وجود

... loading ...

وجود

خفیہ ڈیلنگ یا خاموش رہنے کا پیغام غلام قادر مری اور اشفاق لغاری کی پراسرار بازیابی اور پی پی قیادت کی خاموشی

منگل 09 مئی 2017 خفیہ ڈیلنگ یا خاموش رہنے کا پیغام غلام قادر مری اور اشفاق لغاری کی پراسرار بازیابی اور پی پی قیادت کی خاموشی

اشفاق لغاری اور غلام قادر مری کے اعترافی بیانات ریکارڈ، اہم دستاویزات حاصل کر لیے گئے،ذرائع ‘ نواب لغاری کے معاملے کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ بنا کر فوجی عدالت میں بھیجے جانے کا امکان

سواماہ قبل جب دو روز میں آصف علی زرداری کے تین اہم ساتھی اٹھالیے گئے تھے تو اس وقت ہلچل مچ گئی تھی، اتنے عرصے تک خاموش رہنے والے آصف علی زرداری نے فوری طور پر میڈیا میں انٹرویوز دیے اور حکومت کے خلاف سخت زبان استعمال کی۔ اور اپنے دوسرے رہنمائوں کے ذریعے ایسے بیانات دلوائے جس سے یہ اشارہ دیا گیا کہ ان تینوں افراد کو ریاستی خفیہ اداروں نے اٹھالیا ہے اور پھر آصف زرداری نے بار بار دھمکی دی کہ وہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں گے۔ اس کے بعد آصف زرداری نے ملک کے مختلف علاقوں میں جلسے بھی کیے اور حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان بھی کیا اور جلسوں میں ’’گو نواز گو ‘‘ اور ’’گو عمران گو‘‘کے نعرے بھی لگائے ۔ پھر جواب میں عمران خان نے دادو اور کراچی میں آصف زرداری ، نواز شریف کے خلاف جلسے کیے جبکہ وزیراعظم نواز شریف نے اوکاڑا اور لیہ میں جلسے کیے جہاں عمران خان، آصف زرداری کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ آصف زرداری کے تینوں ساتھیوں نواب لغاری، اشفاق لغاری اور غلام قادر مری میں ایسی کیا بات تھی کہ آصف زرداری اور پی پی کی اعلیٰ قیادت بِن جَل مچھلی کی طرح تڑپتی رہی ۔
نواب لغاری کے بارے میں ڈاکٹر نثار موراثی نے جے آئی ٹی کے سامنے انکشاف کیا کہ وہ سابق وفاقی سیکریٹری عالم بلوچ، چیئرمین پاکستان اسٹیل سید سجاد حسین شاہ، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس راشد عزیز کے بیٹے عمران عزیز پر قاتلانہ حملے سمیت درجنوں ہائی پروفائل مقدمات میں ملوث ہے، لیکن دو اہم مقدمات ہیں جس میں ان سے تفتیش کی اطلاعات نے پی پی کی اعلیٰ ترین قیادت کو ہلا کررکھ دیا۔ ان سے ماڈل ایان علی کو گرفتار کرنے والے تفتیشی افسر انسپکٹر اعجاز چوہدری اور ایک لیفٹیننٹ کرنل اسحاق کے قتل کی تحقیقات کی جارہی ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ جب زبان کھولیں گے تو اس میں استثنیٰ رکھنے والے پی پی رہنما جیل جائیں گے اور پھر یہ بات بھی کھلے گی کہ عزیر بلوچ نے جو انکشاف کیا ہے کہ بلاول ہائوس کے اطراف میں جو بنگلے زبردستی خالی کرائے گئے تھے اور شوگر ملز مالکان کو پکڑ کر حراست میں لے کر ان سے کم قیمت پر شوگر ملز خریدی گئی تھیںاس میں نواب لغاری کا اصل کردار کیا تھا کیونکہ بڑے صاحب کی نجی فورس کے کمانڈر نواب لغاری تھے۔
دوسرے مغوی اشفاق لغاری کے پاس اومنی گروپ کے مالی اور انتظامی معاملات تھے۔ اومنی گروپ کے دفاتر اور اہم ذمہ دار کے گھروں پر گزشتہ برس رینجرز نے چھاپے مارے تھے اور وہاں سے بڑی تعداد میں اسلحہ برآمد کیا گیا تھا جس کے بعد اومنی گروپ کے روح رواں انور مجید کی نیندیں حرام ہوگئی تھیں اور انور مجید نے آئی جی سندھ پولیس پر دبائو ڈالا کہ وہ اس مقدمے میں ان (انور مجید) کی طرفداری کریں اور کیس ختم کر دیں لیکن آئی جی سندھ پولیس نے قطعی انکار کر دیا اور یہاں سے آئی جی سندھ پولیس اور انور مجید کے فاصلے بڑھتے گئے۔باوثوق ذرائع کے مطابق جب اشفاق لغاری سے دوران تفتیش اسلحہ کے بارے میں پوچھا گیا، ان سے ماڈل ایان علی کی منی لانڈرنگ، شوگر ملز خرید نے جیسے معاملات کی تحقیقات کی گئی تو اس نے بہت سارے راز کھول دیے ۔
اس طرح غلام قادر مری کے بارے میں بہت زیادہ خبریں مل رہی تھیں کہ ضلع ٹنڈو الہیار میں بڑے صاحب کے نام پر زمینیں خرید لیں اور پھر وہاں ایسے افراد کو پناہ دی ہوئی تھی جن کا تعلق بلوچستان کے فراری گروپوں سے تھا اور وہ جرائم کی دنیا سے تعلق رکھتے تھے، بلوچستان میں وہ تخریب کاری اور دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں۔ اب ان سارے ثبوتوں کے بعد اعلیٰ سطح پر کیس تیار کیا جا رہا ہے کہ کس معاملے کا کیس پہلے دائر کیا جائے اور کس معاملے کی تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے؟ اور یہ بھی غور کیا جا رہا ہے کہ یہ کیس کہاں دائر کیے جائیں اور کس صوبے میں درج کیے جائیں؟ پولیس کیس درج کرے یا ایف آئی اے کو درج کرنے کے لیے کہا جائے؟ جے آئی ٹی بنائی جائے تو کس کی سربراہی میں بنائے جائے؟ ان معاملات پر صلاح مشورے مکمل کر لیے گئے ہیں ،دونوں مغویوں اشفاق لغاری اور غلام قادر مری کے اعترافی بیانات بھی ریکارڈ کر لیے گئے ہیں اور ان سے اہم دستاویزات بھی لے لیے گئے ہیں۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انہیں کہا گیا ہے کہ وہ جاکر بڑے صاحب کو بتا دیں کہ ہم سے کیا پوچھا گیااور ہم نے کیا جوابات دیے ؟ اب دونوں مغویوں کو تو چھوڑ دیا گیا ہے لیکن نواب لغاری کے معاملہ پر یہ غور کیا جا رہا ہے کہ ان پر کیس بنا کر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ان پر مقدمہ فوجی عدالت میں بھیجا جائے تاکہ اہم مقدمات پر جلد فیصلہ کیا جاسکے اور ایسی عدالتوں پر کوئی بھی اثر انداز نہ ہوسکے، نواب لغاری کے بارے میں حالیہ انٹرویوز میں آصف زرداری نے کہا کہ وہ نواب لغاری کو نہیں جانتے اور ان سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے، اس بات نے نواب لغاری کو مشتعل کر دیا ہے اور امکان ہے کہ نواب لغاری اپنے اعترافی وڈیو میں ڈاکٹر نثار مورائی کی طرح بہت سے راز فاش کر دیں کیونکہ نجی فورس کے وہی روح رواں ہیں اور ہائی پروفائل معاملات کے نگراں بھی وہی رہے ہیں۔ دو افراد اشفاق لغاری اور غلام قادر مری کی بازیابی کے فوراً بعد بڑے صاحب کی بے چینی بڑھ گئی اور انہوں نے فوری طور پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے کہا کہ وہ جاکر دونوں بازیاب ہونے والے افراد سے ملیں اور وزیراعلیٰ نے دونوں سے ملاقات کی اور پھر ان کی بات بھی بڑے صاحب سے کرادی اور خود بھی رپورٹ دے دی تاہم اس کے بعد بڑے صاحب کی بے چینی میں کمی نہیں ہوئی کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ دونوں افراد واپس تو آگئے ہیں لیکن وہ تمام خفیہ معلومات دے کر آگء ہیں اور اب جو نواب لغاری واپس نہیں آیا تو اس کا مطلب ہے کہ انہیں پیغام دیا گیا ہے کہ اب تمام ثبوت جمع کر لیے گئے ہیں اور بڑا کیس بنانے کی تیاری بھی مکمل کرلی گئی ہے، اب نواب لغاری ہی وہ طوطا ہے جس میں بڑے صاحب کی روح موجود ہے ۔

درد بڑھتا گیا ۔۔۔

اشفاق لغاری اور غلام قادر مری کی بازیابی کے فوراً بعد بڑے صاحب نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے کہا کہ وہ جاکر دونوں بازیاب ہونے والے افراد سے ملیں,انہوں نے ملاقات کرکے دونوں کی بات بھی بڑے صاحب سے کرادی لیکن بڑے صاحب کی بے چینی میں کمی نہیں ہوئی


متعلقہ خبریں


آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی وجود - بدھ 10 جون 2026

گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...

آزاد کشمیر میں مظاہرین پر گولی چلانا غلط ہے، چیئرمین پی ٹی آئی

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم وجود - بدھ 10 جون 2026

28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...

کراچی کے مسائل حل نہ ہوئے تو ہڑتال کا اعلان کر سکتے ہیں، حافظ نعیم

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات وجود - بدھ 10 جون 2026

خیبرپختونخواہ میں 40 کے قریب ناراض تحریک انصاف ارکان کا بڑا فارورڈ بلاک تشکیل پانے کا دعویٰ کردیا گیا بانی کی رہائی کیلئے قرآن پر حلف نہیں لیا جاتا، صوبائی بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے، ایم پی اے ٰ کی نجی ٹی وی سے گفتگو خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات ا...

عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید وجود - بدھ 10 جون 2026

طائر شہر میں رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، شہری جبری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے شرکیہ میں حملے کیے، کئی افراد زخمی ہو گئے،اسرائیلی فوج کی انخلا کی وارننگ جاری اسرائیل نے ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے لبنان پر وحشیانہ حملے تیز کر دیٔے، مزید 8 لبنانی شہری شہید ہو گئے۔لبنانی می...

اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار، لبنان پر حملے میں 8 افراد شہید

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر