وجود

... loading ...

وجود

ہم بتاتے ہیں آپ کا قصور کیا ہے، تحریک انصاف کے پمفلٹ

منگل 15 اگست 2017 ہم بتاتے ہیں آپ کا قصور کیا ہے، تحریک انصاف کے پمفلٹ

سپریم کورٹ سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد نواز شریف اپنے نئے سیاسی سفر اور پاور شو کے دوران ہر جگہ عوام کو یہ کہہ کر اُکسانے کی کوشش کرتے رہے کہ ان پر کرپشن کاکوئی الزام نہیں ہے ، وہ عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے کہ انھیں غلط طورپر نااہل قراردیا گیا ہے، وہ ہر جگہ ریلیوں کے شرکا ء سے یہ سوال کرتے نظر آئے کہ انہیں بتایا جائے کہ آخر انہیں کس جرم میں نا اہل قرار دیا گیا ہے۔ نواز شریف کی جانب سے مجھے میرا جرم بتایا جائے کی اس تکرار پر تحریک انصاف کی جانب سے راولپنڈی میں پمفلٹس گرائے گئے۔ پمفلٹس کا عنوان تھا ’ہم آپ کو بتائیں گے کہ آپ کو نا اہل کیوں قرار دیا گیا‘۔ یہ پمفلٹس لیاقت باغ اور اس کے اطراف کے علاقوں میں ایک پرائیوٹ ہیلی کاپٹر کے ذریعے لیاقت باغ میں عوامی لیگ کی جانب سے ** منعقدہ جلسے کے دوران ** گرائے گئے جس میں پاکستان تحریک انصاف نے بھی بھرپور شرکت کی۔
اسلام آباد سے براستہ جی ٹی روڈ لاہور جاتے ہوئے جن جن مقامات پر نواز شریف نے تقاریر کیں ان میں ہر مرتبہ انہوں نے الفاظ دہرائے کہ ’کوئی مجھے یہ بتائے کہ مجھے کیوں نا اہل قرار دیا گیا‘۔ نواز شریف کے سوال پر تحریک انصاف نے جو 10 نکاتی پمفلٹ تقسیم کیے ان میں لکھا تھا کہ:
میاں صاحب آپ کو اس لیے نکالا گیا کہ۔۔۔۔
٭آپ نے کرپشن اور اپنے منصب کے غلط استعمال کے ذریعے قومی خزانے سے مال لوٹا۔
٭آپ نے چوری شدہ مال کو بچانے کے لیے اپنے بچوں کے نام پر جائیدادیں اور آف شور کمپنیاں بنائیں۔
٭آپ نے الیکشن کمیشن، ایف بی آر، ایس ای سی پی اور دیگر اداروں کے ساتھ قوم کو اپنے حقیقی ذرائع آمدنی اور اثاثوں کی تفصیلات سے مکمل طور پر گمراہ رکھا اور اپنے گوشواروں میں غلط معلومات درج کر کے اپنی سیاہ دولت چھپانے کی کوشش کی۔
٭آپ نے اپنے سمدھی اسحٰق ڈار اور دیگر بد دیانت سرکاری ملازمین کی معاونت سے منی لانڈرنگ کی۔
٭آپ نے گزشتہ30 برس کے دوران ٹیکس اکٹھا کرنے والے ریاستی اداروں کی آنکھوں میں دھول جھونکی۔
٭آپ نے پاناما لیکس منظر عام پر آنے کے بعد پارلیمان اور قوم سے اپنے خطاب میں صریحاً جھوٹ بولا اور عدالت کے روبرو سچ بولنے کی بجائے اسے گمراہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔
٭آپ اورآپ کے بچوں نے عدالت کی کارروائی اور جے آئی ٹی کی تحقیقات میں ہر ممکن طریقے سے رکاوٹ ڈالی اور پاکستان کی سب سے بڑی عدالت میں جعلی طور پر تیار شدہ دستاویزجمع کرا کے سچ کو چھپانے اور انصاف کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی۔
٭آپ آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کی رو سے کسی بھی طرح صداقت اور امانت کے پیمانے پر پورا نہیں اترتے۔
٭آپ سے پندرہ ماہ عوام اور سپریم کورٹ جواب طلب کرتے رہے لیکن آپ کے پاس جھوٹ کے سوا کچھ نہیں تھا۔
٭آپ کے بارے میں پانچ لوگوں نے نہیں‘سپریم کورٹ کے پانچ ججز نے کہا کہ آپ صادق اور امین نہیں۔
اب نواز شریف ان کے ہمنوا اور ان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کے اس جواب کا کیا جواب دیتے ہیں ،اس پر قبل از وقت کچھ کہنا مناسب نہیں ہوگا لیکن نواز شریف کے گرد جس قماش کے لوگوں نے گھیرا ڈالا ہوا ہے اور ان لوگوں سے قربت کی وجہ سے ان ہی کا لب ولہجہ اختیار کرنے والے نواز شریف سے اس حوالے سے کسی مدلل جواب کی توقع بہت کم ہے۔
قطع نظر اس کے کہ نواز شریف اور ان کے رفقا ء پاکستان تحریک انصاف کے اس پمفلٹ کا کیا جواب دیتے ہیں ،ایک بار پھر اقتدار سے علیحدگی کے بعد نواز شریف واپس اپنے گھر لاہور تشریف لا چکے ہیں اور رائے ونڈ پہنچ چکے ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد نواز شریف نے اپنے سیاسی مرکز اورلاہور کی پہلی جدید اور منظم بستی ماڈل ٹاؤن سے اپنی رہائش ترک کردی تھی ،یہ وہی مقام تھا جہاں سے انھوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اقتدار سے علیحدگی کے بعدوہ اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کہاں سے کرنا چاہیں گے اوراپنا سیاسی ڈیرہ کہاں لگائیں گے۔ اس کاانحصار اس بات پر ہوگا کہ وہ اپنے من پسند خول میں ہی بند رہنا پسند کرتے ہیں یا اپنے اس خول سے جو انھوں نے اقتدار میں آنے کے بعد اپنے اوپر چڑھا لیاتھا باہر نکل کر کچھ دیکھنا اور کرنا پسندکریں گے، بہرحال یہ فیصلہ تو وقت کریگا اور بہت جلد یہ سامنے بھی آ جائے گا۔
نواز شریف کے فارغ ہونے کے بعد اب ان کے سامنے سب سے پہلا اور بڑا معرکہ خود ان کی نااہلی سے خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست پر نئے انتخاب کی صورت میں ہونے جا رہا ہے جہاں پر حکومت اور اپوزیشن کی تمام پارٹیاں اپنی تما م تر سیاسی توانائیاں خرچ کرنے کو تیار بیٹھی ہیں اور یہ نشست جیتنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔
حکومت کی جانب سے کلثوم نواز اور تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے کیونکہ میاں صاحب کی فیملی کی طرح ڈاکٹر یاسمین راشد کا سسرال بھی پرانے لاہور کا ہی رہائشی ہے ان کے سسر ملک غلام نبی کا شمار اندرون لاہور کی متحرک سیاسی شخصیات میں ہوتا تھا۔ وہ اسمبلی کے ممبر اور وزیر بھی رہے ہیں۔ اس لاہوری معرکہ میں کون فتح یاب ہو گا اس بارے میں ابھی کوئی پیش گوئی کرنا قبل از وقت ہو گا۔ اس معرکے میں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز کو اس طرح سبقت حاصل ہے کہ پنجاب میں حکومت ان کے دیور کی اور وفاق میں حکومت ان کے شوہر نامدار کے مطیع وفرمانبردار شاہد خاقان عباسی کی ہے،اس طرح یہ بات بآسانی سمجھ میں آتی ہے کہ کلثوم نواز کو
اس ضمنی انتخابات میں پوری سرکاری مشینری کی بھرپور معاونت حاصل ہوگی جبکہ ان کی مد مقابل یاسمین راشد کو سب کچھ اپنے اور اپنی پارٹی کے بل بوتے پر کرنا پڑے گا یہی وہ صورت حال ہے جس کی وجہ سے عام طورپر ضمنی انتخابات میں حکومتی پارٹی کا پلڑا ہی بھاری ہوتا ہے۔
نواز شریف نے اپنی نااہلی کے بعد لاہور میں خطاب کرتے ہوئے یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ اب خاموش نہیں بیٹھیں گے بلکہ عوامی اجتماعات سے خطاب بھی کریں گے، اپنی پارٹی کی سیاست کو مزید فعال کریں گے۔ جس سے ظاہر ہوتاہے کہ اب وہ جارحانہ سیاست کا آغاز کرنے کی کوشش کریں گے ، انھوں نے لاہور کے جلسہ عام میں اعلان کیا کہ وہ اب انقلاب کی جانب قدم بڑھائیں۔ ایک سرمایہ دارانہ ذہنیت کے حامل اور آمر کی گود میں پل کر سیاست میں قدم جمانے والے ایک شخص کے منہ سے انقلاب کا لفظ عجیب سا معلوم ہوتا ہے غالباً نواز شریف نے دنیا میں آنے والے بڑے انقلابات کی تاریخ نہیں پڑھی ورنہ وہ کم از کم انقلاب کا لفظ استعمال کرنے سے گریز کرتے، نواز شریف اسلام آباد سے لاہور کے طویل سفر کے دوران جارحانہ انداز اور لب و لہجہ میں عوام سے مخاطب ہوکر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ اب زیادہ جارحانہ انداز میں مقتدر قوتوں کو للکارنا اور اپنی نااہلی کا بدلہ لینا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے تمام حدود وقیود پار کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے وہ اس حقیقت کو فراموش کررہے ہیں کہ ابھی انھیں اپنے خلاف کرپشن کے متعدد مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے ان ہی عدالتوں کے سامنے بار بار پیش ہونا ہے جن کے فیصلوں کو وہ ردی کا ٹکڑا ثابت کرکے عوام کو جن کے خلاف محاذ آرائی کے لیے کھڑا ہونے پر اکسا رہے ہیں۔ تا کہ وہ عوام میں خود کو ہیرو کے طورپر پیش کرسکیں اور عوامی رائے کو اپنے حق میں ہموارکرسکیں۔ ان کے لہجے کی تلخی یہ بتا رہی ہے کہ پارٹی رہبر کے طور پر آئندہ انتخابی مہم کو گرمائیں گے۔ ان پر بطور وزیر اعظم جو پابندیاں تھیں وہ ان سے آزاد ہو چکے ہیں۔
اس آزادی کا استعمال انھوں نے بھر پور انداز میں شروع بھی کر دیا ہے۔ ان کی ریلی کے دوران تقریریں اس بات کی جانب واضح اشارے بھی کر رہی ہیں کہ وہ جن قوتوں کے ساتھ مل کر اپنی سیاست کرتے رہے ہیں وہ اب مزید ان پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں۔ وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس بار ان کو حکومت سے الگ کرنے میں ان ہی قوتوں کا کردار ہے۔ نواز شریف نے جوشِ خطابت میں جس طرح عدلیہ کو مخاطب کیا اس کی بھی مثال ملنی مشکل ہے وہ واشگاف انداز میں اس بات کا اعلان کر رہے ہیں کہ کروڑوں عوام کے ووٹ کی پرچی 5 معزز ججوں نے پھاڑ کر پھینک دی۔ ان کی تقریروں سے ریاست کے اداروں کے میں ٹکراؤ اور واضح تقسیم کا خطرہ نظر آ رہا ہے جو نیک شگون نہیں ہے۔ میاں نواز شریف یہ صورتحال کیوں پیدا کرنا چاہ رہے ہیں جب کہ وہ خود اس نظام کا حصہ ہیں اور ان کی پارٹی ہی ملک کی باگ دوڑ سنبھال رہی ہے۔ وہ نا اہلی کے بعد اپنی تمام تر شائستگی کو بالائے طاق رکھ کر صبر کا دامن چھوڑ بیٹھے ہیں اور تسلسل کے ساتھ عوام کو اس بات پر اْکسا رہے ہیں کہ انھیں عدلیہ کے فیصلے کوقبول نہیں کرنا چاہئے، وہ بالفاظ دیگر وہ عوام کوعدلیہ کے خلاف سڑکوں پر نکلنے اور ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ پر حملے کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ نواز شریف جیسے لیڈر کی جانب سے اپنی سیاست کو دوام دینے کے لیے اس طرح کی باتوں سے یہ ثابت ہوتاہے کہ طویل عرصے تک برسراقتدار رہنے کے باوجود وہ ابھی تک سیاسی طورپر بالغ نہیں ہوسکے ہیں ،انھیں اپنے جذبات پر کنٹرول نہیں ہے اور اقتدار سے بے دخلی کے فیصلے نے ان کو ذہنی طور پر متاثر کردیاہے، ان کو اب یہ سوچنا چاہئے کہ اب بہت جلد پنجاب اوروفاقی حکومت کی بیساکھیاں استعمال کرنا ان کے لیے آسان نہیں ہوگا اوران کو اپنی سیاست اب اپنے زور بازو پر ہی کرنی پڑے گی اور ایسا کرنے کے لیے انھیں زیادہ سنجیدگی اور صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا اورمظلوم اور معصوم عوام کو اپنی سیاست چمکانے کے لیے ریاست کے اداروں کے خلاف بھڑکانے سے گریز کرتے ہوئے ان کی طاقت کو مثبت انداز میں استعمال کرنا ہوگا کیونکہ ان اداروں کی وجہ سے ہی ریاست چل رہی ہے اور اگر سیاستدانوں کو سیاست کرنی ہے تو اس کے لیے مستحکم ریاست کا وجود ضروری ہے۔ اگر نواز شریف نے اب بھی نوشتۂ دیوار پڑھنے سے گریز کا رویہ اختیار کیے رکھا تو بہت جلد مسلم لیگ کی قیادت بھی ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی اور وہ ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔

 


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر