وجود

... loading ...

وجود

کراچی کی سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک، عوام کاگھروں سے نکلنا دشوار

بدھ 30 اگست 2017 کراچی کی سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک، عوام کاگھروں سے نکلنا دشوار

کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک کامسئلہ روز بروز سنگین سے سنگین تر ہوتاجارہا ہے ،سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک ، ٹریفک قواعد کی کھلے عام خلاف ورزیوں اور اہم شاہراہوں پر ٹریفک جام نے لوگوں کا گھروں سے نکلنا مشکل بنادیاہے۔ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ، جگہ جگہ کھڑا گٹر کاگندہ پانی اور ٹریفک کنٹرول کرنے کے نا منا سب نظام نے اس مسئلے کو زیادہ گمبھیر بنادیاہے۔سڑکوں پر ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے تعینات کیے جانے والے پولیس اہلکاروں اور سارجنٹس کی اکثریت ٹریفک کنٹرول کرنے اورٹریفک قواعد کی خلاف ورزیاں روکنے کا اپنا بنیادی فریضہ انجام دینے کے بجائے عام طورپر موٹر سائیکل سواروں اور دیگر گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو روک کر ان سے بھتہ یا رشوت کی وصولی کے لیے بھاؤ تاؤ کرتے نظر آتے ہیں اور ان کی اس روش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دیگر ڈرائیوراپنی من مانیوں میں مصروف رہتے ہیں ۔ یہاں تک کہ ٹریفک پولیس کے اہلکاروں نے اب ایم اے جناح روڈ ،آئی آئی چندریگر روڈ اور دیگر اہم شاہراہوں کی چوڑی فٹ پاتھوں پر گاڑیاں پارک کراکر گاڑی مالکان سے رشوت وصولی کاایک نیا ذریعہ پیدا کرلیاہے ، اور ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کو خوش کیے بغیر کسی فٹ پاتھ تو کجا فٹ پاتھ کے ساتھ سڑک پر گاڑی پارک کرکے بینک یا کسی دفتر میں جانے والوں کی گاڑیوں کو بیدردی کے ساتھ لفٹر کے ذریعہ گھسیٹتے ہوئے قریبی تھانے لے جایاجاتاہے جس کی وجہ گاڑیوں کو بری طرح نقصان پہنچتاہے اور بعض اوقات اس میں ڈینٹ بھی پڑجاتے ہیں ،جبکہ اس طرح اٹھا کر لے جائی جانے والی گاڑیوں کے مالکان سے بھاری رقم وصول کی جاتی ہے جس کا سرکاری خزانے میں جمع کرائے جانے کاکوئی حساب کتاب ٹریفک ڈیپارٹمنٹ کے پاس موجود نہیں ہے۔یہی وہ صورت حال ہے جس کی وجہ سے اب ایم اے جناح روڈ اور آئی آئی چندریگر روڈ پرجہاں شہر کے بیشتر اہم دفاتر اور کاروباری ادارے واقع ہیں پیدل چلنا اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہوگیاہے۔اگر اس صورت حال کی سڑک پر موجود ٹریفک افسران سے بات کی جائے تو وہ اپنی بے بسی کااظہار کرتے ہوئے عذر پیش کرتے ہیں کہ فٹ پاتھوں پر کھڑی یہ گاڑیاں معروف ٹی وی چینل یا بااثر بینک اوردیگر کاروباری اداروں کے مالکان یا ان کے افسران کی ہیں ان کو ہٹانے کی کوشش کرنا اپنی ملازمت سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
شہر میں ٹریفک کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے ایک سروے کے دوران اندازہ ہواکہ شہر کی سڑکوں پر گاڑیاں دوڑانے والے ڈرائیوروں کی اکثریت کے پاس ویلڈ ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہوتے ،اور ٹریفک پولیس کے اہلکار ان کی اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے من مانی رشوت وصول کرتے ہیں ۔
ایوان صنعت وتجارت کے ریسرچ اور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے حال ہی میں ’’کراچی میں ٹریفک کامسئلہ معیشت کاپہیہ جام کررہاہے ‘‘ کے زیرعنوان جو سروے کیاہے اس کی رپورٹ سے ظاہر ہوتاہے کہ کراچی میں چلنے والے رجسٹرڈ رکشہ کے مقابلے میں صرف 2 فیصد ڈرائیوروں کو لائسنس جاری کیے گئے ہیں یعنی کراچی میں رکشہ چلانے والے 98 فیصد رکشہ ڈرائیوروں کے پاس رکشہ چلانے کالائسنس ہی نہیں ہے۔اسی طرح کراچی کی سڑکوں پر اسکوٹر اور موٹر سائیکلیں دوڑانے الے صرف 19 فیصد افراد لائسنس یافتہ ہیں ، جبکہ صرف 35 فیصد کار ڈرائیورز کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہے۔اس سے واضح ہوتاہے کہ کراچی کی سڑکوں پر گاڑیاں چلانے والوں کی اکثریت ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر ہی گاڑی چلارہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ سڑکوں پر گاڑی لے کر نکلنے والوں کی اکثریت کو ٹریفک قواعد وضوابط کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔لیکن اس سنگین صورت حال کے باوجود ٹریفک پولیس کے ارباب اختیار صورت حال میں بہتری لانے کے لیے موثر اقدامات سے گریزاں نظر آتے ہیں ۔
کراچی کی سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے سڑکوں پر ہونے والے حادثات اور آمدورفت کے دوران ٹریفک جام کی وجہ سے ضائع ہونے والے وقت کی وجہ سے ملکی معیشت اور کاروبار کو ہونے والے نقصان کی وجہ سے ایوان صنعت وتجارت کے سابق صدر سراج قاسم تیلی نے متعدد مرتبہ اپنے بیانات کے ذریعے اور ٹریفک پولیس کے اعلیٰ افسران کے نام اپنے خطوط کے ذریعے ان کو اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے موثر حکمت عملی اختیار کرنے اور بلا لائسنس ڈرائیونگ کاسلسلہ روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کی اپیل کی لیکن ان کی یہ آواز ٹریفک پولیس کے ارباب اختیار کو ان کے فرائض کا احساس دلانے میں کامیاب نہیں ہوسکی اور ان کی یہ کوششیں بھی صدا بہ صحرا ثابت ہوئیں ۔
ایوان صنعت وتجارت کے سابق صدر سراج قاسم تیلی کاکہناہے کہ ہم نے بار بار ٹریفک حکام سے یہ مطالبہ کیاہے کہ وہ بلا لائسنس ڈرائیونگ کاسلسلہ مکمل طورپر ختم کرنے کے لیے سخت ترین اقدامات کریں اس حوالے سے سخت چیکنگ شروع کی جائے اور کسی کوبھی کسی قیمت پر بغیر لائسنس ڈرائیونگ کی اجازت نہ دی جائے ،ان کاکہناہے کہ ٹریفک کے زیادہ تر حادثات اور ٹریفک جام کی بنیادی وجہ سے بلا لائسنس ڈرائیونگ ہے کیونکہ لائسنس کے حصول کے بغیر گاڑیاں دوڑانے والوں کو کسی طرح کانہ تو کوئی خوف ہوتاہے اور نہ ہی وہ ٹریفک اصولوں سے واقف ہوتے ہیں اس لئے وہ بلا سوچے سمجھے جہاں چاہتے ہیں گاڑی لے کر گھس جاتے ہیں جس کی وجہ سے سیکڑوں گاڑیاں پھنس کر رہ جاتی ہیں اور لوگوں کا قیمتی وقت ضائع ہوتاہے۔
ایوان صنعت وتجارت کے ریسرچ اور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کیے گئے سروے کے دوران ریسرچ کرنے والوں نے گزشتہ 5 سال کے دوران رجسٹرڈ کرائی گئی گاڑیوں ، رکشہ اور موٹر سائیکلوں اور اس دوران جاری کیے گئے لرننگ اور مکمل ڈرائیونگ لائسنسوں کے اعدادوشمار کاجائزہ لینے کے بعد جہاں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ شہر میں رجسٹرڈ رکشہ کے مقابلے میں صرف 2 فیصد ڈرائیوروں کو لائسنس جاری کیے گئے ہیں ،اسکوٹر اور موٹر سائیکلیں دوڑانے و الے صرف 19 فیصد افراد لائسنس یافتہ ہیں ، اور صرف 35 فیصد کار ڈرائیورز کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہے۔وہیں یہ بھی انکشاف ہوا کہ شہر میں ٹرک، بسیں ،ٹینکر اور دوسری بھاری گاڑیاں چلانے والے ڈرائیوروں کی بڑی تعداد کے پاس بھی ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہے اور وہ محض تجربے کی بنیاد پر شہر کی سڑکوں کو تجربہ گاہ بنائے ہوئے ہیں ، ٹریفک پولیس کے پاس موجود اعدادوشمار کے مطا بق شہر میں چلنے والی بھاری گاڑیوں کے صرف 69 فیصد ڈرائیوروں کے پاس بھاری گاڑیاں چلانے کالائسنس ہے ، یعنی 31 فیصد ڈرائیورابھی کراچی کی سڑکوں کو تجربہ گاہ کے طورپر استعمال کررہے ہیں اور یہ سب کچھ ٹریفک پولیس کے قریبی تعاون سے ہورہاہے جو کہ اس شہر کے انتظام کے ذمہ دار حکا م کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔
اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ اس ہوشربا انکشاف کے بعد بھی کیاارباب اختیار اس صورت حال کی اصلاح کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر تیار ہوں گے۔بظاہر تو اس کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ہے۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر