وجود

... loading ...

وجود

بچتوں کی کمی کابڑا سبب اشیائے تعیش کی بے پناہ تشہیر

هفته 06 مئی 2017 بچتوں کی کمی کابڑا سبب اشیائے تعیش کی بے پناہ تشہیر

نمود ونمائش کی ایک دوڑ شروع ہوگئی ہے جس سے معاشرے میں رشوت ،چوربازاری اور دیگر وائٹ کالر جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے وطن بھیجی جانی والی رقوم کی وجہ سے ایک مصنوعی متوسط طبقہ بھی تیزی سے ابھر کر سامنے آیا

پاکستان میں گزشتہ ایک عشرے کے دوران اشیائے تعیش کی بے پناہ تشہیر نے اس پورے معاشرے کے تاروپود کو ہلاکر رکھ دیاہے،اور اس کی وجہ سے نمود ونمائش کی ایک دوڑ شروع ہوگئی ہے ،اس لاحاصل دوڑ نے جہاں معاشرے میں رشوت ،چوربازاری اور دیگر وائٹ کالر جرائم کی شرح میں اضافہ کیاہے وہیں اس کی وجہ سے اب نوجوان جلد از جلد امیر بننے کی آرزو میں جرائم پیشہ گروہوں کے ہتھے چڑھ کر رہزنی اور ڈکیتی کے علاوہ اغوا برائے تاوان اور قتل جیسی وارداتوں میں ملوث ہورہے ہیں۔دوسری طرف بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے وطن بھیجی جانی والی رقوم کی وجہ سے ہمارے ملک میں ایک مصنوعی متوسط طبقہ بھی تیزی سے ابھر کر سامنے آیا ہے اور گزشتہ برسوں کے دوران ان کی شرح میں اضافہ ہواہے۔
اشیائے تعیش کی بے پناہ تشہیرسے جہاں ہمارے معاشرے میں جرائم اور ناجائز طریقے سے دولت حاصل کرنے کی کوششوں میں اضافہ ہواہے وہیں اس ملک میں بچتوں کی کمی کا بڑا سبب بھی اشیائے تعیش کی بلاضرورت خریداری کے رجحان کو قرار دیاجاتاہے۔اشیائے تعیش کی نت نئے طریقوں سے تشہیر کی وجہ سے اب صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ گھر میں روزمرہ ضرورت کی الیکٹرانک اشیا کی موجودگی کے باوجود کسی بھی نئے برانڈ کا اشتہار آتے ہی اس کی خریداری کی جستجو شروع کردی جاتی ہے اور گھرمیں موجود اسی نوعیت کاسامان بیکار نظر آنے لگتاہے، اس صورت حال میں سب سے زیادہ وہ تنخواہ دار طبقہ متاثر ہورہاہے جو ایسے سرکاری یانجی اداروں میں ملازمت کرتا ہے جہاں ناجائز آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے ، اس صورت حال سے دوچار ملازمت پیشہ طبقہ قرض حاصل کرکے یہ اشیا خرید کر اپنے گھر والوں کومطمئن کرنے اور پھر اپنا پیٹ کا ٹ کر قرض ادا کرتے رہنے پر مجبور ہوتاہے جس کی وجہ سے آڑے وقتوں کے لیے تھوڑی بہت بچت کی خواہش بھی دم توڑ دیتی ہے۔
اسٹیٹ بینک پاکستان نے بھی اپنی تازہ ترین رپورٹ میں ملک میں اشیائے صرف کی بڑھتی ہوئی طلب، اعلیٰ تعلیم کے حصول کی کوششوں میں اضافے اور صحت کی بہتر سہولتوں سے استفادہ کرنے کی سعی میں اضافے کی شرح کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیاہے کہ ملک میں متوسط طبقے کی شرح میں اضافہ ہورہاہے، تاہم بینک کے ارباب اختیار نے یہ دعویٰ کرنے سے قبل ملک میں اشیائے صرف کی بڑھتی ہوئی طلب کی اصل وجہ اور اس کی وجہ سے ملک کی معیشت ،خاص طورپر بچتوںپر پڑنے والے منفی اثرات پر غور کرنے کی غالباً زحمت ہی گوارا نہیں کی۔اسٹیٹ بینک کے ارباب اختیار نے حکومت کو خوش کرنے اور اپنی مہارت کا اظہار کرنے کے لیے ملک میں اشیائے صرف کی بڑھتی ہوئی طلب کی بنیاد پر یہ دعویٰ بھی کردیاہے کہ اس اضافے سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ ملک کی معیشت تیزی سے ترقی کررہی ہے اورحکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں۔اسٹیٹ بینک پاکستان نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہاہے کہ گزشتہ برسوں
کے دوران ملک میں موبائل فون اور دیگر الیکٹرونک اشیا کی کھپت کے علاوہ بجلی کی طلب میں بھی اضافہ ہواہے جس سے ظاہرہوتاہے کہ لوگوں کی قوت خرید میں اضافہ ہواہے،اسٹیٹ بینک پاکستان کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2017 ء میں صارفین کے اعتماد کے انڈیکس میں 174.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیاگیا جو کہ جنوری 2016ء کے مقابلہ میں 17 پوائنٹس زیادہ تھا۔
اسٹیٹ بینک کے حکام کا کہناہے کہ یوں تو لوگوں کی معاشی حالت کا جائزہ لینے کے اور بھی کئی طریقے ہیں لیکن اشیائے صرف کی طلب کی شرح سے ان کااندازہ زیادہ آسانی سے لگایاجاسکتا ہے ۔دوسری جانب سیاسی ماہر معاشیات اکبر ایس زیدی کاکہناہے کہ گزشتہ کم وبیش 20 سال کے دوران ملک میں متوسط طبقے میں جوا ضافہ دیکھنے میں آیاہے اس کاایک بڑا اور بنیادی سبب بیرون ملک ملازم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی وہ رقوم اور زرمبادلہ ہے جس نے اس ملک میں ان کے اہل خانہ کی زندگی تبدیل کرکے رکھ دی ہے،تاہم اس کو حکومت کی کسی معاشی پالیسی کانتیجہ قرار نہیں دیاجاسکتا اور اسے کوئی مستقل ذریعہ قرار دے کر اس کی بنیاد پر کوئی پالیسی تیار نہیں کی جاسکتی۔ یعنی کسی بھی اقتصادی یا معاشی منصوبہ بندی کی بنیا د اس آمدنی پر نہیں رکھی جاسکتی ،کیونکہ یہ آمدنی انتہائی ناپائیدار ہوتی ہے اور اس کا اندازہ خلیج کے ملکوں میں پیداہونے والی حالیہ اقتصادی مشکلات سے لگایاجاسکتاہے جس کی بنیاد پر سعودی عرب سمیت مختلف خلیجی ممالک کفایت شعاری کی راہ اپنانے پر مجبور ہونے کے علاوہ اپنے ترقیاتی منصوبوں پر کام بند کرکے غیر ملکی ملازمین کو واپس بھیجنے پر مجبور ہورہے ہیں، یہاں تک کہ سعودی عرب اور کئی دوسرے خلیجی ممالک کے تجارتی ادارے تو اپنے ملازمین کو واجبات ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور ان کو وطن واپس لانے کا انتظام بھی ان لوگوں کی متعلقہ حکومتوں کو کرنا پڑ رہاہے۔اس صورت حال میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ملازمتوں کے مواقع کم یاختم ہوجانے کی صورت میں جب وہاں ملازمت کرکے بھاری زرمبادلہ وطن بھجوانے والے یہ پاکستانی وطن واپس آئیں گے تو ملک میں ملازمتوں کے مواقع پر کتنا دبائو پڑے گا اور بیرون ملک سے بھیجی گئی رقوم کی بنیاد پر متوسط طبقے میں شامل ہوجانے والے کتنے فیصد افراد اپنی یہ حیثیت برقرار رکھنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔
اسٹیٹ بینک کے ارباب اختیار کو صورت حال کا صرف روشن پہلو دکھا کر حکومت کو خوش کرنے اور عوام کو اصل صورت حال سے بے خبر رکھنے کی کوششوں کے بجائے صورتحال کے تمام پہلو عوام کے سامنے رکھنے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ عوام اور حکومت دونوں ہی آنے والے متوقع برے وقتوں کے لیے مناسب حکمت عملی تیار کرسکیں ،اس کے لیے ضروری ہے کہ ملک کو صارف کامعاشرہ بنانے کی کوششوں کی بیخ کنی کی جائے اور الیکٹرونکس کی اشیا خاص طورپر ایئرکنڈیشنرز، ریفریجریٹرز اور اسی طرح کی دیگر اشیاکی تشہیر پر مناسب کنٹرول کیاجائے،اس طرح کی اشیا تیار کرنے والوں کو تشہیر پر ضائع ہونے والی رقم کی مناسبت سے اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرنے پر مجبورکیاجائے اور بچتوں کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے باقاعدہ آگہی مہم چلائی جائے تاکہ نچلی سطح سے بچتوں کی اہمیت کو محسوس کیاجائے اور لوگ عالمی معیار کے مطابق یعنی اپنی آمدنی کاکم از کم 10 فیصد حصہ بچانے کی کوشش کریں۔ بچتوں میں اضافے کی صورت میں ایک طرف حکومت کو ترقیاتی کاموں کے لیے ملک کے اندر ہی سے سرمایہ دستیاب ہوسکے گا اور دوسری طرف بچت کرنے والے گھرانوں کو انتہائی ضرورت اور ناگہانی صورت حال میں کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر