وجود

... loading ...

وجود

عید پرنئے نوٹوں کی طلب‘ کرنسی ڈیلرز نے لوٹ مار شروع کردی،جعلی کرنسی پھیلنے کی بھی افواہیں

جمعرات 22 جون 2017 عید پرنئے نوٹوں کی طلب‘ کرنسی ڈیلرز نے لوٹ مار شروع کردی،جعلی کرنسی پھیلنے کی بھی افواہیں


عید جوں جوں قریب آتی جارہی ہے شہر میں نئے کرارے کرنسی نوٹوں کی طلب میں اضافہ ہوتاجارہاہے اور جوں جوں نئے کرنسی نوٹوں کی طلب میں اضافہ ہورہا ہے کرنسی ڈیلرز کی لوٹ مار میں بھی اضافہ ہوتاجارہاہے، اگرچہ اس سال اسٹیٹ بینک نے لوگوں کو نئے کرنسی نوٹ جاری کرنے کیلئے ایس ایم ایس سروس شروع کررکھی ہے جو 23 جون تک جاری رہے گی اور جس کے تحت کوئی بھی شخص ایک ایس ایم ایس کرکے 17 ہزار روپے تک مالیت کے نئے کرنسی نوٹ اپنے قریب ترین بینک سے حاصل کرسکتاہے لیکن لوگوں کی عدم واقفیت ،ناخواندگی اور سہل پسندی کی وجہ سے اسٹیٹ بینک کی اس سہولت سے صرف ایک خاص طبقہ ہی فائدہ اٹھا سکاہے اور اٹھارہاہے جبکہ عام آدمی ہمیشہ کی طرح نئے کرارے نوٹوں کی تلاش میں کرنسی ڈیلرز کے چکر لگانے اور نئے نوٹوں کے حصول کیلئے ان کو بھاری کمیشن دینے پر مجبور ہیں ۔
اسٹیٹ بینک نے اس سال عید پر نئے نوٹوں کی طلب پوری کرنے کیلئے 25 جون تک بینکوں کی 122 ای برانچز کے ذریعے لوگوں کو کم وبیش 40 ارب روپے مالیت کے نئے کرنسی نوٹ جاری کرنے کا ہدف مقرر کیاہے تاکہ لوگوں کو عیدی تقسیم کرنے میں کسی طرح کی مشکل پیش نہ آئے لیکن اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایس ایم ایس کے ذریعے نئے نوٹوں کی فراہمی کی اس فراخدلانہ کوشش کے باوجود شہریوں کی نئے نوٹوں کی طلب میں بظاہر کوئی کمی نظر نہیں آرہی اور کرنسی ڈیلر جن کے بقول کرنسی ڈیلرز کے اسٹیٹ بینک کے متعلقہ حکام کے ساتھ خصوصی تعلقات اور لین دین ہے بدستور من مانے کمیشن پر نئے کرنسی نوٹ فروخت کررہے ہیں۔
شہر کے مختلف علاقوں کا سروے کرنے سے یہ اندازہ ہوا کہ نئے کرنسی نوٹوں کاکاروبار کرنے والے کرنسی ڈیلر ز 10,20,50 اور100 روپے مالیت کے نئے نوٹوں کی گڈیاں 10 سے 15 فیصد زیادہ پر فروخت کررہے ہیں ،جبکہ عیدجوں جوں قریب آرہی ہے اور نئے نوٹوں کی طلب میں اضافہ ہورہا ہے کرنسی نوٹوں کے ڈیلرز اپنے کمیشن میں بھی اضافہ کرتے جارہے ہیں اور بعض علاقوں میں یہ کمیشن 20 فیصد سے بھی اوپر تک جاپہنچاہے۔
یہ دوسرا موقع ہے جب اسٹیٹ بینک پاکستان نے لوگوں کو نئے نوٹوں کی فراہمی کیلئے ایس ایم ایس سروس شروع کی ہے،اسٹیٹ بینک نے ایس ایم ایس کے ذریعے نئے نوٹوں کی فراہمی کی یہ سروس 12 جون سے شروع کی ہے جو اسٹیٹ بینک کے اعلان کے مطابق 23 جون تک جاری رہے گی اور اس کے تحت 25 جون تک لوگوں کو نئے نوٹوںکی فراہمی کاسلسلہ جاری رہے گا ،اس سروس کے تحت کوئی بھی شخص 8877 پر اپنے شناختی کارڈ یعنی سی این آئی سی نمبر کے ساتھ اپنی مطلوبہ برانچ کے کوڈکے ساتھ ایس ایم ایس کرنے سے اسٹیٹ بینک کی جانب سے آپ کو پیغام مل جاتاہے اگر مطلوبہ برانچ کی کرنسی نوٹ جاری کرنے کی حد پوری ہوچکی ہوتی ہے تو آپ سے کسی اور برانچ کانام دینے کو کہا جاتاہے،اسٹیٹ بینک کایہ بھی دعویٰ ہے کہ اس ایس ایم سروس کے علاوہ مختلف بینک اپنے طورپر بھی اپنے کھاتیداروں کو اپنی برانچز اور اے ٹی ایمز کے ذریعے نئے نوٹ فراہم کررہے ہیں لیکن عملاً ایسا نہیں ہورہاہے اور کسی بھی بینک کسی بھی برانچ سے عام کھاتیدار کو نئے نوٹ جاری نہیں کئے جارہے ہیں اور بینک منیجر اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ کوڈ کے بغیر نئے کرنسی نوٹ جاری کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کادعویٰ ہے کہ اب تک 16 لاکھ سے زیادہ لوگ ایس ایم ایس کے ذریعے نئے نوٹوں کی بکنگ کراچکے ہیں اور ان میں سے 50 فیصد سے زیادہ افراد کو نئے نوٹ جاری کئے جاچکے ہیں۔جبکہ بینک کے کھاتیداروں کاکہناہے کہ بینک منیجر اورعملے کے ارکان نئے نوٹ طلب کرنے والوں کے ساتھ انتہائی درشت رویہ اختیار کرتے ہیں اور ایسا معلوم ہوتاہے کہ کھاتیدار ان سے نئے کرنسی نوٹ بھیک کے طورپر مانگ رہاہو۔جس کی وجہ سے عام آدمی کرنسی ڈیلرز کے پاس جانے اور ان کو منہ مانگا کمیشن دینے پر مجبور ہوجاتاہے۔
اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ نئے اور پرانے نوٹوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا دونوں کی مالیت ایک ہی ہوتی ہے اس لئے عید پر نئے کرنسی نوٹوں پر اصرار بچکانہ سی بات ہے لیکن عید پر عیدی میں نئے کرنسی نوٹ دینا ہماری روایت بن چکی ہے اس لئے پرانے کرنسی نوٹ لیتے ہوئے بھی لوگ اتنی خوشی کااظہار نہیں کرتے جتنا نئے نوٹ ملنے کی صورت میں کرتے ہیں اس کے علاوہ بچے تو پرانے نوٹوں میں دی گئی عیدی کو تو عیدی تصور ہی نہیں کرتے۔
عید پر نئے کرنسی نوٹوں کی طلب میں اضافے کے ساتھ ہی یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی نوٹوں کا کاروبار کرنے والے فعال ہوگئے ہیں اور انھوں نے کروڑوں روپے مالیت کے جعلی 100,500 اور ایک ہزار کے نوٹ مارکیٹ میں پھیلانا شروع کردیئے ہیں،کہاجاتاہے کہ یہ نوٹ افغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوںمیں چھاپ کر پاکستان کے بڑے شہروں میں اسمگل کئے جاتے ہیںجہاں سے یہ کرنسی مبینہ طورپرجعلی کرنسی کاکاروبار کرنے والے کارندے یہ جعلی کرنسی شہر کے پسماندہ نواحی علاقوں اوردیہی علاقوں میں پہنچادیتے ہیں جہاں کم علمی اور وسائل کی کمی کے سبب اصلی اور نقلی نوٹ میں تمیز کرنا مشکل ہوجاتاہے اور غریب دیہاتی اور نواحی علاقوں کے ناخوانداہ اور نیم خواندہ لوگ ان کاشکار بن جاتے ہیں ،کہاجاتاہے کہ جعلی کرنسی پھیلانے والے لوگ کرنسی ڈیلرز اور اپنے کارندوں کومبینہ طورپر یہ جعلی کرنسی نصف قیمت پر فراہم کرتے ہیں اس طرح جعلی کرنسی چلانے میں کامیاب ہوجانے کی صورت میںمتعلقہ شخص کو 50 فیصد منافع ہوتاہے اور اسی لالچ میں بہت سے لوگ جعلی کرنسی کاکاروبار کرنے والوں کا آلہ کار بن جاتے ہیں۔
شہروں میں جعلی کرنسی پھیلائے جانے کے حوالے سے ان افواہوں میں کس حد تک صداقت ہے اس کااندازہ لگانا مشکل ہے تاہم ابھی تک اسٹیٹ بینک یا مقامی بینکوں کی جانب سے اس حوالے سے کوئی انتباہ جاری نہیں کیاگیاہے اور شہریوں کو اس خطرے سے آگاہ کرنے کیلئے کسی طرح کی کوئی مہم شروع نہیں کی گئی ہے جس سے اندازہ ہوتاہے کہ اگرچہ موجودہ حالات میں جعلی نوٹ پھیلائے جانے کے خدشات موجود ہیں لیکن ابھی تک منظم انداز میں اس طرح کی کسی کوشش کا پتہ نہیں چلایاجاسکاہے۔


متعلقہ خبریں


ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان وجود - پیر 02 مارچ 2026

سپریم لیڈرکی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ، علی شمخانی اور کمانڈر پاکپور کی شہادت کی تصدیق ، سات روز کیلئے چھٹی ، چالیس روزہ سوگ کا اعلان،مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئیں مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، ویڈیو جاری ،کئی افراد غ...

ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای شہید،تباہ کن کارروائی جلد شروع ہوگی،صدر کا بدلہ لینے کا اعلان

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی وجود - پیر 02 مارچ 2026

مائی کلاچی روڈ پر واقع امریکی قونصل خانے پر احتجاجی مظاہرہ ،مرکزی دروازے کی توڑ پھوڑ،نمائش چورنگی، عباس ٹائون اور ٹاور پر مظاہرین بڑی تعداد میں جمع ،سڑکوں پر نعرے بازی پولیس نے امریکی قونصل خانے کے باہر موجود احتجاجی مظاہرین کو منتشر کر دیا گیا اب حالات قابو میں ہیں، کسی کو بھی ...

خامنہ ای کی شہادت ،کراچی میں مظاہرین کی امریکی قونصلیٹ میں داخلے کی کوشش،جھڑپوں میں 10 افراد جاں بحق، 40 زخمی

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم وجود - پیر 02 مارچ 2026

پاکستان عالمی قوانین کی خلاف ورزی پر اظہارِ تشویش کرتا ہے،شہباز شریف کی مذمت غم کی اس گھڑی میں ایرانی بہن بھائیوں کیساتھ ہیں،خامنہ ای کی شہادت پر غم کا اظہار وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر اظہار افسو...

ریاستوں کے سربراہوں کو نشانہ نہیں بنایا جاتا، وزیراعظم

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ وجود - پیر 02 مارچ 2026

خشکی اور سمندر تیزی سے دہشت گرد جارحین کا قبرستان بن جائیں گے، امریکا کا خلیج عمان میں ایرانی جہاز ڈبونے کا دعویٰ ابراہم لنکن کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا،دشمن فوج پرایران کے طاقتور حملے نئے مرحلے میں داخل ہوگئے، پاسداران انقلاب ایران نے بڑا وار کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے می...

ایران کا بڑا وار،امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے وجود - اتوار 01 مارچ 2026

  ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اور امریکا کے حملوں کے جواب میں خطے میں موجود امریکا کے 14 اڈوں کو نشانہ بنایا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی پاسداران انقلاب کے ترجمان نے بتایا کہ ایران کے ان حملوں میں سیکڑوں امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ترجمان پاسدار...

وعدۂ صادق 4؛ 14 اڈوں پر حملوں میںامریکا کے سیکڑوں فوجی مارے گئے

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا وجود - اتوار 01 مارچ 2026

ایران کے دوست مودی کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا رجیم تبدیلی کیلئے ایران پر کئی ہفتوں تک بمباری کرنا ہوگی، بھارت کا مشورہ ایران کے نام نہاد دوست بھارت کا مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گھناؤنا کردار سامنے آ گیا۔بھارت امریکا اور اسرائیل کو ایران کی...

مودی امریکا، اسرائیل کو ایران کی تباہی کے مشورے دینے لگا

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب) وجود - اتوار 01 مارچ 2026

فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا سرمایہ کار پاکستان سے بھاگ رہے ہیں، معاشی بہتری کے دعوؤں کی دھجیاں اڑگئیں شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس ، فروری 2026 پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ کا سب سے تباہ کن مہینہ بن گیا، ڈھائی ہزار ارب روپے ...

شہباز شریف کا معاشی بیانیہ زمین بوس( ڈھائی ہزار ارب مارکیٹ سے غائب)

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم وجود - اتوار 01 مارچ 2026

خطے کو جنگ کی لپیٹ میں دھکیلا جا رہا ہے، امریکا کی پالیسی جنگ، خونریزی ،تباہی کے سوا کچھ نہیں ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہاد بورڈ آف پیس درحقیقت بورڈ آف وار ہے، امیر جماعت کا ایکس پر بیان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا مل کر ایران پر ح...

امریکا، اسرائیل کا ایران پر حملہ کھلی دہشت گردی ، حافظ نعیم

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج وجود - هفته 28 فروری 2026

400 طالبان زخمی، پاک فوج نے 115 ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں اور 73 افغان چیک پوسٹیں تباہ کردیں،18 ہمارے قبضے میں ہیں، افغان چیک پوسٹوں پر سفید جھنڈے لہرا دیے گئے ذلت آمیز شکست کے بعد طالبان کا سول آبادی پر حملہ ،فتنۃ الخوارج کی ایبٹ آباد، صوابی اور نوشہرہ میں چھوٹے ڈرونز سے حملہ...

آپریشن غضب للحق ،274 طالبان ہلاک،12 جوان شہید،ترجمان پاک فوج

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت وجود - هفته 28 فروری 2026

افغانستان کی طالبان رجیم پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ کر مذاکرات کی باتیں کرنی لگی(ذبیح اللّٰہ مجاہد کی نیوز کانفرنس) نگران وزیر خارجہ مولوی امیر متقیکا قطری وزیر مملکت برائے خارجہ امور سے ٹیلی فونک رابطہ کابل حکومت پاکستان کیساتھ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کی خواہاں ،افغان سرزمین کس...

افغانستان کی طرف سے مذاکرات کا عندیہ، تنازع کا حل مذاکرات میں ہی ہے،ترجمان طالبان حکومت

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

مضامین
ہمارے بچے مت مارو !! وجود پیر 02 مارچ 2026
ہمارے بچے مت مارو !!

طاقت کی خواہش ذہنی بیماری ہے! وجود پیر 02 مارچ 2026
طاقت کی خواہش ذہنی بیماری ہے!

ایران پر امریکہ و اسرائیلی حملہ وجود پیر 02 مارچ 2026
ایران پر امریکہ و اسرائیلی حملہ

بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں وجود هفته 28 فروری 2026
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں

گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر