... loading ...
اشفاق لغاری اور غلام قادر مری کے اعترافی بیانات ریکارڈ، اہم دستاویزات حاصل کر لیے گئے،ذرائع ‘ نواب لغاری کے معاملے کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ بنا کر فوجی عدالت میں بھیجے جانے کا امکان
سواماہ قبل جب دو روز میں آصف علی زرداری کے تین اہم ساتھی اٹھالیے گئے تھے تو اس وقت ہلچل مچ گئی تھی، اتنے عرصے تک خاموش رہنے والے آصف علی زرداری نے فوری طور پر میڈیا میں انٹرویوز دیے اور حکومت کے خلاف سخت زبان استعمال کی۔ اور اپنے دوسرے رہنمائوں کے ذریعے ایسے بیانات دلوائے جس سے یہ اشارہ دیا گیا کہ ان تینوں افراد کو ریاستی خفیہ اداروں نے اٹھالیا ہے اور پھر آصف زرداری نے بار بار دھمکی دی کہ وہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں گے۔ اس کے بعد آصف زرداری نے ملک کے مختلف علاقوں میں جلسے بھی کیے اور حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان بھی کیا اور جلسوں میں ’’گو نواز گو ‘‘ اور ’’گو عمران گو‘‘کے نعرے بھی لگائے ۔ پھر جواب میں عمران خان نے دادو اور کراچی میں آصف زرداری ، نواز شریف کے خلاف جلسے کیے جبکہ وزیراعظم نواز شریف نے اوکاڑا اور لیہ میں جلسے کیے جہاں عمران خان، آصف زرداری کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ آصف زرداری کے تینوں ساتھیوں نواب لغاری، اشفاق لغاری اور غلام قادر مری میں ایسی کیا بات تھی کہ آصف زرداری اور پی پی کی اعلیٰ قیادت بِن جَل مچھلی کی طرح تڑپتی رہی ۔
نواب لغاری کے بارے میں ڈاکٹر نثار موراثی نے جے آئی ٹی کے سامنے انکشاف کیا کہ وہ سابق وفاقی سیکریٹری عالم بلوچ، چیئرمین پاکستان اسٹیل سید سجاد حسین شاہ، چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس راشد عزیز کے بیٹے عمران عزیز پر قاتلانہ حملے سمیت درجنوں ہائی پروفائل مقدمات میں ملوث ہے، لیکن دو اہم مقدمات ہیں جس میں ان سے تفتیش کی اطلاعات نے پی پی کی اعلیٰ ترین قیادت کو ہلا کررکھ دیا۔ ان سے ماڈل ایان علی کو گرفتار کرنے والے تفتیشی افسر انسپکٹر اعجاز چوہدری اور ایک لیفٹیننٹ کرنل اسحاق کے قتل کی تحقیقات کی جارہی ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ جب زبان کھولیں گے تو اس میں استثنیٰ رکھنے والے پی پی رہنما جیل جائیں گے اور پھر یہ بات بھی کھلے گی کہ عزیر بلوچ نے جو انکشاف کیا ہے کہ بلاول ہائوس کے اطراف میں جو بنگلے زبردستی خالی کرائے گئے تھے اور شوگر ملز مالکان کو پکڑ کر حراست میں لے کر ان سے کم قیمت پر شوگر ملز خریدی گئی تھیںاس میں نواب لغاری کا اصل کردار کیا تھا کیونکہ بڑے صاحب کی نجی فورس کے کمانڈر نواب لغاری تھے۔
دوسرے مغوی اشفاق لغاری کے پاس اومنی گروپ کے مالی اور انتظامی معاملات تھے۔ اومنی گروپ کے دفاتر اور اہم ذمہ دار کے گھروں پر گزشتہ برس رینجرز نے چھاپے مارے تھے اور وہاں سے بڑی تعداد میں اسلحہ برآمد کیا گیا تھا جس کے بعد اومنی گروپ کے روح رواں انور مجید کی نیندیں حرام ہوگئی تھیں اور انور مجید نے آئی جی سندھ پولیس پر دبائو ڈالا کہ وہ اس مقدمے میں ان (انور مجید) کی طرفداری کریں اور کیس ختم کر دیں لیکن آئی جی سندھ پولیس نے قطعی انکار کر دیا اور یہاں سے آئی جی سندھ پولیس اور انور مجید کے فاصلے بڑھتے گئے۔باوثوق ذرائع کے مطابق جب اشفاق لغاری سے دوران تفتیش اسلحہ کے بارے میں پوچھا گیا، ان سے ماڈل ایان علی کی منی لانڈرنگ، شوگر ملز خرید نے جیسے معاملات کی تحقیقات کی گئی تو اس نے بہت سارے راز کھول دیے ۔
اس طرح غلام قادر مری کے بارے میں بہت زیادہ خبریں مل رہی تھیں کہ ضلع ٹنڈو الہیار میں بڑے صاحب کے نام پر زمینیں خرید لیں اور پھر وہاں ایسے افراد کو پناہ دی ہوئی تھی جن کا تعلق بلوچستان کے فراری گروپوں سے تھا اور وہ جرائم کی دنیا سے تعلق رکھتے تھے، بلوچستان میں وہ تخریب کاری اور دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں۔ اب ان سارے ثبوتوں کے بعد اعلیٰ سطح پر کیس تیار کیا جا رہا ہے کہ کس معاملے کا کیس پہلے دائر کیا جائے اور کس معاملے کی تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے؟ اور یہ بھی غور کیا جا رہا ہے کہ یہ کیس کہاں دائر کیے جائیں اور کس صوبے میں درج کیے جائیں؟ پولیس کیس درج کرے یا ایف آئی اے کو درج کرنے کے لیے کہا جائے؟ جے آئی ٹی بنائی جائے تو کس کی سربراہی میں بنائے جائے؟ ان معاملات پر صلاح مشورے مکمل کر لیے گئے ہیں ،دونوں مغویوں اشفاق لغاری اور غلام قادر مری کے اعترافی بیانات بھی ریکارڈ کر لیے گئے ہیں اور ان سے اہم دستاویزات بھی لے لیے گئے ہیں۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انہیں کہا گیا ہے کہ وہ جاکر بڑے صاحب کو بتا دیں کہ ہم سے کیا پوچھا گیااور ہم نے کیا جوابات دیے ؟ اب دونوں مغویوں کو تو چھوڑ دیا گیا ہے لیکن نواب لغاری کے معاملہ پر یہ غور کیا جا رہا ہے کہ ان پر کیس بنا کر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت ان پر مقدمہ فوجی عدالت میں بھیجا جائے تاکہ اہم مقدمات پر جلد فیصلہ کیا جاسکے اور ایسی عدالتوں پر کوئی بھی اثر انداز نہ ہوسکے، نواب لغاری کے بارے میں حالیہ انٹرویوز میں آصف زرداری نے کہا کہ وہ نواب لغاری کو نہیں جانتے اور ان سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے، اس بات نے نواب لغاری کو مشتعل کر دیا ہے اور امکان ہے کہ نواب لغاری اپنے اعترافی وڈیو میں ڈاکٹر نثار مورائی کی طرح بہت سے راز فاش کر دیں کیونکہ نجی فورس کے وہی روح رواں ہیں اور ہائی پروفائل معاملات کے نگراں بھی وہی رہے ہیں۔ دو افراد اشفاق لغاری اور غلام قادر مری کی بازیابی کے فوراً بعد بڑے صاحب کی بے چینی بڑھ گئی اور انہوں نے فوری طور پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے کہا کہ وہ جاکر دونوں بازیاب ہونے والے افراد سے ملیں اور وزیراعلیٰ نے دونوں سے ملاقات کی اور پھر ان کی بات بھی بڑے صاحب سے کرادی اور خود بھی رپورٹ دے دی تاہم اس کے بعد بڑے صاحب کی بے چینی میں کمی نہیں ہوئی کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ دونوں افراد واپس تو آگئے ہیں لیکن وہ تمام خفیہ معلومات دے کر آگء ہیں اور اب جو نواب لغاری واپس نہیں آیا تو اس کا مطلب ہے کہ انہیں پیغام دیا گیا ہے کہ اب تمام ثبوت جمع کر لیے گئے ہیں اور بڑا کیس بنانے کی تیاری بھی مکمل کرلی گئی ہے، اب نواب لغاری ہی وہ طوطا ہے جس میں بڑے صاحب کی روح موجود ہے ۔
اشفاق لغاری اور غلام قادر مری کی بازیابی کے فوراً بعد بڑے صاحب نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے کہا کہ وہ جاکر دونوں بازیاب ہونے والے افراد سے ملیں,انہوں نے ملاقات کرکے دونوں کی بات بھی بڑے صاحب سے کرادی لیکن بڑے صاحب کی بے چینی میں کمی نہیں ہوئی
صدراور وزیراعظم کے درمیان ملاقات میں پہلگام حملے کے بعد بھارت کے ساتھ کشیدگی کے پیشِ نظر موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال، بھارت کے جارحانہ رویہ اور اشتعال انگیز بیانات پر گہری تشویش کا اظہار بھارتی رویے سے علاقائی امن و استحکام کو خطرہ ہے ، پاکستان اپنی علاقائ...
پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے ، کوئی کسی بھی قسم کی غلط فہمی میں نہ رہے، بھارت کے کسی بھی مس ایڈونچر کا فوری اور بھرپور جواب دیں گے ، پاکستان علاقائی امن کا عزم کیے ہوئے ہے پاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے منگلا اسٹرائیک کور کی جنگی مشقوں کا معائنہ اور یمر اسٹر...
دستاویز پہلگام حملے میں بھارتی حکومت کے ملوث ہونے کا واضح ثبوت ہے ، رپورٹ دستاویز ثابت کرتی ہے پہلگام بھی پچھلے حملوں کی طرح فالس فلیگ آپریشن تھا، ماہرین پہلگام فالس فلیگ آپریشن میں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ''را'' کا کردار بے نقاب ہوگیا، اہم دستاویز سوشل میڈیا ایپلی کیشن ٹی...
نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے فیصلوں کے مطابق زیرِ التوا کیسز کو نمٹایا جائے گا اپیل پر پہلے پیپر بکس تیار ہوں گی، اس کے بعد اپیل اپنے نمبر پر لگائی جائے گی ، رپورٹ رجسٹرار آفس نے 190ملین پاؤنڈ کیس سے متعلق تحریری رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرا دی۔تحریری رپورٹ...
تمام انسانوں کے حقوق برابر ہیں، کسی سے آپ زبردستی کام نہیں لے سکتے سوال ہے کہ کیا میں بحیثیت جج اپنا کام درست طریقے سے کر رہا ہوں؟ خطاب سپریم کورٹ کے جج جسٹس جمال مندوخیل نے کہاہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہم ججز انصاف نہیں کرتے ، آپ حیران ہوں گے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں؟ انصاف تو ا...
پیچیدہ مسائل بھی بامعنی اور تعمیری مذاکرات کے ذریعے پرامن طور پر حل کیے جا سکتے ہیں،یو این سیکریٹری کا مقبوضہ کشمیر واقعے کے بعد پاکستان، بھارت کے درمیان کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنے اور بات چیت کے دوبارہ آغاز کے لیے کسی بھی ایسی ک...
پاکستان نے کہا ہے کہ اس کے پاس جعفر ایکسپریس مسافر ٹرین پر حملے کے بارے میں قابل اعتماد شواہد موجود ہیں جس میں کم از کم 30 بے گناہ پاکستانی شہری شہید ہوئے اور درجنوں کو یرغمال بنایا گیا ۔ یہ حملہ اس کے علاقائی حریفوں کی بیرونی معاونت سے کیا گیا تھا۔اقوام متحدہ میں دہشت ...
دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے ،قونصلر جواد اجمل پاکستان نے کہا ہے کہ اس کے پاس جعفر ایکسپریس مسافر ٹرین پر حملے کے بارے میں قابل اعتماد شواہد موجود ہیں جس میں کم از کم 30 بے گناہ پاکستانی شہری شہید ہوئے اور درجنوں کو یرغمال بنایا گیا ۔ یہ حملہ اس کے علاق...
تنازع زدہ علاقوں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے یکساں نقطہ نظر اپنایا جائے دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے ،قونصلر جواد اجمل پاکستان نے کہا ہے کہ اس کے پاس جعفر ایکسپریس مسافر ٹرین پر حملے کے بارے میں قابل اعتماد شواہد موجود ہیں جس میں کم از کم 30 بے گنا...
زراعت، صنعت، برآمدات اور دیگر شعبوں میں آئی ٹی اور اے آئی سے استفادہ کیا جا رہا ہے 11 ممالک کے آئی ٹی ماہرین کے وفود کو پاکستان آنے پر خوش آمدید کہتے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی سے تبدیلی آئی ہے ، دو دہائیوں کی نسبت آ...
8 رکنی کونسل کے ارکان میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزرا اسحٰق ڈار، خواجہ آصف اور امیر مقام شامل ، کونسل کے اجلاس میں 25 افراد نے خصوصی دعوت پر شرکت کی حکومت نے اتفاق رائے سے نہروں کا منصوبہ واپس لے لیا اور اسے ختم کرنے کا اعلان کیا، نہروں کی تعمیر کے مسئلے پر...
دونوں ممالک کی سرحدوں پر فوج کھڑی ہے ، خطرہ موجود ہے ، ایسی صورتحال پیدا ہو تو ہم اس کے لیے بھی سو فیصد تیار ہیں، ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیں گے ، تینوں مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے تیار کھڑی ہیں پہلگام واقعے پر تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا کوئی جواب نہ...