... loading ...
کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک کامسئلہ روز بروز سنگین سے سنگین تر ہوتاجارہا ہے ،سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک ، ٹریفک قواعد کی کھلے عام خلاف ورزیوں اور اہم شاہراہوں پر ٹریفک جام نے لوگوں کا گھروں سے نکلنا مشکل بنادیاہے۔ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ، جگہ جگہ کھڑا گٹر کاگندہ پانی اور ٹریفک کنٹرول کرنے کے نا منا سب نظام نے اس مسئلے کو زیادہ گمبھیر بنادیاہے۔سڑکوں پر ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے تعینات کیے جانے والے پولیس اہلکاروں اور سارجنٹس کی اکثریت ٹریفک کنٹرول کرنے اورٹریفک قواعد کی خلاف ورزیاں روکنے کا اپنا بنیادی فریضہ انجام دینے کے بجائے عام طورپر موٹر سائیکل سواروں اور دیگر گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو روک کر ان سے بھتہ یا رشوت کی وصولی کے لیے بھاؤ تاؤ کرتے نظر آتے ہیں اور ان کی اس روش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دیگر ڈرائیوراپنی من مانیوں میں مصروف رہتے ہیں ۔ یہاں تک کہ ٹریفک پولیس کے اہلکاروں نے اب ایم اے جناح روڈ ،آئی آئی چندریگر روڈ اور دیگر اہم شاہراہوں کی چوڑی فٹ پاتھوں پر گاڑیاں پارک کراکر گاڑی مالکان سے رشوت وصولی کاایک نیا ذریعہ پیدا کرلیاہے ، اور ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کو خوش کیے بغیر کسی فٹ پاتھ تو کجا فٹ پاتھ کے ساتھ سڑک پر گاڑی پارک کرکے بینک یا کسی دفتر میں جانے والوں کی گاڑیوں کو بیدردی کے ساتھ لفٹر کے ذریعہ گھسیٹتے ہوئے قریبی تھانے لے جایاجاتاہے جس کی وجہ گاڑیوں کو بری طرح نقصان پہنچتاہے اور بعض اوقات اس میں ڈینٹ بھی پڑجاتے ہیں ،جبکہ اس طرح اٹھا کر لے جائی جانے والی گاڑیوں کے مالکان سے بھاری رقم وصول کی جاتی ہے جس کا سرکاری خزانے میں جمع کرائے جانے کاکوئی حساب کتاب ٹریفک ڈیپارٹمنٹ کے پاس موجود نہیں ہے۔یہی وہ صورت حال ہے جس کی وجہ سے اب ایم اے جناح روڈ اور آئی آئی چندریگر روڈ پرجہاں شہر کے بیشتر اہم دفاتر اور کاروباری ادارے واقع ہیں پیدل چلنا اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف ہوگیاہے۔اگر اس صورت حال کی سڑک پر موجود ٹریفک افسران سے بات کی جائے تو وہ اپنی بے بسی کااظہار کرتے ہوئے عذر پیش کرتے ہیں کہ فٹ پاتھوں پر کھڑی یہ گاڑیاں معروف ٹی وی چینل یا بااثر بینک اوردیگر کاروباری اداروں کے مالکان یا ان کے افسران کی ہیں ان کو ہٹانے کی کوشش کرنا اپنی ملازمت سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
شہر میں ٹریفک کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے ایک سروے کے دوران اندازہ ہواکہ شہر کی سڑکوں پر گاڑیاں دوڑانے والے ڈرائیوروں کی اکثریت کے پاس ویلڈ ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہوتے ،اور ٹریفک پولیس کے اہلکار ان کی اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے من مانی رشوت وصول کرتے ہیں ۔
ایوان صنعت وتجارت کے ریسرچ اور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے حال ہی میں ’’کراچی میں ٹریفک کامسئلہ معیشت کاپہیہ جام کررہاہے ‘‘ کے زیرعنوان جو سروے کیاہے اس کی رپورٹ سے ظاہر ہوتاہے کہ کراچی میں چلنے والے رجسٹرڈ رکشہ کے مقابلے میں صرف 2 فیصد ڈرائیوروں کو لائسنس جاری کیے گئے ہیں یعنی کراچی میں رکشہ چلانے والے 98 فیصد رکشہ ڈرائیوروں کے پاس رکشہ چلانے کالائسنس ہی نہیں ہے۔اسی طرح کراچی کی سڑکوں پر اسکوٹر اور موٹر سائیکلیں دوڑانے الے صرف 19 فیصد افراد لائسنس یافتہ ہیں ، جبکہ صرف 35 فیصد کار ڈرائیورز کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہے۔اس سے واضح ہوتاہے کہ کراچی کی سڑکوں پر گاڑیاں چلانے والوں کی اکثریت ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر ہی گاڑی چلارہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ سڑکوں پر گاڑی لے کر نکلنے والوں کی اکثریت کو ٹریفک قواعد وضوابط کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔لیکن اس سنگین صورت حال کے باوجود ٹریفک پولیس کے ارباب اختیار صورت حال میں بہتری لانے کے لیے موثر اقدامات سے گریزاں نظر آتے ہیں ۔
کراچی کی سڑکوں پر بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے سڑکوں پر ہونے والے حادثات اور آمدورفت کے دوران ٹریفک جام کی وجہ سے ضائع ہونے والے وقت کی وجہ سے ملکی معیشت اور کاروبار کو ہونے والے نقصان کی وجہ سے ایوان صنعت وتجارت کے سابق صدر سراج قاسم تیلی نے متعدد مرتبہ اپنے بیانات کے ذریعے اور ٹریفک پولیس کے اعلیٰ افسران کے نام اپنے خطوط کے ذریعے ان کو اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے موثر حکمت عملی اختیار کرنے اور بلا لائسنس ڈرائیونگ کاسلسلہ روکنے کے لیے سخت اقدامات کرنے کی اپیل کی لیکن ان کی یہ آواز ٹریفک پولیس کے ارباب اختیار کو ان کے فرائض کا احساس دلانے میں کامیاب نہیں ہوسکی اور ان کی یہ کوششیں بھی صدا بہ صحرا ثابت ہوئیں ۔
ایوان صنعت وتجارت کے سابق صدر سراج قاسم تیلی کاکہناہے کہ ہم نے بار بار ٹریفک حکام سے یہ مطالبہ کیاہے کہ وہ بلا لائسنس ڈرائیونگ کاسلسلہ مکمل طورپر ختم کرنے کے لیے سخت ترین اقدامات کریں اس حوالے سے سخت چیکنگ شروع کی جائے اور کسی کوبھی کسی قیمت پر بغیر لائسنس ڈرائیونگ کی اجازت نہ دی جائے ،ان کاکہناہے کہ ٹریفک کے زیادہ تر حادثات اور ٹریفک جام کی بنیادی وجہ سے بلا لائسنس ڈرائیونگ ہے کیونکہ لائسنس کے حصول کے بغیر گاڑیاں دوڑانے والوں کو کسی طرح کانہ تو کوئی خوف ہوتاہے اور نہ ہی وہ ٹریفک اصولوں سے واقف ہوتے ہیں اس لئے وہ بلا سوچے سمجھے جہاں چاہتے ہیں گاڑی لے کر گھس جاتے ہیں جس کی وجہ سے سیکڑوں گاڑیاں پھنس کر رہ جاتی ہیں اور لوگوں کا قیمتی وقت ضائع ہوتاہے۔
ایوان صنعت وتجارت کے ریسرچ اور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کیے گئے سروے کے دوران ریسرچ کرنے والوں نے گزشتہ 5 سال کے دوران رجسٹرڈ کرائی گئی گاڑیوں ، رکشہ اور موٹر سائیکلوں اور اس دوران جاری کیے گئے لرننگ اور مکمل ڈرائیونگ لائسنسوں کے اعدادوشمار کاجائزہ لینے کے بعد جہاں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ شہر میں رجسٹرڈ رکشہ کے مقابلے میں صرف 2 فیصد ڈرائیوروں کو لائسنس جاری کیے گئے ہیں ،اسکوٹر اور موٹر سائیکلیں دوڑانے و الے صرف 19 فیصد افراد لائسنس یافتہ ہیں ، اور صرف 35 فیصد کار ڈرائیورز کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہے۔وہیں یہ بھی انکشاف ہوا کہ شہر میں ٹرک، بسیں ،ٹینکر اور دوسری بھاری گاڑیاں چلانے والے ڈرائیوروں کی بڑی تعداد کے پاس بھی ڈرائیونگ لائسنس نہیں ہے اور وہ محض تجربے کی بنیاد پر شہر کی سڑکوں کو تجربہ گاہ بنائے ہوئے ہیں ، ٹریفک پولیس کے پاس موجود اعدادوشمار کے مطا بق شہر میں چلنے والی بھاری گاڑیوں کے صرف 69 فیصد ڈرائیوروں کے پاس بھاری گاڑیاں چلانے کالائسنس ہے ، یعنی 31 فیصد ڈرائیورابھی کراچی کی سڑکوں کو تجربہ گاہ کے طورپر استعمال کررہے ہیں اور یہ سب کچھ ٹریفک پولیس کے قریبی تعاون سے ہورہاہے جو کہ اس شہر کے انتظام کے ذمہ دار حکا م کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔
اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ اس ہوشربا انکشاف کے بعد بھی کیاارباب اختیار اس صورت حال کی اصلاح کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر تیار ہوں گے۔بظاہر تو اس کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ہے۔
معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا،وزیراعظم جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی ، کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ بھارتی کٹھ پتلیوں کا حال انڈین طیاروں کی طرح ہوگا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکی...
آزادی اظہاررائے کی آڑ میںعوام کو تکلیف پہنچانے نہیںدیں گے،سیدمراد علی شاہ احتجاج کیلئے کئی مقامات ہیں، مرکزی سڑکوں پر احتجاج نہیں کیا جاسکتا، میڈیا سے گفتگو وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے جلوسوں کی اجازت ہے لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں ک...
کسی کو بھی کراچی بند کرنے کی اجازت نہیں، شہر قائد ملک کا معاشی مرکز ہے اس کا پہیہ چلتا ہے تو ملک چلتا ہے،ضیا لنجار پیر محمد شاہ پر لگے الزامات کی انکوائری جاری ہے، رپورٹ آنے سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہیں ہے،میڈیا سے گفتگو وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے پاکستان تحریک انصاف (...
ملک بھر میںکشمیریوں سے غیر متزلزل حمایت کا عہد، شہدا کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی آزاد کشمیر اور پاکستان کو ملانے والے مختلف مقامات پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائی گئی پاکستان ، آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانی کمیونٹی نے جدوجہد آزادی میں مصروف ...
پاکستان اور جموں وکشمیر کے اٹوٹ رشتے کی تجدید، دنیا کشمیریوں کی پکار سنے گی پاکستان اور آزاد کشمیر میںجوش و خروش سے جلسے ، جلوسوں ، ریلیوں کا انعقادکیا جائیگا پاکستان، آزاد جموں وکشمیر اور دنیا بھر میںآج یوم یکجہتی کشمیر جوش و خروش سے منایا جائے گا جسکا مقصد بھارتی ظلم ستم...
ہر شہر میں جلسے منعقد کیے جائیں اور ریلیاں نکالی جائیں، مولانا عبدالغفور حیدری 8 فروری کا الیکشن قوم کیلئے ناقابل قبول ، عوامی مینڈیٹ پر کھلا ڈاکا ہے،بات چیت جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ایف) نے 8 فروی کو یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا۔ اس حوالے سے مرکزی سیکریٹری جنرل جمعیت...
آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں پھلوں کی 2۔28 اور مصالحہ جات کی 2 فیصدقیمتوں میں اضافہ ریکارڈکیا گیا رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی میں اضافہ، آٹا، چکن، مصالحے،بیکری آئٹمز، دودھ سمیت بیشتر اشیاء مزید مہنگی کر دی گئیں۔ تفصیلات...
پاکستان استنبول میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات میں شرکت کرے گا، جن کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے تنازعے کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، ترجمان طاہر اندرابی امریکا کے نمائندہ خصوصی اور ایرانی وزیرخارجہ اپنے ممالک کی نمائندگی کریں گے،خطے کی طاقتوںسعودی...
اڈیالہ جیل میں قیدبانی پی ٹی آئی کی صحت بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے، طبی معائنہ شوکت خانم اور شفا اسپتال کے ڈاکٹروں سے کرایا جائے، قائدِ حزبِ اختلاف نے صحت کا معاملہ اٹھا دیا وزیراعظم سے فوری ذاتی مداخلت کا مطالبہ ،خط میں اپوزیشن لیڈرنے ذاتی ڈاکٹروں کے نام تجویز ڈاکٹر محمد ...
صدر میں 200سے زائد دکانیں سیل،مارکیٹ میں حفاظتی اقدامات نہیں کیے گئے دکانداروں کو سات روز قبل نوٹس جاری ، انتظامات کیے جانے تک مارکیٹیں سیل رہیں گی صدر ہاشو سینٹر اور الیکٹرک مارکیٹ سیل کر دی گئی، دونوں مارکیٹوں میں دو سو سے زائد دکانیں موجود ہیں۔تفصیلات کے مطابق فائر سیفٹی ک...
خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 72,703قومی شناختی کارڈز بلاک کیے گئے سندھ 49,666، پنجاب میں 29,852شناختی کارڈز بلاک ہوئے،نادراحکام پاکستانی حکام نے گزشتہ تین برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریبا 195,000 کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈز (CNICs) بلاک کیے، جو شہری ڈیٹا بیس میں موجود مخت...
ملک بھر کے عوام ناانصافی کیخلاف رضاکارانہ طور پر دکانیں بند اور احتجاج ریکارڈ کرائیں گے،سندھ اور پنجاب میں پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں اور ان کے گھروں پر چھاپوں کی شدید مذمت بلوچستان میں دہشتگردی کی مذمت،دہشتگردی کیخلاف جدوجہد میں قوم متحد، مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس میں م...