وجود

... loading ...

وجود

نواز شریف کے 4 سالہ دور میں ٹیکس چوروں کو کھلی چھوٹ دی گئی

بدھ 16 اگست 2017 نواز شریف کے 4 سالہ دور میں ٹیکس چوروں کو کھلی چھوٹ دی گئی

ٹیکس کمشنرز کے حالیہ اجلاس کے دوران یہ انکشاف ہواہے کہ نواز شریف کے 4سالہ دور حکومت میں ٹیکس چوروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنے کے حوالے سے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے بلند بانگ دعووں اور ایف بی آرکی جانب سے بڑے ٹیکس چوروںجن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے نام پانامہ پیپرز میں آف شور کمپنیاں قائم کرنے کے حوالے سے شامل ہیںپتہ چلائے جانے کے باوجود ان ٹیکس چوروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کرنے کے بجائے ان کی اکثریت کو کھلی چھوٹ دی گئی ،کمشنرز کانفرنس میں یہ بات سامنے آئی کہ اربوں روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث ان ٹیکس چوروں میں سے نواز شریف کے گزشتہ4سالہ دور میں صرف 29 فیصد ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی ممکن ہوسکی جبکہ بقیہ 71 فیصد ٹیکس چور جو کہ ہر اعتبار سے قومی مجرم ہیں نواز شریف کے رفقا اور حکمراں پارٹی کے بعض اہم رہنمائوں کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات اور کاروباری مراسم کی وجہ سے کسی بھی طرح کی کارروائی سے بچے رہے اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ایف بی آر نے جن ٹیکس چوروں کا پتہ چلایا ہے وہ نہ صرف اپنے سیاسی تعلقات اور اثر ورسوخ کی وجہ سے ٹیکس چوری کے ذریعے بچائی گئی رقم واپس کرنے اور کسی طرح کی احتسابی کارروائی اور جرمانوں سے بچ گئے بلکہ ان میں سے بیشتر نے مبینہ طورپر ٹیکس چوری کے ذریعہ بچائے گئے اربوں روپے غیر قانونی طورپر بیرون ملک منتقل کردئے ہیں۔
ایف بی آر نے ٹیکس چوروں کاپتہ چلانے اور ان سے ٹیکس چوری کی رقم واپس وصول کرنے کیلئے 25 مارچ 2011 کو ڈائریکٹر انوسٹی گیشن اورانٹیلی جنس کے نام سے ایک علیحدہ ڈائریکٹوریٹ قائم کیاتھا،جس کے بعد اسلام آباد ، لاہور ، کراچی ، فیصل آباد ، پشاور ،ملتان اور حیدرآباد میں اس کے 7 ڈائریکٹوریٹ قائم کردئے گئے تھے ۔سرکاری ریکارڈ کے ظاہر ہوتاہے کہ اس محکمے نے 2013 سے2017 کے دوران نواز شریف کے دور حکومت کے دوران اربوں روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث مجموعی طورپر 2 ہزار300 ٹیکس چو روںکاپتہ چلایا ،ان پر ٹیکس چوری اور ٹیکس فراڈ کے ذریعے مجموعی طورپر سرکاری خزانے کو 930 ارب روپے کانقصان پہنچانے کاالزام تھا ۔ٹیکس چوروں کاپتہ چلانے کے بعد ٹیکس چوری اور ٹیکس چوری میں ملوث ان لوگوں کے خلاف مزید کارروائی اور ان سے چوری شدہ رقم وصول کرنے کیلئے یہ تمام معاملات ایف بی آر کے ریجنل ہیڈکوارٹرز کو بھیج دئے گئے ،لیکن چیف کمشنرز کانفرنس میں پیش کئے گئے اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ اربوں روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث مجموعی طورپر 2 ہزار 300 ٹیکس چو روں میں سے صرف 900 یعنی صرف 39 فیصد ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی کی گئی جبکہ بقیہ ٹیکس چور اطمینان سے آزاد گھوم رہے ہیں اور معمول کے مطا بق کاروبار میں مصروف ہیں۔
ایف بی آر کے ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹیکس چوروں کی نشاندہی کردئے جانے کے بعد اب یہ کام ایف بی آر کے آرٹی اوز اور ایل ٹی یوز کاہے کہ وہ اس معاملے پر مزید کارروائی کرکے چوری شدہ رقم واپس لینے کی کوشش کریں ۔لیکن محکمے کی جانب سے ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی سے گریز سے ظاہرہوتاہے کہ یا تو ان ٹیکس چوروںکو حکومت میں موجود بااثر لوگوں اور مسلم لیگی رہنمائوں کی آشیر باد حاصل ہے یا پھر ایف بی آر میں موجود کالی بھیڑیں ان کو تحفظ فراہم کررہی ہیں اور ان کے خلاف کارروائی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔
یہی نہیں بلکہ ایف بی آر کے انوسٹی گیشن اورانٹیلی جنس ڈائریکٹریٹ نے ٹیکس چوری کیلئے گفٹ اسکیم کا سہارا لینے والے 2 ہزار785 ایسے افراد کا بھی پتہ چلایاتھا جنھوںنے قومی خزانے کو یا تو بہت ہی معمولی ٹیکس ادا کیاہے یا کوئی ٹیکس سرے سے ادا ہی نہیں کیا اور نامعلوم لوگوں کو کروڑوںا ور اربوں روپے کے تحائف دئے اور وصول کئے ، اور چونکہ تحائف ٹیکس کی زد میں نہیں آتے اس لئے ٹیکس بچانے میں کامیاب ہوگئے ، ایف بی آر کے انوسٹی گیشن اورانٹیلی جنس ڈائریکٹریٹ کی اطلاعات کے مطا بق تحائف کی آڑ میں ٹیکس چرانے والے جن لوگوں کا پتہ چلایاگیاہے انھوںنے مجموعی طورپر 102 روپے مالیت کے تحائف کاتبادلہ کرکے قومی خزانے کو اس رقم سے محروم کردیا۔لیکن ایف بی آر کے حکام ان میں سے کسی کے بھی خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکے۔ ایف بی آر کے انوسٹی گیشن اورانٹیلی جنس ڈائریکٹریٹ کاکہناہے کہ اس نے تحائف کی آڑ میں ٹیکس چوری کے ان مبینہ واقعات سے بھی ایف بی آر کے حکام کو مطلع کردیاہے انھیں تمام ضروری معلومات فراہم کردی گئی ہیں اور اب یہ کام ایف بی آر کے آرٹی اوز اور ایل ٹی یوز کاہے کہ وہ اس معاملے پر مزید کارروائی کرکے چوری شدہ رقم واپس لینے کی کوشش کریں حکام کاکہنا ہے کہ تحائف اسکیم کی آڑ میں ٹیکس چوری کرنے والوں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہوسکتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ تحائف کی آڑ میں ٹیکس چوری کے واقعات کی روک تھام کیلئے اس قانون اس طرح سے تبدیلی کی جائے کہ اس اسکیم کا ناجائز فائدہ اٹھانا ممکن نہ رہے۔
ایف بی آر کے اندرونی ذرائع کا کہناہے کہ ٹیکس چوروں کے حوالے سے محکمے کے حوالے کئے جانے والے ڈیٹا کے بارے میں اعلیٰ حکام نے مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اور اب یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ ڈیٹا ایف بی آر کے ریکارڈ میں محفوظ ہے یا ضائع ہوگیا یا جان بوجھ کر ضائع کردیا گیاہے۔ذرائع کے مطابق ڈائریکٹوریٹ اور ٹیکس وصولی کے لیے کارروائی کرنے والے ایف بی آر کے آرٹی اوز اور ایل ٹی یوز کے درمیان رابطے کامکمل فقدان ہے جس کی وجہ سے یہ معلوم نہیں ہوپاتا کہ ٹیکس چوروں کے خلاف کیاکارروائی کی گئی اور اس میں کس حد تک کامیابی حاصل کی جاسکی۔
ایف بی آر کے ذرائع کایہ بھی کہناہے کہ حکومت نے پانامہ پیپرز میں سامنے آنے والے ناموں کے بارے میں بھی تحقیقات کا حکم دیاتھا جس پرابتدائی کارروائی کے بعد مجموعی طورپر 344 افراد کو نوٹس جاری کئے گئے تھے ان لوگوں کے خلا ف رپورٹیں دستیاب اور مختلف ذرائع سے موصولہ اطلاعات کی بنیادپر مرتب کی گئی تھیں جس کے بعد یہ تمام معاملات ایف بی آر کے متعلقہ آرٹی اوز اور ایل ٹی یوز کو مزید کارروائی کے لیے منتقل کردئے گئے تھے،اطلاعات کے مطا بق ان میں سے 100 سے زیادہ معاملات کراچی اور 85 معاملات لاہور کے حوالے کئے گئے تھے لیکن ان پر پیش رفت کے بارے میں محکمہ مکمل طورپر خاموش ہے۔اس حوالے سے مزید معلومات اورپیش رفت کی تفصیلات معلوم کرنے کے لیے جب ایف بی آر اور ایف بی آر کے انوسٹی گیشن اورانٹیلی جنس ڈائریکٹریٹ سے رابطہ کیاگیا تو ان دونوں محکموں کے افسران نے اس حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر