وجود

... loading ...

وجود

شعبہ آئوٹ ڈور اشتہارات ، اندھیرنگری چوپٹ راج

بدھ 03 مئی 2017 شعبہ آئوٹ ڈور اشتہارات ، اندھیرنگری چوپٹ راج

3ضلعی بلدیات نے بڑی تعداد میں بغیر کسی چالان اور کوئی اجازت نامہ جاری کیے غیر اعلانیہ طور پر وال پیسٹنگ کی اجازت دے رکھی ہے‘ ایڈورٹائزرکی بڑی تعدادمنتظر ،جب سپریم کورٹ کوئی نتیجہ دے گی تو ہزاروں لوگوں کو اس صنعت سے روزگار حاصل ہوگا ،سپریم کورٹ میں رٹ دائر

آؤٹ ڈور اشتہارات(لوکل ٹیکس)کا اختیا رگزشتہ سال بلدیہ عظمیٰ کراچی سے ضلعی بلدیات کے حوالے کیاگیاتھا۔ابھی ضلعی بلدیات نے اس اختیار سے فائدہ اٹھانا شروع بھی نہیں کیاتھاکہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے شہر بھر سے تمام سائن بورڈ ہٹانے کا حکم جاری کردیا۔وجہ یہ تھی کہ شہر میں مخصوص مقامات کے علاوہ او رقواعدوضوابط کے برخلاف سینکڑوں سائن بورڈ ،پول سائن ،نیوسائن وغیرہ کی بھر مارہوتی گئی۔ کے ایم سی محکمہ لوکل ٹیکس کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں پڑے تھے ۔بیرونی اشتہا ریا آؤٹ ڈور ایڈ ورٹائزنگ میں کروڑوں روپے کی سالانہ کرپشن ہوتی تھی ۔سپریم کورٹ نے تمام اشتہارات شہر بھر سے ہٹانے اور ضلعی بلدیات وکنٹونمنٹ بورڈز کو باہمی مشاورت سے قواعد وضوابط(بائی لاز)تیارکرنے کا حکم دیاتھا۔اس پر عمل درآمد جاری ہے مگر ضلعی بلدیات اور کنٹونمنٹ بورڈ ز کی حدودمیں سپریم کورٹ آف پاکستان کی پابندی کو نظر انداز کرتے ہوئے آہنی ڈھانچے اور ایلوکو بونڈ کے استعمال کے ساتھ چند مفاد پرست ایڈورٹائزرز نے وال پیسٹنگ کے نام پر شہر کے تین اضلا ع میں اشتہارات کی بھرمارکردی۔سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی نہ ہو،ا س سے بچنے کے لیے کراچی کی 3ضلعی بلدیات نے بڑی تعداد میں بغیر کسی چالان اور کوئی اجازت نامہ جاری کیے غیر اعلانیہ طور پر وال پیسٹنگ کی اجازت دے رکھی ہے ۔ذرائع ابلاغ میں مسلسل نشاندہی کے باوجود ، ضلعی چیئر مین اور میونسپل کمشنرز کوئی نوٹس نہیں لے رہے ، نہ ہی کوئی کارروائی ان غیر قانونی اشتہار ات کے خلاف کی جارہی ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ منتخب ضلعی چیئر مینزاور میونسپل کمشنرز بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ان میں بلدیہ وسطی کی ڈائریکٹر لوکل ٹیکس شمونہ صدف ،بلدیہ غربی کے ڈائر یکٹر ایڈ ورٹائزمنٹ وزیر علی اور خاص طور پر بلدیہ شرقی کے ڈائریکٹر اشتہارات عبدالغنی نے اندھیر نگری مچارکھی ہے ۔اور تینوں ضلعی بلدیات کو مجموعی طور پر 25 کروڑ روپے سالانہ کا نقصان پہنچایا جارہاہے جسے ریکارڈ پر اس لیے نہیں لایاجارہاکہ کہیں سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کے جرم میں پھنس نہ جائیں۔حالانکہ اپنے اپنے ضلع میں غیر قانونی اشتہارات پر آنکھیں بند رکھنے پر بھی سپریم کورٹ ان افسران کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے کیونکہ اخبارات چیخ چیخ کر نشاندہی کررہے ہیں۔بلدیہ شرقی میں ڈائریکٹر عبدالغنی نے شاہر اہ قائدین پر نجیب سنٹر پر لگے ایم این بی ایڈورٹائزر کے اشتہارات کو دسمبر 2016ء میں غیر قانونی اور سپریم کو رٹ کے احکامات کی خلاف ورزی قراردیتے ہوئے اسے فوری ہٹانے کے لیے ایم این بی ایڈورٹائزر کو خط لکھا مگر پھر کمپنی سے مک مکا کرکے بائی لاز کی دفعہ 4کی شق نمبر 3کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 3ماہ کا چالان جاری کیا جبکہ بائی لاز میں واضح درج ہے کہ درخواست دہندہ کو ایک سال کی مدت کی اشتہاری فیس بمعہ کرایہ اراضی کی کل رقم کا پے آرڈر ضلعی افسر لوکل ٹیکس کے نام پر جمع کرانا ضروری ہے اور منظوری کے بعد ہی اشتہار لگانے کی اجازت دی جائے گی ۔مگر اس کے برخلاف 30 لاکھ کے بجائے 2لاکھ 25ہزار روپے کا چالان جمع کرایا گیا۔یہ اشتہا ر 8ماہ سے لگاہواہے مگر فیس صرف 3ماہ کی وصول کی گئی ،باقی رقم افسران کی جیب میں گئی ۔یہی نہیں ، شاہر اہ قائدین پر نجیب سینٹر کے مقام پر کل فیس 625روپے اسکوائر فٹ وصولی ہونی تھی مگر حیرت انگیز طور پر یہاں بھی چونا لگاتے ہوئے ایم این بی نے صرف 187روپے اسکوائر فٹ کے نرخ پر 3ماہ کا چالان جمع کرایا۔ بلدیہ شرقی میں ہی نسلا ٹاور شاہراہ فیصل پر 40×100 فٹ کا اشتہار لگایا گیا ہے جس کا کل ٹیکس 25 لاکھ روپے بنتا ہے یہ اشتہار این کیو ایڈور ٹائزر نے لگایا ہے اور 31 ماہ گزرنے کے باوجود فیس (ٹیکس) ادا نہیں کی گئی۔ اسی کمپنی نے شاہراہ فیصل پر فیاض سینٹر پر 40×100 فٹ کا اشتہار وال پیسٹنگ کے نام پر لگا رکھا ہے جس کی سالانہ فیس 25 لاکھ روپے ادا کرنی تھی جو نہیں کی گئی۔ شاہراہ فیصل پر ہی ڈوایڈور ٹائزر نے عظیم سینٹر پر 30×60 فٹ کا اشتہار لگا رکھا ہے جس کی فیس 11 لاکھ 25 ہزار ہے مگر ادا نہیں کی گئی ۔ اسی کمپنی نے التجارہ سینٹر شاہراہ فیصل پر وسیع تر اشتہار 40×140 فٹ لگا رکھا ہے جو مجموعی طور پر 5600 اسکوائر فٹ کا ہے اور 625 روپے اسکوائر فٹ کے حساب سے 35 لاکھ روپے سالانہ ادا کرنے تھے جو نہیں کئے گئے۔ ہیبٹ سینٹر پر 40×30 فٹ ایل ای ڈی سائن نصب ہے جس کی فیس 7 لاکھ 50 ہزار روپے ہے جو ادا نہیں کی گئی۔ بلدیہ شرقی میں ہی طارق روڈ پر گل حمید رئوف نزد کیفے لبرٹی پر 60×20 سائز کا اشتہار جس کی فیس ساڑھے سات لاکھ روپے وصول نہیں کی گئی۔ اسی کے سامنے عمارت پر 30×60 فٹ کی فیس 11 لاکھ 26 ہزار 800 روپے بنتی ہے جو سرکاری طور پر وصول نہیں کی گئی۔ طارق روڈ پر ہی ڈولمن سینٹر کے سامنے عمارت پر 40×80 فٹ اشتہار کی فیس 20 لاکھ روپے بنتی ہے مگر یہ بھی وصول نہیں کی گئی جبکہ اخبارات خصوصاً روزنامہ جرأت گزشتہ ماہ سے مسلسل اس بدعنوانی کی نشاندہی کررہا ہے ۔یونیورسٹی روڈ پر پاکستان ایڈور ٹائزر کا60×20 فٹ اشتہاری جگہ پر ایک موبائل کمپنی کا اشتہار آویزاں ہے۔ یہ بھی مارچ سے لگا ہواہے مگر کوئی فیس ادا کیے بغیر۔ اس حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ بلدیہ شرقی کے انسپکٹرمعین نے تحریری طور پر چیئرمین بلدیہ شرقی کو مطلع کر دیا اور مارچ میں چیئرمین کو خط لکھا تھا مگر کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ یہیں نہیں بلدیہ شرقی کی حدود میں گشتی اشتہار (موبائل ایڈور ٹائزمنٹ) جو مختلف گاڑیوں پر بنائے گئے ہیں اور فی گاڑی ایک لاکھ 8 ہزار روپے فیس مقرر ہے۔ امسال صرف 60 لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع ہوئے ہیں جبکہ جتنی گاڑیاں چل رہی ہیں اُن میں بعض ہائڈ رولک سسٹم پر ڈبل اور ٹرپل اسٹیپس کے ساتھ چل رہی ہیں جس میں آہنی ڈھانچہ استعمال ہوا ہے جس پر سپریم کورٹ نے پابندی لگائی ہے۔ محتاط اندازے کے مطابق اس مد میں کم وبیش ڈیڑھ کروڑ روپے سرکار کو ملنے تھے۔ بلڈرز سے شہر میں بینرز لگانے کی فیس وصول کی جاتی ہے اور ضلعی بلدیات اپنی اپنی حدود میں لگے بلڈرز کے بینرز سے فیس وصول کرتی ہیں مگر افسوس کہ فی بلڈر 5 تا 7 لاکھ روپے 15 روزہ ایک مہم کے وصول کرنے تھے مگر ایک پائی بھی اس مد میں سرکاری خزانے میں جمع نہ ہوسکی جبکہ ایک اندازے کے مطابق بلڈرزکی مہم کی مد میں اب تک 60 لاکھ روپے خزانے میں آجانے تھے۔ اسٹیمربینر کی مہم 7 روزہ ہوتی ہے مگر اس مد میں بھی ایک کروڑ سے زائد جمع ہونے تھے جو نہیں کئے گئے۔ اس طرح پول سائن پر پابندی کے باوجود شہر بھر میں پول سائن لگانے اور بلدیہ شرقی کے افسران کی جانب سے غیر قانونی طورپر رقومات کی وصولی کا عمل جاری ہے، اس مد میں بھی اب تک30 لاکھ روپے ایک سال میں سرکاری خزانے میں جمع ہونے تھے جو اب تک صرف انسپکٹروں اور افسران کی جیب میں جا رہے ہیں۔ بلدیاتی ادارے پہلے ہی فنڈز کی کمی کا شکار ہیں اور اس پر افسران چونا لگانے میں مشغول ہیں۔
بلدیہ جنوبی میں 3 تلوار کے گرد عمارتوں پر، اوشین مال دو تلوار، اور بوٹ بیسن پر بھی 4 عمارتوں پر وال پیسٹنگ کی گئی ہے۔ وال پیسٹنگ کے نام پر سپریم کورٹ کے احکامات کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ اس کام میں ڈائریکٹر اشتہارات بلدیہ جنوبی وزیرعلی ملوث ہے۔ وزیرعلی نے بھی وال پیسٹنگ کے علاوہ دیگر اشتہاری طریقہ کار میں بھی ہیر پھیر کیا ہے اور کروڑوں روپے کا چونا لگایا گیا ہے۔
شہر میں غیر قانونی اشتہارات سپریم کورٹ کے احکامات کے بر خلاف مسلسل لگائے جا رہے ہیں اور صرف چند مفاد پرست اشتہاری کمپنیاں اس میں ملوث ہیں ان کمپنیوں میں سرفہرست ایم این بی، چیمپئن ایڈور ٹائزر، ڈو ایڈورٹائزر، این کیو ایڈور ٹائزر اور پاکستان ایڈور ٹائزر شامل ہیں جنہوں نے دو درجن سے زائد وال پیسٹنگ، گشتی اشتہاری گاڑیاں اور دیگر ذرائع جن میں ایل ای ڈی اشتہار بھی شامل ہیں۔
بلدیہ وسطی کی ڈائریکٹر لوکل ٹیکس شمونہ صدف بھی غیر قانونی اشتہارات میں لاکھوں روپے مبینہ طور پر وصول کرچکی ہیں۔ بلدیہ وسطی کی حدود میں شاہراہ پاکستان، یوسف پلازہ، ناظم آباد، ناظم آباد حیدری، لیاقت آباد میں بھی وال پیسٹنگ کے نام پر غیر قانونی آہنی ڈھانچے کا استعمال کیا گیا ہے اور ایڈور ٹائزر کو فائدہ پہنچا کر بلدیہ وسطی کو 2 کروڑ سے زائد نقصان پہنچایا ہے۔ خاتون افسر نے اسٹیمر بینرز، بلڈرز بینرز اور گشتی اشتہار (بیگسلیٹ) شاپنگ سینٹرز کے باہر مختلف کمپنیوں کے اسٹالز، پول سائن وغیرہ کی مد میں کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا اور مبینہ بھاری نذرانے وصول کیے۔
کراچی میں سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے بعد اشتہاری کمپنیوں کی اکثریت نئے قوانین وبائی لاز بننے کا انتظار کر رہی ہے مگر چند مفاد پرست کمپنیاں غیر قانونی اشتہارات لگانے میں مصروف ہو گئیں۔
ایسی صورتحال میں ایک تنظیم کراچی ایڈور ٹائزر ایسوسی ایشن وجود میں آگئی ہے جس نے وال پیسٹنگ کو غیر قانونی قرار دلوانے اور نیون سائن کی بحالی کی مہم شروع کر دی ہے۔ اس حوالے سے کراچی ایڈور ٹائزرز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری اطلاعات احمد رضوی نے جرأت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریاست میں ریاست قائم ہے کہ نہ سرکاری ٹیکس، نہ عدالتوں کی پاسداری بس غیر قانونی پیسہ ہے جو کسی بھی طرح حاصل کرنے کی چند مفاد پرست کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند روز میں بائی لاز مکمل ہو جائیں گے پھر قانونی طور پر سائن بورڈ شہر کے مخصوص مقامات پر لگ سکیں گے۔ احمد رضوی نے کہا کہ ایک بڑی اکثریت صبر سے کام لے رہی ہے اور جب سپریم کورٹ کوئی نتیجہ دے گی تو ہزاروں لوگوں کو اس صنعت سے روزگار حاصل ہوگا جو بے روزگار ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مفاد پرست ٹولے کا احتساب ہر حال میں کریں گے اور عدالتوں میں گھسیٹا جائے گا۔

عمران علی شاہ


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر