وجود

... loading ...

وجود

محکمہ اوقاف میں 10 کروڑ روپے کی کرپشن‘ مزاروں کے متولیوں کی تقرری میں گھپلے

هفته 26 اگست 2017 محکمہ اوقاف میں 10 کروڑ روپے کی کرپشن‘ مزاروں کے متولیوں کی تقرری میں گھپلے

سندھ کے محکمہ اوقاف میں بڑے پیمانے پر گھپلوں کاانکشاف ہوا ہے، اس حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق سندھ کے مختلف علاقوں میں واقع معروف اولیائے کرام اور بزرگان دین کے کم وبیش500 مزاروں پر زائرین کی جانب سے پیش کیے جانے والے نذرانے ،چڑھاوے اور عطیات کے طورپر حاصل ہونے والی رقم اور قیمتی اشیا مبینہ طورپر خورد برد کرلی جاتی ہیں اوران کابہت ہی معمولی ساحصہ سرکاری خزانے میں جمع کرایاجاتاہے، اطلاعات کے مطابق مزاروں پر ہونے والی آمدنی کی خورد برد اور چوریوں میں ان مزاروں کی دیکھ بھال اور ان کے معاملات چلانے کے لیے محکمہ اوقاف کی جانب سے مقرر کیے گئے متولیوں اور نچلے اہلکاروں کے علاوہ محکمہ اوقاف کے اعلیٰ افسران اور وزارت اوقاف کے افسران بھی برابرکے شریک ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق سندھ میں موجود مزاروں پر ہرسال کروڑوں روپے مالیت کے چڑھاوے چڑھائے جاتے ہیں جن میں سونے چاندی کے زیورات اور دیگر قیمتی اشیا بھی شامل ہوتی ہیں لیکن محکمہ اوقاف کے افسران وزارت اوقاف کے حکام کی مبینہ ملی بھگت سے اس کابڑا حصہ خود ہڑپ کرلیتے ہیں جبکہ سونے چاندی کی نیلامی میں بھی بھاری کمیشن حاصل کرکے مارکیٹ کی قیمت سے بہت کم قیمت پربولی کی منظوری دے کر قومی خزانے کولاکھوں روپے کانقصان پہنچاتے ہیں ۔
اطلاعات کے مطا بق سندھ اسمبلی کی اوقاف مذہبی امور اورزکوٰۃ وعشر سے متعلق امور کی کمیٹی کے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن سے تعلق پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کی رکن اسمبلی نصرت سحر عباسی کی زیر صدارت ہونے والے حالیہ اجلاس کے دوران محکمہ اوقاف کے معاملات پر غور کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ گزشتہ 3سال کے دوران محکمہ اوقاف میں 10 کروڑ روپے خورد کرلئے گئے ہیں ۔کمیٹی کے اجلاس کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ محکمہ اوقاف کے حکام سندھ کے مزاروں کی دیکھ بھال کے لیے متولیوں کامستقل بنیادوں پر تقرر کرنے کے بجائے ان کا تقرر یومیہ اجرت کی بنیا پر کررہے ہیں ۔صوبائی اسمبلی کی کمیٹی کے اجلاس کی اس کارروائی کے حوالے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق محکمہ اوقاف کے معاملات کی چھان بین کے دوران جب محکمہ اوقاف کے حکام سے مزاروں کی دیکھ بھال کے لیے متولیوں کے تقرر اور ان کو تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے 10 کروڑ روپے کا حساب اور مزاروں پر رکھے گئے ملازمین کی فہرست طلب کی گئی تو محکمہ اوقاف کے حکام نہ تو 10 کروڑ کے خرچ کا کوئی حساب پیش کرسکے اور نہ ہی مزاروں کی دیکھ بھال کے لیے رکھے گئے ملازمین کی کوئی فہرست پیش کرسکے۔
کمیٹی کی چھان بین کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ محکمہ اوقاف کے حکام نے مزاروں پرملازمین کی تنخواہوں کی مد میں جاری کیے گئے10 کروڑ روپے ملازمین کی جعلی فہرستیں جمع کر کے خورد برد کرلئے ہیں اور ملازمین کاتقرر محض کاغذوں پر ہواہے حقیقی معنوں میں کوئی ملازم رکھا ہی نہیں گیا اور یومیہ اجرت پر لوگوں کی خدمات حاصل کرکے کام چلایاجارہاہے جن کی اجرت مزار سے ہونے والی آمدنی سے ادا کردی جاتی ہے۔کمیٹی کی چھان بین کے دوران محکمہ اوقاف کے حکام نے یہ موقف اختیار کیاتھا کہ وہ عرس کے مواقع پر عارضی طورپر لوگوں کی خدمات حاصل کرکے ان کو ادائیگیاں کردیتے ہیں اور ان ادائیگیوں پر ہی یہ فنڈ خرچ ہواہے لیکن اس حوالے سے بھی وہ کوئی ریکارڈ پیش کرنے سے قاصر رہے اور اس حوالے سے بھی ان کے پاس کسی کو کسی طرح کی ادائیگی کاکوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔
اس معاملے کی چھان بین کرنے والی کمیٹی کی سربراہ مسلم لیگ فنکشنل کی رکن اسمبلی نصرت سحر عباسی کاکہناہے کہ 10 کروڑ روپے کی اس خورد برد کے انکشاف کے بعد سے انھیں طرح طرح کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور ان کو اس حوالے سے زبان بند رکھنے کو کہاجارہاہے ،لیکن انھوں نے اس حوالے سے کرپشن کی پوری طرح چھان بین کرنے اور اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کااظہار کیا ہے۔
زکوٰۃ وعشر سے متعلق امور کے صوبائی سیکریٹری نے اس اجلاس کو بتایا تھا کہ ان کے محکمے میں موجود کم وبیش 750 ملازمین میں کوئی بھی مستقل نہیں ہے کیونکہ ان ملازمین کی ملازمتیں ریگولرائز کرنے کے حوالے سے حکومت کی جانب سے ابھی تک منظوری نہیں دی گئی ہے۔نصرت سحر عباسی کاکہنا ہے کہ وہ سندھ کے مزاروں سے متعلق معاملات کی چھان بین کاسلسلہ جاری رکھیں گی اور کسی بھی دھمکی سے خوفزدہ ہوکر تحقیقات کاعمل نہیں روکیں گی، اطلاعات کے مطابق انھوں نے اس حوالے سے تفصیلی بریفنگ کے لیے محکمہ اوقاف کے ایڈمنسٹریٹر کو طلب کرلیاہے۔خیال کیاجاتاہے کہ مزاروں سے متعلق معاملات کی چھان بین کے دوران چشم کشا انکشافات ہوں گے اور بہت سے پردہ داروں کے چہروں سے نقاب الٹ جائے گا اور مزاروں کی آمدنی سے تجوریاں بھرنے والے بہت سے پارسا بے نقاب ہوجائیں گے۔
ابھی تک وزارت اوقاف کی جانب سے اس حوالے سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ہے اور وزیر اوقاف ،مذہبی امور، زکوٰۃ وعشر نے اس پورے معاملے میں مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ،یہ بھی معلوم ہواہے کہ مزاروں کی آمدنی میں خورد برد اور مزاروں کے ملازمین کی تنخواہوں کے لیے جاری کردہ 10 کروڑ روپے کی خورد برد کے انکشاف کے بعد متعلق حلقوں اور حکام میں کھلبلی مچ گئی ہے اور ہر ایک اس کی ذمہ داری دوسرے کے سر ڈال کر خود صاف بچ نکلنے کی کوششوں میں مصروف ہے، یہ بھی معلوم ہواہے کہ اس انکشاف کے بعد مزاروں پر رکھے گئے ملازمین کی جعلی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کرکے یومیہ اجرت پر رکھے گئے بعض ملازمین کو محکمہ سے باقاعدہ تنخواہیں وصول کرنے کی گواہی دینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس کے عوض بعد میں انھیں محکمے میں مستقل ملازمت فراہم کرنے کاجھانسا دیاجارہاہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کی رکن سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی اس معاملے کو کس حد تک آگے لے جانے اور اس معاملے کو دبانے کے لیے ملنے والی دھمکیوں کو برداشت کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں ،یا پھر وہ بھی حالات سے سمجھوتا کرکے سرکاری محکموں میں خورد برد کے دیگر بہت سے معاملات کی طرح اس معاملے کوبھی متعلقہ حکام کو دکھاوے کی تنبیہ کرکے طاق نسیاں کے سپرد کردیتی ہیں ۔تاہم ہمارے خیال میں محکمہ اوقاف میں خورد برد کے اس انکشاف کے بعد ایف آئی اے اور محکمہ انسداد بدعنوانی کو آگے بڑھ کر اس کی تحقیقات کی ذمہ داری سنبھالنی چاہئے اور سرکاری رقوم کی خورد برد میں ملوث تمام چھوٹے بڑے افسران کو انصاف کے کٹہرے میں لاکر ان سے لوٹی ہوئی تمام رقم واپس وصول کرنے کے ساتھ ہی ان کو قرار واقعی سزا بھی دلوانے کی کوشش کرنی چاہئے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر