وجود

... loading ...

وجود
وجود

امریکا عرب اسلامی کانفرنس :مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر مسلم حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی

بدھ 24 مئی 2017 امریکا عرب اسلامی کانفرنس :مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر مسلم حکمرانوں کی مجرمانہ خاموشی


ایک طرف مقبوضہ کشمیر میں پرتشدد احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ،گزشتہ روز بھی پتھرائو اور شیلنگ سے 50سے زائدکشمیری نوجوان زخمی ہوگئے جبکہ قابض بھارتی فوجیوں نے متعدد افراد کو گرفتار کرلیا، مظاہرین نے گرفتار طلباکو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقبوضہ وادی میں میر واعظ مولانا محمد فاروق اور عبدالغنی لون کی برسی کے موقع پر کرفیو جیسی پابندیاں، عوامی احتجاج کے باعث سرینگر سمیت مختلف شہروں میں تعلیمی ادارے اور تجارتی مراکز بند رہے،پائین شہر میں 3 تھانوں میں بندشیں ،آسیہ اندرابی اور فہمیدہ صوفی کی رہائی کیلئے مظاہرے کئے گئے جن میں ہزاروں افرادنے شرکت کی۔اننت ناگ کے لال چوک کے علاقے میں صبح سویرے نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اورغاصب بھارتی فوج کے خلاف نعرے بازی کی اورروایتاً پولیس نے ان پر شیلنگ شروع کردی جسکے جواب میں مظاہرین مشتعل ہوگئے اورپتھرائو شروع کردیا۔اسکے بعد تشدد کا دائرہ مہندی کدل،کورٹ روڑ، اچھہ بل اڈہ،جنگلات منڈی،شر پورہ،ریشی بازار، چینی چوک، ملکھ ناگ،ڈانگر پورہ،مٹن اڈہ اور کاڑی پورہ تک پھیل گیا۔اسکے ساتھ ہی قصبے میں اسکول اور دکانیں بند ہوگئیں۔کئی اسکولوں کے طلبہ بھی مظاہرین کیساتھ شامل ہوئے اور انہوں نے گرفتار طلبہ کی رہائی کا مطالبہ شروع کیا۔
دوسری طرف ہمارے وزیر اعظم میاں نواز شریف جو خود بھی کشمیری ہیں اور خود کو کشمیریوں کا سب سے بڑا حمایتی ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں ،امریکا عرب اسلامی کانفرنس میں جہاںامریکا کے علاوہ کم و بیش 55 اسلامی ممالک کے سربراہ مملکت اور حکومت موجود تھے ،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں بولے۔جبکہ پوری دنیا کے سامنے بھارت کی جارحیت کو بے نقاب کرنے کا بہترین موقع تھا۔وزیر اعظم اس موقع پر مقبوضہ کشمیر کے معصوم عوام پر بھارتی مظالم کو بے نقاب کرکے بھارت کوامریکا اور پوری اسلامی دنیا کے سامنے بری طرح ننگا کرسکتے تھے اور اس موقع پر امریکی صدر بھی صورتحال کا نوٹس لینے پر مجبور ہوجاتے۔
ایک طرف پاکستان کے حکمراں بھارتی حکمرانوں کی جانب سے کشمیری عوام پر مظالم کو عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کرنے سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور دوسری طرف بھارتی رہنما بار بار پاکستان کو سرجیکل سٹرائیک کی دھمکی دے رہے ہیں ،گزشتہ دنوںمقبوضہ وادی میں قیام امن کو مرکزی سرکار کیلئے سب سے بڑی ترجیح قرار دیتے ہوئے بھارتی وزیر دفاع ارون جیٹلی نے کہاکہ ریاست میں لوگوں کے اپنے جذبات ہیں،تاہم جذبات کے حصول کیلئے جو بندوق اور تشدد کا راستہ اختیار کرکے فوج اور شہریوں کو مارتے ہیں،کیا انکے ساتھ بات چیت کیلئے غور کیا جاسکتا ہے؟زمینی حقائق کو غلط رنگ دیتے ہوئے ارون جیٹلی نے مزید کہا کہ فوج اور فورسز کشمیر میں دراندازی اور جنگجویانہ سرگرمیوں کامنہ توڑ جواب دے گی۔ نہرو گیسٹ ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جیٹلی نے کشمیر کی ابتر صورتحال کا ذمے دار مٹھی بھر مجاہدین کو قرار دیتے ہوئے کہا جنگجوئوں کے خلاف سخت کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی،بالخصوص ان جنگجوئوں کے خلاف جو پاکستان سے دراندازی کرتے ہیں، کیونکہ کشمیر میں ابتر صورتحال کیلئے وہ ذمہ دار ہیں، فوج اور شہریوں کو مارنے والوں سے مذاکرات ممکن نہیں۔
حریت چیئرمین علی گیلانی نے مرکزی وزیر ارون جیٹلی کے بیان کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہم نے مذاکرات کے لیے کوئی درخواست دی ہے اور نہ اس سلسلے میں ہم لائن میں بیٹھے انتظار کررہے ہیں کہ کب دلی سے بلاوا آجاتا ہے۔ انہوں نے کہا فاشسٹ اور جنونی طاقتوں کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جائے گی۔ دریں اثنابھارت کے سابق چیف جسٹس مارکنڈے کاٹجو کا کہنا ہے کہ نئی دہلی سرکار نے عالمی عدالت جا کر سنگین غلطی کی ہے۔ اب پاکستان ایسے کئی مسائل جن پر بھارت کو اعتراض ہے عالمی عدالت لے جا سکتا ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کو عالمی عدالت میں بھارت کے خلاف لے جا سکتا ہے۔ سماجی ویب سائٹ فیس بک پر اپنے پیغام میں مارکنڈے کاٹجو کا کہنا تھا پاکستان عالمی عدالت انصاف جا کر پنڈورا باکس کھول سکتا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کیلئے لازوال قربانیوں کا سلسلہ رکا ہے نہ بھارتی سفاک سپاہ کی بربریت میں کوئی کمی آئی ہے۔ تحریک آزادی دبانے کیلئے بھارت نئے ہتھکنڈے اور حربے آزماتا رہا ہے۔ اب اس نے کشمیریوں کی نئی نسل کو معذور بنانے کیلئے پیلٹ گنوں کا استعمال شروع کر رکھا ہے۔ یہ اسرائیل سے درآمد کی گئی ہیں ان کے استعمال پر اسرائیل نے بھی تشویش ظاہر کی جبکہ مہذب دنیا اس پر شدید احتجاج کر چکی ہے۔ پیلٹ گنوں کے استعمال سے دس ہزار سے زائد نوجوان، لڑکے لڑکیاں متاثر ہوئے ان میں سے اکثر کی بینائی جاتی رہی، کئی کے چہروں کے خدوخال بدل گئے مگر ا ن کے جذبہ آزادی میں کمی کے بجائے مزید اضافہ ہوا۔
مقبوضہ وادی میں اجتماعی قبریں دریافت ہو چکی ہیں۔ یہ وہ غیرت مند اور حریت پسند کشمیری ہیں جو بھارت کی سامراجیت کو چیلنج کرتے ہیں، ان کو گھروں سے ایجنسیاں اٹھا کر لے جاتی ہیں، بہیمانہ تشدد کے بعد شہید کر کے ان کے جسد خاکی کو گڑھوں میں پھینک کر مٹی ڈال دی جاتی ہے۔ چناروں کی خوبصورت وادی میں چادر اور چار دیواری کا تقدس بری طرح پامال کیا جاتا ہے۔ اجتماعی زیادتی کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق دنیا میں انسانی حقوق کی سب سے زیادہ پامالی مقبوضہ کشمیر میں ہوتی ہے۔ بھارت اس وادی میں اپنے مظالم چھپانے، جبر کی پردہ پوشی کیلئے اقوام متحدہ، او آئی سی سمیت کسی عالمی تنظیم کو مقبوضہ کشمیر میں صورت حال کا جائزہ لینے کیلئے آنے کی اجازت نہیں دے رہا۔
بھارت کشمیریوں کو دہشتگرد، اور ان کی اخلاقی حمایت کرنے پر پاکستان کو ان کا سرپرست قرار دیتا ہے، پاکستان پر دراندازی کے الزامات لگا کر بدلہ کراچی، بلوچستان آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں چکانے کے دعوے اور اعترافات کر چکا ہے۔ اردن جیٹلی نے نہرو ریسٹ ہاؤس میں خطاب کرتے ہوئے پھر پاکستان کی طرف سے دراندازی کے الزامات کو دہرایا ہے۔ بھارتی میڈیا ایسے لغو، بے بنیاد اور جھوٹے الزامات کو ہوا دیتا رہا ہے۔ بھارتی میڈیا کے ایسے پراپیگنڈے کے جواب میں چیئرمین حریت کانفرنس سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت کے میڈیا اورخفیہ ادارے جو کروڑوں روپے کے لین دین کے بارے میں کہانیاں بتاتے رہتے ہیں، ان کا حقیقت کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں۔پاکستان ضرور کشمیریوں کی جدوجہد کا حامی ملک ہے اور وہ سیاسی، سفارتی اور اخلاقی سطح پر ہماری مدد کررہا ہے، البتہ ہماری جدوجہد خالصتاً ایک مقامی تحریک ہے اور اس کو منفی پروپیگنڈا کے ذریعے ماضی میں دبایا جاسکا ہے اور نہ مستقبل میں ایسا کیا جانا بھارت کیلئے ممکن ہے۔
بھارت اقوام متحدہ کی اپنی ہی قرار دادوں پر عمل سے انکار کر رہا ہے۔ پاکستان کی کچھ حکومتوں کی کشمیر کاز میں کمٹمنٹ میں کمی کے باعث بھارت نے اقوام متحدہ کی قرار دادوں سے انحراف کرتے کرتے اسے ایک صوبہ ڈیکلئیر کیا اور اسے آئینی حیثیت دیدی اور اب حالات اس نہج پر ہیں کہ بھارت مذاکرات سے راہ فرار اختیار کر چکا ہے۔ نہ صرف اس وادی کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے بلکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر بھی اپنا حق جتانے لگا ہے۔
ایک موقع پر مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے پوچھا گیا کہ بھارت کلبھوشن کا معاملہ عالمی عدالت انصاف میں لے گیا ہے تو کیا پاکستان کشمیر کا مسئلہ عالمی عدالت انصاف میں بھی لے جائے گا تو مشیر خارجہ نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے۔ عالمی عدالت انصاف میں لے جانے کی ضرورت نہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت ان فورمز کو کہاں تک مانتا اور ان کی سنتا ہے، یہ سب پر عیاں ہے۔ اب ایک ایسا فورم جو بھارت نے خود فراہم کر دیا اور اسے وہ ثالث مانتا ہے تومسئلہ کشمیر نہ صرف وہاں لے جانے میں حرج نہیں بلکہ یہ وہاں ضرور لے جایا جائے۔ عالمی عدالت کے سامنے پاکستان میں بھارت کی مداخلت دہشتگردوں سے رابطوں اور بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک کی معاونت کے ثبوت بھی رکھے جائیں۔ کشمیریوں پر مظالم،جبرو سفاکیت سے آگاہ کیا جائے، انسانی حقوق کی پامالی جس کا اعتراف اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی تنظیمیں کر چکی ہیں، وہ عالمی عدالت کے سامنے رکھی جائیں۔کشمیر میں لاگو ٹاڈا اور پوٹا جیسے قوانین انسانیت کو شرما دیتے ہیں۔ ایک ایک چیز عالمی عدالت کے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ بھارت اس عدالت سے بھی بھاگتا ہے تو اس کا مکروہ چہرہ مکمل طور پر عالمی برادری کے سامنے بے نقاب ہو گا۔


متعلقہ خبریں


فیصلہ کن گھڑی آچکی، ریونیوکلیکشن بڑا چیلنج ہے ، شہبا ز شریف وجود - اتوار 05 مئی 2024

وزیر اعظم محمد شہبا ز شریف نے کہا ہے کہ فیصلہ کن گھڑی آچکی ہے سب کو مل کر ملک کی بہتری کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا، پاکستان کو آج مختلف چیلنجز کا سامنا ہے ریونیوکلیکشن سب بڑا چیلنج ہے ،جزا ء اور سزا کے عمل سے ہی قومیں عظیم بنتی ہیں،بہتری کارکردگی دکھانے والے افسران کو سراہا جائے گا...

فیصلہ کن گھڑی آچکی، ریونیوکلیکشن بڑا چیلنج ہے ، شہبا ز شریف

احتجاجی تحریک میں شمولیت کی دعوت، حافظ نعیم الرحمان رضامند وجود - اتوار 05 مئی 2024

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتیں، ادارے آئین کی تابعداری کے لیے تیار ہیں تو گریٹر ڈائیلاگ کا آغاز ہوسکتا ہے ، ڈائیلاگ کی بنیاد فارم 45ہے ، فارم 47کی جعلی حکومت قبول نہیں کرسکتے ، الیکشن دھاندلی پر جوڈیشل کمیشن بنے جس کے پاس مینڈیٹ ہے اسے حکومت بنانے د...

احتجاجی تحریک میں شمولیت کی دعوت، حافظ نعیم الرحمان رضامند

شہباز سرکار میں بھی 98ارب51 کروڑ کی گندم درآمد ہوئی، نیا انکشاف وجود - اتوار 05 مئی 2024

ملک میں 8؍فروری کے الیکشن کے بعد نئی حکومت آنے کے بعد بھی 98 ارب51 کروڑ روپے کی گندم درآمد کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔تفصیلات کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ موجودہ حکومت کے دور میں بھی 6 لاکھ ٹن سے زیادہ گندم درآمد کی گئی، ایک لاکھ13ہزار ٹن سے زیادہ کا کیری فارورڈ اسٹاک ہونے کے باوجو...

شہباز سرکار میں بھی 98ارب51 کروڑ کی گندم درآمد ہوئی، نیا انکشاف

ٹیکس نادہندگان کی سم بلاک کرنے سے پی ٹی اے کی معذرت وجود - اتوار 05 مئی 2024

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے ) نے نان ٹیکس فائلر کے حوالے سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے اٹھائے گئے اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے 5لاکھ سے زائد سمز بند کرنے کی معذرت کر لی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے 2023 میں ٹیکس ریٹرن فائل نہ کرنے والے 5...

ٹیکس نادہندگان کی سم بلاک کرنے سے پی ٹی اے کی معذرت

پیپلز بس کے کرائے کی ادائیگی کے لیے اسمارٹ کارڈ متعارف وجود - اتوار 05 مئی 2024

کراچی میں پیپلزبس سروس کے کرائے کی ادائیگی کے لیے اسمارٹ کارڈ متعارف کروا دیا گیا ۔ کراچی میں پیپلز بس سروس کے مسافروں کیلئے سفر مزید آسان ہوگیا۔ شہری اب کرائے کی ادائیگی اسمارٹ کارڈ کے ذریعے کریں گے ۔ سندھ حکومت نے آٹومیٹڈ فیئر کلیکشن سسٹم متعارف کرادیا۔ وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی ش...

پیپلز بس کے کرائے کی ادائیگی کے لیے اسمارٹ کارڈ متعارف

گندم ا سکینڈل، تحقیقاتی کمیٹی نے انوار الحق کاکڑ کو طلب کرلیا وجود - اتوار 05 مئی 2024

گندم درآمد اسکینڈل کی تحقیقاتی کمیٹی نے سابق نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو طلب کرلیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے اجلاس میں نگراں دور کے سیکریٹری فوڈ محمد محمود کو بھی طلب کیا تھا، جوکمیٹ...

گندم ا سکینڈل، تحقیقاتی کمیٹی نے انوار الحق کاکڑ کو طلب کرلیا

تاریخی سنگ میل عبور، پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ مشن چاند پر روانہ وجود - هفته 04 مئی 2024

پاکستان نے خلائی تحقیق کے میدان میں اہم سنگ میل عبور کرلیا، تاریخی خلائی مشن ’آئی کیوب قمر‘چین کے وینچینگ خلائی سینٹر سے روانہ ہو گیا جس کے بعد پاکستان چاند کے مدار میں سیٹلائٹ بھیجنے والا چھٹا ملک بن گیا ہے ۔سیٹلائٹ آئی کیوب قمر جمعہ کو2 بجکر 27 منٹ پر روانہ ہوا، جسے چینی میڈیا ...

تاریخی سنگ میل عبور، پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ مشن چاند پر روانہ

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پی ٹی آئی کے خلاف بی ٹیم بنے ہوئے ہیں،عمران خان وجود - هفته 04 مئی 2024

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان نے عدالتوں سے ان کے مقدمات کے فیصلے فوری طور پر سنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس قاضی پی ٹی آئی کے خلاف بی ٹیم بنے ہوئے ہیں۔بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے اڈیالہ جیل سے اہم پیغام میں کہا ہے کہ میں اپنے تمام مقدمات س...

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پی ٹی آئی کے خلاف بی ٹیم بنے ہوئے ہیں،عمران خان

بس مجھے قتل کرناباقی رہ گیا ہے ،غلامی پر موت کو ترجیح دوں گا، عمران خان وجود - هفته 04 مئی 2024

پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے کہا ہے کہ بس مجھے قتل کرنا رہ گیا ہے لیکن میں مرنے سے نہیں ڈرتا، غلامی پر موت کو ترجیح دوں گا۔برطانوی جریدے دی ٹیلی گراف کے لیے جیل سے خصوصی طور پر لکھی گئی اپنی تحریر میں سابق وزیر اعظم نے کہا کہ آج پاکستانی ریاست اور اس کے عوام ایک دوسرے...

بس مجھے قتل کرناباقی رہ گیا ہے ،غلامی پر موت کو ترجیح دوں گا، عمران خان

سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی بندش کے حق میں نہیں، عطا تارڑ وجود - هفته 04 مئی 2024

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی بندش کے حق میں نہیں۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پاکستان میں کیوں دفتر نہیں کھولتے ، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو پاکستان میں دفاتر کھولنے چاہئی...

سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی بندش کے حق میں نہیں، عطا تارڑ

یوم صحافت پرخضدار دھماکا،صحافی صدیق مینگل سمیت 3افراد جاں بحق وجود - هفته 04 مئی 2024

یوم صحافت پر خضدار میں دھماکا، صحافی صدیق مینگل سمیت 3 افراد جاں بحق ہوگئے ۔پولیس کے مطابق خضدار میں قومی شاہراہ پر سلطان ابراہیم خان روڈ پر ریموٹ کنٹرول دھماکے سے ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ایس ایچ او خضدار سٹی کے مطابق ریموٹ کنٹرول دھماکے میں ایک شخص جاں بحق اور 10 افراد زخمی ...

یوم صحافت پرخضدار دھماکا،صحافی صدیق مینگل سمیت 3افراد جاں بحق

انتخابات کے بعد ایرانی تیل کی ا سمگلنگ میں اضافہ وجود - جمعه 03 مئی 2024

ایرانی تیل کی پاکستان میں اسمگلنگ پر سیکیورٹی ادارے کی رپورٹ میں اہم انکشافات سامنے آگئے ۔پاکستان میں ایرانی تیل کی اسمگلنگ کے بارے میں رپورٹ منظرعام پر آگئی ہے جس میں کہا گیا کہ پاکستان میں سالانہ 2 ارب 80 کروڑ لیٹر ایرانی تیل اسمگل کیا جاتا ہے اور اسمگلنگ سے قومی خزانے کو سالان...

انتخابات کے بعد ایرانی تیل کی ا سمگلنگ میں اضافہ

مضامین
اک واری فیر وجود اتوار 05 مئی 2024
اک واری فیر

جناح کا مقدمہ ( قسط نمبر 5) وجود اتوار 05 مئی 2024
جناح کا مقدمہ ( قسط نمبر 5)

سہ فریقی مذاکرات اوردہشت گردی وجود اتوار 05 مئی 2024
سہ فریقی مذاکرات اوردہشت گردی

دوسروں کی مدد کریں اللہ آپ کی مدد کرے گا ! وجود هفته 04 مئی 2024
دوسروں کی مدد کریں اللہ آپ کی مدد کرے گا !

آزادی صحافت کا عالمی دن اورپہلا شہید صحافی وجود هفته 04 مئی 2024
آزادی صحافت کا عالمی دن اورپہلا شہید صحافی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر