وجود

... loading ...

وجود

120 پورے پاکستان میں سب سے زیادہ اہمیت کاحامل حلقہ انتخاب

هفته 19 اگست 2017 120 پورے پاکستان میں سب سے زیادہ اہمیت کاحامل حلقہ انتخاب

لاہور سے قومی اسمبلی کاحلقہ 120 پورے پاکستان میں سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے ،اس حلقے کولاہور کادل کہاجاتاہے اس حلقے کو سب سے پہلے اہمیت اس وقت ملی جب 1970کے انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے اسی انتخابی حلقے سے کم و بیش 78132ووٹ لیکر علامہ اقبال کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال کو شکست دی تھی جو اس وقت کونسل مسلم لیگ کے امیدوار تھے اور وہ بھٹو کے مقابلے میں صرف 32921ووٹ حاصل کرسکے تھے۔
الیکشن کمیشن پاکستان کی جانب سے نواز شریف کی اہلیہ کے کاغذات نامزدگی پر اٹھائے جانے والے اعتراضات مسترد کرکے انھیں الیکشن لڑنے کی اجازت دئے جانے کے بعدپاکستان کے دل لاہور کے حلقہ 120میں انتخابی معرکے کا عملاًآغاز ہوچکاہے۔ یہ انتخابی حلقہ تاجروں ، دکانداروں اور ورکنگ کلاس کے باسیوں کا حلقہ ہے جس میں آرائیں اور کشمیری برادریاں رہتی ہیں اور شیعہ کمیونٹی قابل ذکر تعداد میں موجود ہے۔اس حلقے میں خواندگی کی شرح 80فیصد ہے۔ 1970کے انتخابات میں ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی نے لاہور کی ساری نشستیں جیت لی تھیں جو بھٹو صاحب کی کرشماتی شخصیت اور نظریاتی سیاست کا معجزہ تھا۔ اقتدار کی مصلحتوں کے پیش نظر پاکستان پیپلز پارٹی نظریاتی سیاست سے دور ہوتی چلی گئی جس سے اس کا ووٹ بینک سکڑتا چلا گیا۔ 1985کے غیر جماعتی انتخابات میں میاں نواز شریف اس انتخابی حلقے سے پہلی بار منتخب ہوئے اور اس طرح سیاست اور تجارت کے امتزاج کا آغاز ہوا۔ 1988میں میاں نواز شریف نے پاکستان مسلم لیگ کے ٹکٹ اور آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے انتخاب لڑا اور 48318ووٹ حاصل کرکے پاکستان پیپلز پارٹی کے اْمیدوار عارف اقبال بھٹی مرحوم کو ہرا دیا۔ 1990کے انتخابات میں میاں نواز شریف نے اسی حلقے میں ائیر مارشل اصغر خان کو شکست دی۔ 2002کے انتخابات میں شریف خاندان جلاوطن تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے اْمیدوار جہانگیر بدر ، جماعت اسلامی کے اْمیدوار حافظ سلمان بٹ کو شکست دے کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
2008کے انتخابات میں میاں نواز شریف کے کاغذات سزاؤں کی وجہ سے مسترد ہوگئے تھے اور مسلم لیگ(ن) کے اْمیدوار بلال یٰسین نے اس حلقے سے 65946ووٹ لیکر پاکستان پیپلز پارٹی کے اْمیدوار جہانگیر بدر کو شکست دیدی جنہوں نے 24380ووٹ حاصل کیے۔ 2013کے انتخابات میں تحریک انصاف کا جنون سیاست میں نئے فیکٹر کے طور پر نمودار ہوا۔ میاں نواز شریف نے 91666ووٹ لیے اور تحریک انصاف کی اْمیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد نے 52354 ووٹ حاصل کرکے مسلم لیگ(ن) کے لیے خطرے کی گھنٹی بجادی۔ مسلم لیگ(ن) کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس انتخابی حلقے پر خصوصی توجہ دی۔ ہزاروں افراد کو روزگار اور خصوصی سرکاری مراعات سے نوازا گیااورجس طرح نوازا گیااس کااندازہ ٹی وی اینکر کامران خان کے اس بیان سے لگایاجاسکتاہے کہ اس حلقے میں سب سے زیادہ بجلی چوری کی جاتی ہے۔
ڈاکٹر یاسمین راشد باصلاحیت انتھک سیاسی لیڈر ہیں انہوں نے ڈور ٹو ڈور مہم شروع کررکھی ہے۔ میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد ڈاکٹر یاسمین راشد کی کامیابی کے امکانات روشن ہوگئے تھے۔ تحریک انصاف کے لیڈر عدلیہ کے تاریخ ساز فیصلہ کے بعد سنہری موقع سے سیاسی فائدہ نہیں اْٹھاسکے۔ تحریک انصاف کے کارکن اگر ہر شہر میں شکرانے کے نوافل ادا کرکے سکتے میں آئے مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو مزید دباؤ میں لے آتے تو میاں نواز شریف کے لیے جی ٹی روڈ پر ریلی شاید آسان نہ ہوتی۔نواز شریف نے اگرچہ ریاستی اداروں خاص طور پر عدلیہ پر افسوسناک تنقید کرکے سیاسی کلچر کو مزید آلودہ کردیا ہے مگر وہ کامیاب اور پرجوش ریلی کے بعد سیاسی دباؤ سے بڑی حدتک باہر نکل آئے ہیں ۔
جی ٹی روڈ مارچ نے لاہور کے انتخابی حلقہ 120پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں ۔ مسلم لیگ(ن) کے متوالے پرجوش اور پرعزم ہوگئے ہیں ۔مسلم لیگ نے اس حلقہ میں 3 بار خاتون اول رہنے والی بیگم کلثوم نواز کو مسلم لیگ(ن) کا اْمیدوار قرار دے کر یہ ثابت کیاہے کہ نواز شریف اقتدار اپنی پارٹی کے بھی کسی انتہائی وفاداراورجاں نثار رہنما کوبھی منتقل کرنے کوتیار نہیں ہیں اور ہرحال میں اقتدار کو اپنے خاندان ہی میں محدود رکھناچاہتے ہیں اگر مسلم لیگ ن کلثوم نواز کی بجائے کسی اور مسلم لیگی رہنما کو اس نشست سے انتخاب لڑانے کافیصلہ کرتی تو شاید مسلم لیگ ن کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ،اورمسلم لیگ ا قتدار شریف خاندان تک محدود رکھنے کے الزام سے بھی بری الذمہ ہوجاتی جبکہ کلثوم نواز کی نامزدگی کی صورت میں اب مسلم لیگ ن کو یہ نشست جیتنے کے لیے بہت زیادہ محنت کرنا پڑے گی اگرچہ یہ بات واضح ہے کہ یہ نشست جیتنے کے لیے پنجاب حکومت کی پوری مشینری لگانے سے گریز نہیں کیاجائے گا اور اس حلقے کے مختلف محکموں کے سربراہوں اورکاروباری برادری کے لوگوں کو کلثوم نواز کے حق میں مہم چلانے اور ان کے حق میں ووٹ ڈلوانے کے لیے دباؤ ڈالا جانا کوئی غیر متوقع بات نہیں ہوگی، جہاں تک اس حلقے میں کلثوم نواز کی مقبولیت کاسوال ہے تو یہ بات واضح ہے کہ کلثوم نواز خاتون اول ہونے کے باوجود کبھی اس حلقے میں نہیں گئیں انھوں نے کبھی اس حلقے کے عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے کوئی جدوجہد نہیں کی ،اور اس حلقے سے ان کی عدم دلچسپی اور لاتعلقی کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ اس اہم معرکے کو نظر انداز کرتے ہوئے کلثوم نواز علاج کے بہانے کسی اہم خفیہ مشن پر لندن روانہ ہوگئی ہیں ،حالانکہ مسلم لیگ(ن) کی قیادت کو ایاز صادق اور عبدالعلیم خان کے درمیان کڑے انتخابی معرکے کے بعد محتاط ہوجانا چاہئے تھا۔ اس امرسے انکار نہیں کیاجاسکتا کہ حلقہ نمبر 120کا ضمنی انتخاب مسلم لیگ (ن) کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ اگر وہ یہ انتخاب ہار گئی تو شریف خاندان اور مسلم لیگ(ن) دونوں کا سیاسی مستقبل خطرے میں پڑسکتا ہے۔ تحریک انصاف کی اْمیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد لاہور کی مقبول اور انتھک شخصیت ہیں ۔وہ کوئی عہدہ اور اختیار نہ ہونے کے باوجود اس حلقے میں انتہائی فعال کردار ادا کرتی رہی ہیں ۔اگر تحریک انصاف اپنے 2013کے ووٹوں میں 20 ہزار ووٹوں کا اضافہ کرنے اور اس حلقے میں ووٹنگ کے دوران جعلی ووٹنگ روکنے میں کامیاب ہوگئی تواس نشست کانتیجہ مسلم لیگ ن کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتاہے ۔
یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ بیگم کلثوم نواز جنرل پرویز مشرف کے دور میں ’’آئرن لیڈی‘‘ کے طور پر سامنے آئیں ۔ انہوں نے ’’سیاست کی دلدل‘‘ سے اپنے آپ کو بچا کررکھا ہے۔پاکستان کے سیاسی حلقے جماعتی اختلاف کے باوجود ان کا احترام کرتے ہیں ۔ انتخابی مہم کے دوران شریف خاندان نیب عدالتوں سے ضمانتیں کرارہا ہوگا۔ تحریک انصاف اس صورت حال سے فائدہ اْٹھا سکتی ہے مگر اس کا میڈیا منظم، مربوط اور یکسو نہیں ہے جبکہ عمران خان کیمروں کا سامنا کرنے کی بجائے ٹویٹ پر زیادہ سرگرم رہتے ہیں جس کا امپیکٹ بہت کم ہوتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی نے سرگرم نوجوان فیصل میر کو انتخابی میدان میں اْتارا ہے۔ وہ اگر حلقہ کے غریب اور محنت کش عوام سے رابطے کریں تو قابل ذکر تعداد میں ووٹ حاصل کرسکتے ہیں ۔ بلاول بھٹو کی لاہور میں موجودگی اور جلسوں میں دھواں دھار تقریروں سے انھیں فائدہ پہنچ سکتاہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ ن یہ نشست حاصل کرنے کے لیے کیاحکمت عملی اختیار کرتی ہے اور تحریک انصاف اپنی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشداور پاکستان پیپلزپارٹی اپنے امیدوار فیصل میرکو کامیاب بنانے کے لیے کیاحکمت عملی اختیار کرتے ہیں ، اس نشست پر یاسمین راشد فیصل میر جیسے مضبوط امیدواروں کی موجودگی کا فائدہ بھی کلثوم نواز کو ہوسکتاہے اور مسلم لیگ ن کے مخالف ووٹ دو جگہ پر تقسیم ہوجانے کی صورت میں کلثوم نواز نسبتاً کم ووٹ حاصل کرکے بھی کامیابی حاصل کرسکتی ہیں ، لیکن اگر کلثوم نواز نسبتاً کم مارجن سے یہ نشست جیتتی ہیں تو بھی نواز شریف اور ان کی پارٹی کوسبکی کاسامنا کرناپڑے گاکیونکہ اس سے یہ بات واضح ہوجائے گی کہ نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کو عوام نے قبول کرلیاہے اور اب عوام کے دلوں میں نواز شریف کے لیے وہ عزت واحترام نہیں ہے جو 4سال قبل تھا۔


متعلقہ خبریں


پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، پی ٹی آئی کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان وجود - هفته 04 اپریل 2026

اپوزیشن کی اے پی سی اتوار کو لاہور میں بلائی جائے گی،ترکیہ، تھائی لینڈ، چین، افغانستان میں پیٹرول پاکستان سے سستا ہے، یہ قیمت اور لیوی دونوں بڑھا رہے ہیں، تحریک انصاف حکومت آئی ایم ایف سے ڈیل کرنے میں ناکام ہوگئی،شاہ خرچیوں کی وجہ سے پیٹرولیم لیوی کو کم نہیں کیا جارہا، بیرسٹر گ...

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ مسترد، پی ٹی آئی کا آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان

امارات کا پاکستان کو دیے گئے قرض کی واپسی مؤخر کرنے سے انکار،حکومت کاقرض واپس کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 04 اپریل 2026

پاکستان کوبڑا معاشی اور خارجی دھچکا،قرض واپسی مؤخر کرنے کی حکومتی کوششیں ناکام، متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے 17 اپریل تک 2ارب ڈالرز کا قرضہ واپس مانگ لیا 2 ارب ڈالر اسی مہینے کے آخر میں ابوظہبی کو واپس کرینگے، رقم اکاؤنٹ میں سیف ڈپازٹ کے طورپر موجود تھی، رقم پر 6 فیصد کی شر...

امارات کا پاکستان کو دیے گئے قرض کی واپسی مؤخر کرنے سے انکار،حکومت کاقرض واپس کرنے کا فیصلہ

پیٹرول 271 روپے میں درآمد کیے جانے کا انکشاف وجود - هفته 04 اپریل 2026

باقی رقم ڈیوٹی ٹیکسوں اور آئی کمپنیوں و ڈیلر مارجن کی مد میں وصول کی جارہی ہے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات پر جی ایس ٹی لاگو نہیں کیا گیا ،ذرائع وفاقی حکومت کی جانب سے مہنگا کیا جانے والا پیٹرول 271۔27 جبکہ ڈیزل 496۔97 روپے فی لیٹر کے حساب سے درآمد کئے جانے کا انکشاف ہ...

پیٹرول 271 روپے میں درآمد کیے جانے کا انکشاف

حافظ نعیم کا ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان وجود - هفته 04 اپریل 2026

جماعت اسلامی کا پیٹرول قیمتوں میں اضافہ مسترد، عوام پر پیٹرول بم قرار حکمران عیاشیاں کم کرنے کو تیار نہیں، مہنگے جہاز اور گاڑیاں عوام پر بوجھ ہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوام پر پیٹرول بم ...

حافظ نعیم کا ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان

افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہیں بے نقاب وجود - هفته 04 اپریل 2026

افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں فتنہ الخوارج کیلئے ڈھال بن گئیں طالبان دہشت گردوں کوتحفظ اور دوبارہ منظم ہونے کا موقع فراہم کررہی ہیں افغانستان میں موجود محفوظ پناہ گاہیں فتنہ الخوارج کیلئے ڈھال بن گئیں ہیں۔عالمی جریدے کا افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہوں کی...

افغانستان میں فتنہ الخوارج کی محفوظ پناہ گاہیں بے نقاب

حکومت نے پیٹرول بم گرا دیا،پیٹرول 458 روپے 40 پیسے، ڈیزل 520 روپے 35 پیسے کا ہوگیا وجود - جمعه 03 اپریل 2026

موٹرسائیکل سواروں کو ماہانہ 20لیٹر پیٹرول100 روپے قیمت پر دینے کا اعلان،نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہوگیا، ٹرک، گڈز اور انٹرسٹی ٹرانسپورٹ کو ڈیزل پر سبسڈی ملے گی وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں سارے وزرائے اعلیٰ، فوجی قیادت اور دیگر قائدین شریک تھے،وزیرپیٹرولیم، وزیر خزانہ...

حکومت نے پیٹرول بم گرا دیا،پیٹرول 458 روپے 40 پیسے، ڈیزل 520 روپے 35 پیسے کا ہوگیا

زمینی کارروائی پر ایک بھی امریکی و اسرائیلی فوجی زندہ نہیں جائیگا،ایرانی فوج کی تنبیہ وجود - جمعه 03 اپریل 2026

ایرانی اعلیٰ کمانڈر کی ممکنہ زمینی کارروائی کے خطرے کے پیش نظر فوج کو سخت ہدایات جاری ، دشمن کی نقل و حرکت پر انتہائی باریکی سے نظر رکھی جائے، ہر لمحے کی صورتحال سے آگاہ رہا جائے دشمن نے زمینی حملے کی کوشش کی تو اسے بھرپور جواب دیا جائے گا، امریکا ، اسرائیل کی کسی بھی ممکنہ زمی...

زمینی کارروائی پر ایک بھی امریکی و اسرائیلی فوجی زندہ نہیں جائیگا،ایرانی فوج کی تنبیہ

دہشت گردی، سیاسی بحران، پیٹرول کمی پر سہیل آفریدی برہم وجود - جمعه 03 اپریل 2026

دہشت گردی کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اقدامات نہ ہونے پر شدید تحفظات کا اظہار عمران خان ، بشریٰ بی بی سے ملاقاتوں پر پابندی سوالیہ نشان قرار،پریس کانفرنس وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دہشت گردی، سیاسی صورتحال اور پیٹرول بحران سمیت متع...

دہشت گردی، سیاسی بحران، پیٹرول کمی پر سہیل آفریدی برہم

اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے، بمباری، 16 افراد شہید، 26 زخمی وجود - جمعه 03 اپریل 2026

شہدا کی تعداد 1 ہزار 318 ہوگئی، حزب اللہ نے اسرائیلی فوجیوں پر تاڑ توڑ حملے کئے 48 فوجی زخمی ہونے کی اسرائیلی تصدیق، مجتبیٰ خامنہ ای کی حزب اللہ کو خراج تحسین پیش اسرائیل نے لبنان پر مزید فضائی حملے کئے، بیروت سمیت مختلف علاقوں میں بمباری سے سولہ افراد شہید جبکہ چھبیس زخمی ہو...

اسرائیل کے لبنان پر فضائی حملے، بمباری، 16 افراد شہید، 26 زخمی

عمران خان کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا دائرہ کار پھیلا دیا وجود - جمعه 03 اپریل 2026

کیس میں 2 مزید ملزمان اور 1 گواہ کا اضافہ ،آئندہ سماعت پر کیس کا چالان عدالت میں پیش کردیا جائے گا چالان میں بانی پی ٹی آئی ودیگر ملزم نامزد ،تفتیشی افسر طبعیت ناسازی کے باعث عدالت میں پیش نہ ہوسکا ایف آئی اے نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور دیگر کیخلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ ک...

عمران خان کے خلاف ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کا دائرہ کار پھیلا دیا

ایران جنگ سے نکل رہے ہیںامریکی صدر کا اعلان وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

امریکا کو اپنی جنگ ختم کرنے کیلئے ایران سے ڈیل کرنے کی ضرورت نہیں، اگر وہ مذاکرات کی میز پر آتے ہیں تو اچھا ہوگا، رجیم چینج امریکاکا مقصد نہیں تھا،ٹرمپ کی میڈیا سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے2سے 3ہفتوں میں ایران جنگ سے نکلنے کا اعلان کر تے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو اپنی جنگ ...

ایران جنگ سے نکل رہے ہیںامریکی صدر کا اعلان

ٹرمپ سے جنگ بندی کی درخواست کا دعویٰ ایران نے مسترد کر دیا وجود - جمعرات 02 اپریل 2026

امریکی صدر کے بیانات سے آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، دنیا میں کوئی بھی امریکی سفارت کاری پر اعتماد نہیں کر سکتا، مجتبیٰ خامنہ ای صحت مند ہیں،ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کا انٹرویو ایران کی جانب سے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کا جنگ بندی کی درخواست کا دعوی مسترد کر دیاگیا۔ترجمان ایرانی وز...

ٹرمپ سے جنگ بندی کی درخواست کا دعویٰ ایران نے مسترد کر دیا

مضامین
امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ وجود هفته 04 اپریل 2026
امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں اور ایران جنگ

بھارتی گودی میڈیا وجود هفته 04 اپریل 2026
بھارتی گودی میڈیا

ایک سوال۔۔۔۔؟ وجود هفته 04 اپریل 2026
ایک سوال۔۔۔۔؟

4اپریل جب آتا ہے ! وجود هفته 04 اپریل 2026
4اپریل جب آتا ہے !

بھار ت کے فالس فلیگ آپریشن ناکام وجود جمعه 03 اپریل 2026
بھار ت کے فالس فلیگ آپریشن ناکام

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر