وجود

... loading ...

وجود

نواز شریف کے 4 سالہ دور میں ٹیکس چوروں کو کھلی چھوٹ دی گئی

بدھ 16 اگست 2017 نواز شریف کے 4 سالہ دور میں ٹیکس چوروں کو کھلی چھوٹ دی گئی

ٹیکس کمشنرز کے حالیہ اجلاس کے دوران یہ انکشاف ہواہے کہ نواز شریف کے 4سالہ دور حکومت میں ٹیکس چوروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنے کے حوالے سے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بلند بانگ دعووں اور ایف بی آرکی جانب سے بڑے ٹیکس چوروںجن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے نام پانامہ پیپرز میں آف شور کمپنیاں قائم کرنے کے حوالے سے شامل ہیںپتہ چلائے جانے کے باوجود ان ٹیکس چوروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کرنے کے بجائے ان کی اکثریت کو کھلی چھوٹ دی گئی ،کمشنرز کانفرنس میں یہ بات سامنے آئی کہ اربوں روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث ان ٹیکس چوروں میں سے نواز شریف کے گزشتہ4سالہ دور میں صرف 29 فیصد ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی ممکن ہوسکی جبکہ بقیہ 71 فیصد ٹیکس چور جو کہ ہر اعتبار سے قومی مجرم ہیں نواز شریف کے رفقا اور حکمراں پارٹی کے بعض اہم رہنمائوں کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات اور کاروباری مراسم کی وجہ سے کسی بھی طرح کی کارروائی سے بچے رہے اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایف بی آر نے جن ٹیکس چوروں کا پتہ چلایا ہے وہ نہ صرف اپنے سیاسی تعلقات اور اثر ورسوخ کی وجہ سے ٹیکس چوری کے ذریعے بچائی گئی رقم واپس کرنے اور کسی طرح کی احتسابی کارروائی اور جرمانوں سے بچ گئے بلکہ ان میں سے بیشتر نے مبینہ طورپر ٹیکس چوری کے ذریعہ بچائے گئے اربوں روپے غیر قانونی طورپر بیرون ملک منتقل کردئے ہیں۔
ایف بی آر نے ٹیکس چوروں کاپتہ چلانے اور ان سے ٹیکس چوری کی رقم واپس وصول کرنے کیلئے 25 مارچ 2011 کو ڈائریکٹر انوسٹی گیشن اورانٹیلی جنس کے نام سے ایک علیحدہ ڈائریکٹوریٹ قائم کیاتھا،جس کے بعد اسلام آباد ، لاہور ، کراچی ، فیصل آباد ، پشاور ،ملتان اور حیدرآباد میں اس کے 7 ڈائریکٹوریٹ قائم کردئے گئے تھے ۔سرکاری ریکارڈ کے ظاہر ہوتاہے کہ اس محکمے نے 2013 سے2017 کے دوران نواز شریف کے دور حکومت کے دوران اربوں روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث مجموعی طورپر 2 ہزار300 ٹیکس چو روںکاپتہ چلایا ،ان پر ٹیکس چوری اور ٹیکس فراڈ کے ذریعے مجموعی طورپر سرکاری خزانے کو 930 ارب روپے کانقصان پہنچانے کاالزام تھا ۔ٹیکس چوروں کاپتہ چلانے کے بعد ٹیکس چوری اور ٹیکس چوری میں ملوث ان لوگوں کے خلاف مزید کارروائی اور ان سے چوری شدہ رقم وصول کرنے کیلئے یہ تمام معاملات ایف بی آر کے ریجنل ہیڈکوارٹرز کو بھیج دئے گئے ،لیکن چیف کمشنرز کانفرنس میں پیش کئے گئے اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ اربوں روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث مجموعی طورپر 2 ہزار 300 ٹیکس چو روں میں سے صرف 900 یعنی صرف 39 فیصد ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی کی گئی جبکہ بقیہ ٹیکس چور اطمینان سے آزاد گھوم رہے ہیں اور معمول کے مطا بق کاروبار میں مصروف ہیں۔
ایف بی آر کے ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹیکس چوروں کی نشاندہی کردئے جانے کے بعد اب یہ کام ایف بی آر کے آرٹی اوز اور ایل ٹی یوز کاہے کہ وہ اس معاملے پر مزید کارروائی کرکے چوری شدہ رقم واپس لینے کی کوشش کریں ۔لیکن محکمے کی جانب سے ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی سے گریز سے ظاہرہوتاہے کہ یا تو ان ٹیکس چوروںکو حکومت میں موجود بااثر لوگوں اور مسلم لیگی رہنمائوں کی آشیر باد حاصل ہے یا پھر ایف بی آر میں موجود کالی بھیڑیں ان کو تحفظ فراہم کررہی ہیں اور ان کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔
یہی نہیں بلکہ ایف بی آر کے انوسٹی گیشن اورانٹیلی جنس ڈائریکٹریٹ نے ٹیکس چوری کیلئے گفٹ اسکیم کا سہارا لینے والے 2 ہزار785 ایسے افراد کا بھی پتہ چلایاتھا جنھوںنے قومی خزانے کو یا تو بہت ہی معمولی ٹیکس ادا کیاہے یا کوئی ٹیکس سرے سے ادا ہی نہیں کیا اور نامعلوم لوگوں کو کروڑوںا ور اربوں روپے کے تحائف دئے اور وصول کئے ، اور چونکہ تحائف ٹیکس کی زد میں نہیں آتے اس لئے ٹیکس بچانے میں کامیاب ہوگئے ، ایف بی آر کے انوسٹی گیشن اورانٹیلی جنس ڈائریکٹریٹ کی اطلاعات کے مطا بق تحائف کی آڑ میں ٹیکس چرانے والے جن لوگوں کا پتہ چلایاگیاہے انھوںنے مجموعی طورپر 102 روپے مالیت کے تحائف کاتبادلہ کرکے قومی خزانے کو اس رقم سے محروم کردیا۔لیکن ایف بی آر کے حکام ان میں سے کسی کے بھی خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکے۔ ایف بی آر کے انوسٹی گیشن اورانٹیلی جنس ڈائریکٹریٹ کاکہناہے کہ اس نے تحائف کی آڑ میں ٹیکس چوری کے ان مبینہ واقعات سے بھی ایف بی آر کے حکام کو مطلع کردیاہے انھیں تمام ضروری معلومات فراہم کردی گئی ہیں اور اب یہ کام ایف بی آر کے آرٹی اوز اور ایل ٹی یوز کاہے کہ وہ اس معاملے پر مزید کارروائی کرکے چوری شدہ رقم واپس لینے کی کوشش کریں حکام کاکہنا ہے کہ تحائف اسکیم کی آڑ میں ٹیکس چوری کرنے والوں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہوسکتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ تحائف کی آڑ میں ٹیکس چوری کے واقعات کی روک تھام کیلئے اس قانون اس طرح سے تبدیلی کی جائے کہ اس اسکیم کا ناجائز فائدہ اٹھانا ممکن نہ رہے۔
ایف بی آر کے اندرونی ذرائع کا کہناہے کہ ٹیکس چوروں کے حوالے سے محکمے کے حوالے کئے جانے والے ڈیٹا کے بارے میں اعلیٰ حکام نے مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور اب یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ ڈیٹا ایف بی آر کے ریکارڈ میں محفوظ ہے یا ضائع ہوگیا یا جان بوجھ کر ضائع کردیا گیاہے۔ذرائع کے مطابق ڈائریکٹوریٹ اور ٹیکس وصولی کے لیے کارروائی کرنے والے ایف بی آر کے آرٹی اوز اور ایل ٹی یوز کے درمیان رابطے کامکمل فقدان ہے جس کی وجہ سے یہ معلوم نہیں ہوپاتا کہ ٹیکس چوروں کے خلاف کیاکارروائی کی گئی اور اس میں کس حد تک کامیابی حاصل کی جاسکی۔
ایف بی آر کے ذرائع کایہ بھی کہناہے کہ حکومت نے پانامہ پیپرز میں سامنے آنے والے ناموں کے بارے میں بھی تحقیقات کا حکم دیاتھا جس پرابتدائی کارروائی کے بعد مجموعی طورپر 344 افراد کو نوٹس جاری کئے گئے تھے ان لوگوں کے خلا ف رپورٹیں دستیاب اور مختلف ذرائع سے موصولہ اطلاعات کی بنیادپر مرتب کی گئی تھیں جس کے بعد یہ تمام معاملات ایف بی آر کے متعلقہ آرٹی اوز اور ایل ٹی یوز کو مزید کارروائی کے لیے منتقل کردئے گئے تھے،اطلاعات کے مطا بق ان میں سے 100 سے زیادہ معاملات کراچی اور 85 معاملات لاہور کے حوالے کئے گئے تھے لیکن ان پر پیش رفت کے بارے میں محکمہ مکمل طورپر خاموش ہے۔اس حوالے سے مزید معلومات اورپیش رفت کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے جب ایف بی آر اور ایف بی آر کے انوسٹی گیشن اورانٹیلی جنس ڈائریکٹریٹ سے رابطہ کیاگیا تو ان دونوں محکموں کے افسران نے اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔


متعلقہ خبریں


18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

کویت کی الشویخ بندرگاہ پر3بحری جہاز سمندر میں ڈوب گئے جبکہ دیگر 3میں آگ بھڑک اٹھی تل ابیب میں کثیر المنزلہ عمارتیں نشانہ ،میزائل اسرائیلی فضا میں داخل ہوتے ہی سائرن بج اٹھے ایران نے اسرائیل پر کلسٹر بموں کی بارش کردی جبکہ کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ کرنے کا دعویٰ بھی کرد...

ایران کی اسرائیل پر کلسٹر بموں کی برسات ،کویت میں 6امریکی بحری جہاز تباہ

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

اپنی ہی سمری خود مسترد کرکے وزیر اعظم نے قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی،امیر جماعت وزیراعظم پروٹوکول کی 36گاڑیوںمیںایک تعزیت اور شادی کی مبارکباد دینے کراچی آئے امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔ادارہ نور حق میں پ...

حافظ نعیم کا حکومت سے پیٹرول پر لیوی ختم کرنے کا مطالبہ

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی وجود - هفته 28 مارچ 2026

بزدل امریکی اور صہیونی افواج میں اپنے فوجی اڈوں کا دفاع کرنے کی ہمت نہیں ، دہشتگردفورسز نے ایرانیوں کونشانہ بنایا،جہاں ملیں انہیں ختم کردو ، پاسداران انقلاب کی عوام کو دور رہنے کی ہدایت اسلامی جنگجوؤں کی کارروائیوں کے خوف سے معصوم لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی ...

ایران کی خلیج میں امریکی فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری وجود - هفته 28 مارچ 2026

سفیر اور عملہ محفوظ،سفارتخانے کے اطراف میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو تہران میں پاسداران کے زیر انتظام علاقے میں مقیم ہیں ایران کے دارالحکومت تہران میں پاکستانی سفارتخانے اور سفیر کی رہائشگاہ کے قریب اسرائیل نے شدید بمباری کی تاہم تمام سفارت...

تہران میں پاکستانی سفارتخانے کے قریب اسرائیل کی بمباری

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار وجود - هفته 28 مارچ 2026

موٹر سائیکلصارفین کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر کرنے کی تجویز 800 سی سی گاڑیوں تک سبسڈی کا فیصلہ نہیں ہو سکا، ذرائع وفاقی حکومت عوام کو ریلیف دینے کیلئے حکومت نے پیٹرول سبسڈی پلان پر عملی کام شروع کر دیا۔موٹر سائیکلز کیلئے ماہانہ 20 لیٹر تک پیٹرول کا کوٹہ مقرر ک...

توانائی بحران میں حکومت سرگرم، عوام کو پیٹرول پر سبسڈی دینے کیلئے ایپ تیار

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی وجود - هفته 28 مارچ 2026

اسرائیل کی جانب سے لبنان کے تقریباً 14 فیصد علاقے کو خالی کرنے کی دھمکیاں جارحیت کا شکار معصوم بچپن، ایک ماہ کے دوران 121 بچے جاں بحق، یونیسف کی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے بچوں کے عالمی ادارے (UNICEF) نے لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی جارحیت کے نتیجے میں بچوں پر ہونے والے...

لبنان پر اسرائیلی حملہ،3 لاکھ 70 ہزار بچوں کی نقل مکانی پر خطرے کی گھنٹی

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق وجود - جمعه 27 مارچ 2026

حکومتی فیصلوں میں عوامی مفاد کو مقدم رکھنے کیلئے جامع حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ،اجلاس میںعالمی سطح پر تیل و گیس کی فراہمی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے معیشت پر اثرات کا جائزہ لیا شرکاء نے مہنگائی کے دباؤ کو کم کرنے اور توانائی کے تحفظ کو یقینی بنانے پر خصوصی توجہ دی، وزیراعظم ...

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس،سول و عسکری قیادت کا معیشت، توانائی، سیکیورٹی سے متعلق مشترکہ فیصلوں پر اتفاق

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا وجود - جمعه 27 مارچ 2026

بانی عمران خان کے بیٹے نے بلوچ نیشنل موومنٹ کے متنازع رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب کیا سوشل میڈیا صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس مشترکہ موجودگی کو پاکستان مخالف لابنگ قرار دیا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان مخا...

قاسم خان کی جنیوا میں پاکستان مخالف پروگرام میں شرکت، نیا تنازع کھڑا ہوگیا

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان وجود - جمعه 27 مارچ 2026

رات ساڑھے 8بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کیلئے تیار ہیں ملکی مفاد میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد تاجر برادری نے حکومت کے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا رات ساڑھے 8 بجے شاپنگ مالز اور مارکیٹیں بند کرنے کے لیے تیار ہے۔تفصیلات کے مطاب...

تاجر برادری کا اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حمایت کا اعلان

مضامین
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول وجود اتوار 29 مارچ 2026
تشکیلِ کردار:ایمانی، روحانی اور سماجی اصول

پاکستانی پنک سالٹ وجود اتوار 29 مارچ 2026
پاکستانی پنک سالٹ

ایران کا آخری کارڈ وجود اتوار 29 مارچ 2026
ایران کا آخری کارڈ

ولن کے نئے بیانئے کا انتظار وجود اتوار 29 مارچ 2026
ولن کے نئے بیانئے کا انتظار

ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق وجود هفته 28 مارچ 2026
ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر