... loading ...
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفورنے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر پاڑا چنار سے گرفتار ہونے والوں کا تعلق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے ثابت ہوا ہے جو سرحد پار افغانستان کے علاقے میں مضبوط ہو رہی ہے۔ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا باقاعدہ تنظیمی ڈھانچہ موجود نہیں لیکن تحریک طالبان پاکستان کے چند منحرف گروپ اُن کی جانب مائل ہیں اور دہشت گردی کی کارروائیوں کی ذمہ داری لیتے ہیں۔
میجر جنرل آصف غفور نے بتایاکہ ان کے خلاف آج سے پاکستانی فوج نے آپریشن ردالفساد کے تحت خیبر ایجنسی کی وادی راجگال میں خیبر فور کے نام سے ایک زمینی آپریشن شروع کیا ہے۔اْنہوں نے آپریشن خیبر فور کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ یہ مشکل ترین علاقوں میں شامل ہے جو 250 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے اور 12 سے 14 ہزار فٹ کی بلند پہاڑی چوٹیاں اِس علاقے میں موجود ہیں۔اِس آپریشن کی اہمیت کے بارے میں اْن کا کہنا تھا کہ یہ اِس لیے بھی بہت اہم ہے کہ افغانستان میں مضبوط ہوتی ہوئی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا پاکستانی علاقے میں اثر روکا جا سکے۔
آئی ایس پی آر کے سربراہ نے فوجی عدالتوں کے بارے میں بتایا کہ فوجی عدالتوں میں پاڑا چنار سے گرفتار ہونے والے 17 ملزمان کے مقدمات بھی فوجی عدالتوں میں تیزی سے چلائے جائیں گے۔اْن کے مطابق ‘ فوجی عدالتوں کی پچھلی مدت کے دوران کل 274 ملزمان کو مختلف سزائیں دی گئیں جن میں سے 161 کو سزائے موت سنائی گئی تھی اور 53 پر عمل درآمد ہو چکا ہے، فی الحال 40 مختلف مقدمات فوجی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔میجر جنرل آصف غفور نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جن امریکی ممبران کانگریس نے ایوان زیریں میں پاکستان کی امداد کو مشروط کرنے کا بل پیش کیا اور منظور کرایا ہے اْن کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ بھارت کے زیرِ اثر ہیں اور ایسے بل پہلے بھی پیش کر چکے ہیں لیکن اِس کی حتمی منظوری میں ابھی کافی مراحل موجود ہیں۔
پاکستان کی فوج نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے سرحدی علاقے وادی راجگال میں سرحد پار سے دولت اسلامیہ کا اثر رسوخ روکنے کے لیے ‘خیبر فور’ کے نام سے ایک نئے آپریشن کا آغاز ایسے وقت کیا ہے جب ملک کے مختلف علاقوں بالخصوص فاٹا میں دولتِ اسلامیہ کے حملوں میں نہ صرف اضافہ ہوتا جا رہا ہے بلکہ خیبر پختونخوا میں بھی تنظیم کی جانب سے اثر و رسوخ پیدا کرنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے دو دن پہلے بریفنگ میں تصدیق کی تھی کہ رواں سال کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار میں ہونے والے حملوں میں سرحد پار سے بعض تنظیموں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔پاکستان کی سرحد سے متصل افغان صوبوں میں کچھ عرصے سے دولتِ اسلامیہ کا اثر و رسوخ نہ صرف بڑھا ہے بلکہ ان کی جانب سے بعض علاقوں پر قبضہ بھی کیا گیا ہے جس سے سرحد کے اس پار تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
بعض غیر ملکی اخبارات کے مطابق دولتِ اسلامیہ نے پاکستانی سرحد سے ملحق افغان صوبہ ننگرہار کے پہاڑی علاقے تورہ بورہ پر قابض ہونے کا دعویٰ کیا ہے جو ماضی میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کا مسکن رہا ہے۔شدت پسندی پر نظر رکھنے والے سینئر تحقیق کار عامر رانا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دولت اسلامیہ کا اثر و رسوخ ضرور موجود ہے لیکن وہ اس حد تک نہیں کہ جس طرح دیگر کالعدم تنظیموں کا ہے۔انھوں نے کہا کہ ریاست یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان میں دولت اسلامیہ کا دیگر شدت پسند تنظیموں کے ساتھ الحاق ہے لیکن مشرق وسطیٰ کے ایک الگ گروپ کی صورت میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔
عامر رانا کے مطابق ‘پاکستان میں دولتِ اسلامیہ ایک مقامی گروپ کی شکل میں موجود ہے، اسے اس تنظیم کی شکل میں نہیں لیا جاتا جو شام اور عراق میں سرگرم ہے بلکہ یہاں کے بعض جنگجو کمانڈروں نے پاکستانی تنظیموں سے تعلق بنا لیا ہے اور وہ ان کے ساتھ مل کر حملے کر رہے ہیں۔’ان کے بقول دولتِ اسلامیہ نے حال ہی میں دیگر تنظیموں سے شامل ہونے والے جنگجوؤں کے لیے بعض مسلکی شرائط رکھی ہیں جس سے اس تنظیم کی عددی اکثریت کم ہوتی جا رہی ہے۔پاکستان کی سرحد سے متصل افغان صوبوں میں کچھ عرصے سے دولتِ اسلامیہ کا اثر و رسوخ بڑھا ہے۔
ادھر وادی راجگال میں فوج کی جانب سے شروع کیے جانے والے آپریشن ‘خیبر فور’ کا اعلان ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے کیا گیا ہے جس سے یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس طرح کے اعلانات دہشت گردوں کے لیے سرحد پار فرار کا موقع بھی فراہم کر سکتے ہیں۔دفاعی امور کے تجزیہ نگار بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد محمد اس سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ آپریشن کا اعلان تو ایک خانہ پری ہوتی ہے اور اس کے لیے تمام تر منصوبہ بندی پہلے سے مکمل ہو چکی ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ کسی بھی آپریشن کو شروع کرنے سے پہلے اس کی تیاری میں کئی ماہ لگتے ہیں اور بعض اوقات تو کچھ غیر اعلانیہ کارروائیاں بھی کی جاتی ہیں تاہم اس کا باقاعدہ اعلان بعد میں کیا جاتا ہے۔بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد محمد نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب سے پہلے گومگو کی صورت حال تھی کہ آپریشن کیا جائے یا نہیں جس سے اہم کمانڈروں کو علاقے سے فرار ہونے کا موقع ملا تھا۔پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کی موجودگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس شدت پسند تنظیم کا پاکستان میں کوئی باقاعدہ مرکز نہیں ہے لیکن سرحد پار ان کے مضبوط ٹھکانے موجود ہیں۔
ایک طرف انتہاپسند تنظیموں کے خلاف فوجی کارروائی کی جارہی ہے اورپاک فوج ان کے خاتمے کی پیہم کوششیںکررہی ہے اور دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقوں میں کالعدم تنظیموں کی جانب سے چندہ مہم دوبارہ شروع کر دی گئی ہے اور اس مہم میں کہا جا رہا ہے کہ مجاہدین افغانستان اور دیگر علاقوں میں جہاد جاری رکھے ہوئے ہیں اور انھیں مدد کی ضرورت ہے۔
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر مشتاق غنی نے صوبے میں کالعدم تنظیموں کی جانب سے چندہ مہم شروع کرنے کی تردید کرتے ہوئے گزشتہ روز دعویٰ کیاتھاکہ صوبے کی سطح پر ایسے واقعات کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔لیکن کالعدم تنظیموںکے بعض ایسے ویڈیو کلپس اور ایسے پمفلٹ یا خطوط سامنے آئے ہیں جن میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ مجاہدین کی مدد کی جائے۔بظاہر ایک ویڈیو کلپ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ یہ خیبر پختونخوا کے کسی دور افتادہ علاقے کی ایک مسجد میں لیا گیا ہے جس میں جہاد کی دعوت دی جا رہی ہے اور کہا گیا ہے کہ مجاہدین کی مدد کی جائے۔سوشل میڈیا پر ایک خط بھی سامنے آیا ہے جس میں افغانستان میں طالبان کی مدد کی اپیل گئی ہے۔یہ خط بلوچستان کے ضلع ژوب کی ایک مسجد کے لیے ہے جس میں جمعہ کو مجاہدین کے لیے چندہ جمع کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔اس مسجد کے امام کے مطابق مجاہدین کی مدد کے لیے چندہ جمع کیا جاتا ہے۔تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایک عرصے کے بعد اس طرح کی سرگرمیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
شدت پسندی کے موضوع پر تحقیق کرنے والے تجزیہ کار پروفیسر خادم حسین کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقوں سے کالعدم تنظیموں کی جانب سے یہ مہم شروع کی گئی ہے۔پروفیسر خادم حسین نے بتایا کہ اس مہم کے ذریعے چندہ جمع کرنے اور لوگوں کو اپنی تنظیموں کی جانب راغب کرنے کے لیے کام کیا جاتا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے اس کی روک تھام کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے تمام متعلقہ اداروں کو ضروری اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ کالعدم تنظیمیں خطے میں واقع مختلف ممالک میں متحد ہونے کی کوششیں کر رہی ہیں اور اگر یہ کامیاب ہوتے ہیں تو پھر اس کے اثرات پورے خطے پر ہوں گے۔یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس مہم میں وہ اپنی مالی مشکلات کا ذکر کر رہے ہیں تو کیا اس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ پاکستان میں جاری آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کے نتیجے میں کالعدم تنظیموں کے وسائل میں کمی واقع ہوئی ہے؟تجزیہ نگاروں کے مطابق فوج نے اپنے اہداف حاصل کر لیے لیکن سول اداروں کی کمی محسوس ہوئی ہے۔
پروفیسر خادم حسین کا کہنا تھا ان آپریشنز کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سول اداروں کی کمی محسوس ہو رہی ہے کیونکہ فوج نے تو اپنے اہداف حاصل کیے ہیں لیکن ان تنظیموں سے وابستہ افراد عام شہری آبادیوں میں گھل مل جاتے ہیں۔اس بارے میں تجزیہ کار بریگیڈیر ریٹائرڈ محمود شاہ سے رابطہ کیاگیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کا ہاتھ ڈھیلا پڑ گیا ہے جس کی وجہ سے یہ سرگرمیاں ایک مرتبہ پھر شروع ہو گئی ہیں۔انھوں نے کہا کہ’کچھ عرصہ پہلے پشاور اور دیگر بڑے شہروں میں بھی یہ چندہ مہم دیکھی جاتی تھی لیکن حکومت کی کارروائیوں کے بعد یہ سرگرمیاں ختم ہو گئی تھیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ چندہ جمع کرنے اور دیگر سرگرمیوں کا قلع قمع کرنے کے لیے فوجی اہداف کے حصول کے بعد سول اداروں کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان تنظیموں سے وابستہ عناصر پھر سے اپنی سر نہ اٹھا سکیں اور عام شہریوں میں گھل مل نہ جائیں جبکہ اس کے لیے نیشنل ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کو فعال کرنے کی ضرورت ہے۔
تہمینہ حیات نقوی
ایران کی تازہ تجاویز سے مطمئن نہیں،فیصلہ کرنا ہے کہ تہران کیخلاف طاقت استعمال کریں یا مذاکرات کیے جائیں، ٹرمپ کا دو ٹوک اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی تازہ ترین تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔ واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی ق...
وزارت خزانہ کے تخمینے غلط ثابت، مہنگائی 21 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی مہنگائی کی سالانہ شرح 10.89فیصد تک جاپہنچی، وفاقی ادارہ شماریات وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جاری کر دی۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مارچ کے مقابلے اپریل میں مہنگائی ک...
اسرائیلی اقدامات سے معاملے پر سفارتی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش بڑھ گئی اسرائیلی حکام نے ابتدائی طور پر 175 گرفتار افراد کو اسرائیل منتقل کرنے کا عندیہ دیا تھا اسرائیل نے غزہ کیلئے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار ارکان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ ...
سیکیورٹی فورسز نے سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کرنیوالے دہشت گردوں کے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے خوارج کو نشانہ بنایا 28 اور 29 اپریل کوخیبر پختونخوا میں شدید فائرنگ کے تبادلے میںضلع مہمند میں 8 اور شمالی وزیرستان میں 5 فتنۃ الخوارج کے دہ...
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ، نئی قیمت 399 روپے 58 پیسے مقرر،آبنائے ہرمز کا معاملہ فوری حل نہ ہوا تو 9 مئی کو قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہوگا، ذرائع وزیراعظم کاموٹر سائیکل سواروں، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو ملنے والی سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصل...
سینیٹر مشعال یوسفزئی کے مبینہ وائس نوٹ نے گروپ میں ہلچل مچا دی فلک ناز چترالی سمیت خواتین سینیٹرز نے مشعال کو آڑے ہاتھوں لے لیا اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹ گروپ کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے اورسینیٹرز کے درمیان شدید تلخ کلامی دیکھنے میں آئی ہے۔ذرائع...
متعلقہ ممالک کو نئے معاہدے کیلئے راغب کریں،محکمہ خار جہ کا امریکی سفارتخانوں کو پیغام معاہدے کا نام میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ رکھا گیا ہے،ہرمز کاروبار کیلئے تیار ، ٹرمپ کا دعویٰ امریکہ نے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے نیا عالمی اتحاد بنانے کی کوششیں تیز کر دیں۔غیرملکی میڈیارپورٹ ک...
بحریہ ٹاؤن کراچی منی لانڈرنگ کیس میںدونوں ملزمان کوواپس لانے کیلئے امارات کی حکومت سے رابطہ کر لیا، جلد گرفتار کر کے پاکستان لاکرمقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، چیئرمین نیب ریڈ وارنٹ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں کرپشن کے مقدمات پر جاری ہوئے، 900 ارب سے زائد کے مقدمات کی تحقیقات م...
ممکنہ حملوں میں ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، امریکا ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے اور زیادہ لچک دکھانے پر زور دے گا، سینٹرل کمانڈ ٹرمپ نے ایران کی پیشکش مسترد کردی، امریکا کے خدشات دور کیے جائیں اس وقت تک ایران پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھی جائے گی،...
چمن سیکٹر میں بلا اشتعال جارحیت پرافغان طالبان کی متعدد چوکیاں،گاڑیوں کو درستگی سے نشانہ بنا کر تباہ پاک فوج کی موثر کارروائیوں نے افغان طالبان اور دہشتگردوںکو پسپائی پر مجبور کر دیا ہے،سکیورٹی ذرائع پاک افغان سرحد پر افغان طالبان کی بلا اشتعال جارحیت کا پاک فوج نے بھرپور جوا...
کابینہ اجلاس سے خطاب میں کفایت شعاری اقدامات جاری رکھنے کا اعلان مسائل پہاڑ بن کر سامنے کھڑے ہیں لیکن مشکل وقت سے سرخرو ہوکر نکلیں گے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اور قیام امن کیلئے متواتر کوششیں کیں جو ہنوز جاری ہیں، جنگ کی وجہ سے...
جو اہلکار مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہوا اسے B کمپنی کا مکین بنایا جائے گا، آئی جی سندھ اسٹریٹ کرائم اور آرگنائز کرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں کی جا رہی ہیں (کرائم رپورٹر؍ اسد رضا) جو اہلکار و افسران ڈیپارٹمنٹ کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں ان تمام عناصر کے خلاف ...