... loading ...
1997 کے عام انتخابات یوں تو کئی لحاظ سے اہم تھے کیونکہ ان انتخابات میں ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا اور صوبائی انتخابات میں حصہ لے کر کراچی، حیدر آباد، نواب شاہ سے زبردست کامیابی حاصل کی تھی۔ لیکن انہی انتخابات کے دوران میں سندھ اسمبلی میں چار ایسے بھاری بھرکم ارکان منتخب ہوئے تھے جن کو دیکھ کر کہا جاسکتا تھا کہ وہ سیاستدان نہیں پہلوان ارکان ہیں ۔چھ فٹ سے زیادہ قد، بھرا ہوا جسم دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ سندھ میں واقعی خوراک کا کوئی بحران نہیں ہے۔ ان ارکان میں سردار رحیم ، سلیم ضیاء مقبول شیخ اور حاجی الطاف حسین انٹر شامل تھے۔ چاروں ارکان پہلی مرتبہ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے ۔ ان میں سردار رحیم اور سلیم ضیاء کراچی سے ، مقبول شیخ شکار پور سے اور حاجی الطاف حسین انڑ لاڑکانہ سے منتخب ہوئے تھے۔ سلیم ضیاء مقبول شیخ اور الطاف حسین انڑ کو تو وزارتیں دی گئیں لیکن سردار رحیم کو وزارت نہیں ملی۔ مگر اس وقت سردار رحیم کم گو مگر سنجیدہ نظر آئے۔ وہ اسمبلی ساڑھے تین سال تک چل سکی۔ لیکن سردار رحیم نے پارٹی سے اپنا رشتہ مضبوط بنالیا۔
پھر 99 میں کراچی میں حکیم محمد سعید کو شہید کر دیا گیا اور وفاقی حکومت نے لیاقت جتوئی کی حکومت معطل کرکے غوث علی شاہ کو مشیر اعلیٰ مقرر کر دیا جن کا عہدہ وزیراعلیٰ کے برابر تھا اور پھر آگے چل کر جب 12 اکتوبر 1999 کو اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف نے حکومت کا تختہ الٹ دیا تو نواز شریف، شہباز شریف، غوث علی شاہ، رانا مقبول اور شاہد خاقان عباسی گرفتار کر لیے گئے۔ اس دور میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے بھاؤ لگتے تھے۔ روزانہ ایک منڈی لگتی تھی اور مسلم لیگی رہنما اس منڈی میں اپنا ضمیر فروخت کرتے تھے۔ کراچی میں یوں بھی مسلم لیگ (ن) مضبوط نہ تھی، اوپر سے اقتدار ختم ہوا تو مسلم لیگ ڈگمگانے لگی اور کئی سرکردہ رہنما زیر زمین چلے گئے۔
سردار رحیم ایک فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کے مالک تھے۔ انہوں نے قریبی ساتھیوں سے صلاح مشورے کیے۔ کسی نے ان کو مشورہ دیا کہ وہ خاموش ہو کر گھر بیٹھ جائیں ۔ کسی نے ان سے کہا کہ وہ وفاداری تبدیل کرکے پرویز مشرف کے کیمپ میں چلے جائیں اور بہت تھوڑے دوستوں نے کہا کہ جو ہوگا دیکھا جائے گا لیکن وہ پارٹی نہ چھوڑیں ۔ سردار رحیم کا سرگرم سیاست میں یہ پہلا موقع تھا اور ان کا تعارف بھی نیا تھا اس لیے انہوں نے گوشہ نشینی اختیار کرنے یا وفاداری تبدیل کرنے کے بجائے چٹان بن کر کھڑے ہونے کو ترجیح دی اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کھڑے ہوگئے ،ان کو تکالیف دی گئیں ان کے فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کو آئے دن مسمار کرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں ، کبھی فٹ پاتھ توڑ دیا جاتا، کبھی روڈبلاک کر دی جاتی۔ کبھی کوئی راستا بند کر دیا جاتا، کبھی بجلی کا بھاری بل بھیجا جاتا ، کبھی گیس کاٹ دی جاتی، یوں ان کو حراساں کرنے ، جھکانے کے لیے ہرحربہ استعمال کیا گیا۔
سیاست میں نووارد سردار رحیم کے لیے یہ مصیبتیں نئی تھیں ۔ کئی وہم وسوسے آئے مگر انہوں نے جم کر مقابلہ کرنے کو ترجیح دی اور کاروبار کا نقصان ضرور اٹھایا ۔یہیں سے ان کا تابناک سیاسی سفر شروع ہوا۔ پھر طیارہ اغوا کیس میں وہ عدالتوں میں اپنے رہنماؤں کے لیے کھانے ، پانی، جوس، میوہ اور دیگر اشیائے خوردو نوش لے جاتے اور پیشی کے وقت ان کے ساتھ اتنا سامان جاتا کہ پولیس اہلکار بھی ’’فیض یاب‘‘ ہوتے۔ سردار رحیم نے جان لیاتھا کہ ایک جگہ ٹک کر کھڑے ہونے سے سیاسی فائدہ ہوتا ہے، وہ آگے بڑھتے رہے۔ پھر نواز شریف اہل خانہ سمیت سعودی عرب چلے گئے۔ مگر سردار رحیم نے پارٹی کی سیاست بھی جاری رکھی اور سعودی عرب، لندن جاکر میاں نوازشریف سے ملتے بھی رہے۔ جب میثاق جمہوریت پر لندن میں دستخط کیے گئے تو اس وقت کراچی سے دو درجن صحافی لندن لے جانے کی ذمہ داری بھی سردار رحیم کے کندھوں پر ڈال دی گئی۔ اور انہوں نے پارٹی کی ہر ذمہ داری بخوبی انجام دی۔
مگر جب نواز شریف واپس آئے تو انہوں نے ایسے فیصلے کیے جس میں سردار رحیم کو مکمل نظر انداز کیا گیا۔ ان سے صلاح مشورے تک نہ کیے گئے۔ وہ جو فوجی آمریت میں چٹان بن کر کھڑے ہوئے وہ اب اپنی پارٹی کے قائد کے سوتیلی ماں والے سلوک سے بددل ہوگئے۔ اندر سے ٹوٹ گئے۔ ان کو صدمہ تھا کہ جس پارٹی کے لیے وہ آمریت کے خلاف 9 سال تک جواں مردی کے ساتھ کھڑے رہے اس پارٹی نے ان کی یہ قدر بھی نہ کی کہ ان کو اہمیت دی جاتی ۔وہ صدمہ میں کافی وقت تک گوشہ نشینی میں رہے لیکن جب سید صبغت اللہ شاہ راشدی پیر پگارا کو علم ہوا تو انہوں نے سردار رحیم سے رابطہ کیا۔ ان کو مسلم لیگ فنکشنل میں آنے کی دعوت دی۔ ان کے اعزاز میں کنگری ہاؤس میں پارٹی اجلاس بلایا اور پھر باقاعدہ الیکشن کرایا گیا۔ سردار رحیم کے مقابلہ میں کسی نے بھی فارم نہیں بھرا ۔یوں سردار رحیم بلا مقابلہ صوبائی جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے ۔اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے پارٹی کے لیے اپنے تن، من ،دھن کی قربانی کا عزم کیا۔ پیر پگارا اور صدر الدین شاہ نے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان سے بہت سی امیدیں وابستہ کرلیں ۔ پارٹی کا عہدہ سنبھالتے ہی سردار رحیم پرانے وقت کی طرح سرگرم ہوگئے ہیں اور پارٹی کو ایک مرتبہ پھر فعال بنانے میں مصروف ہوگئے ہیں ۔
سردار رحیم کی سیاسی زندگی اور سیاسی سفر کو دیکھ کر سیاسی جماعتوں کے اندرونی حالات کا پوری طرح اندازا کیا جاسکتا ہے۔ مسلم لیگ نون اور نوازشریف کے طرزِ فکر کا بھی پوری طرح پتہ چلتا ہے کہ کس طرح پارٹی قیادتیں افراد کی ذاتی قربانیوں کو نظر انداز کرکے سیاسی فوائد سمیٹتی ہے اور اُنہیں اپنے اپنے وقتوں پر استعمال کرکے کسی کونے کھڈرے میں دھکیل دیتی ہے۔ سردار رحیم ایسے لوگ اپنے بل بوتے پر اپنے سیاسی مقام کا تحفظ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں مگر ان جیتے جاگتے لوگوں کے قبرستان میں بہت سے تھکے ہارے لوگوں کی روحیں بھٹکتی پھرتی ہیں اور اُنہیں کوئی پوچھتا تک نہیں ۔
مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...
اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...
صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...
کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...
دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...
قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...
بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...
حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...
فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...
اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...
رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...