وجود

... loading ...

وجود

سندھ میں زمینوں کی بندر بانٹ۔پابندی کے باوجود وزرائے اعلیٰ الاٹمنٹ کرتے رہے

پیر 08 مئی 2017 سندھ میں زمینوں کی بندر بانٹ۔پابندی کے باوجود وزرائے اعلیٰ الاٹمنٹ کرتے رہے

قیام پاکستان کے بعد کراچی میں جس شعبہ میں پیسہ کمایاگیا وہ زمینوں کی الاٹمنٹ اورناجائز قبضہ ہے ،کراچی میں قیام پاکستان سے لے کر آج تک زمینوں کے سلسلے میں کسی بھی قانون پر عمل نہیں کیاگیا‘سندھ حکومت زمینوں کی قانونی الاٹمنٹ کرے گی تو پھر اویس مظفرٹپی‘ ذوالفقار مرزا‘ نادرمگسی‘ آغا سراج درانی‘ منظور وسان‘ امیر بخش بھنبھرو‘ بابرغوری ‘چنوں ماموں‘ بشیرخاصخیلی‘ گلزار سومرو جیسے افراد کس طرح راتوں رات کروڑوں پتی بنتے

قیام پاکستان کے بعد کراچی میں اگر کسی شعبہ میں پیسہ کمایاگیا ہے تو وہ زمینوں کی الاٹمنٹ‘ زمینوں پر قبضوں سے کمایاگیا ہے ،کیونکہ کراچی میں قیام پاکستان سے لے کر آج تک زمینوں کے سلسلے میں کسی بھی قانون پر عمل نہیں کیاگیا جس کے باعث غیرقانونی کام تیز ہوا ہے۔ ایک ہولناک انکشاف یہ ہوا ہے کہ سندھی مسلم سوسائٹی‘ کراچی ایڈمنسٹریٹوسوسائٹی اور پی ای سی ایچ سوسائٹی کی زمین پر ایک فرضی سوسائٹی بنائی گئی جس کا نام اقبال سوسائٹی رکھاگیا، اقبال سوسائٹی کی نہ تو کوئی زمین رہی اور نہ ہی اس کی رجسٹریشن ہوئی مگر اقبال سوسائٹی کے نام پر دو ہزار سے زائد افراد کو پلاٹ الاٹ کیے گئے اور اس کے عوض تین چار ارب روپے کمائے گئے اور پھر نہ پلاٹ رہا اور نہ ہی الاٹمنٹ کرنے والے رہے۔ یہاں فرضی سوسائٹیاں‘ جعلی آبادیاں‘ یہاں قبضے کرکے راتوں رات ہاؤسنگ اسکیمیں تیار کی گئیں اور کسی نے آج تک ہمت نہیں کی کہ اتنی بڑی جعلسازی کے خلاف اقدام اٹھائے اور جعلسازوں کوکیفرکردار تک پہنچائے اور جو لوگ حکومت‘ پولیس‘ انتظامیہ اور بااثرافراد کے ساتھ مل جل کر یہ کام کرتے رہتے ہیں ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑسکتا ۔اب حال ہی میں نیب نے ایک چونکا دینے والی رپورٹ تیار کی ہے جو اب سپریم کورٹ میں پیش کی جائے گی۔ اس رپورٹ کو پڑھنے سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زمینوں کی الاٹمنٹ پر سندھ میں1985ءسے مکمل پابندی ہے، ریونیو ایکٹ کے تحت زمینوں کی الاٹمنٹ کا اختیار ڈپٹی کمشنر کو ہوتا ہے۔1985ءمیں اس وقت کی حکومت نے زمینوں کی الاٹمنٹ پر پابندی عائد کردی۔ اس کے بعد سے لے کر اب تک جتنی بھی الاٹمنٹ کی گئی ہیں وہ وزرائے اعلیٰ نے کی ہیں ۔بورڈ آف ریونیو جتنی بھی سمریاں بھیجتا ہے وہ وزیراعلیٰ سندھ کو منظوری کے لیے بھیجی جاتی ہیں اور اس میں پابندی کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ اس پابندی کو ختم کرکے زمین الاٹ کی جائے۔ہر وزیراعلیٰ اس سمری میں زمین کی الاٹمنٹ کے لیے پابندی معطل کرکے الاٹمنٹ کردیتا ہے اور سمری منظوری ہونے کے بعد پھر پابندی بحال ہوجاتی ہے اور یہ چوہے بلی کا کھیل تا حال جاری ہے اس سے ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ1985ءسے لے کر آج تک کوئی بھی حکومت قانون کے مطابق زمین الاٹ نہیں کررہی ہے اور پابندی برقرار رکھنے کا ایک مقصد یہ ہے کہ عام آدمی یا حقدار زمین الاٹ ہی نہ کرواسکے کیونکہ ریونیو ایکٹ کے تحت ہرڈپٹی کمشنر کھلی کچہری لگائے گا اور زمین کی الاٹمنٹ کے لیے درخواستیں لے گا اور پھر کھلی کچہری میں وہ سب کے سامنے تمام درخواستوں کو مدنظررکھ کر زمین کی الاٹمنٹ کا اعلان کرے گا۔ ڈپٹی کمشنر تک علاقہ کے لوگوں کی رسائی بھی ہوسکتی ہے اور طریقہ بھی شفاف ہوتا ہے جس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا اور مقدمات بھی نہیں ہوتے اور پھر ڈپٹی کمشنر کے پاس اعتراضات بھی دائر کیے جاتے ہیں، وہ بھی کھلی کچہری میں سنے اور حل کیے جاتے ہیں۔ جب الاٹمنٹ وزیراعلیٰ کریں گے توپھر عام آدمی کی پہنچ بھی نہیں ہوسکتی اور پھر کھلی کچہری کی طرح شفافیت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ وزیراعلیٰ تو من پسند الاٹمنٹ کرے گا جس سے اعتراضات بھی اٹھتے ہیں اور معاملات عدالتوں میں چلے جاتے ہیں اور نیب‘ محکمہ اینٹی کرپشن اور دیگر تحقیقاتی اداروں کے پاس تحقیقات چلی جاتی ہےں۔ یہ وہ معاملات ہیں جس کے باعث کراچی میں زمینوں کی الاٹمنٹ کا معاملہ پراسرار ہوگیا ہے ایک طرف صوبائی حکومت قانونی راستے سے زمینیں الاٹ نہیں کررہی ہے دوسری جانب فطری طور پر آبادی بھی بڑھ رہی ہے تو پھر لوگوں کو سر چھپانے کے لیے ایسے غیرقانونی اقدامات اٹھانا پڑتے ہیں۔ نتیجہ میں لاکھوں افراد عدالتوں اور تحقیقات کے چکر میں پھنس گئے ہیں اس کا کیا حل ہے؟ اور کوئی بھی صوبائی حکومت آخرزمینوں کی الاٹمنٹ کے لیے قانونی راستہ کیوں نہیں اپناتی؟ اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ اگر حکومت سندھ زمینوں کی الاٹمنٹ قانونی طور پر کرے گی تو پھر اویس مظفرٹپی‘ ذوالفقار مرزا‘ نادرمگسی‘ آغا سراج
درانی‘ راشدشاہ راشدی‘ منظور وسان‘ جام سیف اللہ دھاریجو‘ امیر بخش بھنبھرو‘ بابرغوری ‘چنوں ماموں‘ بشیرخاصخیلی‘ گلزار سومرو جیسے افراد کس طرح راتوں رات کروڑوں روپے کمالیں گے اور پھر کس طرح آصف زرداری‘ الطاف حسین‘ فریال تالپر کے پاس جاکر منت سماجت کریں گے کہ ان کی سرپرستی کی جائے تاکہ وہ زمینوں پر قبضے کریں اور بھاری رقومات کماکر خود بھی رکھیں اور سرپرستوں کو بھی دیں۔ اس طرح جو پولیس افسران ہیں وہ بھی زمینوں پر قبضے کرنے اور قبضے چھڑانے میں دن رات مصروف رہتے ہیں ،کراچی میں ایس ایس پی ملیر راؤ انوار ایسے افسر ہیں جو اب زمینوں کے قبضوں کے سلسلے میں خود ایک مافیا بن چکے ہیں۔ اس طرح کئی دوسرے پولیس افسران بھی دن رات زمینوں پرقبضوں میں ملوث ہیں ،اس وقت بورڈ آف ریونیو کے چپراسی بھی کروڑ پتی بن چکے ہیں کیونکہ وہ بھی اس کارخیر میں شامل ہوگئے ہیں۔ انہیں کسی قبضہ والی زمین پر اگر ایک دو پلاٹ مل جاتے ہیں تو ان کو فروخت کرکے کروڑ دو کروڑ روپے کمالیتے ہیں اور یہ ایک کاروبار بن گیا ہے۔ اعلیٰ عدالتوں اور احتساب واینٹی کرپشن عدالتوں میں زمینوں کی الاٹمنٹ کے 500 سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں لیکن کسی کو اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ اس کھیل کو بند کرے اور زمینوں کی الاٹمنٹ پر عائد پابندی ختم کرکے قانونی طریقے سے الاٹمنٹ کا اعلان کردے، لیکن پھر وہ کیا کھائے گا؟ بس اس کمانے کے چکر میں لاکھوں افراد کے کروڑوں اربوں روپے پھنس چکے ہیں اور وہ عدالتوں کے چکر کاٹنے پر مجبورہوگئے ہیں۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر