... loading ...
نواز شریف کی جانب سے اپنی نااہلی کے بعد ا سٹریٹ پاور دکھانے کی کوشش پہلے مرحلے میں ناکامی کاشکار ہوئی جس کا اندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ پورے دن انتظار کے باوجود نواز شریف کے جیالے اپنی پوری حکومتی مشینری کی بھرپور مدد کے باوجود اتنے افراد بھی جمع نہیں کرسکی جسے ایک بڑا اجتماع کہاجاسکے،نواز شریف کسی بڑے اجتماع کے انتظار میں اپنی کار سے نکل کر بار بار مجمع پر نظر ڈالتے اور پھر تقریر کئے بغیر ہی مایوسی کے عالم میں اپنی کار میں واپس جاتے رہے یوں پورا دن بیت گیا لیکن پوری وفاقی اور صوبائی مشینری مل کر بھی اتنے لوگ جمع نہیں کرسکی جس سے نواز شریف خطاب کرسکتے اور دنیا کو یہ پیغام دے سکتے کہ عوام کی بڑی تعداد ان کے ساتھ ہے۔
نواز شریف کی نااہلی کے عدالتی فیصلے پر عوام کے اطمینان کی یہی وہ صورت حال ہے جس نے پاکستان مسلم لیگ ن کو نواز شریف کی نااہلی کی وجہ سے خالی ہونے والی این اے 120 کی نشست کے حوالے سے مخمصے میں مبتلا کررکھاہے ، پہلے مسلم لیگی رہنمائوں نے یہ پروگرام بنایاتھا کہ اس نشست سے شہباز شریف کو کامیاب کراکے انھیں وزیر اعظم بنادیاجائے گا لیکن شہباز شریف نے یہ جوا کھیلنے سے صاف انکار کردیا اور وزارت عظمیٰ کے لالچ میں اپنا تخت لاہور چھوڑنے سے صاف انکار کردیا جس کے بعد بادل ناخواستہ مسلم لیگ کو شاہد خاقان عباسی کو ہی بقیہ مدت کے لیے وزارت عظمیٰ کی نشست پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔
این اے120 کا حلقہ نواز شریف کا مضبوط حلقہ تصور کیاجاتاہے اور پہلے عام خیال یہ تھا کہ مسلم لیگ ن اس حلقے سے اگر کسی کھمبے کو بھی نامزد کردے تو وہ الیکشن جیت جائے گا لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب یہ صورت حال تبدیل ہوگئی ہے،جس کااندازہ نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے سے اس حلقے کے عوام کی لاتعلقی کے رویئے سے لگایاجاسکتاہے یہ وہ حلقہ ہے جس میں لاہور کی انارکلی جیسی مشہور مارکیٹ کا علاقہ بھی شامل ہے ، نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کے بعد اس مارکیٹ میں ایک منٹ کے لئے بھی کاروباری سرگرمیوں میں کوئی تعطل دیکھنے میں نہیں آیا اس مارکیٹ کے دُکاندار اور خریدار اسی ہماہمی کے ساتھ خریدوفروخت میں مصروف نظر آئے جس طرح عام دنوں میں نظر آتے ہیں ، اس بازار کے دکانداروں کی جانب سے بھی اس حوالے سے مسلم لیگ ن یا میاں نواز شریف کے لیے کوئی کلمہ خیر یا ہمدردی کے دو بول سننے میں نہیں آئے کسی بھی دکاندار نے اس حوالے سے کسی طرح کے ردعمل کااظہار بھی نہیں کیا۔یہ صورت حال اب بھی جبکہ نواز شریف اسٹریٹ پاور دکھانے کے لیے کنٹینر پر جو ان کے اور ان کی کابینہ کے وزیروں کے لیے ایک گالی بن چکا تھا چڑھنے کو تیار بیٹھے ہیں لیکن ان کاحال دل سننے کے لیے عوام کافقدان نظر آتاتھا۔
نواز شریف کی نااہلی کے بعد مسلم لیگ ن کا خیال تھا کہ اس کا ان کے حلقہ انتخاب میں زبردست ردعمل سامنے آئے گا اوراس طرح اس حلقے میں ان کے لیے خود بخود انتخابی ماحول پیدا ہوجائے گا اور وہ کسی بھی من پسند فرد کو کھڑا کرکے بآسانی کامیابی حاصل کرکے یہ دعویٰ کرسکیں گے کہ عوام نے نوازشریف کی نااہلی کے فیصلے کو قبول نہیں کیااور یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے ایک کمزور امیدوار کوبھی ان کی خالی کردہ نشست پر کامیاب کرایا جاچکاہے،لیکن حلقے کے عوام کی بے اعتناعی یابے رخی نے مسلم لیگی رہنمائوں کو بھی سوچنے پر مجبور کردیاہے اور اب اس حلقے کے عوام کے جذبات سے کھیلنے اور نواز شریف کو مظلوم بناکر پیش کرکے حلقے سے ووٹ حاصل کرنے کے لیے ان کی اہلیہ کلثوم نواز کو کھڑا کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے تاکہ شکست کی صورت میں سیاست سے ان کی ناوابستگی کوجواز بناکر منہ چھپایاجاسکے۔
این اے 120 کا حلقہ لاہور کے چند گنجان ترین علاقوں میں شمار ہوتاہے ، قومی اسمبلی کے اس حلقے میں شہر کے چند مشہور بازار وں کے علاوہ اردو بازار ،میو ہسپتال، کوپر روڈ ، بلال گنج ، نیو انارکلی، اسلام پورہ، ساندہ، مزنگ، کریم پارک، لوور مال، لیک روڈ، شاہراہ فاطمہ جناح، موج دریا روڈ، لٹن روڈ، چوبرجی، راج گڑھ، رواز گارڈن، سنت نگر، رام نگر، ڈیو سماج روڈ، شام نگر، سول سیکریٹریٹ ،پریم نگر، بند روڈ ،راوی کالونی ،قصورپورہ، کھوکھر ٹائون،کپورتھلہ اور مومن پورہ کے علاقے شامل ہیں ۔
قومی اسمبلی کے اس حلقے میں پنجاب اسمبلی کاحلقہ پی پی 139 اور پی پی 140 بھی شامل جہاں سے 2013 کے الیکشن میں بلال یٰسین اور ماجد ظہور کامیاب ہوئے تھے ، اس صورت حال کے پیش نظر مسلم لیگی رہنمائوں کو بجاطورپر یہ توقع تھی کہ اس حلقے کے عوام نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے پر زبردست ردعمل کااظہار کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئیں گے اور کم از کم اس علاقے کی مارکیٹیں ضرور بند ہوجائیں گی لیکن اس فیصلے کے اعلان کے باوجود اس حلقے میں کاروبار زندگی معمول کے مطابق جاری رہا اور اس میں رتی برابر کوئی فرق نہیں پڑا نہ کوئی دکان بند ہوئی اور نہ ہی لوگوں نے کہیں جمع ہوکر نواز شریف کے ساتھ اظہار یکجہتی کی کوئی کوشش کی ۔
نواز شریف کی خالی کردہ نشست کے حلقے کی یہ وہ صورتحال ہے جس نے مسلم لیگی رہنمائوں کو پریشان کررکھا ہے اور اگرچہ پاکستان تحریک انصاف نے اس حلقے سے اپنی امیدوار یاسمین راشد کی نامزدگی کااعلان کردیا ہے لیکن چونکہ مسلم لیگ ن ابھی تک اپنے امیدوار کا فیصلہ نہیں کرسکی ہے اس لیے اس حلقے میں ابھی تک کسی بھی پارٹی کاکوئی پوسٹر یا تصویر آویزاں نظر نہیں آرہی ہے اگرچہ نچلی سطح پر بلدیاتی نمائندوں اور صوبائی اسمبلی کے ارکان نے اپنے طورپر چھوٹے پیمانے پر عوامی رابطہ مہم شروع کردی ہے اور اس حوالے سے چھوٹے چھوٹے اجتماعات کئے جارہے ہیں لیکن عید الاضحی کے فوری بعد ہونے والے ان انتخابات کے لیے جو مسلم لیگ ن کے لیے بہت زیادہ
اہمیت رکھتے ہیں ابھی تک باقاعدہ کوئی مہم شروع نہیں کی جاسکی۔
اس حلقے کے عوام کا عام خیال یہی ہے کہ اگرچہ یہ حلقہ نواز شریف کا اپنا حلقہ ہے اور وہ ان کے امیدوار اس حلقے سے کامیابی حاصل کرتے رہے اس حلقے میں ان کاایک مخصوص ووٹ بینک موجود ہے لیکن گزشتہ 4 سالہ دور حکمرانی میں انھوں نے اور مسلم لیگ ن کے ارکان پنجاب اسمبلی نے اس حلقے کے عوام کو جس طرح نظر انداز کیاہے اس کی وجہ سے اس حلقے میں نواز شریف اور ان کی پارٹی کے خلاف غم وغصے کے جذبات میں بھی اضافہ ہوا جس کامظاہرہ اکتوبر2015 کے بلدیاتی انتخابات کے دوران کرچکے ہیں ، مسلم لیگ نے اس حلقے کے عوام کی ناراضگی اورنواز شریف اور ان کی پارٹی کے منتخب ارکان کی جانب سے اس حلقے کے عوام کے مسائل حل کرنے میں کوتاہی بلکہ عدم توجہی کا ہی نتیجہ تھا کہ بلدیاتی انتخابات میں اس حلقے سے پاکستان تحریک انصاف کے 17 ارکان مسلم لیگی امیدواروں کوشکست دینے میں کامیاب ہوئے تھے۔این اے 120 کے اس پورے حلقہ انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کو مجموعی طورپر 38 ہزار ووٹ ملے تھے جبکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدواروں نے مجموعی طورپر 52 ہزار ووٹ حاصل کئے تھے یعنی اس وقت جب نواز شریف پورے جاہ وجلال کے ساتھ حکمرانی کررہے تھے ان کے اپنے حلقہ انتخاب کے ووٹر ان پر عدم اعتماد کااظہار کرتے ہوئے ان کے مخالفین کو ووٹ ڈال رہے تھے اور مسلم لیگ ن کے امیدواروں کوکامیاب بنانے کے لیے پوری سرکاری مشینری متحرک کئے جانے کے باوجود مسلم لیگی امیدوار اپنے قریب ترین مخالفین سے صرف 14 ہزار ووٹ زیادہ حاصل کرسکے تھے اور اگر ان حلقوں میں کھڑے ہونے والے دیگر امیدواروں کو ملنے والے ووٹ بھی مخالفین کے کھاتے میں جمع کرلیے جائیں تو یہ واضح ہوگا کہ مسلم لیگی امیدوار وں کو ملنے والے ووٹ مخالفین کو ملنے والے ووٹوں سے کہیں کم تھے ،جبکہ نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کے بعد اب صورت حال میں تبدیلی آنا لازمی ہے،اور اگر اس حلقے کے 20 فیصد مسلم لیگی ووٹرزنے بھی اس فیصلے کے پیش نظر اپنی رائے تبدیل کرلی تو اس حلقے سے مسلم لیگی امیدوار کو اپنی ضمانت بچانا بھی مشکل ہوسکتاہے۔
اس صورت حال کے پیش نظر یہ کہاجاسکتاہے کہ این اے 120 کاحلقہ مسلم لیگی رہنمائوں کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہوگا ، اس حلقے میں دوبدو مقابلے کی صورت میں کانٹے کامقابلہ ہوگا اور اس کا نتیجہ کچھ بھی نکل سکتاہے۔تاہم نواز شریف کونااہل قرار دلوانے اور انھیں احتساب عدالتوں میں پیش ہونے پر مجبور کرنے میں کامیاب ہونے کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے حوصلے بلند ہیں جبکہ مسلم لیگی رہنمائوں کے دل بجھے ہوئے ہیں ۔ جس کااندازہ مسلم لیگی رہنمائوں کی جانب سے اس حلقے میں شروع کی جانے والی عوامی رابطہ مہم کے دوران ان رہنمائوں کی جانب سے حلقے کے عوام کی جانب سے کئے جانے والے چبھتے ہوئے سوالات پر ان کی خجالت سے لگایاجاسکتاہے۔
پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارت کی بندش کا مسئلہ ہماری سیکیورٹی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ سے جڑا ہے ،خونریزی اور تجارت اکٹھے نہیں چل سکتے ،بھارتی آرمی چیف کا آپریشن سندور کو ٹریلر کہنا خود فریبی ہے خیبرپختونخوا میں سرحد پر موجودہ صورتحال میں آمد و رفت کنٹرول...
یہ ٹیسٹ رن کر رہے ہیں، دیکھنے کے لیے کہ لوگوں کا کیا ردعمل آتا ہے ، کیونکہ یہ سوچتے ہیں اگر لوگوں کا ردعمل نہیں آتا، اگر قابل انتظام ردعمل ہے ، تو سچ مچ عمران خان کو کچھ نہ کر دیں عمران خان ایک 8×10 کے سیل میں ہیں، اسی میں ٹوائلٹ بھی ہوتا ہے ،گھر سے کوئی کھانے کی چیز...
سہیل آفریدی کی زیر صدارت پارٹی ورکرزاجلاس میں بھرپور احتجاج کا فیصلہ منگل کے دن ہر ضلع، گاؤں ، یونین کونسل سے وکررز کو اڈیالہ جیل پہنچنے کی ہدایت پاکستان تحریک انصاف نے اگلے ہفتے اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا اعلان کر دیا، احتجاج میں آگے لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جائے گا۔وزیر ...
جب 28ویں ترمیم سامنے آئے گی تو دیکھیں گے، ابھی اس پر کیا ردعمل دیں گورنر کی تقرری کا اختیار وزیراعظم اور صدر کا ہے ، ان کے علاوہ کسی کا کردار نہیں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم کی افواہوں پر پریشان ہونا چھوڑ دیں۔سیہون میں میڈیا سے گفتگو میں مراد ...
دنیا بھر میںایئربس اے 320طیاروں میں سافٹ ویئر کے مسئلے سے ہزاروں طیارے گراؤنڈ پی آئی اے کے کسی بھی جہاز میں مذکورہ سافٹ ویئر ورژن لوڈڈ نہیں ، طیارے محفوظ ہیں ،ترجمان ایئر بس A320 طیاروں کے سافٹ ویئر کا مسئلہ سامنے آنے کے بعد خدشہ ہے کہ پاکستان میں بھی فلائٹ آپریشن متاثر ہو سک...
37روز سے کسی کی ملاقات نہیں کرائی جارہی، بہن علیمہ خانم کو ملاقات کی اجازت کا حکم دیا جائے سپرنٹنڈنٹ کو حکم دیا جائے کہ سلمان اکرم راجہ،فیصل ملک سے ملاقات کی اجازت دی جائے ، وکیل بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے جیل میں ملاقات سے متعلق درخواستوں پر سماعت مکمل ہونے کے بعد ف...
پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...
واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...
4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...