وجود

... loading ...

وجود

مقامی سرمایہ کاروں کا چینی کمپنیوں پر حکومت کی خاص مہربانی کا شکوہ

جمعه 16 جون 2017 مقامی سرمایہ کاروں کا چینی کمپنیوں پر حکومت کی خاص مہربانی کا شکوہ

پاکستان میں پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک)، جو چین کے ’ایک سڑک، ایک خطہ‘ منصوبے کا ایک اہم جزو ہے، پر کام کرنے والی چینی کمپنیوں سے کیے جانے والے معاہدوں پر حکومت کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور چینی کمپنیوں کو کسی ٹینڈر اور مقابلے کے بغیر بہت زیادہ شرح پر ٹھیکے دینے اور مختلف منصوبوں پر مقامی سرمایہ کاروں کی جانب سے کم شرح پر کام کرنے کی پیشکش کے باوجود زیادہ شرح پر ٹھیکے دینے کے الزامات عاید کئے جارہے ہیں ،اس کے ساتھ یہ یہ خیال کیا جارہا ہے کہ اس منصوبے کو تیزی سے مکمل کرنے میں پاکستان کا زیادہ پیسہ خرچ ہوگا۔ پاکستان میں پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک)، جو چین کے ’ایک سڑک، ایک خطہ‘ منصوبے کا ایک اہم جزو ہے، پر کام کرنے والی چینی کمپنیوں سے کیے جانے والے معاہدوں پر حکومت کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور چینی کمپنیوں کو کسی ٹینڈر اور مقابلے کے بغیر بہت زیادہ شرح پر ٹھیکے دینے اور مختلف منصوبوں پر مقامی سرمایہ کاروں کی جانب سے کم شرح پر کام کرنے کی پیشکش کے باوجود زیادہ شرح پر ٹھیکے دینے کے الزامات عاید کئے جارہے ہیں ،اس کے ساتھ یہ یہ خیال کیا جارہا ہے کہ اس منصوبے کو تیزی سے مکمل کرنے میں پاکستان کا زیادہ پیسہ خرچ ہوگا۔

دوسری جانب چینی حکومت کی جانب سے سرکاری فنڈنگ کرنے والے بینکوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ سلک روڈ منصوبے پر کام کرنے والی چینی کمپنیوں کو قرض فراہم کریں۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چائنا ڈیولپمنٹ بینک (سی ڈی بی) اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف چائنا (ای ایکس آئی ایم) کے 2 عہدیداروں نے بتایا کہ وہ پاکستان اور اس خطے میں ’ایک سڑک، ایک خطہ‘ منصوبے پر کام کرنے والی چینی کمپنیوں کو قرض دینے کے سلسلے میں ترجیح دے رہے ہیں جو چین سے خام مال یا دیگر سازو سامان کی درآمد کرتے ہیں۔ دوسری جانب چینی حکومت کی جانب سے سرکاری فنڈنگ کرنے والے بینکوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ سلک روڈ منصوبے پر کام کرنے والی چینی کمپنیوں کو قرض فراہم کریں۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چائنا ڈیولپمنٹ بینک (سی ڈی بی) اور ایکسپورٹ امپورٹ بینک آف چائنا (ای ایکس آئی ایم) کے 2 عہدیداروں نے بتایا کہ وہ پاکستان اور اس خطے میں ’ایک سڑک، ایک خطہ‘ منصوبے پر کام کرنے والی چینی کمپنیوں کو قرض دینے کے سلسلے میں ترجیح دے رہے ہیں جو چین سے خام مال یا دیگر سازو سامان کی درآمد کرتے ہیں۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی کمپنی ’جنرل الیکٹرک‘، چینی کمپنی ’اسٹیٹ گرڈ‘ سے 25 فیصد کم لاگت میں ٹرانسمیشن لائنیں بچھانے کے لیے تیار تھی جبکہ اس معاہدے کے لیے پاکستان نے چینی کمپنی کو زیادہ رقم ادا کی ہے۔

پاکستان میں پاور مینجمنٹ کے آزاد ادارے نیشنل الیکٹرک پاور اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ چینی کمپنی ‘اسٹیٹ گرڈ’ کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے جبکہ اسی منصوبے میں دیگر کمپنیوں سے کیے جانے والے معاہدوں میں یہ پیشکش شامل نہیں تھی،تاہم پاکستانی حکومتی عہدیداروں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔دوسری جانب ٹرانسمیشن لائنیں بچھانے والی ‘اسٹیٹ گرڈ’ کی ذیلی کمپنی چائنا الیکٹرک پاور ٹیکنالوجیز کمپنی لمیٹڈ (سی ای ٹی) کا کہنا ہے کہ جس قیمت کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ مناسب ہے۔پاکستان نیشنل ٹرانسمیشن اور ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے منیجنگ ڈائریکٹر نے اسٹیٹ گرڈ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک بہت ہی مناسب قیمت ہے‘۔ پاکستان میں پاور مینجمنٹ کے آزاد ادارے نیشنل الیکٹرک پاور اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ چینی کمپنی ‘اسٹیٹ گرڈ’ کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے جبکہ اسی منصوبے میں دیگر کمپنیوں سے کیے جانے والے معاہدوں میں یہ پیشکش شامل نہیں تھی،تاہم پاکستانی حکومتی عہدیداروں نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔دوسری جانب ٹرانسمیشن لائنیں بچھانے والی ‘اسٹیٹ گرڈ’ کی ذیلی کمپنی چائنا الیکٹرک پاور ٹیکنالوجیز کمپنی لمیٹڈ (سی ای ٹی) کا کہنا ہے کہ جس قیمت کا مطالبہ کیا گیا ہے وہ مناسب ہے۔پاکستان نیشنل ٹرانسمیشن اور ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کے منیجنگ ڈائریکٹر نے اسٹیٹ گرڈ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک بہت ہی مناسب قیمت ہے‘۔

پاکستان میں بجلی کے منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے والی چین کی ایک اعلیٰ کمپنی کے سربراہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کا مقصد منافع حاصل کرنا نہیں بلکہ وہاں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔سرکاری خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) نے چینی نیوز ایجنسی شنہوا کے حوالے سے اپنی خبر میں بتایا کہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے میں اہم اسٹیک ہولڈر کی حیثیت میں شامل چائنا پاور انٹرنیشنل کے چیئرمین وانگ بنگ ہوا کا کہنا ہے کہ ‘ہم پاکستان میں اپنے آلات کی تنصیب  فائدہ حاصل کرنے نہیں بلکہ پائیدار ترقی اور تباہ ہوتی مقامی صنعت کو مستحکم کرنے کے لیے آ رہے ہیں۔چائنا پاور انٹرنیشنل کے چیئرمین نے یہ بات بلوچستان کے علاقے حب میں کوئلے پر چلنے والے پاور پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے دوران کہی۔خیال رہے کہ یہ پلانٹ 2 ارب ڈالر کی لاگت سے تیار ہوگا، اس میں بنگ ہوا کی پاور کمپنی اور پاکستان کی حب پاور کمپنی شراکت دار ہے جبکہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس پاورپلانٹ سے اگست 2019 تک بجلی پیدا ہونا شروع ہو جائے گی۔چائنا پاور انٹرنیشنل کمپنی کے چیئرمین نے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں وعدہ کیا کہ منصوبے میں پاکستان کے گریجویٹ افراد کو تربیت اور روزگار فراہم کیا جائے گا، جب کہ یہاں سے تربیت حاصل کرنے والے افراد اگر کسی اور جگہ کام کرنا چاہیں گے تو بھی انہیں موقع فراہم کیا جائے گا۔ان کے مطابق حب میں بننے والا بجلی گھر سالانہ 9 ارب کلو واٹ آور (kWh) بجلی پیدا کر سکے گا، جب کہ پلانٹ لگنے سے 10 ہزار مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔وانگ بنگ ہوا نے بتایا کہ ہم پاکستانی لوگوں کے خدشات دور کرنے کے لیے اپنے گروپ میں زیادہ سے زیادہ مقامی افراد کو شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنی حب پاور پلانٹ پر سیفٹی، قابل اعتماد آپریشنل سسٹم، دوستانہ ماحول، معاشی استحکام اور معیار کو مدنظر رکھ کر کام کرے گی، جب کہ منصوبہ بلوچستان اور مقامی افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ پاکستان میں بجلی کے منصوبے میں سرمایہ کاری کرنے والی چین کی ایک اعلیٰ کمپنی کے سربراہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کا مقصد منافع حاصل کرنا نہیں بلکہ وہاں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔سرکاری خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) نے چینی نیوز ایجنسی شنہوا کے حوالے سے اپنی خبر میں بتایا کہ پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے میں اہم اسٹیک ہولڈر کی حیثیت میں شامل چائنا پاور انٹرنیشنل کے چیئرمین وانگ بنگ ہوا کا کہنا ہے کہ ‘ہم پاکستان میں اپنے آلات کی تنصیب  فائدہ حاصل کرنے نہیں بلکہ پائیدار ترقی اور تباہ ہوتی مقامی صنعت کو مستحکم کرنے کے لیے آ رہے ہیں۔چائنا پاور انٹرنیشنل کے چیئرمین نے یہ بات بلوچستان کے علاقے حب میں کوئلے پر چلنے والے پاور پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے دوران کہی۔خیال رہے کہ یہ پلانٹ 2 ارب ڈالر کی لاگت سے تیار ہوگا، اس میں بنگ ہوا کی پاور کمپنی اور پاکستان کی حب پاور کمپنی شراکت دار ہے جبکہ خیال کیا جا رہا ہے کہ اس پاورپلانٹ سے اگست 2019 تک بجلی پیدا ہونا شروع ہو جائے گی۔چائنا پاور انٹرنیشنل کمپنی کے چیئرمین نے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں وعدہ کیا کہ منصوبے میں پاکستان کے گریجویٹ افراد کو تربیت اور روزگار فراہم کیا جائے گا، جب کہ یہاں سے تربیت حاصل کرنے والے افراد اگر کسی اور جگہ کام کرنا چاہیں گے تو بھی انہیں موقع فراہم کیا جائے گا۔ان کے مطابق حب میں بننے والا بجلی گھر سالانہ 9 ارب کلو واٹ آور (kWh) بجلی پیدا کر سکے گا، جب کہ پلانٹ لگنے سے 10 ہزار مقامی افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔وانگ بنگ ہوا نے بتایا کہ ہم پاکستانی لوگوں کے خدشات دور کرنے کے لیے اپنے گروپ میں زیادہ سے زیادہ مقامی افراد کو شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنی حب پاور پلانٹ پر سیفٹی، قابل اعتماد آپریشنل سسٹم، دوستانہ ماحول، معاشی استحکام اور معیار کو مدنظر رکھ کر کام کرے گی، جب کہ منصوبہ بلوچستان اور مقامی افراد کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

وانگ بنگ ہوا نے بتایا کہ ان کی کمپنی پاور پلانٹ کے قریب ہی سیمنٹ فیکٹری لگانے کا اردہ رکھتی ہے، تاکہ پاور پلانٹ میں جمع ہونے والے کچرے کو بھی قابل استعمال بنایا جاسکے۔ وانگ بنگ ہوا نے بتایا کہ ان کی کمپنی پاور پلانٹ کے قریب ہی سیمنٹ فیکٹری لگانے کا اردہ رکھتی ہے، تاکہ پاور پلانٹ میں جمع ہونے والے کچرے کو بھی قابل استعمال بنایا جاسکے۔

دوسری جانب چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چن ینگ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے شفاف ہیں جو پاکستان اور چین کے دوطرفہ تعلقات اور علاقائی ترقی کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں چینی کمپنیوں کی برتری جاری رہے گی جبکہ ’ایک سڑک، ایک خطہ‘ منصوبے کے تحت دونوں ملک 57 ارب ڈالرز کی لاگت سے پاکستان میں پاور پلانٹس، بندرگاہیں، ریلوے لائنیں اور سڑکیں بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

گذشتہ ماہ بیلٹ اینڈ روڈ کانفرنس کے دوران چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کو مزید تیز کیا جائے گا۔ان حکومتی معاہدوں کے تحت مٹیاری سے لاہور تک 878 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائنیں بچھائی جائیں گی۔پاکستانی حکام کے مطابق ان معاہدوں کی نیلامی کے دوران باقاعدہ مقابلہ سامنے نہیں اآیا اسی لیے گذشتہ برس دسمبر میں یہ منصوبہ چینی کمپنی کے سپرد کردیا گیا۔دوسری جانب حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ چینی کمپنی سے 2016 میں جب مذاکرات ناکام ہوئے تھے تو جنرل الیکٹرک، سیمنز اور سوئٹزرلینڈ کی اے بی بی کی جانب سے رابطہ کیا گیا تھا۔واپڈا کے سابق سربراہ محمد یونس ڈھاگا نے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے گذشتہ برس اگست میں پیرس پاور کانفرنس کے دوران علیحدہ ملاقات کی تھی جہاں انہوں نے ان ٹرانسمیشن لائنوں کے معاہدے کے بارے میں غیر رسمی بات چیت کی تھی۔نیپرا کی دستاویزات  کے مطابق جنرل الیکٹرک نے ابتدا میں کنورٹر اسٹیشنز کے لیے اسٹیٹ گرڈ کے ایک ارب 26 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 80 کروڑ ڈالر کا تخمیہ دیا تھا۔واپڈا کے سابق سربراہ کے مطابق جب یورپی کمپنیوں سے کہا گیا کہ وہ منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے اسٹیٹ گرڈ کی ٹائم لائن کو میچ کریں تو ان کمپنیوں کا کہنا تھا کہ اتنے کم عرصے میں ان منصوبوں کا مکمل ہونا ناممکن ہے۔ گذشتہ ماہ بیلٹ اینڈ روڈ کانفرنس کے دوران چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کو مزید تیز کیا جائے گا۔ان حکومتی معاہدوں کے تحت مٹیاری سے لاہور تک 878 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائنیں بچھائی جائیں گی۔پاکستانی حکام کے مطابق ان معاہدوں کی نیلامی کے دوران باقاعدہ مقابلہ سامنے نہیں اآیا اسی لیے گذشتہ برس دسمبر میں یہ منصوبہ چینی کمپنی کے سپرد کردیا گیا۔دوسری جانب حکام کا یہ بھی کہنا تھا کہ چینی کمپنی سے 2016 میں جب مذاکرات ناکام ہوئے تھے تو جنرل الیکٹرک، سیمنز اور سوئٹزرلینڈ کی اے بی بی کی جانب سے رابطہ کیا گیا تھا۔واپڈا کے سابق سربراہ محمد یونس ڈھاگا نے رائٹرز کو بتایا کہ انہوں نے گذشتہ برس اگست میں پیرس پاور کانفرنس کے دوران علیحدہ ملاقات کی تھی جہاں انہوں نے ان ٹرانسمیشن لائنوں کے معاہدے کے بارے میں غیر رسمی بات چیت کی تھی۔نیپرا کی دستاویزات  کے مطابق جنرل الیکٹرک نے ابتدا میں کنورٹر اسٹیشنز کے لیے اسٹیٹ گرڈ کے ایک ارب 26 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں 80 کروڑ ڈالر کا تخمیہ دیا تھا۔واپڈا کے سابق سربراہ کے مطابق جب یورپی کمپنیوں سے کہا گیا کہ وہ منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے اسٹیٹ گرڈ کی ٹائم لائن کو میچ کریں تو ان کمپنیوں کا کہنا تھا کہ اتنے کم عرصے میں ان منصوبوں کا مکمل ہونا ناممکن ہے۔

دوسری جانب حکومتی اور نیپرا کے عہدیداروں نے بتایا کہ پاکستان پر مقامی سطح پر ان منصوبوں کو تیز کرنے کا دباؤ ہے۔نیپرا عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے اسٹیٹ گرڈ کی قیمتوں کو منظور کرنے کا دباؤ ڈالا جارہا ہے اور متنبہ کیا جارہا ہے کہ چینی معاہدے سے الگ ہوکر دستبردار ہو سکتے ہیں۔تاہم حکومت کی جانب سے نیپرا کے دعوؤں پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا گیا کہ نیپرا کی وجہ سے ماضی میں بھی ان منصوبوں کی رفتار میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔اس معاملے پر نیپرا حکام کا کہنا تھا کہ حکومت نے اسٹیٹ گرڈ کو معاہدے میں ا?سانی پیدا کرتے ہوئے ٹیرف پر وِد ہولڈنگ ٹیکس میں 7.5 فیصد تک کمی کردی ہے، جو یہ کمپنی 25 سال تک صارفین سے وصول کرے گی۔تاہم وفاقی حکومت اور این ٹی ڈی سی کی جانب سے وِد ہولڈنگ ٹیکس کے خاتمے کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔دوسری جانب وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف نے پاکستان کی جانب سے بجلی کے بنیادی ڈھانچوں کے لیے چینی کمپنیوں کو ترجیح دینے یا زیادہ ادائیگیوں کے الزامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ، ‘اس نتیجے کو تھوڑا سا غلط یا مبالغہ آرائی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے’۔وزارت پانی و بجلی کے ایک سابق عہدیدار اشفاق محمود کے مطابق بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی پاکستانی ضرورت نے اس کے بڑے پڑوسی (چین) پر مخصوص انحصار کو ناگزیر بنایا دیا ہے۔ان کا کہنا تھا، ‘یہ چینیوں کے لیے ایک موقع ہے اور ہم ان کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے’۔ دوسری جانب حکومتی اور نیپرا کے عہدیداروں نے بتایا کہ پاکستان پر مقامی سطح پر ان منصوبوں کو تیز کرنے کا دباؤ ہے۔نیپرا عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے اسٹیٹ گرڈ کی قیمتوں کو منظور کرنے کا دباؤ ڈالا جارہا ہے اور متنبہ کیا جارہا ہے کہ چینی معاہدے سے الگ ہوکر دستبردار ہو سکتے ہیں۔تاہم حکومت کی جانب سے نیپرا کے دعوؤں پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا گیا کہ نیپرا کی وجہ سے ماضی میں بھی ان منصوبوں کی رفتار میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔اس معاملے پر نیپرا حکام کا کہنا تھا کہ حکومت نے اسٹیٹ گرڈ کو معاہدے میں ا?سانی پیدا کرتے ہوئے ٹیرف پر وِد ہولڈنگ ٹیکس میں 7.5 فیصد تک کمی کردی ہے، جو یہ کمپنی 25 سال تک صارفین سے وصول کرے گی۔تاہم وفاقی حکومت اور این ٹی ڈی سی کی جانب سے وِد ہولڈنگ ٹیکس کے خاتمے کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔دوسری جانب وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف نے پاکستان کی جانب سے بجلی کے بنیادی ڈھانچوں کے لیے چینی کمپنیوں کو ترجیح دینے یا زیادہ ادائیگیوں کے الزامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ، ‘اس نتیجے کو تھوڑا سا غلط یا مبالغہ آرائی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے’۔وزارت پانی و بجلی کے ایک سابق عہدیدار اشفاق محمود کے مطابق بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی پاکستانی ضرورت نے اس کے بڑے پڑوسی (چین) پر مخصوص انحصار کو ناگزیر بنایا دیا ہے۔ان کا کہنا تھا، ‘یہ چینیوں کے لیے ایک موقع ہے اور ہم ان کو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے’۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر