وجود

... loading ...

وجود

بھارتی صلاح کاروں پر تکیہ افغان حکام کی ناکامیوں کا ایک اہم سبب

منگل 23 مئی 2017 بھارتی صلاح کاروں پر تکیہ افغان حکام کی ناکامیوں کا ایک اہم سبب


گزشتہ کچھ عرصہ سے افغانستان میں جوکچھ ہورہاہے اور طالبان اور داعش کے جنگجو جس طرح افغان فوج پر حاوی ہوتے نظر آرہے ہیں، اس سے ظاہرہوتاہے کہ بھارتی صلاح کاروں پر بھروسہ کرکے اور ان کے مشوروں پر عمل کرکے افغانستان تباہی کی جانب گامزن ہے، اور امریکا کی زیر قیادت اتحادی ممالک نے برسہابرس کی جدوجہد کے بعد جو کامیابیاں حاصل کی تھیں ان کا خاتمہ ہورہاہے۔عالمی سیاست پر نظر رکھنے والے بعض تبصرہ نگار وں کی نظر میں امریکا کے صدر ٹرمپ کی جانب سے افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی پر فی الوقت زور نہ دینے کی حکمت عملی افغانستان کے مستقبل کے لیے ایک اچھا فیصلہ ہے۔
اٹلانٹک کونسل نے افغانستان اور امریکی سلامتی کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں یہ سوال اٹھایاہے کہ کیا 11ستمبر2001ء کے حملوں کے 14سال بعد اب بھی افغانستان میں انسانی قربانیوں اور مالیاتی ،سیاسی ،فوجی اور انٹیلی جنس کے لیے سرمایہ کاری کا کوئی جواز باقی ہے؟اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتاکہ انسداد دہشتگردی کے لیے مضبوط ومسلسل شراکت اور فوجی اور انٹیلی جنس تعاون کے تسلسل سے اس خطے سے دہشت گردی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔اس طویل المیعاد ہمہ جہت اور ہمہ اقسام کی حکمت عملی کے ذریعہ پر تشدد انتہا پسندی اور دہشت گردی کو اپنے پنجے گاڑنے سے روکنے میں مؤثرطور پر روکا جاسکتا ہے ۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ خو د افغان حکمراں اس ملک پر اپنی حکومت کی رٹ قائم کرنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کریںاور بھارت یاکسی اور ملک کے صلاح کاروں کے مشورے پر آنکھ بند کرکے عمل کرنے کے بجائے خود زمینی حقائق کاجائزہ لے کر اپنی حکمت عملی تیار کریں اور پھر اس پر پوری طرح عملدرآمد کو یقینی بنائیں، افغان حکمرانوں کو اس بات کاجائزہ لینا چاہیے کہ مسلسل آپریشن اور طالبان اور دہشت گردوں کے خلاف مسلسل کارروائیوں کے باوجود ان کی طاقت کیوں نہیں ٹوٹ رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ افغان اور امریکی حکومت کے مسلسل آپریشن کے باوجود افغانستان میں طالبان اور داعش کا پھلنا پھولنا اس بات کا ثبوت ہے کہ افغانستان کے اندر بلکہ افغان حکومت کے اندر موجود کوئی مضبوط گروپ پس پردہ ان کی مدد اور معاونت کررہاہے اورجب تک اندرونی سطح پر ان کو مدد اور معاونت حاصل رہے گی ان کے خلاف کسی بھی آپریشن اور کارروائی کے مثبت اور مؤثر نتائج سامنے نہیں آسکتے۔ اس حوالے سے پاکستان کی مثال پوری دنیا کے سامنے ہے، جب تک پاکستان میں دہشت گردوںکے خلاف کارروائی دہشت گردوں اور ان کے ٹھکانوں تک محدود رہی اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوسکے، لیکن جب پاک فوج نے دہشت گردوں کے مددگاروں ،سہولت کاروںاور معاونین پر ہاتھ ڈالنا شروع کیا، دہشت گردوں کی سرگرمیاں صابن کے جھاگ کی طرح بیٹھ گئیں، اگرچہ پاکستان سے ابھی تک دہشت گردوں کامکمل طورپر خاتمہ نہیں ہواہے اور وہ اب بھی نرم گوشے تلاش کرکے اپنے وجود کا احساس دلاتے رہتے ہیں،لیکن اب ان کی یہ سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں جن کا جلد خاتمہ ہوجانا یقینی ہے۔
ایک مغربی تجزیہ کار کے مطابق افغانستان کے صدر اشرف غنی کے اس خیال سے عدم اتفاق نہیں کیاجاسکتا کہ جنوبی اور مغربی ایشیائی ممالک،چین اوروسط ایشیائی ممالک کے ریاستی نظام کودہشت گردی اور انتہا پسندی سے خطرات لاحق ہیں ۔ان کایہ کہناوقت کی ضرورت کے عین مطابق ہے کہ اسلامی ممالک کا فرض ہے کہ وہ اس صورتحال کو چیلنج کریں اور انتہاپسندی کامقابلہ کرکے اس کا خاتمہ کریں،سعودی عرب کے شاہ سلمان کی جانب سے امریکا عرب اسلامی کانفرنس کا انعقاد اسی حکمت عملی کا آغاز ہے۔تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان کی قومی اتحاد کی حکومت کو اس طرح کام کرنا چاہیے کہ اس کے مثبت اثرات نہ صرف افغان عوام پر ظاہر ہوں بلکہ بین الاقوامی برادری بھی انہیں محسوس کرسکے۔افغان حکومت اپنی ناکامیاں اور خامیاں دوسروں کے سر نہیں تھوپ سکتی اور دوسروں کو اس کا ذمہ دار قرار نہیں دے سکتی۔اسے نہ صرف یہ کہ خودکفالت کے حصول کاعمل جاری رکھنا چاہیے بلکہ اسے اس طرح تیز کرنا چاہیے کہ اس ملک میں بین الاقوامی برادری کاکردار بتدریج کم اور بالآخرختم کیاجاسکے۔اس بات کاتعین کہ کیا افغانستان اب بھی امریکا اور بین الاقوامی برادری کی سیاسی ، مالی اور فوجی امداد کامستحق ہے یا نہیں، بہت اہم اور نازک ہے اور اس کاتعین افغان حکومت اور حکمرانوں کی کارکردگی اور قول وعمل کو جانچ کرہی کیاجاسکتاہے۔ امریکا کا اسٹریٹیجک مقصد امریکی افواج کو لڑائی سے نکال کر افغانستان کی سلامتی اور سیکورٹی کی ذمہ داری ،افغان حکومت کے سپر د کردیناتھا۔ گزشتہ کئی سال سے امریکا کے فوجی افغانستان میں انسداد دہشت گردی اور ملک کے تحفظ کے لیے زیادہ ترافغان افواج کے تربیتی اور معاونت کے کاموں میں مصروف تھے۔لیکن افغانستان کے مختلف علاقوں میں فوجی ٹھکانوں اور چیک پوسٹوں پر طالبان اور داعش کے پے درپے حملوں نے یہ ثابت کردیاہے کہ امریکا اپنے مقصد میں یعنی افغان فوج کو افغانستان کی سلامتی اور سیکورٹی کا تحفظ کرنے کے قابل بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکاہے۔ طالبان کی جانب سے افغان حکومت پر اب بھی زبردست دبائو ہے اس صورت حال میں اب افغان حکمرانوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ کیا وہ اتحادی افواج کی مدد اور تعاون کے بغیر طالبان کے چیلنج کامقابلہ کرسکتے ہیں؟ بدقسمتی سے صورتحال یہ ہے کہ افغان حکومت کی انٹیلی جنس دہشت گردوں کاپتہ چلانے میںبری طرح ناکام رہی ہے ،اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ افغانستان میں موجود بھارتی صلاح کاروں نے انہیں ان کی اصل ذمہ داریوں سے ہٹا کر کسی اور جانب لگا رکھاہے اورافغان انٹیلی جنس کے ارکان بھارتی انٹیلی جنس کے بغل بچوں کی طرح پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں زیادہ مصروف نظر آتے ہیں۔
افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان کی حالیہ پے درپے کارروائیوں سے ثابت ہوگیا کہ اگر امریکی افواج فوری طورپر وہاں سے نکل جاتی ہیں تو افغانستان کی سلامتی کو شدید اور سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔فوج امریکی انٹیلی جنس کی صلاحیتوں کو جاری رکھنے کے لیے جو کہ انسداد دہشت گردی اور خود افغان حکومت کے معاملات چلانے کے لیے اہم ہے، انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔حالیہ واقعات سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ خطرات بہت زیادہ ہیں اور پورے ملک میںسیکورٹی کی فراہمی آسان کام نہیں ہے ۔حالیہ واقعات سے افغان افواج میں موجود خامیوں کی نشاندہی ہوگئی ہے اور اب اس سے سبق سیکھا جانا چاہیے۔
ابن عماد بن عزیز


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر