وجود

... loading ...

وجود

بجٹ میں بعض اہم شعبے قطعی نظر انداز ماحولیاتی تبدیلی کے لیے مختص رقم اونٹ کے منہ میں زیرہ

هفته 03 جون 2017 بجٹ میں بعض اہم شعبے قطعی نظر انداز ماحولیاتی تبدیلی کے لیے مختص رقم اونٹ کے منہ میں زیرہ


وزیر خزانہ نے گزشتہ دنوں نئے مالی سال کا بجٹ پیش کرتے ہوئے اور اس کے بعد بعد از بجٹ پریس کانفرنس کے دوران پورا زور یہ ثابت کرنے پر لگانے کی کوشش کی کہ موجودہ حالات اور وسائل میں اس سے بہتر بجٹ پیش نہیں کیاجاسکے گا، انہوںنے اپنے تیار کردہ بجٹ کو ہر اعتبار سے موزوں قرا ر دیتے ہوئے یہ بھی ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ اس بجٹ میں کسی شعبے کو نظر انداز نہیں کیاگیاہے ، لیکن بجٹ کا بغور جائزہ لیا جائے تو وزیر خزانہ کے یہ دعوے کھوکھلے اور غلط نظر آتے ہیں جس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ بجٹ میں بعض شعبوں کے لیے جو ملک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے اہمیت رکھتے ہیں، بہت ہی کم یعنی نہ ہونے کے برابر رقم رکھی گئی ہے،مثال کے طور پر کلائمیٹ چینج یعنی ماحول یاموسم کی تبدیلی کا شعبہ، پوری دنیا اس وقت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مربوط اور بھرپور اقدام کررہی ہے۔ بڑی طاقتوں خاص طورپر صنعتی ممالک کے درمیان اس مسئلے پر کئی معاہدے ہوچکے ہیں جبکہ امریکا کی جانب سے اس حوالے سے معاہدے پر پوری طرح عملدرآمد کی شکایت کی وجہ سے امریکا اور دیگر مغربی ممالک کے درمیان تعلقات میں دراڑیں پڑ رہی ہیں، دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی آلودگی کی تباہ کاریوں سے دوچار ہے ۔آلودگی میں بڑھتے ہوئے اضافے کی وجہ سے نت نئی بیماریاں اس غریب اور کم وسیلہ ملک کے عوام پر اپنی گرفت مضبوط کرتی نظر آرہی ہیں، لیکن ہمارے وزیر خزانہ نے اس اہم محکمے کے لیے بجٹ میں صرف 815 ملین روپے مختص کیے ہیں،اس رقم میں سے 764 ملین روپے آلودگی پر کنٹرول کے حوالے سے زیر تکمیل منصوبوں یا اسکیموں کی تکمیل پر خرچ کیے جائیں گے جبکہ اس کے بعد اس حوالے سے نئی اسکیمیں شروع کرنے کے لیے محکمے کے پاس صرف 51 ملین روپے رہ جائیں گے۔ان نئی اسکیموں کے لیے ملک میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے اسلام آباد کے چڑیاگھر، جو بوٹانیکل گارڈن بھی ہے، میں جانوروں کے تحفظ اور قیمتی جڑی بوٹیوں کی افزائش کے لیے چاردیواری تعمیر کرنے کی اسکیم کے علاوہ پورے پاکستان میں معدومیت کے خطرے سے دوچار جنگلی حیات اور نادر جڑی بوٹیوں کی افزائش کی اسکیم شامل ہے۔منصوبے کے مطابق ان دونوں منصوبوں پر بالترتیب 15 اور36 ملین روپے خرچ کیے جائیں گے۔
ماحول سے آلودگی میں کمی اور فضا میں آلودگی میں اضافے کوروکنے کے لیے زیر تکمیل منصوبوں میں، جن کی تکمیل کے لیے 764 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں کلائمیٹ چینج اور پائیدار ترقی کے لیے ایک جیو میٹرک سینٹر کاقیام ،گرین پاکستان پروگرام،پاکستان میں جنگلات میں اضافہ،پاکستان میں جنگلی حیات کی افزائش اور زمینوں کو بنجر ہونے سے بچانے کے پروگرام اور اسکیمیں شامل ہیں۔
دوسرا اہم شعبہ جس کووزیرخزانہ نے نظر انداز کرتے ہوئے اس کیلئے انتہائی کم رقم مختص کی ہے نارکوٹکس کنٹرول یعنی منشیات کی روک تھام کاشعبہ ہے ،وزیر خزانہ نے اس محکمے کے لیے مجموعی طورپر 220 ملین روپے مختص کیے ہیں جس میں سے 76.662 ملین روپے اس محکمے کے زیر تکمیل منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے جبکہ نئی اسکیمیں شروع کرنے کے لیے محکمہ کے پاس صرف 143 ملین روپے باقی بچیں گے ۔اس محکمے کی نئی اسکیموں میں پسنی اورسوست کے مقام پر انسداد منشیات پولیس کے لیے تھانوں کی تعمیر اور کورنگی کراچی میں انسداد منشیات فورس کی پولیس کے تنہاجوانوں کے لیے بیرکوں کی تعیر کامنصوبہ شامل ہے۔ ان تینوں تعمیراتی کاموں کے لیے بالترتیب،59 ملین،55 ملین
اور28.84 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں،جبکہ محکمے کے زیر تکمیل 3 منصوبوں میں باجوڑ میں ترقیاتی پراجیکٹ ،خیبر ایریا کا ترقیاتی پروجیکٹ اورمہمند کے علاقے کا ترقیاتی پروجیکٹ شامل ہے۔ان تینوں پروجیکٹس کے لیے بالترتیب 14.261،47.401اور15 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔
تیسرا اہم محکمہ خلا اور بالائی ماحول پر ریسرچ کمیشن ہے جو اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن کہلاتاہے۔ وزیر خزانہ نے اس اہم محکمے کے لیے صرف 3.5 بلین روپے مختص کیے ہیں ، اس محکمے کا صرف ایک ہی زیر تکمیل منصوبہ پاکستان ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ لاہور ہے، اس کے لیے 3.279 روپے مختص کیے گئے ہیں۔اس محکمے کے پاس صرف ایک نئے منصوبے کی گنجائش ہے جو کہ فیزی بلیٹی اینڈ سسٹم ڈیفی نیشن (ایف ایس ڈی ایس) اسٹڈی آف پاکستان ہے اس کے تحت ایک کثیر المقاصد پاکستانی سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے کاپروگرام ہے اس اسکیم کے لیے220.012 ملین روپے رکھے گئے ہیں،اس اہم کام کے لیے اتنی کم رقم دیکھ کر ہی یہ اندازہ ہوتاہے کہ وزیر خزانہ کے نزدیگ خلائی تجربات کی ضرورت کی کوئی اہمیت نہیں ہے یا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو ابھی اس پر کچھ زیادہ خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔جبکہ دنیا کے دوسرے ممالک بلکہ خود ہمارا پڑوسی ملک اس مقصد کے لیے بھاری رقوم مختص کررہاہے اوراس کے نتیجے میں اب وہ ایک درجن سیٹلائٹ ایک ساتھ خلا میں بھیجنے کے کامیاب تجربے کررہاہے۔
وزیر خزانہ نے اسٹیٹس اور فرنٹیئر ریجنز ڈویژن (سیفرون) کو بھی اہمیت کے قابل نہ تصور کرتے ہوئے اس ڈویژن کے لیے 50 ملین روپے مختص کرنے کااعلان کیاہے۔ اس رقم سے شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں نواز شریف ماڈل ٹائون تعمیر کیاجائے گا۔جبکہ غلنئی مہمند گاٹ روڈ کو چوڑا کرنے اور اس کو بہتر بنانے کے کام کے لیے 600 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ سیفرون کو اس کی زیر تکمیل 4 اسکیموں کے لیے 2.69 ملین روپے جبکہ نئی اسکیموں کے لیے 650 ملین روپے رکھے گئے ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیرخزانہ یا ان کے حواریوںمیں کسی کو ان میں سے کسی محکمے کی اہمیت کا احساس ہوتاہے یا نہیں، اور وہ ان اہم محکموں کے لیے مختص رقوم میں اضافے کے لیے کوئی کوشش کرتے ہیں یا آنکھ بند کرکے موجودہ تجاویز پر عمل درآمد کو یقینی بنانے ہی کی کوشش کرتے ہیں۔
تہمینہ حیات نقوی


متعلقہ خبریں


عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت وجود - منگل 16 جون 2026

ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...

عمران خان کو باہر آکر سیاست کرنے دیں،مولانا فضل الرحمان کی بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی حمایت

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ وجود - منگل 16 جون 2026

81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...

گندم ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کرینگے، وزیراعلی سندھ

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن وجود - منگل 16 جون 2026

عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...

کراچی کسی ایک سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے،شرجیل میمن

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان وجود - پیر 15 جون 2026

تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...

اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کا منصوبہ، پی ٹی آئی کا 10 ہزار افراد جمع کرنے کا اعلان

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے وجود - پیر 15 جون 2026

پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...

ایم کیو ایم پاکستان پھر گروپ بندی کا شکار، خالد مقبول صدیقی اور مصطفی کمال آمنے سامنے

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم وجود - اتوار 14 جون 2026

حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...

بجٹ میں آئی ٹی کیلئے کوئی منصوبہ شامل نہیں، حافظ نعیم

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران وجود - اتوار 14 جون 2026

امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...

امریکا سے معاہدے پر آج دستخط نہیں کر رہے ہیں، ایران

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ وجود - هفته 13 جون 2026

    دفاعی بجٹ 17.6فیصد اضافے کے بعد3؍ہزار 10؍ارب 90 کروڑ مختص، حکومت کے کل اخراجات میں سے 8,054ارب روپے صرف مارک اپ کی ادائیگی کے لیے مختص،جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح میں کمی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18,771 ارب روپے ،سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1,07...

18 ؍ہزار ارب روپے سے زائد کا وفاقی بجٹ پیش ،تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافہ

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں وجود - هفته 13 جون 2026

  پرانے منصوبوں میں پانی فراہمی کے منصوبے کے فور کے لئے 10ارب اور کراچی اربن انفرا اسٹرکچر کے لئے 7ارب 50کروڑ روپے مختص، حیدرآباد سکھر موٹر وے پر 30ارب روپے خرچ ہونگے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کراچی کوئٹہ چمن روڈ کے لئے 3؍ارب روپے رکھے گئے ، کراچی گرین لائن کے لئے تقری...

وفاقی بجٹ میں کراچی مکمل نظر انداز ، کوئی پیکیج یا نیا منصوبہ شامل نہیں

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا وجود - هفته 13 جون 2026

یہ ن لیگ کا بجٹ ہے جس میں غریب کو صرف ٹکڑے جبکہ امیر کو ریلیف دیا گیا ہے بجٹ ایماندار ٹیکس دہندگان کو ہراساں کرنے پر مبنی ہے، شیخ وقاص اکرم کی گفتگو پاکستان تحریک انصاف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو مسترد کردیا۔پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس ...

غریبوں پر بوجھ اور امیروں کو ریلیف دیا گیا، پی ٹی آئی نے بجٹ مسترد کردیا

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام وجود - هفته 13 جون 2026

ناگا قبیلیکے 6افراد کی لاشیں برآمد ، ڈپٹی وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ منی پور قابض بھارت کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، خانہ جنگی کی صورتحال بھی برقرار مودی کی نااہلی کے باعث منی پور میں فسادات روزانہ ایک نیا اور خطرناک رخ اختیار کررہے ہیں۔بھارت کا اپنا جریدہ "انڈیا نیوز نی...

مودی سرکار منی پورمیں حالات پرقابو پانے میں ناکام

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف وجود - هفته 13 جون 2026

حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچائے گی ، وزیراعظم حکومت اب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے قابل ہوئی ہے، بیان جاری وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی بجٹ 2026-27 کو عوامی ریلیف، معاشی ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے ثمرات براہ...

خوشحالی کا دور شروع ہو چکا ، بجٹ تاریخی قرار،شہباز شریف

مضامین
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!! وجود منگل 16 جون 2026
ایک تقریب ملتوی ہوگئی!!

جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے! وجود منگل 16 جون 2026
جھوٹ ہمیشہ اعتماد کا قاتل ہوتا ہے!

کب تک ؟ وجود منگل 16 جون 2026
کب تک ؟

ہندوتوا کی حجاب کے خلاف مہم وجود منگل 16 جون 2026
ہندوتوا کی حجاب کے خلاف مہم

عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت وجود پیر 15 جون 2026
عالمی سطح پر مودی سرکار کی کھلی مداخلت

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر