... loading ...

مقامی کمرشل بینکوں سے مجموعی طورپرحاصل کیے گئے ایک ارب31 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے قرضے اسکے علاوہ ہیں‘ بجٹ کاخسارہ پورا کرنے کے لیے مارچ کے مہینے کے دوران نور بینک سے ساڑھے 11 کروڑ ڈالر کا قرض حاصل کیا
ملک پر قرض کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے خلاف عوامی سطح پر ہونے والی چیخ وپکار اورماہرین اقتصادیات کی جانب سے تشویش کے اظہار کے باوجود حکومت مسلسل غیرملکی قرضوں کے حصو ل کی کوششوں میں مصروف نظر آتی ہے جس کااندازہ جولائی سے مارچ تک کے اعدادوشمار سے لگایاجاسکتاہے ۔ ان اعدادوشمار کے مطابق حکومت نے رواںمالی سال کے ابتدائی 9 ماہ کے دوران مختلف کثیرالجہتی اور دوطرفہ معاہدوں کے تحت مجموعی طورپر 5 ارب 27 کروڑ ڈالر کی امداد حاصل کی، یہ رقم رواں سال کے بجٹ تخمینے میں غیر ملکی امداد کے حوالے سے لگائے گئے اندازوں کے 65 فیصد کے مساوی تھی،جس کی وجہ سے حکومت کو کمرشل بینکوں سے مجموعی طورپر ایک ارب31 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے قرض حاصل کرنا پڑے۔
اقتصادی امور ڈویژن کے اعدادوشمار کے مطابق حکومت نے بجٹ کاخسارہ پورا کرنے کے لیے مارچ کے مہینے کے دوران نور بینک سے ساڑھے 11 کروڑ ڈالر کا قرض حاصل کیاجبکہ گزشتہ سال ستمبر میں بھی اسی بینک سے 200 ملین یعنی 20 کروڑ ڈالر کا قرض حاصل کیاگیا تھا ۔جنوری میں حکومت نے چین کے کمرشل بینک آف چائنا سے 30 کروڑ ڈالر کا قرض حاصل کیاتھا،جبکہ وزارت خزانہ نے ادائیگیوں کے توازن کو قائم رکھنے اور بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کے لیے چین کے 2 دیگر بینکوںسے60 کروڑ ڈالر قرض لینے کا بھی انتظام کیاہے ۔اس کے علاوہ حکومت نے چائنا ڈیولپمنٹ بینک سے بھی نان پراجیکٹ ایڈ کے طورپر گزشتہ سال ستمبر میں 70 کروڑ ڈالر کا قرض حاصل کیاتھا۔جبکہ اسی مدت کے دوران حکومت نے ایک ارب ڈالر مالیت کے سکوک بانڈز بھی جاری کیے جس پر 6.5 فیصد کی شرح سے سود ادا کیاجائے گا۔
حکومت نے ایشین انفرااسٹرکچرانویسٹمنٹ بینک سے بھی 19 ملین ڈالر کاقرض حاصل کیا ہے جس کا بجٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔حکومت نے فروری کے مہینے کے دوران ایکو ٹریڈ بینک سے بھی 5 ملین ڈالر کا قرض حاصل کیاتھا۔قرض کی اس رقم کابھی بجٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اقتصادی امور ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار میں دعویٰ کیاگیاہے کہ رواں مالی سال کے دوران ابھی تک صرف 5 ارب 27 کروڑ 10 لاکھ ڈالر مالیت کے قرض حاصل کیے ہیں جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران حکومت نے5 ارب 40 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے قرض لیے تھے اس طرح رواں سال حکومت نے گزشتہ سال کی نسبت 13 کروڑ10 لاکھ ڈالر کے کم قرض حاصل کیے ۔
اعدادوشمار کے مطابق حکومت نے مارچ کے مہینے کے دوران مجموعی طورپر 19 کروڑ 21 لاکھ 30 ہزار ڈالر مالیت کے قرض حاصل کیے، جس میں17 کروڑ 96 لاکھ 60 ہزار ڈالر مالیت کے قرض اور ایک کروڑ 24 لاکھ 60 ہزار ڈالر مالیت کی گرانٹس شامل تھیں۔جبکہ تازہ ترین اعدادوشمار سے ظاہر ہوتاہے کہ حکومت نے4 ارب 92 کروڑ60 لاکھ ڈالر مالیت کے قرض حاصل کیے ہیں جبکہ اس عرصے کے دوران حکومت کو مختلف ذرائع سے 34 کروڑ 55لاکھ80 ہزار ڈالر مالیت کی گرانٹس موصول ہوئیں۔
اعدادوشمار کے مطابق حکومت نے چین سے ایک ارب 3 کروڑ30لاکھ ڈالر وصول کیے جبکہ بجٹ میں صرف 57 کروڑ23 لاکھ ڈالر کا ذکر کیاگیاتھا۔حکومت نے گزشتہ سال اسی مدت کے دوران چین سے 61 کروڑ56 لاکھ60 ہزار ڈالر حاصل کیے تھے۔ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی پاکستان کو رواں مالی سال کے دوران 85 کروڑ 14 لاکھ 80 ہزارڈالر فراہم کیے جس میں سے3 کروڑ 4 لاکھ 70 ہزارڈالر مارچ کے دوران فراہم کیے گئے۔
بین الاقوامی ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن نے پاکستان کو 15 کروڑ 61 لاکھ 90 ہزار ڈالر فراہم کیے جس میں مارچ کے دوران 96 لاکھ 90ہزار ڈالر فراہم کیے گئے۔بین الاقوامی ترقیاتی بینک نے مختصر میعاد کے قرضوں کی مد میں پاکستان کو 32 لاکھ70 ہزار ڈالر فراہم کیے، امریکا نے اس مدت کے دوران پاکستان کو 6 کروڑ 91 لاکھ 60 ہزار ڈالر فراہم کیے جس میں سے 68 لاکھ 80 ہزار ڈالر مارچ کے دوران فراہم کیے گئے۔
تعمیر نو اور ترقیات سے متعلق بین الاقوامی بینک نے پاکستان کو اس مدت کے دوران 17 کروڑ74 لاکھ 70 ہزار ڈالر فراہم کیے جس میں سے 2 کروڑ 31 لاکھ 40 ہزار ڈالر مارچ کے دوران فراہم کیے گئے۔اقوام متحدہ کے ادارے یواین ایچ سی آر کی جانب سے بھی اس مدت کے دوران پاکستان کو ساڑھے 6لاکھ ڈالر بین الاقوامی ترقیاتی بینک کی جانب سے 6کروڑ 34 لاکھ 70 ہزار ڈالر ،جاپان کی جانب سے 4 کروڑ28لاکھ ڈالر اوربرطانیہ کی جانب سے 13 کروڑ99 لاکھ 70 ہزار ڈالرفراہم کیے گئے۔
مذکورہ بالا رقوم کے علاوہ ملٹی ڈونر ٹرسٹ فنڈ کی جانب سے پاکستان کو مارچ میں 11لاکھ ڈالر گرانٹ کی شکل میں دیے گئے اس طرح اس فنڈ کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی رقم کی مجموعی مالیت ایک کروڑ 70 لاکھ 40ہزار ڈالر تک پہنچ گئی۔رواں مالی سال کے دوران پاکستان کو ابھی تک فرانس، کوریا، ناروے ،اومان، سعودی عرب ،یواین ڈی پی اور اوپیک کی جانب سے کوئی امداد یا قرض نہیں دیا گیاہے۔
پاکستان کو مختلف ذرائع اور مالیاتی اداروں سے ملنے والے قرضوں اور گرانٹس کی تفصیلات پر نظر ڈالی جائے تو یہ اس اعتبار سے دل خوشکن ہے کہ پاکستان نے رواں مالی سال کے دوران گزشتہ سال کی نسبت کم مالیت کے قرض حاصل کیے ہیں لیکن اس حوالے سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان کو قرض یا امداد دینے والے اداروں نے وزارت خزانہ کے اندازوں یا وزارت خزانہ کے ارباب اختیار سے کیے ہوئے وعدوں کے مطابق قرض فراہم نہیں کیے اور بیشتر اداروں نے اندازوں سے بہت کم مالیت کے قرض فراہم کیے۔ اس سے ملک کی معیشت اور خاص طورپر قرض واپس کرنے کی صلاحیتوں پر ان ملکوں یا اداروں کے عدم اعتماد کا پہلو بھی سامنے آتاہے اور اگر واقعی ایسا ہے تو یہ ہماری وزارت خزانہ کے ارباب اختیار کے لیے ایک المیے سے کم نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ وزار ت خزانہ ملک پر قرضوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے حکومتی سطح پر کفایت شعاری کی راہ اختیار کرے اور غیر ضروری، غیر ترقیاتی اخراجات، جن میں ایوان وزیر اعظم ، ایوان صدر اور مختلف وزارتوں کے اخراجات میں سختی سے کمی کی جائے ایوان وزیر اعظم ، ایوان صدر اور مختلف وزارتوں میں تعینات افسران کی فوج کاخاتمہ کیاجائے اور ان کو کسی دوسرے محکمہ میں، جہاں عملے کی شدید کمی ہو کھپایاجائے، ورنہ فاضل قرار دے کر فارغ کیاجائے ، مہمانداری کے نام پر افسران اور عملے کو نوازنے کاسلسلہ ختم کیاجائے ۔ سوائے خاص غیر ملکی مہمانوں کے کسی کے لیے بھی پرتکلف ضیافتوں کے انتظامات کافوری طورپر خاتمہ کیاجائے، وزیراعظم اور وزرا کے غیر ملکی دوروں میں ان کے ساتھ وزرا اور ان کی بیگمات اور عملے کے ارکان اورقصیدہ خوان صحافیوں کی فوج لے جانے کاسلسلہ فوری طورپر ختم کیاجائے، غیرملکی دوروں کی میڈیا کوریج کی ذمہ داری متعلقہ ملک کے سفارتخانوں کے سپرد کی جائے اور ان کو بھی اس حوالے سے محدود اخراجات کے اندر رہتے ہوئے یہ کام انجام دینے کاپابند بنایاجائے ۔ اس طرح بچنے والے اربوں روپے عوام کی بہبود کے منصوبوں اور ترقیاتی کاموں پر خرچ کیے جائیں ، جب تک حکمران طبقہ اپنے شاہانہ اخراجات میں کمی نہیں کرے گا، ملک قرضوں کے تلے دبتا رہے گااوراس کے باوجود عوام بنیادی سہولتوں کو ترستے رہیں گے ۔
توانائی شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے میں کمی اور مالی اہداف سے متعلق مذاکرات جاری،پروٹیکٹڈ صارفین کے علاوہ دیگربجلی اور گیس صارفین کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے گا،حکام حکومت کی عالمی توانائی قیمتوں کا مکمل بوجھ صارفین تک منتقل کرنے کی پالیسی برقرار، گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کا آڈ...
کراچی واٹر کارپوریشن میں مبینہ بدانتظامی اور پانی کی تقسیم کے نظام پر سوالات اٹھ گئے سرکاری نرخ پر بک ہونیوالے آن لائن ٹینکرپانی مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں، شہری شہر قائد میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ کراچی واٹر کارپوریشن کے انتظامی امور، ہائیڈرنٹ نظام اور آن ل...
صومالیہ کے بحری قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی دلخراش ویڈیو سامنے آگئی اغوا ہوئے 26 روز گزر چکے، حکومت رہائی کیلئے اقدامات کرے، سیکنڈ آفیسر حسین یوسف صومالیہ کے بحری قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی ایک اور ویڈیو منظرعام پر آگئی جس میں انہوں نے رہائی کی اپیل کی...
لبنانی بچے مسلسل تشدد، نقل مکانی، خوفناک واقعات کا سامنا کر رہے ہیں،عالمی ادارہ لبنان میں بچوں کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں، عالمی برادری سے مطالبہ یونیسیف نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان میں مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 200 بچے شہید ہو چکے ہیں۔یونیسیف ...
عوام مشکل میں ہیں، آئندہ بجٹ مشکل ہو گا، 28 ویں ترمیم پر کوئی بات نہیں ہوئی،امریکا ایران جنگ اور مذاکرات سے متعلق مجھے کوئی پیشکش نہیں کی گئی،چیئرمین پیپلز پارٹی حکومت سے بجٹ مذاکرات کے لیے پیپلزپارٹی کی 4 رکنی کمیٹی بنادی،پیٹرول سے متعلق موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف دیا جا رہا ...
وزیرداخلہ کا بارکھان میںجامِ شہادت نوش کرنے والے میجر توصیف احمد بھٹی اور دیگر کو سلام عقیدت پیش قوم بہادر شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو یاد رکھے گی، شہداء کی بلندی درجات اور اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا صدرِ مملکت آصف علی زرداری،وزیراعظم شہبازشریف اوروفاقی وزیر داخلہ محسن نق...
علیمہ خانم نے بیرسٹر سلمان صفدر اور سلمان اکرم راجہ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میںنئی درخواست دائرکردی کسی بھی عدالت نے بانی کو تنہائی میں قید کی سزا نہیں سنائی،بشریٰ بی بی کو روزانہ 24 گھنٹے تنہائی میں رکھا جاتا ہے بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھنے کے خلاف اسلام آ...
ایرانی عوام کے خلاف دشمنی اختیار کرنا ایک احمقانہ جوا ہے،ایرانی وزیر خارجہ مذاکرات کے حامی ہیں،قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،بیان ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف سازش کرنے والوں کا احتساب...
حکومتی پالیسیوں سے بلوچستان میں علیحدگی کا نعرہ لگ چکا،نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمن آئین بچانے کے لیے آگے آئیں اگر نہیں آئے تو حالات خطرناک ہوتے جائیں گے، اپوزیشن لیڈر ملک خطرناک حالات کی طرف جارہا ہے، طاقت اور پیسے کی بنیاد پر7 پارٹیوں کو اکٹھا کیا گیا، اسرائیلی جیلوں س...
بحریہ ٹاؤن ہلز میں واقع 67ایکڑ پر مشتمل علی ولا کو منجمد کر دیا ، جو مبینہ طور پر علی ریاض ملک کے نام پر تعمیر کی گئی تھی، رہائش گاہ میں جدید سہولیات جیسے ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر اور سوئمنگ پولز شامل ہیں،ذرائع حکومت سندھ اور محکمہ جنگلات کی ملکیت1338ایکڑ اراضی بھی منجمد،مبینہ طو...
پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم متحرک ہوگئی ثالثی کے دوران ایرانی طیاروں کو پاکستانی ایئربیس پر جگہ دی گئی، ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کی موثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم مت...
اجلاس ختم ہونے کے بعداقبال آفریدی اور جنید اکبر میں تلخ کلامی ، ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی اقبال آفریدی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی کوشش ، جنید اکبر کے روکنے پر سیخ پا ہوگئے،ذرائع قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا ہوگئے جب کہ اجلاس ختم ہونے کے بعد پی ٹ...