وجود

... loading ...

وجود

وزارت حقوقِ انسانی مراعات کے حصول میں چوکس فرائض کی انجام دہی سے غافل!

جمعه 15 ستمبر 2017 وزارت حقوقِ انسانی مراعات کے حصول میں چوکس فرائض کی انجام دہی سے غافل!

یورپی یونین نے گزشتہ دنوں پاکستان میں حقوق انسانی کی تصوراتی خلاف ورزیوں کے حوالے سے ایک سخت اور توہین آمیز قرار داد کی منظوری دی ، اگرچہ اس قرارداد کو دیکھ کر ہی یہ واضح ہوجاتاہے کہ پاکستان میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے یہ قرار داد یورپی یونین میں موجود مضبوط بھارتی لابی نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بھارتی فوج کی بہیمانہ اور سفاکانہ کارروائیوں سے دنیا کی توجہ مبذول کرانے کے لیے منظور کرائی ہے،لیکن اس حوالے سے المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں حقوق انسانی سے متعلق وزارت کے حکام اور حقوق انسانی کمیشن کے ارباب اختیار یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کے خلاف اس قرارداد کی منظوری اور دنیا بھر کے اخبارات میں اس کی اشاعت اور میڈیا میں اس کی تشہیر کے باوجود اس سے بے خبر تھے اور انھیں ہوش اس وقت آیا جب اس پاکستان کے خلاف اس قرارداد کی اشاعت کے بعد بعض سابق بیوکریٹس اور سفیروں نے اس حوالے سے حقوق انسانی سے متعلق وزارت اور کمیشن کے حکام سے اس بارے میں استفسار کیا۔ لیکن اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں حقوق انسانی سے متعلق وزارت کے حکام اور حقوق انسانی کمیشن کے ارباب اختیارکو یہ تو بخوبی معلوم ہے کہ غیر ملکی دوروں کی گنجائش کس طرح نکالی جاسکتی ہے اور ان دوروں میں اپنے اہل خانہ اور من پسند افراد کو کس طرح شامل کیاجاسکتاہے،جبکہ یہ بات واضح ہے کہ اس طرح کی وزارتوں کی جانب سے اس قسم کے غیر ملکی دورے متعلقہ وزرا اور سرکاری افسروں کے لیے تفریحی دورے ہوتے ہیں جس سے ان کے اہل خانہ بھی بھرپور طریقے سے مستفیض ہوتے ہیں اوربعض اوقات سرکاری خرچ پر بیرون ملک شاپنگ کے مزے بھی اڑاتے ہیں ،یہ وزرا اور متعلقہ سرکاری افسران یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ سرکاری خزانے سے زیادہ سے زیادہ مراعات کس طرح سمیٹی جاسکتی ہیں لیکن وہ یورپی یونین کی جانب سے منظور کردہ اس قرارداد پر ردعمل کے طریقہ کار سے بھی واقف نہیں ہیں اور انھیں یہ اندازہ نہیں کہ انھیں اس قرارداد پر اپنا ردعمل کس انداز میں اور کس سطح پر ظاہر کیاجانا چاہئے۔
پاکستان میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے یورپی یونین کی اس قرار داد سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ حقوق انسانی کے وزیر کامران مائیکل اور ان کی ٹیم کے دیگر ارکان غیر ملکی دوروں پر کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بیرون ملک مختلف فورمز پر پاکستان میں حقوق انسانی کی صورت حال کے بارے میں مثبت تاثر قائم کرنے اور اس حوالے سے بھارتی لابی کی جانب سے پھیلائی گئے شکوک وشبہات کا تدارک کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں پاکستان کو ایک سے زیادہ مواقع پر حقوق انسانی کے حوالے سے شرمندگی کاسامنا کرنا پڑا اور اس حوالے سے مختلف غیر ملکی فورمز پر پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کا کوئی موثر جواب دینا بھی ممکن نہیں ہوسکا۔
جہاں تک حقوق انسانی سے متعلق امور کے وزیر کامران مائیکل کاتعلق ہے تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ کامران مائیکل کی واحد خوبی یا صلاحیت یہ ہے کہ وہ پاکستان مسلم لیگ ن کے وفاداروں کی فہرست میں شامل ہیں اور اسی وفاداری کے صلے میں انھیں سینیٹ کارکن بننے اور اس کے بعد وزارت پر فائزہ ہونا نصیب ہوسکاہے۔اگر حکمراں جماعت سے وفاداری کے علاوہ بھی ان کوئی خوبی ہے اور یقینا ہوگی تو وہ اب تک اس کااظہار کرنے میں یاتو ناکام رہے ہیں یا انھوںنے اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ۔کامران مائیکل اگرچہ حکومت میں پاکستان کی اقلیتوں کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن اب تک وہ خود اپنی کمیونٹی کے حقوق کے حوالے سے بھی کسی نمایاں کارکردگی کامظاہرہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔یہی نہیں بلکہ وہ اب تک خود کو ایماندار اور بے داغ ثابت کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکے ہیں ان کے دامن پر لگے دھبوں کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ سال ہی عدالتی احکامات پر مری پولیس نے ان کے اور ان کے بعض ساتھیوں کے خلاف ہولی ٹرنٹی چرچ فروخت کرنے کے نام پر 6 کروڑ روپے کے فراڈ کے الزام میں مقدمہ درج کیاتھا۔اپریل 2016 کے دوران ایک پریس کانفرنس کے دوران انھوںنے خود ہی یہ تسلیم کیاتھا کہ مری پولیس کی جانب سے ان کے خلاف فراڈ کے الزام میں درج کیاگیا مقدمہ اپنی نوعیت کا منفرد الزام نہیں ہے بلکہ اس طرح کے اور بھی الزامات ان پر لگائے جاتے رہے ہیں جن کاوہ سامنا کررہے ہیں۔فراڈ کے واضح الزامات میں ملوث ہونے کے باوجود ایک اہم وزارت پر ان کا فائز رہنا یقینا ان کی صلاحیتوں کامنہ بولتا ثبوت ہے ۔اس سے قبل وہ پورٹ اور شپنگ کے بھی وفاقی وزیر رہے ہیں اور ان کے اس دور کے حوالے سے کرپشن کے متعدد الزامات سامنے آتے رہے ہیں ، جن کی تفتیش کرانے کی حکومت کو شاید مہلت نہیں ملی یا ان کی وفاداری کو دیکھتے ہوئے اس سے چشم پوشی کو ہی مناسب تصور کیاگیا۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ دنوں کامران مائیکل نے اپنے اختیارات میں اضافہ کرنے کے لیے اپنی وزارت کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے لیے کئی اور شعبے بھی اپنی وزارت کے دائرہ کار میں شامل کرالیے ہیں جن میں حقوق انسانی کمیشن بھی شامل ہے جبکہ آئین میں 18 ویں ترمیم کے بعد حقوق انسانی کمیشن کو وزارت حقوق انسانی کے دائرہ کار میں شامل کرنا غیر آئینی ہے ،آئینی امور کے ماہرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ ایسے شعبے وزارت انسانی حقو ق کے دائرہ کار میں شامل کرنا قانون جس کی اجازت نہیں دیتا قطعی غیر آئینی ہوگا۔اگرچہ کامران مائیکل نے حقوق انسانی کمیشن کو حقوق انسانی کی وزارت میں شامل کرانے کے لیے کاغذی تیاریاں مکمل کرلی ہیں لیکن اب یہ معاملہ وزیر اعظم کی منظوری کامنتظر ہے ، لیکن اس وقت جبکہ وزیر اعظم اور ان کے خاندان کا ہر فرد پاناما کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں شاید ایک غیر آئینی کام کی منظوری سے گریز کریں اور اس طرح مسلم لیگ ن کے وفادار کامران مائیکل اپنی اس کوشش میں ناکام ہوجائیں لیکن ان کی اس کوشش سے یہ واضح ضرور ہوتاہے کہ وہ اپنے معاملات میں کس حد تک چوکس اور اپنی وزارت کی کارکردگی کے معاملے میں کس قدر غافل اور بے خبر ہیں ۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا پاکستان میں کوئی ادارہ کامران مائیکل جیسے وزرا کے اس طرح کے کارناموں اور سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے تنخواہوں اور مراعات اور غیر ملکی دوروں کے نام پر وصول کرنے پران کااحتساب کرسکتاہے۔ یہی وہ سوال ہے جس کا مثبت جواب پاکستان کے درخشندہ مستقبل کی نوید بن سکتاہے۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر