... loading ...
ملک میں ایک بھونچال آگیا ہے وزیراعظم کو تاحیات نااہل قرار دے کر گھر بھیج دیا گیا ہے اورعبوری وزیراعظم شاہ خاقان عباسی بنائے گئے ہیں ان کی کابینہ نے حلف بھی اٹھالیا ہے ۔ اب یہ بات بھی واضح ہو چکی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف وزیراعظم کی دوڑ سے دور رہیں گے اور شاید شاہد خاقان عباسی ہی مستقل وزیراعظم رہیں گے۔ وزیراعظم کو پاناما اسکینڈل، لندن فلیٹس میں نااہل قرار نہیں دیا گیا بلکہ انہیں دبئی میں اپنے بیٹے کی کمپنی کااقامہ ہونے اوروہاں سے تنخواہ جاری ہونے پرنااہل قراردیاگیا ہے ۔ سابق وزیراعظم نے دبئی کمپنی کی تنخواہ اور اقامے کاذکر الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے کاغذات نامزدگی میں نہیں کیا تھا۔ نواز شریف کااس حوالے سے کہنا ہے کہ انہوں نے بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ وصول نہیں کی ۔ لیکن جے آئی ٹی نے سوال اٹھا دیا کہ سابق وزیراعظم نے انتخابی گوشواروں میں اپنے اثاثوں میں ذکر تک نہیں کیا تو یہ دیانت اور امانت میں خیانت ہے۔ اس لیے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت انہیں صادق اور امین نہ ہونے پر نا اہل قرار دیا گیا ہے۔
مگر بات یہیں ختم نہیں ہوئی اب تو ایک پنڈورا باکس کھل گیا ہے اور یہ بات دیواروں پر لکھ دی گئی ہے کہ اب اگلی باری آصف زرداری کی ہے۔ اگر چہ کچھ عرصے تک ذرائع ابلاغ میں عمران خان کے لندن میں فلیٹ کے حوالے سے منی ٹریل کی بحث چھیڑ کر اُن کی نااہلیت کا ذکر بھی جاری رہا مگر یہ بحث اب بڑی حد تک سمٹ چکی ہے اور اُن کی جانب سے منی ٹریل کے حوالے سے تسلی بخش تفصیلات عدالت میں جمع کرائی جاچکی ہے جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار کے یہ ریمارکس بھی سامنے آچکے ہیں کہ عمران خان کو نااہل کیسے کیا جاسکتا ہے؟مگر تاحال اس پوری بحث میں بانی متحدہ الطاف حسین اور آصف زرداری کا کوئی ذکر نہیں کیا جاتا۔ اطلاعات کے مطابق بانی متحدہ کے پاس لندن شہر میں مبینہ طور پر 9 گھر ہیں اور ان کے لندن میں لاکھوں پائونڈ کے اکائونٹ کھلے ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ اُنہوں نے لندن میں فوج ظفر موج پال رکھی ہے۔ ندیم نصرت، قاسم علی رضا، مصطفیٰ عزیز آبادی، طارق میراور محمد انور سمیت 50 سے زائد افراد ہیں جن کو ہر ماہ باقاعدہ برطانوی پائونڈ میں تنخواہیں دی جاتی ہیں ۔ ایک اطلاع کے مطابق لندن سیکریٹریٹ میں ماہانہ ایک لاکھ پائونڈ (پاکستانی ڈیڑھ کروڑ روپے) تک خرچ ہوتے ہیں اور آصف زرداری کا تو سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں ہے۔ ان کا پہلے نام سرے محل میں آیا جب محترمہ بے نظیر بھٹو زندہ تھیں ۔ پھر امریکا میں ان کے گھر اور فلیٹ بھی سامنے آئے۔ دبئی میں ان کا محل نما گھر بھی سب کو معلوم ہے شاپنگ سینٹر اور دیگر کاروبار کا تو کوئی اندازہ بھی نہیں ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ آصف زرداری دنیا کے دس مالدار ترین افراد میں شامل ہیں تو یہ غلط نہیں ہوگا کیونکہ اب وہ اربوں نہیں کھربوں روپے کے مالک ہیں ۔ان کی جائیدادوں کاکوئی حساب کتاب نہیں ہے وہ اب پاکستان کے مالدار ترین شخص بن چکے ہیں ۔ اس تناظر میں کہا یہ جارہا ہے کہ نواز شریف کے بعد اب آصف علی زرداری کی باری آنے والی ہے جس کی تیاری بھی کرلی گئی ہے۔ آصف زرداری کے لیے اعلیٰ عدالتوں میں جے آئی ٹی بنانے کے لیے درخواستیں تیار کرلی گئی ہیں اور جب ان کی جائیدادوں کی تفصیلات سامنے آئے گی تو دنیا دنگ رہ جائے گی۔ کیونکہ صرف پاکستان میں ان کے اثاثے کھربوں روپے سے تجاوز کرچکے ہیں ، دس سے زائد تو شوگر ملز ہیں ۔ ضلع ٹنڈو الہیار، ضلع نواب شاہ میں تو وہ 50 ہزار ایکڑ سے زائد زمین کے مالک بن چکے ہیں ۔ کراچی میں دو درجن سے زائد پلازے ہیں جن کے وہ مالک ہیں ۔ ملک ریاض کے ساتھ ان کی کاروباری شراکت داری کے چرچے بھی ہیں ۔
شرجیل میمن، امیر بھنبھرو، ڈاکٹر نثار مورائی اور محمد خان چاچڑ سمیت ایسے درجنوں افراد بھی ان کی ٹیم کا حصہ ہیں جن پر مختلف نوعیت کے الزامات لگتے رہے ہیں ۔ اس کی پوری تفصیلات ڈاکٹر ذوالفقار مرزا تحقیقاتی اداروں کو دے چکے ہیں اور وہ یہ پورا مواد سنگاپور، لندن اور امریکا میں کتابی شکل میں بھی محفوظ کراچکے ہیں ۔ سوئٹزر لینڈ کی بینکوں میں اربوں ڈالر الگ پڑے ہیں ۔یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ اسی وجہ سے چلی گئی تھی کہ انہوں نے سوئس بینکوں اور سوئس حکام کو آصف زرداری کی رقومات کے لیے خط نہیں لکھا اور دوبارہ کیس کھولنے کی استدعا نہیں کی جو پرویز مشرف کے این آر او کے تحت بند کیے گئے تھے اور پھر پرویز اشرف جب وزیراعظم بنے تووہ بھی سوئس عدالتوں اور سوئس حکام کو خط نہیں لکھ سکے پچھلے دنوں آصف زرداری کے تین اہم قریبی ساتھی نواب لغاری، اشفاق لغاری اور غلام قادر مری کو اہم سرکاری اداروں نے اٹھایا اور پھر ان سے اہم تفصیلات بمعہ دستاویزی ثبوت حاصل کیں اور پھر ان کو رہا بھی کر دیا گیا۔ اس طرح آصف زرداری کے خلاف ثبوتوں کا ایک پلندہ تیار کرلیا گیا ہے۔ اب صرف عدالتی حکم کا انتظار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب پاناما کیس عدالتوں میں چلنے لگا۔جے آئی ٹی بنی تو پیپلز پارٹی عملی طور پر لاتعلق رہی۔ بلکہ پس پردہ اپنے لیے خطرہ بھانپتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور وفاقی حکومت کو یہ پیغام دیتی رہی کہ اس پورے کھیل سے پیپلز پارٹی کا کوئی تعلق نہیں ۔ پیپلز پارٹی کو یہ شاید غلط فہمی تھی کہ صرف نواز شریف اس بحران میں پھنسے ہیں ، اب معاملہ ختم ہوجائے گالیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ اب عمران خان اور آصف علی زرداری کی باری ہے، آصف زرداری کے لیے پوری تیاری کرلی گئی ہے۔ مقصد واضح ہے کہ جس نے بھی لوٹ مار کی ہے اس کو احتساب کے عمل سے گزرنا پڑے گا۔ اگر اعلیٰ عدالتیں یہ کام کر گزریں تو ان کا نام تاریخ کے سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا۔
پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...
واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...
4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...
کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...
معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...
پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...
خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...
حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...