... loading ...

یورپی ممالک اور امریکا کی سوچ میں ایک بنیادی فرق ہے جس کی تصدیق یورپ میں بریگزٹ اور امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب کیے جانے سے ہوتیہے،جہاں تک جنوبی ایشیا کا تعلق ہے تو یورپی ممالک اور امریکا کی سوچ کا فرق جنوبی ایشیاکے بارے میں دونوں کی پالیسیوںاور طرز عمل سے واضح ہوتاہے۔
یورپی ممالک یعنی پوری یورپی یونین میں شامل تمام ممالک کی اکثریت کے رہنماؤں کی خواہش یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان جو دونوں ہی ایٹمی طاقتیں ہیں اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے طے کرنے کی کوشش کریں،جبکہ امریکا کی سوچ اس کے برعکس ہے۔
یورپ دراصل ایک اصلاح پسند طاقت ہے جو کبھی بھی جنگ کو برداشت نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ کسی بھی جنگ کی صورت میں خواہ وہ دنیا کے کسی بھی حصے میں لڑی جائے، پوری دنیا کی معیشت پر منفی اثرات رونما ہوتے ہیں اور اس کانتیجہ اقتصادی کسادبازاری کی صورت میں نکلتاہے۔یورپ مختلف ممالک کا ایک مجموعہ ہے جس میں شامل ممالک تعمیر وترقی کے لیے باہم بات چیت کرتے ہیں، تبادلہ خیالات کرتے ہیں اور تعمیر وترقی کی راہیں تلاش کرتے ہیںتاکہ اپنے عوام کا معیار زندگی بہتر بناسکیں۔ انہیں زندگی کی بنیادی سہولتیں زیادہ بہتر انداز میں فراہم کرسکیں اور دنیا کے دوسرے ممالک کے کم وسیلہ لوگ بھی اس کے ثمرات سے فیضیاب ہوسکیں۔
یورپی یونین میں شامل ممالک کے بہت سے تجزیہ کار چین کے موجودہ رویے کو جنگ عظیم اول سے قبل کے جرمنی کے رویے کے مشابہ قرار دیتے ہیں ،لیکن یورپی تجزیہ کاروں کی اس رائے کے برعکس آج کا چین جنگ عظیم اول کے جرمنی کی نسبت زیادہ بہتر رویے کاحامل نظر آتاہے اور وہ مختلف ممالک اور مختلف خطوں کے ساتھ عالمی اور علاقائی استحکام کے لیے بات چیت کے لیے تیار نظر آتاہے ،چین کی یہ سوچ یورپی ممالک کی مجموعی سوچ کے عین مطابق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چین کی خواہش ہے کہ پوری دنیا میں کم از کم 20-30 سال تک کوئی جنگ نہ ہو اور استحکام کا دور دورہ رہے۔تاکہ وہ عالمی استحکام کی اس صورت حال سے فائدہ اٹھاکر ایک عالمی طاقت بن سکے اور عالمی صورتحال اور اتھل پتھل اس کی اس خواہش یاکوشش کی راہ میں حائل نہ ہو۔
یورپی یونین میں شامل ممالک چین کی جانب سے عالمی طاقت بننے کی اس خواہش یا کوشش سے خائف نہیں ہیں ،بلکہ عمومی طورپر یورپی ممالک سمجھتے ہیں کہ چین کے عالمی طاقت بن کر ابھرنے سے دنیا میں طاقت کا توازن قائم ہوگا جس سے نسبتاً کمزور ملکوں کو تقویت ملے گی اور ان کی علاقائی خودمختاری ، آزادی اوراستحکام کو لاحق خطرات کم بلکہ معدوم ہوجائےں گے۔یورپی ممالک سمجھتے ہیں کہ چین کے عالمی طاقت کے طورپر ابھرنے سے امریکا جیسی بڑی طاقت کو اس کی حد میں رہنے پر مجبور کیاجاسکے گا اور عالمی سطح پر اسے مختلف معاملات میں اپنی بات منوانے کی کوشش کرنے کے بجائے مصالحتی رویہ اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔اس سے عراق اور افغانستان جیسی لاحاصل اور غیر ضروری جنگوں کا راستہ رک جائے گااور امریکا اس طرح کی غلطیاں کرنے سے پہلے دس مرتبہ سوچنے پر مجبور ہوگا۔
کہاجاتاہے کہ یورپی ممالک کو پناہ گزینوں کے بحران پر اعتراض ہے ان کا یہ اعتراض بیجا نہیں ہے لیکن اس اعتراض سے قبل یہ سوچنا ضروری ہے کہ یہ بحران کیوں پیدا ہوا اور اس بحران کے ذمہ دار کون ہیں؟اگر عراق اور افغانستان کا بحران پیدا نہ ہوتا تومستقل عدم استحکام اور انتشار کی موجودہ کیفیت بھی پیدا نہ ہوتی اور اگر ایسا نہ ہوتا تو پناہ گزینوں کایہ بحران بھی وجود میں نہ آتا۔فی الوقت صورت حال یہ کہ افغانستان کا مسئلہ ابھی تک حل طلب ہے ،عراق ایک انتہائی کمزور ملک بن چکاہے اور شام اس پرانی سرد جنگ کے نتائج کا شکار ہوچکاہے۔ اس صورتحال میں یورپ کی سوچ کے مطابق چین کا ایک بڑی طاقت بن کر ابھرنے کی کوشش کرنا کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کوشش میں کامیابی کی صورت میں بہت سے مسائل کے حل نکل سکتے ہیں۔
یورپی ممالک کے نقطہ نطر سے چین کے ایک بڑی عالمی طاقت بن کر ابھرنے کی صورت میں پاکستان اور بھارت مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل حل کرنے اور تنازعات طے کرنے پر مجبور ہوں گے اور اس طرح جنوبی ایشیا کایہ پورا خطہ ایک بڑی جنگ جو ایٹمی جنگ میں بھی تبدیل ہوسکتی ہے کی تباہ کاریوں سے بچ جائے گا۔مثال کے طورپر یورپی پارلیمنٹ گزشتہ 4سال سے مسئلہ کشمیر حل کرانے کی ضرورت اور اہمیت کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کررہی ہے، یورپی ممالک کامؤقف یہ ہے کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر عالمی طاقتوں کو براہ راست بات کرنی چاہیے۔
جہاں تک پاکستان کاتعلق ہے تو خوش قسمتی سے یورپ میں پاکستان کاکوئی دشمن نہیں ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے سفارتکاری کے عمل کو تیز کیاجائے۔ پاکستان کو یورپی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے سفارتی سطح کے ساتھ اقتصادی اور سیکورٹی کی بنیاد پر بھی آگے بڑھانا چاہیے، تاکہ یورپی ممالک کو اس خطے میں پاکستان کی اہمیت کا زیادہ احساس اور اندازہ ہوسکے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ صرف بھارت ہی ان کی مصنوعات کی ایک بڑی منڈی نہیں ہے بلکہ پاکستان بھی ان کی تیار کردہ اشیا کی کھپت اور یورپی عوام کو نسبتاً کم قیمت پر ضروری اشیا فراہم کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔
چین کی مدد سے پاکستان میں شروع کیے جانے والے سی پیک منصوبے نے اس خطے میں پاکستان کی ایک نئی شکل اجاگر کی ہے اوردنیا کے بیشتر ممالک اب پاکستان کو اس خطے کی ابھرتی ہوئی معاشی قوت کے طورپر دیکھ رہے ہیں ،وہ پاکستان کو ایک نیا اقتصادی پاور ہاؤس تصور کررہے ہیںجبکہ سلک روٹ میں توسیع سے پاکستان کی یہ نئی شبیہہ اور بھی زیادہ واضح اور روشن ہوکر سامنے آئے گی ۔
اب تک کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی آواز پر عالمی سطح پر زیادہ توجہ نہ دیے جانے کا ایک بڑا سبب یہ بھی تھا اور اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتاکہ جنوبی ایشیا کے اس خطے خاص طورپر افغانستان اور پاکستان میں بڑھتی دہشت گردی نے پاکستان کی شکل دھندلا کررکھ دی تھی۔ اگرچہ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان خود دہشت گردی کاشکار رہاہے اور افغانستان کی صورت حال کا بڑا سبب وہاں کی بیڈ گورننس ،اندرونی انتشار ،کرپشن اور وہاں موجود نیٹو کی بد انتظامی ہے جسے پاکستان کی غلطی قرار نہیں دیاجاسکتا۔
تاہم اب دھند چھٹتی ہوئی محسوس ہورہی ہے اور یورپ اور جنوبی ایشیا کے درمیان تعاون کے امکانات روشن ہورہے ہیں ،اس کے ساتھ ہی اب وسطی اور مغربی یورپی ریاستیں بھی مغربی یورپ میں اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے پل کاکردار ادا کرنے پر تیار ہورہی ہیں ،جس سے یورپ اور جنوبی ایشیا کے درمیان تعاون اور اشتراک کے امکانات اور زیادہ وسیع ہورہے ہیں۔اقتصادی تعاون کی خواہشوں میں تو اضافہ ہورہاہے لیکن اس کے لیے اب متعلقہ ممالک کو مل جل کر اس کے لیے کوششیں کرنا ہوں گی۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتاکہ یورپی ممالک امریکا کے برعکس جنوبی اورمشرقی ایشیا کو اپنی واحد ترجیح تصور نہیں کرتے ،یورپ ایک محدود بڑی طاقت ہے تاہم وہ اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کی کوشش میں مصروف ہے۔اگر اسے اس کاموقع ملا تو وہ اس موقع کو ضائع نہیں ہونے دے گاوہ اس موقع سے مثبت انداز سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔
بریگزیٹ کے بعد اب یورپی کمیشن ،فرانس اور جرمنی کو اسپین اور چند دوسرے مغربی یورپی ممالک کو اپنے ساتھ ملاکر آگے بڑھنے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ یورپی یونین کی طاقت میں کمی نہ آئے اور یورپی عوام کے بہتر اور روشن مستقبل کی راہ تابناک رہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان یورپی ممالک کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے کیا اقدام کرتاہے اور یورپی ممالک اس کا کس طور جواب دیتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے ماننے کی صورت میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کو اہم وزارت کا قلمدان ملنے کا امکان ،وفاقی کابینہ میں ردوبدل متوقع ، نئے چہرے سامنے لائے جائیں گے‘ذرائع وزیراعظم کی تمام وزراء سے کارکردگی رپورٹ طلب ، وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کا عمل شروع ہوگا،کامرس، پاور، ہاؤسنگ، موا...
امریکا اور ایران نے وقت سے پہلے ہی جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات کے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد سامنے آئے گا معروف امریکی جریدے ایگزیوس کے مطابق امریکا اور ایران نے طے شدہ وقت سے پہلے ہی جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مفاہمتی...
جنیوا میں ہونے والی مفاہمتی یاداشت کی تقریب میں شرکت ضروری نہیں رہی ایم او یو پر امریکی اور ایرانی صدور کے دستخط کے بعد بطورثالث توثیق کر دی وزیراعظم شہباز شریف کا سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لیے شیڈول دورہ منسوخ کردیا گیا۔تفصیلات کے ...
شہری مشکلات کا شکار، ملازمت پیشہ افراد، مزدور، طلبہ کوطویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے حب ریور روڈ، شیرشاہ و دیگر علاقوں میں شہری پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی پر پریشان کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث شہر بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہوگئی، جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہو...
موجودہ اسٹیٹس کو کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصی کا دورہ کر سکتے ہیں انہیں وہاں مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں،رپورٹ اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کے بعض حلقوں کے تعاون سے مسج...
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...
ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...
منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...
رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...