... loading ...

کانگریس نے سرکاری اخراجات کے لیے رقم کی فراہمی کے عارضی بل کی منظوری اگلے جمعہ سے قبل نہ دی تو حکومت کو جزوی ‘شٹ ڈاؤن’ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ‘ اگر قانون ساز اخراجات کے کسی نئے قلیل المیعاد معاہدے تک نہیں پہنچتے، تو اس صورت میں غیر لازمی سرکاری خدما ت روک دی جائیں گی
امریکی کانگریس اس ہفتے کے لیے کام پر واپس آ گئی ہے جو سرکاری خدمات کے لیے ایک اہم ہفتہ ثابت ہو سکتا ہے۔ جمعرات کی صبح امریکی قانون سازوں نے ایک ٹریلین سے زیادہ ڈالر کے قلیل المیعاد اخراجات کے اس بل کی مہلت میں اضافہ کر دیا تھا جس کے لیے سینیٹ سے 29 اپریل تک بل کی منظوری یا پھر حکومت کی جزوی بندش کا خطرہ کھڑا ہو جاتا۔ اس مہلت کے باوجود وائس آف امریکا سے گفتگو کرنے والے ماہرین نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ اس بار حکومت کی اس قسم کی بندش کا اعادہ نہیں ہوگا جس صورت حال کا سامنا 2013ءمیں کرنا پڑا تھا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ متصادم ایجنڈے اتفاق رائے کو مشکل بھی بنا سکتے ہیں اور ضروری بھی۔
قبل ازیںڈیموکریٹس سینیٹرز نے عزم ظاہر کیا تھا کہ وہ ری پبلکن اکثریت کے حامل امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے حکومت کے ہنگامی اخراجات سے متعلق منظور کردہ بل کو مسترد کردیں گے جس کے بعد امریکا میں سرکاری اداروں کی بندش کا خطرہ ایک بار پھر پیدا ہوگیا تھا۔ایوانِ نمائندگان کی جانب سے جمعہ کی صبح 203 کے مقابلے میں 219 ووٹوں سے منظور کردہ بل کے نتیجے میں حکومت کو 18 نومبر تک کے سرکاری اخراجات کے لیے درکار فنڈز فراہم ہوسکیں گے۔بِل میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی مد میں 3 ارب 65 کروڑ ڈالرز کی رقم مختص کی گئی ہے۔ تاہم بِل میں امریکی حکومت کے ماحول دوست توانائی کے منصوبوں کے لیے درکار رقم میں ڈیڑھ ارب ڈالرز کی کٹوتی کردی گئی ہے جس پر سینیٹ کی اکثریتی جماعت ڈیموکریٹس کے ارکان سخت برہم ہیں۔ ڈیموکریٹ سینیٹرز نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ سرکاری اخراجات سے متعلق ایک دوسرا بل منظور کریں گے جس میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے لگ بھگ 7 ارب ڈالرز رکھے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ اگر کانگریس کی جانب سے سرکاری اخراجات کے لیے رقم کی فراہمی کے عارضی بل کی منظوری اگلے جمعہ سے قبل نہ دی گئی تو حکومت کو جزوی ‘شٹ ڈاؤن’ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم بِل کی فوری منظوری نہ ہونے کی صورت میں امریکہ میں آفات سے نمٹنے کے وفاقی ادارے ‘فیڈرل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی’ کو اپنے آپریشنز بیان کردہ مدت سے قبل ہی بند کرنا پڑ سکتے ہیں کیونکہ پیر کے بعد اخراجات کے لیے ادارے کے اکاؤنٹس میں رقم موجود نہیں۔یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ آئندہ ہفتے کانگریس کے دونوں ایوانوں کی تعطیلات طے ہیں۔ڈیموکریٹس سینیٹرز نے جس بل کی منظوری کا عندیہ دیا ہے وہ ایوانِ نمائندگان نے بدھ کو مسترد کردیا تھا۔ بل کا استرداد ان 48 ری پبلکن اراکین کی اپنے رہنماؤں سے بغاوت کے نتیجے میں ہوا تھا جن میں سے بیشتر رجعت پسند ‘ٹی پارٹی تحریک’ کے حامی ہیں۔ان ری پبلکن اراکین نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ اس بل کی منظوری نہیں دیں گے کیوں کہ اس میں سرکاری اخراجات میں نمایاں کٹوتیاں تجویز نہیں کی گئیں۔
اگر قانون ساز اخراجات کے کسی نئے قلیل المیعاد معاہدے تک نہیں پہنچتے، جس کی مہلت میں اب ایک ہفتے تک کا اضافہ کر دیا گیا ہے، تو اس صورت میں غیر لازمی سرکاری خدما ت روک دی جائیں گی، ہزاروں سرکاری ملازموں کو کام سے چھٹی دے دی جائے گی اور لاکھوں ڈالرز کے چیکس اور ٹیکسوں کے ری فنڈز تاخیر کا شکار ہو جائیں گے۔
سینیٹ کے ری پبلیکن لیڈر مچ کونیل کا کہنا ہے کہ میں اس بارے میں کوئی قیاس آرائی نہیں کرنا چاہتا کہ آیا یہ معاملہ اس ہفتے واقعی طے ہو جائے گا لیکن ہم30 ستمبر تک کوئی مستقل معاہدہ طے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اب جب کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ میکسیکو کے ساتھ ایک سرحدی دیوار کے لیے ابتدائی فنڈنگ کو زیر غور لانے کے لیے رضامند ہو گئے ہیں، زیادہ امکان یہ ہے کہ کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔ کانفرنس کے بورڈ کے رکن جو مینارک کا کہنا ہے کہ یہ ایک اعتراف ہے کہ جمہوریت میں مفاہمت ضروری ہوتی ہے۔انہوں کے کہا کہ سینیٹ میں ضروری قانون کی منظوری کے لیے، انہیں 60 ووٹ درکار ہیں جو ری پبلیکن خود سے پورے نہیں کر سکتے۔ اس لئے ڈیمو کریٹس کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے لیے وہ ڈیمو کریٹس کو لازمی طور پر کچھ مراعات کی پیش کش کریں گے۔
لیکن ایک اور سیاسی مسئلہ بدستور باقی ہے۔ ری پبلیکنز اخراجات کے بل سے ایفورڈ ایبل ایکٹ سے اخراجات میں شراکتی ادائیگیاں ختم کرانا چاہتے ہیں، ڈیمو کریٹس کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسا اقدام ہے جس سے کم آمدنی والے لگ بھگ 60 لاکھ امریکی متاثر ہوں گے۔بینک ریٹ ڈاٹ کام کے مارک ہامرک نے اسکائپ کے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے کہ دنوں جماعتیں یہ سمجھتی ہیں کہ اگر ایسا ہوا تو ووٹر جن کی نظر میں پہلے ہی قانون سازوں کی قدرو منزلت کم ہو چکی ہے، اس میں مزید کمی کر دیں گے، اور اس لیے یہ سب سے بنیادی ہدف ہے جو حکومت کو حاصل کرنا چاہیے۔
2013 ءمیں معاملہ ایسا نہیں تھا جب مٹھی بھر ری پبلکن قانون سازوں نے حکومت کو سولہ دن کی بندش پر مجبور کر دیا تھا۔ جس کے نتیجے میں میوزیم، نیشنل پارکس اور غیر لازمی سرکاری سہولیات بند ہو گئی تھیں، اور اس سیاسی حربے سے امریکی ٹیکس دہندگان کو سہولیات سے محرومی کی وجہ سے لگ بھگ دو ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ لیکن اس بار کوئی جماعت بھی الزام تراشی کا کھیل نہیں کھیلنا چاہتی۔کانفرنس بورڈ کے جو مینارک کہتے ہیں کہ کبھی کبھی لوگ اس قسم کے کھیل میں بازی جیتنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کھیل میں آخر کار نقصان امریکی لوگوں ہی کو ہوتا ہے۔ اس لیے وہ کوشش کریں گے اور کوئی مفاہمتی راستہ تلاش کریں اور اس مسئلے کو حل کریں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اخراجات کے بل کی منظوری یا مہلت میں توسیع میں ناکامی نئی انتظامیہ کے لیے بہت مہنگی ثابت ہو سکتی ہے ، جو اپنے پہلے سو دنوں میں حکومت کی کسی بندش کو شامل کرنے سے بظاہر ہچکچارہی ہے۔
ڈیموکریٹس سینیٹرز نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ ری پبلکن اکثریت کے حامل امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے حکومت کے ہنگامی اخراجات سے متعلق منظور کردہ بل کو مسترد کردیں گے جس کے بعد امریکہ میں سرکاری اداروں کی بندش کا خطرہ ایک بار پھر پیدا ہوگیا ہے۔ایوانِ نمائندگان کی جانب سے جمعہ کی صبح 203 کے مقابلے میں 219 ووٹوں سے منظور کردہ بل کے نتیجے میں حکومت کو 18 نومبر تک کے سرکاری اخراجات کے لیے درکار فنڈز فراہم ہوسکیں گے۔بِل میں قدرتی آفات سے نمٹنے کی مد میں 3 ارب 65 کروڑ ڈالرز کی رقم مختص کی گئی ہے۔ تاہم بِل میں امریکی حکومت کے ماحول دوست توانائی کے منصوبوں کے لیے درکار رقم میں ڈیڑھ ارب ڈالرز کی کٹوتی کردی گئی ہے جس پر سینیٹ کی اکثریتی جماعت ڈیموکریٹس کے ارکان سخت برہم ہیں۔ڈیموکریٹ سینیٹرز نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ سرکاری اخراجات سے متعلق ایک دوسرا بل منظور کریں گے جس میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے لگ بھگ 7 ارب ڈالرز رکھے گئے ہیں۔
اگر کانگریس کی جانب سے سرکاری اخراجات کے لیے رقم کی فراہمی کے عارضی بل کی منظوری آئندہ جمعہ سے قبل نہ دی گئی تو حکومت کو جزوی ‘شٹ ڈاؤن’ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔تاہم بِل کی فوری منظوری نہ ہونے کی صورت میں امریکہ میں آفات سے نمٹنے کے وفاقی ادارے ‘فیڈرل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی’ کو اپنے آپریشنز بیان کردہ مدت سے قبل ہی بند کرنا پڑ سکتے ہیں کیونکہ پیر کے بعد اخراجات کے لیے ادارے کے اکاؤنٹس میں رقم موجود نہیں۔یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ آئندہ ہفتے کانگریس کے دونوں ایوانوں کی تعطیلات طے ہیں۔ڈیموکریٹس سینیٹرز نے جس بل کی منظوری کا عندیہ دیا ہے وہ ایوانِ نمائندگان نے بدھ کو مسترد کردیا تھا۔ بل کا استرداد ان 48 ری پبلکن اراکین کی اپنے رہنماؤں سے بغاوت کے نتیجے میں ہوا تھا جن میں سے بیشتر رجعت پسند ‘ٹی پارٹی تحریک’ کے حامی ہیں۔ان ری پبلکن اراکین نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ اس بل کی منظوری نہیں دیں گے کیوں کہ اس میں سرکاری اخراجات میں نمایاں کٹوتیاں تجویز نہیں کی گئیں۔
تہمینہ حیات
مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...
اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...
صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...
کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...
دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...
قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...
بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...
حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...
فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...
اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...
رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...