... loading ...
آزاد اور خود مختار قوموں کے لیے ان کا قومی پرچم ،قومی ترانہ،قومی زبان اور آئین (دستور) ایک مقدس خزانے کی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ مصری تہذیب دنیا کی سب سے پرانی تہذیبوں میں شمار کی جاتی ہے۔ دنیا کا سب سے پہلا پرچم بھی مصر کا ہی ہے، حالت جنگ میں مصری افواج کے پاس مختلف رنگوں کی لکڑیوں کی تختیاںہوتی تھیں جن پر مختلف نشانات سے ان کے منصب اور مرتبے ظاہر ہوتے تھے۔ کپڑے کے پرچم کا تذکرہ ہمیں روم کی تہذیب سے ملتا ہے، اہلِ روم کا پرچم سرخ رنگ کے تکونے کپڑے کا ہوتا تھا جو لکڑی کے سرے پر باند ھتے تھے پرچموں کی تہذیب کی موجودہ شکل روم کے پرچم کے مشابہہ ہے۔
ہجرت کے آغاز کے ساتھ ہی اسلام میں پرچم کا رواج ہوا ۔حضور ﷺ مکہ سے مسلمانوں کی ہجرت کے بعد حضرت ابو بکر صدیق ؓکے ہمراہ مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو راستے میں حضرت بریدہ ؓبن خصیب اسلمی ملے جو ستر آدمیوں کے ساتھ حضور ﷺکو گرفتار کر نے کے ارادے سے آئے تھے لیکن حضور ﷺ کا سامنا ہوتے ہی وہ مسلمان ہوگئے۔ حضرت بریدہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مدینہ میں داخلے کے وقت آپ ﷺ کے پاس ایک پرچم ہونا چاہئے ۔رحمت اللعالمین نے اپنا عمامہ شریف اتار کر ایک نیزہ سے باندھ کر حضرت بریدہ ؓ کو عطا فرمایا۔ آپ ﷺجب مدینہ میں داخل ہوئے تو اسلام کا پہلا جھنڈا حضرت بریدہ ؓ کے ہاتھ میں تھا۔صفر 2ہجری میں آپ ﷺ کی سربراہی میں 60 مہاجرین پر مشتمل پہلا دستہ بنو حمزہ پر حملے کے لیے روانہ ہوا تو اسلامی فوج کا پہلا باقاعدہ پرچم حضرت حمزہ ؓ کے ہاتھ میںتھا۔ اس پرچم کا رنگ سفید تھا۔
30؍ ستمبر1906ء شاہ باغ ڈھاکا میں مسلمانوں کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت وقار الملک نے کی۔ کانفرنس میں محمد علی جوہر،مولانا ظفر علی خان،حکیم اجمل خان،جسٹس شرف الدین اور سر علی امام کے نام قابل ذکر ہیں ۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مسلمانوں کی ایک واحدجماعت ہو جو آزادی کے لیے جدو جہد کرے جو بعد میں آل انڈیا مسلم لیگ کے نام سے معرض وجود میں آئی۔ ڈھاکا کے اس اجلاس میں جو پرچم لہرایا گیا، اس کا رنگ سبز تھا درمیان میں چاند اور تارابنا ہوا تھا۔اگر اس پرچم کو ہم پاکستانی پرچم کی ابتدائی شکل کہیں تو بے جا نہ ہوگا ۔پہلا باقاعدہ پاکستانی پرچم 11؍اگست 1947ء کو پاکستان کی قانونی ساز اسمبلی میں بطور قومی پرچم منظوری کے لیے ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے پیش کیا ۔ اس موقع پر قومی پرچم کے لیے جن جذبات کا اظہار کیا گیاوہ مندرجہ ذیل ہیں: جناب صدر! یہ کسی سیاسی جماعت یا فرقہ کا پر چم نہیں ہے، یہ تو پاکستان کا قومی پرچم ہے جو 14 ؍اگست 1947 ء کو وجود میں آجائے گا۔ جناب والا ہر قوم کا پرچم محض کپڑے کا ایک ٹکرا نہیں ہوتا نہ ہی اس کی عزت کپڑے کی وجہ سے ہوتی ہے ۔میں کسی خوف و تردو کے بغیر کہوں گا کہ یہ پرچم جسے میں ایوان میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں ،ان لوگوں کی آزادی اور مساوات کا ضامن ہے جو اس کے زیر سایہ فرماں بردار رہیں گے۔ یہ پرچم ہر شہری کے حقوق کی حفاظت کرے گا ۔یہ پرچم وطن کی سا لمیت کا محافظ ہو گا۔
11 ؍اگست کو ہی کراچی میں قائد اعظم کی زیر صدارت اسمبلی نے پاکستانی پرچم کی ترتیب اور بناوٹ کی منظوری دے دی ،جس کی تفصیلات ملکی اور غیر ملکی اخبارات میں شائع ہوئی۔ پاکستانی اسکائوٹ بچے پاکستان کے قومی پرچم کے حصول کے لیے تلاش اور جستجو میں مصروف تھے۔ 13 ؍اگست 1947 ء کی ایک شام ایک الجزائری مسلمان اسکائوٹس نے فرانس کا ایک اخبار پاکستانی اسکائوٹس کو لا کر دیا جس میں پاکستان اور قومی پرچم کا نقشہ تھا۔ نقشہ کی مدد سے قومی پرچم کی تیاری کا عمل شروع ہوا۔ پرچم کے لیے سبز رنگ کا کپڑا ایک ہندو اسکائوٹ نے، اپنی پگڑی سے سفید رنگ کا کپڑا ملتان کے ایک مسلم اسکائوٹ نے اپنی قمیض پھاڑ کر دیا جبکہ پرچم کی سلائی فرانس کی 2 گرلز گائیڈ نے کی۔ پاکستانی پرچم کو مسٹر ڈی ایم ماٹھر نے لہر ا یا جبکہ پرچم کی ڈوری ایک پاکستانی اسکائوٹ سرفراز رفیقی نے باندھی اسکائوٹ سرفراز رفیقی جو پاکستان ایئر فورس میں اسکواڈرن لیڈر کی حیثیت سے 1965 ء کی پاک بھارت جنگ کی دوران فاتح ہلواڑہ بنے اور شہید ہوئے۔
قومی ترانہ
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے معرض وجود میں آتے ہی 14 ؍اگست1947 ء کو پہلی مرتبہ وقتی طور پر مندرجہ ذیل قومی گیت کی دُھن بجاکر پر چم کشائی کی گئی:
پاکستان زندہ باد آزادی پائندہ باد
پاکستان زندہ باد آزادی پائندہ باد
آزادی کا ہوا سویرا
لہرایا سبز پھریرا
رب دوعالم شکر ہے تیرا
سن لی ہے تو نے فریاد
موجودہ قومی ترانہ پاک سرزمین شاد باد کی دُھن اوائل 1950 ء میں موسیقار احمد جی چھاگلہ نے تیارکی جو کہ شہنشاہ ایران کی پاکستان آمد پر بجائی گئی۔ قومی ترانہ کے بول 16 ؍اگست 1954 ء کو منظور کیے گئے قومی ترانہ کے شاعر حفیظ جا لندھری ہیں۔ پاکستان کا قومی ترانہ بعد میں لکھا گیا جبکہ اس کی دُھن پہلے تیار ہوئی پاکستان کے قومی ترانے میں 38 ساز استعمال ہوئے ہیں۔ قومی ترانہ کا دورانیہ 1 منٹ20 سیکنڈ ہے یعنی80 سیکنڈ ہے ۔قومی ترانہ 13 ؍اگست 1954 ء کو پہلی مرتبہ ریڈیو پاکستان سے نشر ہوا۔
ٓٓشرف الزماں
400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...
افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...
شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...
آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...
افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...
آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...
میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...
کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...
فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...
ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...
21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...
حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...