وجود

... loading ...

وجود

خفیہ ڈیلنگ یا خاموش رہنے کا پیغام غلام قادر مری اور اشفاق لغاری کی پراسرار بازیابی اور پی پی قیادت کی خاموشی

منگل 09 مئی 2017 خفیہ ڈیلنگ یا خاموش رہنے کا پیغام غلام قادر مری اور اشفاق لغاری کی پراسرار بازیابی اور پی پی قیادت کی خاموشی

اشفاق لغاری اور غلام قادر مری کے اعترافی بیانات ریکارڈ، اہم دستاویزات حاصل کر لیے گئے،ذرائع ‘ نواب لغاری کے معاملے کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ بنا کر فوجی عدالت میں بھیجے جانے کا امکان

سواماہ قبل جب دو روز میں آصف علی زرداری کے تین اہم ساتھی اٹھالیے گئے تھے تو اس وقت ہلچل مچ گئی تھی، اتنے عرصے تک خاموش رہنے والے آصف علی زرداری نے فوری طور پر میڈیا میں انٹرویوز دیے اور حکومت کے خلاف سخت زبان استعمال کی۔ اور اپنے دوسرے رہنمائوں کے ذریعے ایسے بیانات دلوائے جس سے یہ اشارہ دیا گیا کہ ان تینوں افراد کو ریاستی خفیہ اداروں نے اٹھالیا ہے اور پھر آصف زرداری نے بار بار دھمکی دی کہ وہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں گے۔ اس کے بعد آصف زرداری نے ملک کے مختلف علاقوں میں جلسے بھی کیے اور حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان بھی کیا اور جلسوں میں ’’گو نواز گو ‘‘ اور ’’گو عمران گو‘‘کے نعرے بھی لگائے ۔ پھر جواب میں عمران خان نے دادو اور کراچی میں آصف زرداری ، نواز شریف کے خلاف جلسے کیے جبکہ وزیراعظم نواز شریف نے اوکاڑا اور لیہ میں جلسے کیے جہاں عمران خان، آصف زرداری کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ آصف زرداری کے تینوں ساتھیوں نواب لغاری، اشفاق لغاری اور غلام قادر مری میں ایسی کیا بات تھی کہ آصف زرداری اور پی پی کی اعلیٰ قیادت بِن جَل مچھلی کی طرح تڑپتی رہی ۔
نواب لغاری کے بارے میں ڈاکٹر نثار موراثی نے جے آئی ٹی کے سامنے انکشاف کیا کہ وہ سابق وفاقی سیکریٹری عالم بلوچ، چیئرمین پاکستان اسٹیل سید سجاد حسین شاہ، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس راشد عزیز کے بیٹے عمران عزیز پر قاتلانہ حملے سمیت درجنوں ہائی پروفائل مقدمات میں ملوث ہے، لیکن دو اہم مقدمات ہیں جس میں ان سے تفتیش کی اطلاعات نے پی پی کی اعلیٰ ترین قیادت کو ہلا کررکھ دیا۔ ان سے ماڈل ایان علی کو گرفتار کرنے والے تفتیشی افسر انسپکٹر اعجاز چوہدری اور ایک لیفٹیننٹ کرنل اسحاق کے قتل کی تحقیقات کی جارہی ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ جب زبان کھولیں گے تو اس میں استثنیٰ رکھنے والے پی پی رہنما جیل جائیں گے اور پھر یہ بات بھی کھلے گی کہ عزیر بلوچ نے جو انکشاف کیا ہے کہ بلاول ہائوس کے اطراف میں جو بنگلے زبردستی خالی کرائے گئے تھے اور شوگر ملز مالکان کو پکڑ کر حراست میں لے کر ان سے کم قیمت پر شوگر ملز خریدی گئی تھیںاس میں نواب لغاری کا اصل کردار کیا تھا کیونکہ بڑے صاحب کی نجی فورس کے کمانڈر نواب لغاری تھے۔
دوسرے مغوی اشفاق لغاری کے پاس اومنی گروپ کے مالی اور انتظامی معاملات تھے۔ اومنی گروپ کے دفاتر اور اہم ذمہ دار کے گھروں پر گزشتہ برس رینجرز نے چھاپے مارے تھے اور وہاں سے بڑی تعداد میں اسلحہ برآمد کیا گیا تھا جس کے بعد اومنی گروپ کے روح رواں انور مجید کی نیندیں حرام ہوگئی تھیں اور انور مجید نے آئی جی سندھ پولیس پر دبائو ڈالا کہ وہ اس مقدمے میں ان (انور مجید) کی طرفداری کریں اور کیس ختم کر دیں لیکن آئی جی سندھ پولیس نے قطعی انکار کر دیا اور یہاں سے آئی جی سندھ پولیس اور انور مجید کے فاصلے بڑھتے گئے۔باوثوق ذرائع کے مطابق جب اشفاق لغاری سے دوران تفتیش اسلحہ کے بارے میں پوچھا گیا، ان سے ماڈل ایان علی کی منی لانڈرنگ، شوگر ملز خرید نے جیسے معاملات کی تحقیقات کی گئی تو اس نے بہت سارے راز کھول دیے ۔
اس طرح غلام قادر مری کے بارے میں بہت زیادہ خبریں مل رہی تھیں کہ ضلع ٹنڈو الہیار میں بڑے صاحب کے نام پر زمینیں خرید لیں اور پھر وہاں ایسے افراد کو پناہ دی ہوئی تھی جن کا تعلق بلوچستان کے فراری گروپوں سے تھا اور وہ جرائم کی دنیا سے تعلق رکھتے تھے، بلوچستان میں وہ تخریب کاری اور دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں۔ اب ان سارے ثبوتوں کے بعد اعلیٰ سطح پر کیس تیار کیا جا رہا ہے کہ کس معاملے کا کیس پہلے دائر کیا جائے اور کس معاملے کی تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے؟ اور یہ بھی غور کیا جا رہا ہے کہ یہ کیس کہاں دائر کیے جائیں اور کس صوبے میں درج کیے جائیں؟ پولیس کیس درج کرے یا ایف آئی اے کو درج کرنے کے لیے کہا جائے؟ جے آئی ٹی بنائی جائے تو کس کی سربراہی میں بنائے جائے؟ ان معاملات پر صلاح مشورے مکمل کر لیے گئے ہیں ،دونوں مغویوں اشفاق لغاری اور غلام قادر مری کے اعترافی بیانات بھی ریکارڈ کر لیے گئے ہیں اور ان سے اہم دستاویزات بھی لے لیے گئے ہیں۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انہیں کہا گیا ہے کہ وہ جاکر بڑے صاحب کو بتا دیں کہ ہم سے کیا پوچھا گیااور ہم نے کیا جوابات دیے ؟ اب دونوں مغویوں کو تو چھوڑ دیا گیا ہے لیکن نواب لغاری کے معاملہ پر یہ غور کیا جا رہا ہے کہ ان پر کیس بنا کر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ان پر مقدمہ فوجی عدالت میں بھیجا جائے تاکہ اہم مقدمات پر جلد فیصلہ کیا جاسکے اور ایسی عدالتوں پر کوئی بھی اثر انداز نہ ہوسکے، نواب لغاری کے بارے میں حالیہ انٹرویوز میں آصف زرداری نے کہا کہ وہ نواب لغاری کو نہیں جانتے اور ان سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے، اس بات نے نواب لغاری کو مشتعل کر دیا ہے اور امکان ہے کہ نواب لغاری اپنے اعترافی وڈیو میں ڈاکٹر نثار مورائی کی طرح بہت سے راز فاش کر دیں کیونکہ نجی فورس کے وہی روح رواں ہیں اور ہائی پروفائل معاملات کے نگراں بھی وہی رہے ہیں۔ دو افراد اشفاق لغاری اور غلام قادر مری کی بازیابی کے فوراً بعد بڑے صاحب کی بے چینی بڑھ گئی اور انہوں نے فوری طور پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے کہا کہ وہ جاکر دونوں بازیاب ہونے والے افراد سے ملیں اور وزیراعلیٰ نے دونوں سے ملاقات کی اور پھر ان کی بات بھی بڑے صاحب سے کرادی اور خود بھی رپورٹ دے دی تاہم اس کے بعد بڑے صاحب کی بے چینی میں کمی نہیں ہوئی کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ دونوں افراد واپس تو آگئے ہیں لیکن وہ تمام خفیہ معلومات دے کر آگء ہیں اور اب جو نواب لغاری واپس نہیں آیا تو اس کا مطلب ہے کہ انہیں پیغام دیا گیا ہے کہ اب تمام ثبوت جمع کر لیے گئے ہیں اور بڑا کیس بنانے کی تیاری بھی مکمل کرلی گئی ہے، اب نواب لغاری ہی وہ طوطا ہے جس میں بڑے صاحب کی روح موجود ہے ۔

درد بڑھتا گیا ۔۔۔

اشفاق لغاری اور غلام قادر مری کی بازیابی کے فوراً بعد بڑے صاحب نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے کہا کہ وہ جاکر دونوں بازیاب ہونے والے افراد سے ملیں,انہوں نے ملاقات کرکے دونوں کی بات بھی بڑے صاحب سے کرادی لیکن بڑے صاحب کی بے چینی میں کمی نہیں ہوئی


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر