وجود

... loading ...

وجود

سندھ میں زمینوں کی بندر بانٹ۔پابندی کے باوجود وزرائے اعلیٰ الاٹمنٹ کرتے رہے

پیر 08 مئی 2017 سندھ میں زمینوں کی بندر بانٹ۔پابندی کے باوجود وزرائے اعلیٰ الاٹمنٹ کرتے رہے

قیام پاکستان کے بعد کراچی میں جس شعبہ میں پیسہ کمایاگیا وہ زمینوں کی الاٹمنٹ اورناجائز قبضہ ہے ،کراچی میں قیام پاکستان سے لے کر آج تک زمینوں کے سلسلے میں کسی بھی قانون پر عمل نہیں کیاگیا‘سندھ حکومت زمینوں کی قانونی الاٹمنٹ کرے گی تو پھر اویس مظفرٹپی‘ ذوالفقار مرزا‘ نادرمگسی‘ آغا سراج درانی‘ منظور وسان‘ امیر بخش بھنبھرو‘ بابرغوری ‘چنوں ماموں‘ بشیرخاصخیلی‘ گلزار سومرو جیسے افراد کس طرح راتوں رات کروڑوں پتی بنتے

قیام پاکستان کے بعد کراچی میں اگر کسی شعبہ میں پیسہ کمایاگیا ہے تو وہ زمینوں کی الاٹمنٹ‘ زمینوں پر قبضوں سے کمایاگیا ہے ،کیونکہ کراچی میں قیام پاکستان سے لے کر آج تک زمینوں کے سلسلے میں کسی بھی قانون پر عمل نہیں کیاگیا جس کے باعث غیرقانونی کام تیز ہوا ہے۔ ایک ہولناک انکشاف یہ ہوا ہے کہ سندھی مسلم سوسائٹی‘ کراچی ایڈمنسٹریٹوسوسائٹی اور پی ای سی ایچ سوسائٹی کی زمین پر ایک فرضی سوسائٹی بنائی گئی جس کا نام اقبال سوسائٹی رکھاگیا، اقبال سوسائٹی کی نہ تو کوئی زمین رہی اور نہ ہی اس کی رجسٹریشن ہوئی مگر اقبال سوسائٹی کے نام پر دو ہزار سے زائد افراد کو پلاٹ الاٹ کیے گئے اور اس کے عوض تین چار ارب روپے کمائے گئے اور پھر نہ پلاٹ رہا اور نہ ہی الاٹمنٹ کرنے والے رہے۔ یہاں فرضی سوسائٹیاں‘ جعلی آبادیاں‘ یہاں قبضے کرکے راتوں رات ہاؤسنگ اسکیمیں تیار کی گئیں اور کسی نے آج تک ہمت نہیں کی کہ اتنی بڑی جعلسازی کے خلاف اقدام اٹھائے اور جعلسازوں کوکیفرکردار تک پہنچائے اور جو لوگ حکومت‘ پولیس‘ انتظامیہ اور بااثرافراد کے ساتھ مل جل کر یہ کام کرتے رہتے ہیں ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑسکتا ۔اب حال ہی میں نیب نے ایک چونکا دینے والی رپورٹ تیار کی ہے جو اب سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی۔ اس رپورٹ کو پڑھنے سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زمینوں کی الاٹمنٹ پر سندھ میں1985ءسے مکمل پابندی ہے، ریونیو ایکٹ کے تحت زمینوں کی الاٹمنٹ کا اختیار ڈپٹی کمشنر کو ہوتا ہے۔1985ءمیں اس وقت کی حکومت نے زمینوں کی الاٹمنٹ پر پابندی عائد کردی۔ اس کے بعد سے لے کر اب تک جتنی بھی الاٹمنٹ کی گئی ہیں وہ وزرائے اعلیٰ نے کی ہیں ۔بورڈ آف ریونیو جتنی بھی سمریاں بھیجتا ہے وہ وزیراعلیٰ سندھ کو منظوری کے لیے بھیجی جاتی ہیں اور اس میں پابندی کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ اس پابندی کو ختم کرکے زمین الاٹ کی جائے۔ہر وزیراعلیٰ اس سمری میں زمین کی الاٹمنٹ کے لیے پابندی معطل کرکے الاٹمنٹ کردیتا ہے اور سمری منظوری ہونے کے بعد پھر پابندی بحال ہوجاتی ہے اور یہ چوہے بلی کا کھیل تا حال جاری ہے اس سے ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ1985ءسے لے کر آج تک کوئی بھی حکومت قانون کے مطابق زمین الاٹ نہیں کررہی ہے اور پابندی برقرار رکھنے کا ایک مقصد یہ ہے کہ عام آدمی یا حقدار زمین الاٹ ہی نہ کرواسکے کیونکہ ریونیو ایکٹ کے تحت ہرڈپٹی کمشنر کھلی کچہری لگائے گا اور زمین کی الاٹمنٹ کے لیے درخواستیں لے گا اور پھر کھلی کچہری میں وہ سب کے سامنے تمام درخواستوں کو مدنظررکھ کر زمین کی الاٹمنٹ کا اعلان کرے گا۔ ڈپٹی کمشنر تک علاقہ کے لوگوں کی رسائی بھی ہوسکتی ہے اور طریقہ بھی شفاف ہوتا ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا اور مقدمات بھی نہیں ہوتے اور پھر ڈپٹی کمشنر کے پاس اعتراضات بھی دائر کیے جاتے ہیں، وہ بھی کھلی کچہری میں سنے اور حل کیے جاتے ہیں۔ جب الاٹمنٹ وزیراعلیٰ کریں گے توپھر عام آدمی کی پہنچ بھی نہیں ہوسکتی اور پھر کھلی کچہری کی طرح شفافیت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ وزیراعلیٰ تو من پسند الاٹمنٹ کرے گا جس سے اعتراضات بھی اٹھتے ہیں اور معاملات عدالتوں میں چلے جاتے ہیں اور نیب‘ محکمہ اینٹی کرپشن اور دیگر تحقیقاتی اداروں کے پاس تحقیقات چلی جاتی ہےں۔ یہ وہ معاملات ہیں جس کے باعث کراچی میں زمینوں کی الاٹمنٹ کا معاملہ پراسرار ہوگیا ہے ایک طرف صوبائی حکومت قانونی راستے سے زمینیں الاٹ نہیں کررہی ہے دوسری جانب فطری طور پر آبادی بھی بڑھ رہی ہے تو پھر لوگوں کو سر چھپانے کے لیے ایسے غیرقانونی اقدامات اٹھانا پڑتے ہیں۔ نتیجہ میں لاکھوں افراد عدالتوں اور تحقیقات کے چکر میں پھنس گئے ہیں اس کا کیا حل ہے؟ اور کوئی بھی صوبائی حکومت آخرزمینوں کی الاٹمنٹ کے لیے قانونی راستہ کیوں نہیں اپناتی؟ اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ اگر حکومت سندھ زمینوں کی الاٹمنٹ قانونی طور پر کرے گی تو پھر اویس مظفرٹپی‘ ذوالفقار مرزا‘ نادرمگسی‘ آغا سراج
درانی‘ راشدشاہ راشدی‘ منظور وسان‘ جام سیف اللہ دھاریجو‘ امیر بخش بھنبھرو‘ بابرغوری ‘چنوں ماموں‘ بشیرخاصخیلی‘ گلزار سومرو جیسے افراد کس طرح راتوں رات کروڑوں روپے کمالیں گے اور پھر کس طرح آصف زرداری‘ الطاف حسین‘ فریال تالپر کے پاس جاکر منت سماجت کریں گے کہ ان کی سرپرستی کی جائے تاکہ وہ زمینوں پر قبضے کریں اور بھاری رقومات کماکر خود بھی رکھیں اور سرپرستوں کو بھی دیں۔ اس طرح جو پولیس افسران ہیں وہ بھی زمینوں پر قبضے کرنے اور قبضے چھڑانے میں دن رات مصروف رہتے ہیں ،کراچی میں ایس ایس پی ملیر راؤ انوار ایسے افسر ہیں جو اب زمینوں کے قبضوں کے سلسلے میں خود ایک مافیا بن چکے ہیں۔ اس طرح کئی دوسرے پولیس افسران بھی دن رات زمینوں پرقبضوں میں ملوث ہیں ،اس وقت بورڈ آف ریونیو کے چپراسی بھی کروڑ پتی بن چکے ہیں کیونکہ وہ بھی اس کارخیر میں شامل ہوگئے ہیں۔ انہیں کسی قبضہ والی زمین پر اگر ایک دو پلاٹ مل جاتے ہیں تو ان کو فروخت کرکے کروڑ دو کروڑ روپے کمالیتے ہیں اور یہ ایک کاروبار بن گیا ہے۔ اعلیٰ عدالتوں اور احتساب واینٹی کرپشن عدالتوں میں زمینوں کی الاٹمنٹ کے 500 سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں لیکن کسی کو اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ اس کھیل کو بند کرے اور زمینوں کی الاٹمنٹ پر عائد پابندی ختم کرکے قانونی طریقے سے الاٹمنٹ کا اعلان کردے، لیکن پھر وہ کیا کھائے گا؟ بس اس کمانے کے چکر میں لاکھوں افراد کے کروڑوں اربوں روپے پھنس چکے ہیں اور وہ عدالتوں کے چکر کاٹنے پر مجبورہوگئے ہیں۔


متعلقہ خبریں


تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ وجود - بدھ 13 مئی 2026

عالمی مالیاتی ادارے کامشکوک مالی ٹرانزیکشن پر اظہار تشویش، آئندہ مالی سال کے بجٹ سے قبل حکومت کو منی لانڈرنگ کیخلاف سخت اقدامات کی ہدایت کردی،ذرائع کالے دھن، غیر ٹیکس شدہ سرمایہ کاری کی نشاندہی،بینی فیشل اونرشپ کی معلومات کے تبادلے میں خامیاں دور کرنے اور مالیاتی نگرانی کا نظام...

تجارت کی آڑ میں منی لانڈرنگ پکڑی گئی، آئی ایم ایف کی حکومت کو سخت تنبیہ

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی وجود - بدھ 13 مئی 2026

سی بی ایس نیوز کی رپورٹ پر سخت ردِعمل، امریکی میڈیا رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹس خطے میں امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے، دفتر خارجہ پاکستان کے دفترِ خارجہ نے امریکی میڈیا ادارے سی بی ایس نیوز کی اس رپورٹ کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ ...

پاکستان میں ایرانی طیاروں کی موجودگی کی

فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کے قانون کی منظوری وجود - بدھ 13 مئی 2026

7 اکتوبر کے قیدیوں کیلئے سرعام ٹرائل اور سزائے موت کے متنازع قانون کی منظوری اسرائیلی پارلیمنٹ کے نئے قانون کی منظوری سے عالمی سطح پر تنازع مزید بڑھنے کا خدشہ اسرائیلی پارلیمنٹ (نیسٹ) نے ایک متنازع قانون منظور کیا ہے جس کے تحت 7 اکتوبر کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں زیرِ...

فلسطینی قیدیوں کیلئے سزائے موت کے قانون کی منظوری

کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی وجود - منگل 12 مئی 2026

ایک ہفتے میں عمران خان کا درست علاج نہ ہوا اور ملاقاتیں نہ کرائی گئیں تو پھر دما دم مست قلندر ہوگا،8 فروری کو نوجوان طبقے نے آپ کے سارے پلان الٹ دئیے، اپوزیشن لیڈر بلوچستان سے لے کر کے پی تک بغاوت کی فضا ہے، ایک اور آئینی ترمیم کی تیاری ہورہی ہے، پاکستان کو کچھ ہوا تو ذمہ دار ...

کپتان سے ملاقات کرائیں ورنہ پارلیمنٹ نہیں چلے گی،محموداچکزئی کی حکومت کودھمکی

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ وجود - منگل 12 مئی 2026

امریکی فوج افزودہ یورینیم کی نگرانی کر رہی ہے ایران کو عسکری طور پر شکست دی جا چکی ،قیادت کی اے اور بی ٹیم مکمل ختم ، سی ٹیم کا کچھ حصہ بھی ختم ہو چکا ہے ایران کو جوہری ہتھیار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ وہ غیر ذمہ دار ہے،معاہدہ کر کے اسے توڑ دیتا ہے، امریکا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت ...

ایران کا جوہری پروگرام کسی بھی وقت قبضے میں لے سکتے ہیں،صدرٹرمپ کی تنبیہ

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم وجود - منگل 12 مئی 2026

پاکستان کے نوجوانوں میں آئی ٹی کے حوالے سے بے پناہ استعداد موجود ہے جس سے بھرپور استفادہ حاصل کیا جانا چاہئے، شہباز شریف کی اجلاس میں گفتگو وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،آئی ٹی کے شعبے میں شہری اور دیہی علا...

آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح، وزیراعظم

بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل وجود - پیر 11 مئی 2026

دشمن جان لے پاکستان کیخلاف آئندہ مہم جوئی کے اثرات انتہائی خطر ناک اور تکلیف دہ ہوں گے،معرکہ حق دو ممالک کے درمیان لڑی جانیوالی جنگ نہ تھی یہ دونظریات کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا افغانستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی کے مراکز اور آماجگاہوں کا خاتمہ کرے،بھارت پھر دہشتگردی کا سہارا...

بھارت سے ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیں گے، فیلڈ مارشل

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا وجود - پیر 11 مئی 2026

مریکی منصوبہ تین مراحل پر مشتمل ،پہلے مرحلے میں ایران امریکا جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان جبکہ دوسرے میں آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرکے جہازوں کی آمدورفت بحال کی جائے گی تیسرے میں 30 روزہ مذاکراتی دور میں بڑے سیاسی اور جوہری معاملات پر بات چیت ہوگی، دونوں ممالک آبنائے ہرمز ک...

جنگ بندی مذاکرت، امریکی تجویز پرایران کا جواب پاکستان نے واشنگٹن بھیج دیا

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم وجود - پیر 11 مئی 2026

بھارت نے پہلگام واقعے کو بنیاد بناکر بے بنیاد الزامات لگائے ،شہباز شریف اسلام آباد میں معرکہ حق کی کامیابی کی پہلی سالگرہ کی مرکزی تقریب سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معرکہ حق کا خلاصہ اتنا ہے کہ ہر طرف ہمارے شاہینوں کا غلبہ تھا اور دشمن کے جہازوں کا ملبہ تھا۔اسلا...

ہر طرف شاہینوں کا غلبہ، بھارت کے جہازوں کا ملبہ تھا،وزیراعظم

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا وجود - پیر 11 مئی 2026

ایران میں قیمت 6 روپے فی لیٹر،بنگلہ دیش میں 288 روپے میں دستیاب سری لنکا 370 ،بھارت 302 ،چین میں360 روپے فی لیٹرمیں فروخت حکومت نے رواں ہفتے ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے باعث پیدا ہونے والے توانائی بحرا...

پاکستان میں پیٹرول خطے کے دیگر ممالک سے زیادہ مہنگا

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ وجود - اتوار 10 مئی 2026

پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 10 مئی 2026

9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی

مضامین
دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے! وجود بدھ 13 مئی 2026
دیارِ مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے!

بھارت میں تیل کا بحران وجود بدھ 13 مئی 2026
بھارت میں تیل کا بحران

بلدیاتی انتخاب کے بعد کیئر اسٹارمر کی مشکل وجود بدھ 13 مئی 2026
بلدیاتی انتخاب کے بعد کیئر اسٹارمر کی مشکل

وزیراعظم کا قوم کے نام خط وجود منگل 12 مئی 2026
وزیراعظم کا قوم کے نام خط

riaz وجود منگل 12 مئی 2026
riaz

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر