وجود

... loading ...

وجود

جیلیں بااثر قیدیوں کی قید میں ،مجرموں کے لیے عیش کدہ اور جیل اہلکاروں کے لیے پیسے بنانے کی مشین

اتوار 16 جولائی 2017 جیلیں بااثر قیدیوں کی قید میں ،مجرموں کے لیے عیش کدہ اور جیل اہلکاروں کے لیے پیسے بنانے کی مشین

ایک زمانہ تھا جب کہا جاتا تھا کہ سندھ کی جیلیں تو جہنم ہیں لیکن اب ایسا نہیں۔پاکستانی جیلوں کی ا نوکھی تاریخ میں حال ہی میں شاندار باب اس وقت لکھا گیا جب رینجرز کے چھاپے کے دوران موبائل فونز سے لے کر ریفریجریٹر تک بر آمد ہوئے۔جیلوں میں اب قانون شکن عناصر کی عملداری ہے جو جیلر سمیت پورے پورے عملے کو خرید لیتے ہیں اور جیل پر خود حکمرانی کرتے ہیں ۔ ملک میں کچھ جیلیں واقعی ایسی جیلیں ہیں جن کی سختیوں کی کئی داستانیں ہیں ۔جن میں مچ جیل‘ ساہیوال جیل‘ اڈیالہ جیل ‘بنوں جیل‘ خیرپورجیل‘ سکھر سینٹرل جیل شامل ہیں ،جن کے نام سن کر ہی مجرموں پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے لیکن عملی طور پر اب سندھ میں جیلیں دُکان کی طرح بن گئی ہیں ،جہاں جو چیز چاہیں خریدلیں جو کچھ کرنا چاہیں کرسکتے ہیں،پوچھنے والا کوئی نہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت سندھ بھر کی جیلیں بااثر قیدیوں کے ہاتھ میں آگئی ہیں تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ جس طرح بااثر قیدی چاہتے ہیں جیل کا نظام ایسے ہی چلتا ہے۔ جیل اہلکار صرف پیسے بٹورنے میں مصروف ہیں۔
سینٹرل جیل کراچی کی ایک طویل داستان ہے۔ یہاں صولت مرزا‘ منہاج قاضی جیسے بااثر قیدیوں کو انٹرنیٹ‘ موبائل فون‘ ایئرکنڈیشن‘ ریفریجریٹر‘ ٹی وی‘ سی ڈی‘ وی سی ڈی کی مکمل سہولت حاصل رہی مگر اب تو معاملہ وسیع ہوگیا ہے اب تو سینٹرل جیل حکام نے سہولت فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ ریٹ مقرر کردیے ہیں جو قیدی جتنے پیسے دے گا وہ اتنی ہی سہولتیں بھی حاصل کرسکے گا۔ جیل حکام کی اسی نااہلی اور رشوت خوری نے سینٹرل جیل کو مکمل طور پر غیر محفوظ کردیا ہے ۔
محکمہ جیل خانہ جات نے گزشتہ دنوںایک فہرست تیار کی جس میں بتایاگیا ہے کہ 63قیدی ا یسے ہیں جن کو جیل میں اے کلاس‘بی کلاس اور سی کلاس دی گئی ہے یعنی جس نے جتنی رقم دی اس کو اتنی اچھی کلاس ملی۔ ان کو برداشتی (جیل کے کچے قیدی بطور خدمت گار) موبائل فون‘ ٹی ویریفریجریٹر‘ ڈسپنسر اور دیگر سہولتیں ملیں ۔ حد تو یہ ہے کہ منہاج قاضی‘ سہیل عرف سناٹا‘ حافظ قاسم رشید جیسے لوگ بھی جیل میں اے کلاس
اور بی کلاس میں رہتے ہیں جہاں ان کو جیل کے کچے قیدی بطور خدمت گار ملے ہوئے ہیں۔ جیل میں جن63قیدیوں کو سہولتیں ملی ہوئی ہیں ان میں سہیل طالب‘ سید زاہد علی‘ رفیق احمد راجپوت‘ شکیل احمد‘ سیدصلاح الدین‘ غلام محی الدین‘ عبداللطیف‘ شمشاد علی‘ محمد حسیب خان‘ محمدنعیم عرف گڈو‘ نور محمد‘ شبیر احمد عرف فرحان ملا‘ حسن اختر‘ سید منظر عباس‘ فرید نسیم‘ سید راشد حسین رضوی‘ وسیم اقبال‘ شاہد عمر‘ شاہ رفیع الدین‘ فریداحمد یوسفانی‘ فریدالدین‘ ملک شاہد احمد خان‘ حمود الرحمان قاضی‘ مظفرعلی زبیری‘ محمدشکیل احمدخان‘ وقاص احمد خان‘ چودھری محمد اشرف‘ انجم جمیل صدیقی‘ محمد ناصر شیخ‘ عبدالمالک مظہر‘ محمد فاروق انصاری‘ طاہر جمیل درانی‘ مکرم عالم خان‘ سید طاہر حسن‘ رفیع الدین میمن‘ رسول بخش‘ محمد منہاج قاضی عرف اسد‘ سابق سیکریٹری ایکسائز اقبال احمد بابلانی‘ محمدفہدعلی خان آفریدی‘ رانا منیر احمد خان‘ سابق سیکریٹری بلدیات علی احمد لونڈ‘ عبدالعلیم خان‘ مظہر علی‘ محمدمکرم‘ شارق رضا (حرکت المجاہدین) تجمل شیراز اسلم (حرکت المجاہدین) عمر حسین صدیقی‘ مسرور احمد خان‘ طاہرحسین‘ عمران غنی‘ مرزا ابراربیگ‘ قمر محمود خان‘ شاہ عبدالرحیم‘ بابر علی سولنگی‘ فرحان کامرانی‘ مرزا ذیشان بیگ‘ محمدنعیم عرف گڈو‘ واثق محمد یوسف‘ محمد مسعود‘ محمد شاکر‘ اعظم بروہی اور سہیل احمد عرف سناٹا (کالعدم تحریک طالبان) شامل ہیں۔
اس رپورٹ سے یہ تو ثابت ہوگیا ہے کہ جو قیدی جتناپیسہ خرچ کرے اسے اتنی سہولیات مل جاتی ہیں یہاں تک کہ وہ جیل کا بادشاہ بن جاتا ہے۔ کائونٹر ٹیرر ازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے اس صورتِ حال پر ایک تفصیلی رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کردی ہے جس میں چونکا دینے والے انکشافات کیے گئے ہیں۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ کالعدم لشکرجھنگوی کے حافظ قاسم رشید اور منہاج قاضی جیل کے بادشاہ بنے ہوئے ہیں وہ جو بھی چاہتے ہیں وہ ہوجاتا ہے جیل کے بااثر قیدی جس طرح چاہیں نقل وحرکت کرسکتے ہیں، یہاں تک کہ وہ عدالت میں پیشی نہ ہونے کے باوجود عدالت جاسکتے ہیں ۔جوڈیشل کمپلیکس کاچکر لگاسکتے ہیں کسی اسپتال میں داخل ہوسکتے ہیں ۔جیل میں کوئی بھی منشیات لاسکتے ہیں۔ کئی قیدیوں کو خاموشی سے اپنے گھر جانے کی بھی اجازت ہے۔ ماضی میں ایسے سینکڑوں قیدیوں کی مثالیں موجود ہیں جو رات کو اپنے گھر چلے جاتے تھے اور علی الصبح جیل آجاتے تھے اور دن بھر وہ جیل میں سپرنٹنڈنٹ کے کمرے میں یا پھر اپنے پر آسائش کمرے میں آرام کرتے رہتے تھے۔
سینٹرل جیل ایک عیش کدہ یا دُکان بن کر رہ گئی ہے جس میں خریدار جو چاہے خریدسکتا ہے اور عیش کر سکتا ہے ۔ جیل کا نااہل اورکرپٹ عملہ اس پر چوںبھی نہیںکرتا۔ جیل میں63بااثر قیدیوں کی یہ فہرست تو دکھاوے کی ہے۔ اصل میں تو150 سے زائد قیدی ایسے ہیں جن کو جیل میں وہ زندگی حاصل ہے جو انہیں شاید جیل سے باہر بھی نصیب نہ ہو۔ سینٹرل جیل کراچی سے ابھی تو صرف دو قیدی فرار ہوئے ہیں آنے والے دنوں میں درجنوں قیدی فرار ہوسکتے ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ انہیں دل کھول کر مال خرچ کرنا پڑے گا۔ ابھی تو جیل سپرنٹنڈنٹ کو ملازمت سے برطرف کیاگیاہے لیکن سینٹرل جیل کے حالات جس نہج پر چل رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ آنے والے چند روز میں کچھ اہلکار برطرف یا معطل ہوں گے پھر وہ جیل سے کمایا ہوا مال خرچ کریں گے اور بحال ہوجائیں گے اور پھر اپنے پرانے دھندے میں لگ جائیں گے۔ جب تک حقیقی معنوں میں جیل کا آپریشن کلین اپ نہیں ہوتا تب تک قیدی جیل عملے کی مدد سے یونہی فرار ہوتے رہیں گے اور جیل کے قیدی عیش کے دن گزارتے رہیں گے۔


متعلقہ خبریں


سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری وجود - اتوار 22 فروری 2026

یہاں کچھ لوگ سیاسی فیکٹریاں لگائے بیٹھے ہیں، کسی بھی معاملے کو سیاسی بنا دیتے ہیں کوشش کامیاب ہوتی ہے سازش کبھی نہیں ہوتی ، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے،خطاب گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے۔گورنر ہاؤس کراچی میں افطار عشائیے...

سندھ کے لوگوں نے ہمیں سنجیدہ لینا شروع کردیا ہے، گورنرٹیسوری

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم وجود - اتوار 22 فروری 2026

عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے ، وہ ہمارا بھائی ہے ہمیں ان کی فکر ہے اور ہم اپنے بھائی کیلئے ہر حد پر لڑیں گے سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی صرف ایک آنکھ کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کی زندگی خطرے میں ہے، وہ ہمارا...

عمران کیلئے پارٹی رہنما لڑنا نہیں چاہتے تو سائیڈ ہو جائیں،علیمہ خانم

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے وجود - هفته 21 فروری 2026

آپ باہر نکلیں ہم آپکو دیکھ لیں، شوکت راجپوت کو ایم پی اے شارق جمال کی دھمکی، متعلقہ پولیس اسٹیشن کومقدمہ درج کرنے کا کہا جائے،میرے تحفظ کو یقینی بنایا جائے،شوکت راجپوت کی اسپیکر سے استدعا ایم این اے اقبال محسود مسلح افراد کے ساتھ دفتر میں آئے اور تالے توڑے ،تنازع کے باعث ایس ...

سندھ اسمبلی، ایم کیو ایم کے مختلف گروپ لڑ پڑے

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا وجود - هفته 21 فروری 2026

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور تناؤ کے دوران امریکی بحریہ کا دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ایو ایس ایس گیرالڈ آر فورڈ بحیرۂ روم میں داخل ہوگیا، اس وقت آبنائے جبل الطارق عبور کر رہا ہے دونوں ممالک کے درمیان جوہری مذاکرات تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ، طیارہ بردار...

حملے کی تیاری، امریکی بحری بیڑہ ایران کے قریب پہنچ گیا

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف وجود - هفته 21 فروری 2026

میرپورخاص میں سائلہ خاتون نے 22 اکتوبر کو میر خادم حسین ٹالپور پر جنسی زیادتی کا الزام عائد کیا تھا پولیس افسر نے جرم کا اعتراف کرلیا، مراسلہ میںفیصلے کے خلاف 30 روز میں اپیل کا حق دے دیا میرپورخاص میں سابق ایس ایچ او مہران تھانے کے خلاف سنگین الزامات سائلہ خاتون سے جنسی زیاد...

مہران تھانا،سابق ایس ایچ او کیخلاف سنگین الزامات ثابت، ملازمت سے برطرف

ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار وجود - هفته 21 فروری 2026

ایئرپورٹ سیمسافروں کو رشوت لے کر غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنیکا انکشاف اے ایس آئی محمد عالم، ایف سی انضمام الحق اور ہیڈ کانسٹیبل محمد اسماعیل شامل ہیں ،ذرائع نیو اسلام آباد ایئرپورٹ سے رشوت لے کر غیر قانونی طور پر شہریوں کو رشوت لے کر بیرون ممالک اور یورپ بھیجنے والے ...

ایف آئی اے امیگریشن کے افسر سمیت 4 اہلکار گرفتار

غزہ امن بورڈ،حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،پاکستان وجود - جمعه 20 فروری 2026

شہباز شریف نیویارک میں موجود ہیں اور غزہ بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے، غزہ میں امن کیلئے کردار ادا کیا جائے گا، امیدیں وابستہ ہیں غزہ کی صورتحال بہتر ہوگی، ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کسی گروپ یا تنظیم کیخلاف کسی فیصلے کا حصہ نہیں ہے،پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کی اسرائیل کے ...

غزہ امن بورڈ،حماس کو غیر مسلح کرنے میں شامل نہیں ہوں گے،پاکستان

بھارت بند ہڑتال وجود - جمعه 20 فروری 2026

ریاض احمدچودھری سمیوکت کسان مورچہ (SKM) اور ملک کی بڑی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے بھارت بند کی کال دی ہے۔ یونینوں نے اس ہڑتال کی کال مرکزی حکومت کی مختلف اقتصادی پالیسیوں کے خلاف دی ہے جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے اور نئے لیبر قوانین شامل ہیں۔سنیوکت کسان مورچہ او...

بھارت بند ہڑتال

عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان وجود - جمعرات 19 فروری 2026

اب منظم عوامی جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے، عمران خان رہائی فورس مکمل طور پر پرامن جدوجہد کرے گی جس میں باقاعدہ چین آف کمانڈ ہو گی، یہ نہیں ہو گا کہ ذمہ داری کسی کو دیں اور اعلان کوئی کرتا پھرے مجھے بانی پی ٹی آئی کی طرف سے اسٹریٹ موومنٹ کی ذمہ داری دی گئی ہے، عدالتی احکامات ردی کی...

عمران خان کی رہائی کیلئے فورس بنانے کا اعلان

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری وجود - جمعرات 19 فروری 2026

یہ بات سب یاد رکھیں، عدم اعتماد صرف میں لاسکتا ہوں، میںنے جیل میں کبھی ہڑتال کی کال نہ دی تھی، مجھے بہت سوں نے بہت کچھ کہا، مگر صبرو تحمل سے کام لیا،پیپلزپارٹی کا مفاد پاکستان ہے پنجاب میں بدقسمتی سے گروپنگ اور کوتاہیاں ہماری کمزوری کا نتیجہ ہیں، وزارتیں اس لئے نہیں لیں پارٹی کو...

یہ مت بھولیں، عدم اعتماد کامیاب کرانا جانتا ہوں، صدر زرداری

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار وجود - جمعرات 19 فروری 2026

قاسم اور سلیمان نے دو سال سے زائد عرصے کے بعد ویزے کیلئے درخواست دے دی انہیں ملاقات کی اجازت دی جائے، دونوں بھائیوں کا مطالبہ،مگر ابھی تک جواب نہیں ملا سابق وزیرِاعظم عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے پاکستانی جیل میں قید اپنے والد کی بگڑتی ہوئی صحت پر تشویش کا اظہار کرتے...

عمران خان کے بیٹوں کا والد کی صحت پر تشویش کا اظہار

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم وجود - بدھ 18 فروری 2026

مودی سرکار کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ،دنیا کو موسمیاتی دباؤ جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں،پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،شہباز شریف پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،نوجوان آبادی پاکستان کا سب سے بڑا ا...

بھارت نے پانی کو ہتھیار بنانے کی دھمکی دی، وزیر اعظم

مضامین
کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں! وجود پیر 23 فروری 2026
کچھ سوال انسان کی روح سے دستخط لیتے ہیں!

مقبوضہ وادی میں مشکوک مردم شماری وجود پیر 23 فروری 2026
مقبوضہ وادی میں مشکوک مردم شماری

نا شکرے عوام وجود پیر 23 فروری 2026
نا شکرے عوام

زندگی بدل گئی! وجود اتوار 22 فروری 2026
زندگی بدل گئی!

بھارت منشیات کی عالمی ترسیل میں ملوث وجود اتوار 22 فروری 2026
بھارت منشیات کی عالمی ترسیل میں ملوث

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر