وجود

... loading ...

وجود

پاکستان میں داعش کے خطرات میں اضافہ

جمعرات 20 جولائی 2017 پاکستان میں داعش کے خطرات میں اضافہ

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفورنے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر پاڑا چنار سے گرفتار ہونے والوں کا تعلق شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے ثابت ہوا ہے جو سرحد پار افغانستان کے علاقے میں مضبوط ہو رہی ہے۔ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا باقاعدہ تنظیمی ڈھانچہ موجود نہیں لیکن تحریک طالبان پاکستان کے چند منحرف گروپ اُن کی جانب مائل ہیں اور دہشت گردی کی کارروائیوں کی ذمہ داری لیتے ہیں۔
میجر جنرل آصف غفور نے بتایاکہ ان کے خلاف آج سے پاکستانی فوج نے آپریشن ردالفساد کے تحت خیبر ایجنسی کی وادی راجگال میں خیبر فور کے نام سے ایک زمینی آپریشن شروع کیا ہے۔اْنہوں نے آپریشن خیبر فور کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ یہ مشکل ترین علاقوں میں شامل ہے جو 250 مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے اور 12 سے 14 ہزار فٹ کی بلند پہاڑی چوٹیاں اِس علاقے میں موجود ہیں۔اِس آپریشن کی اہمیت کے بارے میں اْن کا کہنا تھا کہ یہ اِس لیے بھی بہت اہم ہے کہ افغانستان میں مضبوط ہوتی ہوئی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا پاکستانی علاقے میں اثر روکا جا سکے۔
آئی ایس پی آر کے سربراہ نے فوجی عدالتوں کے بارے میں بتایا کہ فوجی عدالتوں میں پاڑا چنار سے گرفتار ہونے والے 17 ملزمان کے مقدمات بھی فوجی عدالتوں میں تیزی سے چلائے جائیں گے۔اْن کے مطابق ‘ فوجی عدالتوں کی پچھلی مدت کے دوران کل 274 ملزمان کو مختلف سزائیں دی گئیں جن میں سے 161 کو سزائے موت سنائی گئی تھی اور 53 پر عمل درآمد ہو چکا ہے، فی الحال 40 مختلف مقدمات فوجی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔میجر جنرل آصف غفور نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جن امریکی ممبران کانگریس نے ایوان زیریں میں پاکستان کی امداد کو مشروط کرنے کا بل پیش کیا اور منظور کرایا ہے اْن کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ بھارت کے زیرِ اثر ہیں اور ایسے بل پہلے بھی پیش کر چکے ہیں لیکن اِس کی حتمی منظوری میں ابھی کافی مراحل موجود ہیں۔
پاکستان کی فوج نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے سرحدی علاقے وادی راجگال میں سرحد پار سے دولت اسلامیہ کا اثر رسوخ روکنے کے لیے ‘خیبر فور’ کے نام سے ایک نئے آپریشن کا آغاز ایسے وقت کیا ہے جب ملک کے مختلف علاقوں بالخصوص فاٹا میں دولتِ اسلامیہ کے حملوں میں نہ صرف اضافہ ہوتا جا رہا ہے بلکہ خیبر پختونخوا میں بھی تنظیم کی جانب سے اثر و رسوخ پیدا کرنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے دو دن پہلے بریفنگ میں تصدیق کی تھی کہ رواں سال کرم ایجنسی کے صدر مقام پاڑہ چنار میں ہونے والے حملوں میں سرحد پار سے بعض تنظیموں کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔پاکستان کی سرحد سے متصل افغان صوبوں میں کچھ عرصے سے دولتِ اسلامیہ کا اثر و رسوخ نہ صرف بڑھا ہے بلکہ ان کی جانب سے بعض علاقوں پر قبضہ بھی کیا گیا ہے جس سے سرحد کے اس پار تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔
بعض غیر ملکی اخبارات کے مطابق دولتِ اسلامیہ نے پاکستانی سرحد سے ملحق افغان صوبہ ننگرہار کے پہاڑی علاقے تورہ بورہ پر قابض ہونے کا دعویٰ کیا ہے جو ماضی میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کا مسکن رہا ہے۔شدت پسندی پر نظر رکھنے والے سینئر تحقیق کار عامر رانا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دولت اسلامیہ کا اثر و رسوخ ضرور موجود ہے لیکن وہ اس حد تک نہیں کہ جس طرح دیگر کالعدم تنظیموں کا ہے۔انھوں نے کہا کہ ریاست یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان میں دولت اسلامیہ کا دیگر شدت پسند تنظیموں کے ساتھ الحاق ہے لیکن مشرق وسطیٰ کے ایک الگ گروپ کی صورت میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔
عامر رانا کے مطابق ‘پاکستان میں دولتِ اسلامیہ ایک مقامی گروپ کی شکل میں موجود ہے، اسے اس تنظیم کی شکل میں نہیں لیا جاتا جو شام اور عراق میں سرگرم ہے بلکہ یہاں کے بعض جنگجو کمانڈروں نے پاکستانی تنظیموں سے تعلق بنا لیا ہے اور وہ ان کے ساتھ مل کر حملے کر رہے ہیں۔’ان کے بقول دولتِ اسلامیہ نے حال ہی میں دیگر تنظیموں سے شامل ہونے والے جنگجوؤں کے لیے بعض مسلکی شرائط رکھی ہیں جس سے اس تنظیم کی عددی اکثریت کم ہوتی جا رہی ہے۔پاکستان کی سرحد سے متصل افغان صوبوں میں کچھ عرصے سے دولتِ اسلامیہ کا اثر و رسوخ بڑھا ہے۔
ادھر وادی راجگال میں فوج کی جانب سے شروع کیے جانے والے آپریشن ‘خیبر فور’ کا اعلان ذرائع ابلاغ کے ذریعے سے کیا گیا ہے جس سے یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس طرح کے اعلانات دہشت گردوں کے لیے سرحد پار فرار کا موقع بھی فراہم کر سکتے ہیں۔دفاعی امور کے تجزیہ نگار بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد محمد اس سے اتفاق نہیں کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ آپریشن کا اعلان تو ایک خانہ پری ہوتی ہے اور اس کے لیے تمام تر منصوبہ بندی پہلے سے مکمل ہو چکی ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ کسی بھی آپریشن کو شروع کرنے سے پہلے اس کی تیاری میں کئی ماہ لگتے ہیں اور بعض اوقات تو کچھ غیر اعلانیہ کارروائیاں بھی کی جاتی ہیں تاہم اس کا باقاعدہ اعلان بعد میں کیا جاتا ہے۔بریگیڈیئر ریٹائرڈ سعد محمد نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب سے پہلے گومگو کی صورت حال تھی کہ آپریشن کیا جائے یا نہیں جس سے اہم کمانڈروں کو علاقے سے فرار ہونے کا موقع ملا تھا۔پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کی موجودگی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اس شدت پسند تنظیم کا پاکستان میں کوئی باقاعدہ مرکز نہیں ہے لیکن سرحد پار ان کے مضبوط ٹھکانے موجود ہیں۔
ایک طرف انتہاپسند تنظیموں کے خلاف فوجی کارروائی کی جارہی ہے اورپاک فوج ان کے خاتمے کی پیہم کوششیںکررہی ہے اور دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقوں میں کالعدم تنظیموں کی جانب سے چندہ مہم دوبارہ شروع کر دی گئی ہے اور اس مہم میں کہا جا رہا ہے کہ مجاہدین افغانستان اور دیگر علاقوں میں جہاد جاری رکھے ہوئے ہیں اور انھیں مدد کی ضرورت ہے۔
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر مشتاق غنی نے صوبے میں کالعدم تنظیموں کی جانب سے چندہ مہم شروع کرنے کی تردید کرتے ہوئے گزشتہ روز دعویٰ کیاتھاکہ صوبے کی سطح پر ایسے واقعات کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔لیکن کالعدم تنظیموںکے بعض ایسے ویڈیو کلپس اور ایسے پمفلٹ یا خطوط سامنے آئے ہیں جن میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ مجاہدین کی مدد کی جائے۔بظاہر ایک ویڈیو کلپ کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ یہ خیبر پختونخوا کے کسی دور افتادہ علاقے کی ایک مسجد میں لیا گیا ہے جس میں جہاد کی دعوت دی جا رہی ہے اور کہا گیا ہے کہ مجاہدین کی مدد کی جائے۔سوشل میڈیا پر ایک خط بھی سامنے آیا ہے جس میں افغانستان میں طالبان کی مدد کی اپیل گئی ہے۔یہ خط بلوچستان کے ضلع ژوب کی ایک مسجد کے لیے ہے جس میں جمعہ کو مجاہدین کے لیے چندہ جمع کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔اس مسجد کے امام کے مطابق مجاہدین کی مدد کے لیے چندہ جمع کیا جاتا ہے۔تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایک عرصے کے بعد اس طرح کی سرگرمیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
شدت پسندی کے موضوع پر تحقیق کرنے والے تجزیہ کار پروفیسر خادم حسین کے مطابق پاکستان کے مختلف علاقوں سے کالعدم تنظیموں کی جانب سے یہ مہم شروع کی گئی ہے۔پروفیسر خادم حسین نے بتایا کہ اس مہم کے ذریعے چندہ جمع کرنے اور لوگوں کو اپنی تنظیموں کی جانب راغب کرنے کے لیے کام کیا جاتا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے اس کی روک تھام کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے تمام متعلقہ اداروں کو ضروری اقدامات کرنا ہوں گے کیونکہ کالعدم تنظیمیں خطے میں واقع مختلف ممالک میں متحد ہونے کی کوششیں کر رہی ہیں اور اگر یہ کامیاب ہوتے ہیں تو پھر اس کے اثرات پورے خطے پر ہوں گے۔یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اس مہم میں وہ اپنی مالی مشکلات کا ذکر کر رہے ہیں تو کیا اس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ پاکستان میں جاری آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد کے نتیجے میں کالعدم تنظیموں کے وسائل میں کمی واقع ہوئی ہے؟تجزیہ نگاروں کے مطابق فوج نے اپنے اہداف حاصل کر لیے لیکن سول اداروں کی کمی محسوس ہوئی ہے۔
پروفیسر خادم حسین کا کہنا تھا ان آپریشنز کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سول اداروں کی کمی محسوس ہو رہی ہے کیونکہ فوج نے تو اپنے اہداف حاصل کیے ہیں لیکن ان تنظیموں سے وابستہ افراد عام شہری آبادیوں میں گھل مل جاتے ہیں۔اس بارے میں تجزیہ کار بریگیڈیر ریٹائرڈ محمود شاہ سے رابطہ کیاگیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کا ہاتھ ڈھیلا پڑ گیا ہے جس کی وجہ سے یہ سرگرمیاں ایک مرتبہ پھر شروع ہو گئی ہیں۔انھوں نے کہا کہ’کچھ عرصہ پہلے پشاور اور دیگر بڑے شہروں میں بھی یہ چندہ مہم دیکھی جاتی تھی لیکن حکومت کی کارروائیوں کے بعد یہ سرگرمیاں ختم ہو گئی تھیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ چندہ جمع کرنے اور دیگر سرگرمیوں کا قلع قمع کرنے کے لیے فوجی اہداف کے حصول کے بعد سول اداروں کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان تنظیموں سے وابستہ عناصر پھر سے اپنی سر نہ اٹھا سکیں اور عام شہریوں میں گھل مل نہ جائیں جبکہ اس کے لیے نیشنل ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کو فعال کرنے کی ضرورت ہے۔
تہمینہ حیات نقوی


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر