وجود

... loading ...

وجود

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ۔ 53 ؍ارب 50 ؍کروڑ روپے کی لوٹ مار

بدھ 30 اگست 2017 سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ۔ 53 ؍ارب 50 ؍کروڑ روپے کی لوٹ مار

پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے جب کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں تبدیل کیا تو اس کے سربراہ کا نام چیف کنٹرولر کے بجائے ڈائریکٹر جنرل قرار دیا اور اس کے دفاتر حیدر آباد، سکھر، لارکانہ، نواب شاہ اور میر پور خاص میں بھی قائم کیے اور اس کے پہلے سربراہ منظور قادر عرف منظور کاکا بنے جو آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی تھے اور پھر ان کو ملک ریاض کے ساتھ مذاکرات کرنے اور حکومت سندھ کی زمینیں ملک ریاض کو دینے کا ٹاسک دیا گیا۔
منظور کاکا نے جس طرح لوٹ مار کی، اس کی کہیں مثال نہیں ملتی اور جب منظور کاکا نے دیکھا کہ ان کی مالی بے قاعدگیاں بڑھ چکی ہیں تو انہوں نے ملک چھوڑنے میں ہی اپنی عافیت جانی اور خاموشی سے بیرون ممالک چلے گئے اور جو پیسہ کمایا اس پر وہ اب کینیڈا میں بیٹھ کر عیاشی کر رہے ہیں ۔ منظور کاکانے جس طرح کرپشن کا بیج بویا آگے چل کر اس مشن کو نور محمد لغاری نے نبھایا ان کے دور میں بھی مالی بے قاعدگیوں کے چرچے عام ہوئے۔ اب حال ہی میں محکمہ اینٹی کرپشن نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے حوالے سے وسیع پیمانے پر تحقیقات شروع کیں توانکشاف ہواکہ صرف تین سال کے دوران میں کراچی کے 20 میں سے 9 ٹاؤن میں کھل کر لوٹ مار کی گئی اوریہاں دُکانوں ، گوداموں ، فلیٹس، یونٹس کی تعمیر ، نرسریوں کے اجازت نامے، رہائشی پلاٹوں کو کمرشل پلاٹوں میں تبدیل کرکے 53 ارب 50 کروڑ روپے کی لوٹ مارکی گئی ۔ اب یہ کرپشن محکمہ اینٹی کرپشن نے پکڑلی ہے۔یہی نہیں ایس بی سی اے نے مختلف ٹیکسز کی مد میں 4 ارب 70 کروڑ روپے کا قومی خزانے کو نقصان بھی پہنچایا ہے ۔یہ معاملہ میگا اسکینڈل کے طور پر سامنے آیا ہے۔
جب اتنا بڑا اسکینڈل سامنے آیا تو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے ڈی جی رینجرز کو ایک خط لکھا جس میں گزارش کی گئی کہ قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کی جائے جب یہ اطلاع قبضہ مافیاتک پہنچی تو ان میں کھلبلی مچ گئی اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے کرپٹ افسران بھی پریشان ہوگئے ۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے القاسم ہاؤسنگ اسکیم، سیون ونڈرسٹی ہاؤسنگ اسکیم، المہدی سٹی، البقائی سٹی ہاؤسنگ اسکیم، ایجوکیشن سٹی جامشورو سمیت 19 غیر قانونی رہائشی منصوبوں کی تعمیرات کو ہٹانے کے لیے بڑے آپریشن کی تیاری کرلی ہے، اس طرح 6 ارب روپے سے زائد کی ملکیتوں کو سیل کرکے 87 کروڑ روپے سے زائد کی ملکیتوں کو خالی کرا لیا گیا ہے۔
محکمہ اینٹی کرپشن نے کراچی کے 9 ٹاؤنز کے 100 افسران کی ایک فہرست تیار کی ہے جو بلڈر مافیا اور قبضہ مافیا کے ساتھ مل کر غیر قانونی عمارتوں کی تعمیرات کے اجازت نامے جاری کرتے ہیں ۔9 ٹاؤنز میں سے کورنگی ، نارتھ ناظم آباد، گلبرگ، لیاقت آباد، جمشید ٹاؤن، گلشن ٹاؤن ‘صدر ٹاؤن اول اور صدر ٹاؤن دوئم میں یہ قبضے اور غیر قانونی اجازت نامے جاری کیے گئے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے کراچی میں کثیر المنزلہ عمارتوں کے اجازت ناموں پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے لیکن اس کے باوجود سندھ بلڈنگ کنٹرول کے افسران کثیر المنزلہ عمارتوں کے اجازت نامے جاری کرتے رہے ہیں جو سنگین خلاف ورزی ہے۔
جن افسران نے غیر قانونی احکامات جاری کیے ان میں ڈائریکٹر صفدر مگسی، ڈپٹی ڈائریکٹر پرویز اختر، ڈائریکٹر ندیم انور، ڈپٹی ڈائریکٹر جمال محمود، اسسٹنٹ ڈائریکٹر جعفر امام، اسسٹنٹ ڈائریکٹر شریف قریشی، بلڈنگ انسپکٹر شاہد حسین، بلڈنگ، انسپکٹر آغا شیراز، بلڈنگ انسپکٹر وسیم احمد، ڈائریکٹر ویجیلنس علی مہدی کاظمی، علی اسد، ندیم انور، وقار میمن، ممتاز حیدر، اقبال حسین، ادریس عبدالغفار، عامر خان، ضیاء الرحمان، کمال احمد، یاور عباس، جمال میمن، عاصم انصاری، رشید ناریجو، آصف شیخ، سمیع شیخ، عابد علی شاہ، لیاقت بھٹو، کاشف رضوان، نواب علی منگریو، عبدالحلیم شیخ، عادل عمر صدیقی، ظفر حسن، عامل کمال جعفری، آشکار داور، ملک رقیب ، آفتاب سومرو، احتشام، عقیل عابدی، قاضی ممتاز، فرقان یار خان سمیت 100 افسران کے نام تیار کیے گئے ہیں ۔ محکمہ اینٹی کرپشن نے 20 سے زائد بلڈرز اور 35 ٹھیکیداروں کی بھی فہرست تیار کی ہے جو اس گھناؤنے کھیل کا حصہ تھے۔
محکمہ اینٹی کرپشن نے باریک بینی سے تحقیقات کرکے 200 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ بھی تیار کی ہے جس میں تمام رازوں سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ کس طرح عدالتی احکامات کو پس پشت ڈال کر اربوں روپے کی لوٹ مار کی گئی ہے۔ اس تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے 50 سے زائد افسران ایسے بھی ہیں جن کے بیرون ملک کاروبار ہیں اور ان کے اہل خانہ بھی بیرون ملک مقیم ہیں اور اکثر افسران کے گھر پوش علاقوں میں ہیں ۔ ان کے مہنگے گھر اور مہنگی گاڑیاں بھی اینٹی کرپشن کی نظروں میں آگئی ہیں ۔ کئی افسران نے تو خفیہ شادیاں بھی کر رکھی ہیں اور ان بیویوں کو بھی الگ گھروں میں رکھا ہوا ہے۔ جب محکمہ اینٹی کرپشن کے اچھے شہرت رکھنے والی ڈپٹی ڈائریکٹر ضمیر عباسی نے تحقیقاتی رپورٹ تیار کی تو ان کو پہلے تو ہر طرح کا لالچ دیا گیا۔ کراچی، اسلام آباداور بیرون ممالک میں گھر، گاڑیاں دینے کی پیشکش کی گئی۔ لیکن انھوں نے اس مافیا کے سامنے جھکنے اور بکنے سے قطعی انکار کر دیا۔ جب مافیا نے دیکھا کہ کسی بھی طرح وہ ان کے دام میں آنے کے لیے تیار نہیں تو پھر ان کو دھمکیاں دینا شروع کی گئیں لیکن وہ بھی دُھن کے پکے نکلے۔ انھوں نے اپنامشن مکمل کرکے اللہ تعالیٰ کو حاضر ناظر جان کر رپورٹ تیار کرکے سندھ ہائی کورٹ کو دے دی ہے۔ اب ان کے نصیب میں جو لکھا ہے وہ مل کر رہے گا۔ اب محکمہ اینٹی کرپشن نے ایک طرف رپورٹ سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرا دی ہے تو دوسری جانب حکومت سندھ نے ان سرکاری افسران، ٹھیکیداروں بلڈرز پر مقدمات درج کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے، عید کے بعد کھیل کا نیا مرحلہ شروع ہوگا۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر