور انسانوں میں امنیاتی، دماغی، تولیدی اور نشوونما سے وابستہ امراض اور مسائل پیدا کرتی ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ اس کے لیے بہت ضروری ہے کہ جسم کے اندر جانے والی غذا اور مقدار کا احتیاط سے اندازہ لگایا جائے کیونکہ اسی بنا پر ان ممکنہ جسمانی مسائل کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔دوسری جانب پاکستان کونسل برائے آبی ذخائر (پی سی آر ڈبلیو آر) سے وابستہ سینئرماہر ڈاکٹر غلام مرتضی نے کہا کہ سندھ اور پنجاب میں آلودہ پانی کو صاف کرنے والے کئی ٹریٹمنٹ پلانٹس لگائے گئے ہیں لیکن وہ روبہ عمل نہیں جس میں بدانتظامی کا دخل ہے۔
دوسری جانب ڈاکٹر غلام مرتضیٰ کا استدلال ہے کہ سندھ میں صورتحال مزید ابتر ہے کیونکہ لوگ یہ آلودہ پانی پینے پر بھی مجبور ہیں۔ حال ہی میں کراچی کے مختلف علاقوں میں لوگوں کو پینے کے لیے فراہم کیے جانے والے پانی کے تجزیئے سے یہ ظاہرہواتھا کہ کراچی کے مختلف علاقوں کے لوگوں کو پینے کے پانی میںسنکھیا نامی زہر کی بھاری مقدار موجود ہے جس کے استعمال سے موت بھی واقع ہوسکتی ہے، تاہم اب ہائی کورٹ کے حکم پر سندھ بھر کے ٹریٹمنٹ پلانٹس کا جائزہ لیا جارہا ہے جن کا سروے جلد ہی شروع ہوجائے گالیکن ٹریٹمنٹ پلانٹس کے
سروے سے ہی یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے اصلاح کے لیے ایک لمبے اور طویل پراسیس سے گزرنا ہوگا اور اس کی تکمیل میں کتنا وقت لگے گا اس کاتصور کرنا بھی محال ہے۔ اس حوالے سے بس یہی کہاجاسکتاہے کہ ’’خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک‘‘ تاہم ہمیں مایوسی کے بجائے امید کادامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔
لاہور میں واقع انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین نے ایک اہم مطالعے میں انکشاف کیا ہے کہ آلودہ پانی جب فصلوں میں جمع ہوتا ہے تو وہ کئی خطرناک مچھروں کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ پنجاب کے بعض اضلاع میں دیکھا گیا ہے کہ آلودہ پانی اینوفلیز، ایڈیز اور کیولکس مچھروں کا گھر بن گیا تھا۔ یہ مچھر خوفناک اور جان لیوا امراض کی وجہ بن سکتے ہیں جبکہ ان کے پہلے شکار خود کسان اور وہاں رہنے
والے بچے ہوسکتے ہیں۔تاہم یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں کہا ہے کہ ترقی پزیر ممالک نکاسی آب کی سخت پالیسیاں اپنائیں تاکہ اس رحجان میں کمی لائی جاسکے۔
تہمینہ حیات


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر