وجود

... loading ...

وجود

سی پیک پاکستان کی ادائیگیوں کے توازن پر شدید دبائو پڑنے کا خدشہ

هفته 13 مئی 2017 سی پیک پاکستان کی ادائیگیوں کے توازن پر شدید دبائو پڑنے کا خدشہ

جیسے ہی قرضوں کی واپسی کا سلسلہ اور چینی کمپنیاں منافع اپنے ملک لے جانا شروع کریں گی تو پاکستانی کرنسی شدید دباؤ کا شکار ہوجائے گی‘ خدشات غلط ہیں ، چین سے آنے اور جانے والی اشیا پر فیس کی مد میں پاکستان کثیر رقم کمائے گا،وزیراعظم کے مشیر برائے سی پیک کا دعویٰ

حکومت پاکستان کے چیف ماہر اقتصادیات کا کہنا ہے کہ پاکستان کا قرضہ اور پاک-چین اقتصادی راہداری منصوبے میں دی جانے والی دیگر ادائیگیاں 2022ء تک 5 ارب ڈالرز تک پہنچ جائیں گی۔چین نے پاکستان میں ریلوے، سڑک اور توانائی کے شعبوں میں شاہراہ ریشم پر 57 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنے کا عہد کیا ہے۔ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ گوادر پورٹ کے آغاز اور موٹروے مکمل ہونے کے بعد پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والی تجارت میں اضافہ ہوگا۔پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ پاکستان کی سست معیشت کو بڑھانے کے لیے ایک قرضہ ہے لیکن سرمایہ کاروں نے خدشات کا اظہار کیا ہے کہ جیسے ہی قرضوں کی واپسی کا سلسلہ اور چینی کمپنیاں منافع اپنے ملک لے جانا شروع کردیں گی تو پاکستانی کرنسی شدید دباؤ کا شکار ہوجائے گی۔وزیراعظم کے مشیر برائے سی پیک ندیم جاوید نے غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ خدشات غلط ہیں کیونکہ اسلام آباد چین سے آنے اور جانے والی اشیا پر فیس کی مد میں کثیر رقم کمائے گا۔ندیم جاوید نے کہا کہ گوادر سے سنکیانگ تک یہ راہداری اگلے برس جون سے قابل عمل ہوجائے گی اور پاکستان کو امید ہے کہ دنیا بھر کی تجارت کا 4 فیصد تک کا حصہ اس راہداری سے ہی گزرا کرے گا۔وزارت منصوبہ بندی کے چیف ماہر اقتصادیات کا کہنا تھا کہ تمام قسم کے ٹول ٹیکس اور کرایوں کی مد میں پاکستان کو اندازاً 6 سے 8 ارب ڈالرز تک سالانہ فائدہ حاصل ہوگا، ساتھ ہی انہوں نے امید ظاہر کی کہ 2020ء تک پاکستان یہ توازن حاصل کر لے گا۔ان کا کہنا تھا کہ چین کے لیے مغربی دنیا کے ساتھ تیل اور دیگر اشیا کی تجارت کی غرض سے سی پیک کو استعمال کرنا فائدہ مند ہے کیونکہ سی پیک نے چین کے روایتی راستے کو 15 ہزار کلومیٹر تک کم کردیا ہے جبکہ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اسے کروڑوں لیٹر ایندھن کی بچت بھی ہوگی۔
مستقبل کی پیش گوئی کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ تجارت کوئی درست سائنس نہیں ہے، اگر پاکستان کی بہتر صورتحال خراب ہوتی ہے تو پاکستان کے بلند نظر اہداف دوبارہ ماند پڑ سکتے ہیں۔تاہم چینی حکام نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ ملک میں سیکورٹی کی صورتحال کو مزید بہتر کیا جائے اور اسی وجہ سے پاکستانی حکام نے بلوچستان میں غیر ملکیوں کی نقل و حمل کو محدود کردیا ہے۔سرمایہ کار بھی پاکستان کے بڑھتے ہوئے خسارے پر نظر رکھے ہوئے ہیں جو سی پیک منصوبے کے لیے برآمد کی جانے والی مشینری کی وجہ سے 6 ارب 10 کروڑ ڈالرز تک پہنچ جائے گا۔ندیم جاوید کا کہنا تھا کہ قرض کی ادائیگی اور سی پیک سے ہونے والے منافع کی منتقلی 2019 ء سے شروع ہوجائے گی اور یہ 1 ارب 50 کروڑ ڈالر سے 1 ارب 90 کروڑ ڈالر تک ہوگی جو کہ بڑھ کر آئندہ سال 3 ارب ڈالر سے 3 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ جائے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ آغاز میں یہ ادائیگی کم رہے گی لیکن 2022ء تک یہ اپنی انتہائی سطح پر پہنچ کر 5 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی جبکہ حکومت اس امکان کے بارے میں نہیں سوچ رہی کہ اس صورتحال میں پاکستان ادائیگیوں کے بحران کا شکار ہوسکتا ہے۔
اس سے قبل 2013ء میں بھی پاکستان اسی قسم کی مالی مشکلات کا شکار ہوا تھا، جس کے بعد اس نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے مدد حاصل کی تھی۔ماہر اقتصادیات کا کہنا ہے کہ سی پیک ملکی اقتصادی ترقی کو فروغ دے گا اور اس سے بجلی نظام میں 7 ہزار میگا واٹ کے پاور پروجیکٹس کی تکمیل کے بعد ملک میں جاری توانائی بحران کو کم کرنے میں مدد ملے گی اور در آمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔ندیم جاوید نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان اور چین نے دونوں ممالک کے مرکزی بینکوں کے مابین کسی بھی تیسری بین الاقوامی کرنسی کے استعمال سے بچنے کے لیے طریقہ کار وضع کرنے کا معاہدہ کرنے کے حوالے سے بھی بات چیت کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایسا طریقہ کار لاگو ہو جاتا ہے تو یہ ایک بفر کی طرح کام کرے گا جو کسی بھی غیر متوقع حالات میں ہونے والی نادہندگی کی روک تھام کر سکتا ہے۔تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی بھی غیر متوقع حالات کی صورت میں ہنگامی انتظامات موجود ہیں۔
جہاں تک چین کے’ایک خطہ، ایک سڑک’ منصوبے کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی میں اضافے کے حوالے سے بعض حلقوں کی جانب سے ظاہر کیے جانے والے خطرات کا تعلق ہے، خود چین کے سفیر سن ویڈونگ نے پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق سامنے آنے والی ان افواہوں کو مسترد کردیا اورکہا کہ اس منصوبے پر ماحول پر کسی طرح کے منفی اثرات رونما ہونے کاکوئی خدشہ نہیں ہے۔ چینی سفارت خانے اور پاک چین انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے مشترکہ طور پر منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیر سن ویڈونگ کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان اور چین اسٹریٹیجک تعاون کے شراکت دار ہونے کی حیثیت سے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں’۔یہ پروگرام چین میں بین الاقوامی تعاون کے لیے 14 سے 15 مئی کے درمیان منعقد ہونے والے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کی مناسبت سے منعقد کیا گیا تھا۔اس فورم میں پاکستان سمیت 28 ممالک کی اعلیٰ قیادت، جبکہ 110 ممالک اور 60 بین الاقوامی اداروں کے نمائندے شرکت کریں گے، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینتونیو گیوٹیرس بھی اس کا حصہ بنیں گے۔چینی سفیر کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ ‘ایک خطہ، ایک سڑک منصوبے کی بنیاد روایتی چینی تہذیب پر رکھی گئی ہے جس کی اہم ترین روایات امن، ترقی اور خوشحالی ہیں’۔سی پیک کے تحت جاری منصوبوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے چینی سفیر نے کہا کہ 18.5 ارب ڈالرز کے معاہدے کے حجم کے 19 ابتدائی منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔سن ویڈونگ کا کہنا تھا کہ سی پیک کے تحت تیار ہونے والے چینی منصوبے پاکستان میں ماحولیاتی مسائل کا سبب نہیں بنیں گے اور نہ ہی سی پیک سے پاکستان کے مالی بوجھ میں کسی قسم کا اضافہ ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ چین پاکستان کے ساتھ یک طرفہ تجارت نہیں کرے گا بلکہ پاکستانی مصنوعات کی چین کو برآمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس حوالے سے سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنائے گا۔اس موقع پر سی پیک کی پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین اور سینیٹر مشاہد حسین سیدکا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات میں خاصی وسعت دیکھنے میں آئی ہے۔


متعلقہ خبریں


مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شیخ الجامعہ ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری کا مؤقف درست تسلیم حکومت، وزارت تعلیم اور ایچ ای سی کو فریق بنانے کی ہدایت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس و ٹیکنالوجی کے شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر...

مختص فنڈز دوسری مد میں خرچ نہیں کیے جا سکتے، سندھ ہائی کورٹ

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت وجود - جمعه 06 نومبر 2026

میزائل حملے کی کوشش کو مسلمانوں کے لیے کھلی اشتعال انگیزی اور شہریوں کی جانوں سے خطرناک کھیل ہے،قطر قطر، کویت، بحرین اور اردن نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی عرب کے مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی مبینہ کوشش کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ...

مدینہ منورہ کے علاقے کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کی کوشش، عرب ممالک کی حوثیوں کی مذمت

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز وجود - جمعه 06 نومبر 2026

چین 22 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ساتھ سب سے بڑا قرض خواہ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک بھی بڑے قرض دہندگان میں شامل گزشتہ 10 سال کے دوران پاکستان کا بیرونی قرض تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض خواہ ہے۔ عالمی بینک...

پاکستان کا بیرونی قرض 10 سال میں تقریباً دگنا ہوکر 135 ارب ڈالر سے تجاوز

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی وجود - جمعه 06 نومبر 2026

وکلا کی درخواست پر سماعت، بجلی کی بندش سے عدالتی امور متاثر ہونے کا مؤقف کے الیکٹرک نے فیڈر تبدیل کرنے اور لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی یقین دہانی کرادی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے اسد چیمبرز میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف وکلا کی درخواست پر کے الیکٹرک سے تحریری رپورٹ طلب کرلی...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، سندھ ہائیکورٹ نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرلی

میٹا نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے وجود - جمعه 06 نومبر 2026

ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس ایک کروڑ 60لاکھ ری سائیکل نمبرز موجود ،پی ٹی اے نے ایک کروڑ نمبرز کی تفصیلات میٹا کو بھجوائی تھیں میٹا نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار اکائونٹس بند کر دئیے۔ حکام کے مطابق غیر فعال نمبرز پر واٹس ایپ اکائونٹس سائبر فراڈ کا...

میٹا  نے پی ٹی اے کی درخواست پر ایک لاکھ 76ہزار واٹس ایپ اکائونٹس بند کردیے

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں وجود - جمعه 06 نومبر 2026

خواتین کے جائیداد حقوق سے متعلق محتسب اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی محتسب کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ محتسب کو پیچیدہ جائیداد تنازعات اور متنازعہ ملکیتی حقوق کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل نہیں، ایسے...

وفاقی محتسب پیچیدہ تنازعات کے فیصلہ نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ نے اختیارات کی حدود واضح کردیں

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر وجود - جمعه 06 نومبر 2026

گوشوارے جمع کروانا الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت ایک لازمی قانونی تقاضا ہے،الیکشن کمیشن اراکینِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے لیے مالی سال 26ـ2025 کے اثاثہ جات و واجبات کے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقررکردی گئی۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے کہاگیاہے کہ مالی سال ...

اراکینِ پارلیمنٹ کے لیے گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر مقرر

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

مضامین
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ وجود جمعه 06 نومبر 2026
تجھے اے ٹرمپ مبارک! یہ شکستِ فاتحانہ

نقاب کے پیچھے دفن انسان وجود جمعه 06 نومبر 2026
نقاب کے پیچھے دفن انسان

فضائی آلودگی کا عذاب وجود جمعه 06 نومبر 2026
فضائی آلودگی کا عذاب

ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر