وجود

... loading ...

وجود

6 مسلم ممالک کے شہریوں کے لیے امریکی ویزے کی نئی شرائط

اتوار 02 جولائی 2017 6 مسلم ممالک کے شہریوں کے لیے امریکی ویزے کی نئی شرائط


امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ٹرمپ کے چھ مسلم ممالک کے شہریوں پر سفری پابندی کے قانون کی جزوی بحالی کے بعد ان افراد پر امریکی ویزوں کے حصول کے لیے نئی شرائط جمعرات سے نافذ العمل ہو رہی ہیں۔ان شرائط کے تحت ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے شہریوں اور تمام پناہ گزینوں کے لیے لازم ہو گا کہ وہ ثابت کریں کہ ان کے قریبی عزیز امریکا میں مقیم ہیں یا ان کے ملک میں کاروباری روابط ہیں۔تاہم وہ افراد جن کے پاس پہلے سے امریکی ویزا موجود ہے وہ ان شرائط سے متاثر نہیں ہوں گے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اس سلسلے میں متعلقہ سفارتخانوں اور قونصل خانوں کو نئی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ان ہدایات کے مطابق ایسے افراد کو ہی ویزا جاری کیا جا سکے گا جن کے والدین، شوہر یا اہلیہ، بچے، بہو یا داماد یا حقیقی بہن بھائی ہی امریکا میں مقیم ہوں گے اور والدین کے بھائی بہن یا اپنے بھائی بہنوں کے بچے قریبی رشتہ دار تصور نہیں کیے جائیں گے۔امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلم ممالک کے باشندوں پر سفری پابندیوں کے متنازع فیصلے کی حمایت کے بعد امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ریاست میں داخلی راستوں کے تمام پورٹس پر پابندی کے اطلاق کا حکم جاری کردیا۔واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کا صدارتی عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے جس کے ذریعے ایران، سوڈان، شام، لیبیا، صومالیہ اور یمن کے شہریوں پر امریکا میں داخل ہونے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 27 جنوری کے اس فیصلے میں عراق بھی شامل تھا تاہم بعد ازاں امریکی فوج کی یہاں موجودگی کے باعث عراق کو مذکورہ پابندی کی فہرست سے نکال دیا گیا، اس حکم کے ذریعے شام کے مہاجرین کو بھی ملک میں آنے سے روک دیا گیا ہے۔واشنگٹن سے جاری کردہ بیان میںکہا گیا ہے کہ ’قومی سلامتی کو مد نظر رکھتے ہوئے، ڈپارٹمنٹ آف اسٹیٹ ایگزیکٹو آرڈر پر عمل درآمد کا آغاز کررہا ہے، جس کا مقصد قوم کو غیر ملکی دہشت گردوں کے امریکا میں داخلے سے محفوظ کرنا ہے‘۔ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’بحیثیت صدر، میں ایسے لوگوں کو اپنے ملک میں آنے کی اجازت نہیں دوں گا جو ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے ہوں، میں ایسے لوگوں کو چاہتا ہوں جو امریکا اور اس کے تمام شہریوں سے محبت کرتے ہیں، اور جو محنت کرنے والے اور
پیداواری ہوں‘۔محکمہ خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ وہ محکمہ انصاف اور ہوم لینڈ سیکورٹی سے مشاورت کے بعد مزید تفصیلات جاری کریں گے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے امریکا میں قانونی طور پر مقیم افراد کے عزیزوں کو اس پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا ہے جن میں طلبہ بھی شامل ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ اس فیصلے سے کون اور کتنے افراد متاثر ہوں گے۔انسانی حقوق کے رضاکاروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ فیصلہ مہاجرین کی بحالی کے عمل کو متاثر کرسکتا ہے۔امریکا کی کمیٹی برائے مہاجرین اور پناہ گزین کی چیف ایگزیکٹو اور صدر لاوینا لیمون نے ایک جاری بیان میں کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ اس فیصلے نے لوگوں کو مجروح کیا ہے اور اس حوالے سے بہت سی رکاوٹیں موجود ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایسے لوگ بھی تھے جن کا کہنا تھا کہ وہ دو سال کے انتظار کے بعد اگلے ہفتے امریکا سفر کرنے والے تھے اور انھوں نے اپنے تمام اثاثے فروخت کر دیے تھے۔
اس پابندی کو عدالت میں چیلنج کرنے والی امریکن سول لبرٹیز یونین کا کہنا تھا کہ ’مشترکہ تعلقات‘ کی شق ان 6 ممالک کے منظور کردہ ویزا درخواستوں پر بھی لاگو ہوگی۔خیال رہے کہ امریکی سپریم کورٹ نے پیر کو امریکی صدر کی پابندیوں کے قانون کی جزوی بحالی کی منظوری دی تھی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ‘بنیادی طور پر اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ (ایگزیکٹو آرڈر) ان غیرملکیوں پر لاگو نہیں ہوگا جن کا کسی بھی امریکی شخص یا ادارے سے حقیقی تعلق ہے اور ان افراد کے علاوہ دیگر تمام غیر ملکیوں کو اس حکم نامے پر عمل کرنا ہوگا۔’سپریم کورٹ کے ججوں کا کہنا ہے کہ وہ رواں سال اکتوبر میں اس بات کا دوبارہ جائزہ لیں گے کہ آیا صدر ٹرمپ کی اس پالیسی کو جاری رہنا چاہیے یا نہیں۔صدر ٹرمپ کی سفری پابندیوں کے خلاف امریکا بھر میں مظاہرے ہوئے تھے اور جنوری میں صدر ٹرمپ کا ابتدائی حکم نامہ واشنگٹن اور منیسوٹا کی ریاستوں میں منسوخ کر دیا گیا تھا جس کے بعد انھوں نے مارچ میں ایک ترمیم شدہ حکم نامہ جاری کیا جس میں صومالیہ، ایران، شام، سوڈان، لیبیا اور یمن سے لوگوں کا داخلہ ممنوع قرار پایا تھا۔صدر ٹرمپ کے اس حکم نامے میں ان6 مسلم ممالک کے شہریوں پر 90 روز کی سفری پابندی اور پناہ گزینوں پر بھی 120 روزہ پابندی عائد کرنے کو کہا گیا تھا۔ٹرمپ انتظامیہ کا یہ موقف ہے کہ امریکا میں دہشت گردی کو روکنے کے لیے سفری پابندی ضروری ہے۔
دبئی کی ایمریٹس ایئر لائن نے مشرق وسطیٰ کے مسافروں کے لیے نئے سکیورٹی اقدامات کی وجہ سے آئندہ ماہ پانچ امریکی شہروں کے لیے پروازوں کی تعداد کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔امریکا نے 8 مسلمان ملکوں کے10 ایئر پورٹس سے مسافروں پر جبکہ برطانیا نے 6 مسلمان ملکوں کے مسافروں پر دوران پرواز سمارٹ فون سے زیادہ بڑے برقی آلات اپنے ساتھ رکھنے پر پابندی عائد کی ہے۔ایمریٹس ایئر لائن کا کہنا ہے کہ امریکا جانے والے مسافروں کی تعداد میں کمی کی وجہ سے پروازیں کم کی جا رہی ہیں۔
ایمریٹس ایئر لائن کی ایک خاتون ترجمان کا کہنا ہے کہ’ امریکی حکومت کی جانب سے ویزے کے اجراء سیکورٹی میں اضافے اور کیبن میں الیکٹرانکس آلات لانے پر پابندی جیسے حالیہ اقدامات کی وجہ سے صارفین کی امریکی سفر میں دلچسپی اور طلب میں کمی آئی ہے۔’ترجمان کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران تمام امریکی روٹس پر جانے والی پروازوں پر بکنگ میں قابل ذکر کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ایمریٹس کے صدر ٹم کلارک نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ صدر ٹرمپ کے اعلانات کی وجہ سے امریکا جانے والے مسافروں کی تعداد میں ایک تہائی کمی آئی ہے۔ایمریٹس نے امریکا جانے والے مسافروں پر دوران پرواز لیپ ٹاپ کے استعمال پر پابندی سے نمٹنے کے لیے نئی سروسز کا آغاز کیا ہے جس میں پریمیئر سروس کے مسافروں کے لیے ٹیبلٹس کی سہولت اور جہاز کے گیٹ پر الیکٹرانکس آلات کے چیک ان کی سہولت دینا شامل ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں ہی ایمریٹس کی حریف ایئر لائن اتحاد نے کہا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں امریکا جانے والے مسافروں کی تعداد میں قابل ذکر کمی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔اتحاد ایئر امریکا کے چھ شہروں کے لیے پروازیں چلاتی ہے جبکہ ایمریٹس نے 2004 میں امریکا کے لیے پروازوں کا آغاز کیا تھا اور اس وقت 12 امریکی شہروں میں اس کی فلائٹس جاتی ہیں۔ایمریٹس ایئر لائن کو امریکا میں مقامی ایئر لائنز سے تنازع کا سامنا ہے کیونکہ امریکی ایئر لائنز کے مطابق ایمریٹس کو حکومت کی جانب سے سبسڈی ملتی ہے۔


متعلقہ خبریں


دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم وجود - هفته 17 جنوری 2026

دہشت گردی کے ناسور نے پھر سر اٹھا لیا، قومی اتحاد و یکجہتی کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، شہباز شریف خوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ دشمنوں کی پشت پناہی سے فعال ہے، قومی پیغام امن کمیٹی سے ملاقات وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور نے ایک بار پھر ...

دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - هفته 17 جنوری 2026

منصوبے کی فزیکل پیشرفت 65فیصد مکمل ہوچکی ، ملیر ندی پل منصوبہ مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت کے الیکٹرک کو یوٹیلیٹی منتقلی میں تاخیر پر لیٹرز جاری کرنے کی ہدایت، پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کی بریفنگ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر ندی پل منصوبے کو مئی 2026 میں مکمل کرنے کی ہدایت کرد...

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 17 جنوری 2026

ناکام پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشن، کیا ضمانت ہے امن قائم ہو سکے گا،متاثرین سے ملاقات خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپری...

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی وجود - هفته 17 جنوری 2026

اسرائیلی افواج کی بمباری میں القسام بریگیڈز کے ایک سینئر رہنما کو نشانہ بنایا گیا غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا اعلان ،امریکی حکام کی تصدیق جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے باوجود دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے، اسرائیلی افواج کی حال...

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 17 جنوری 2026

ٹاس سہہ پہر ساڑھے 3 بجے ، میچز 4 بجے شروع ہوں گے،جلد باضابطہ اعلان متوقع موسمی شدت کی وجہ سے اوقات تبدیل ،میچز 29 ، 31 جنوری اور یکم فروری کو ہوں گے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے رواں ماہ کے آخر میں آسٹریلیا کے خلاف لاہور میں ہونے والی وائٹ بال سیریز کے اوقات تبدیل کرنے ک...

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی) وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پی ٹی آئی ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزادی عدلیہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے، ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ ،عمران خان کی امانت ہیںہمیں ان کا خیال رکھنا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی نے جو تحریک شروع کی تھی اللہ کرے ہم جلد کامیاب ہوجائیں، بلال محسود کو...

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی)

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

متنازع ٹویٹ کیس میںدونوں وقفہ کے بعد عدالت میں پیش نہ ہوئے عدالت نے ضمانت منسوخ کردی،دونوں ملزمان کا جرح کا حق ختم کر دیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متنازع ٹویٹ کیس میں ضمانت منسوخ ہوگئی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متن...

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور وجود - جمعه 16 جنوری 2026

جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد ان کا مطالبہ پورا ہونیوالا ہے، آئندہ ہفتے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی امید موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000روپے سے کم کرکے 2,500روپے کرنے پر غور کر رہی ہے،ذرائع شہر قائد کے باسی بھاری بھرکم ای چالان کی وجہ سے سخت پریشان ہیں تاہم اب ان کی پریشانی ختم...

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور

پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، حافظ نعیم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پنجاب بیدار ہوگیا، بااختیار بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی عوامی ریفرنڈم کیلئے ہزاروں کیمپ قائم، مردو خواتین کی بڑی تعداد نے رائے کا اظہار کیا امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب بیدار ہوگیا ہے، موثر بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر...

پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، حافظ نعیم

اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب وجود - جمعه 16 جنوری 2026

اسکریپ ڈیلرعمیر ناصر رند کو گرفتار کرلیا،پولیس اہلکارون کی پشت پناہی میں چلنے کا انکشاف ملزم کے قبضے سے 150کلو گرام چوری شدہ کاپر کیبل اور گاڑی برآمد ہوئی ہے، پولیس حکام بن قاسم پولیس نے ایک کارروائی کے دوران اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب کرتے ہوئ...

اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد وجود - جمعه 16 جنوری 2026

2025کے دوران بھارت میں ماورائے عدالت کارروائیوں میں 50مسلمان جان سے گئے امتیازی کارروائیوں میں تشویشناک اضافہ ،عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا عالمی انسانی حقوق کی مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جبر، تشدد اور امتیازی...

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ

مضامین
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں وجود هفته 17 جنوری 2026
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں

ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن وجود هفته 17 جنوری 2026
ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن

مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ وجود جمعه 16 جنوری 2026
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ

اے اہلِ ایتھنز !! وجود جمعه 16 جنوری 2026
اے اہلِ ایتھنز !!

معاوضے پر استعفیٰ وجود جمعه 16 جنوری 2026
معاوضے پر استعفیٰ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر