وجود

... loading ...

وجود

عزیر بلوچ کے پاک فوج کی تحویل میں جانے سے سیاست دانوں کی نیندیں اڑگئیں

پیر 17 اپریل 2017 عزیر بلوچ کے پاک فوج کی تحویل میں جانے سے سیاست دانوں کی نیندیں اڑگئیں

فریال تالپور کو ماہانہ ایک کروڑروپے بھتہ دیا جاتا تھا،بلاول ہاوس کے اطراف کے بنگلے اور فلیٹ خالی کرائے عسکری قیادت نے ملکی و غیر ملکی دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کرنے میں تیزی کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس میں ملک دشمن اور جرائم پیشہ عناصر ضرور گرفت میں آئیں گے

لیاری گینگ وار کا مرکزی کردار اس وقت پاک فوج کی تحویل میںہے اور میڈیا پرآئے روز آنے والے انکشافات نے عزیر بلوچ سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔عزیر جان بلوچ کو لیاری میں پاکستان پیپلز پارٹی کا سیاسی نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔ پیپلز پارٹی گزشتہ کچھ برسوں سے خود کو اس شناخت سے الگ کرنا چاہتی تھی۔2001ءمیں عزیر نے لیاری کے ناظم کا الیکشن بطور آزاد امیدوار لڑا۔ تاہم پیپلز پارٹی کے ایک جیالے، حبیب خان نے اسے اس انتخاب میں شکست دے دی۔عزیر بلوچ لیاری کے ایک ٹرانسپورٹر فیض محمد عرف فیضو ماما کا بیٹا ہے۔ وہ جرائم کی دنیا میں اس وقت داخل ہوا جب 2003ءمیں ارشد عرف ارشد پپو گینگ نے اس کے باپ کو قتل کیا۔اس نے اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لینے کا فیصلہ کر لیا۔ارشد پپو،عبدالرحمن عرف رحمن ڈکیت کا دشمن تھا۔رحمن ڈکیت، لیاری میں منشیات اور زمین کے معاملات میں ارشد پپو گینگ کے ساتھ ایک پرانی اور تلخ خانہ جنگی میں مبتلا تھا۔عزیر نے رحمن ڈکیت کے گینگ میں شمولیت اختیار کر لی کیونکہ پپو گینگ کے لوگوں نے اسے اپنے باپ کا مقدمہ عدالت لے جانے پر دھمکیاں دینی شروع کر دی تھیں۔ عبدالرحمن کی موت کے بعد عزیر کو گینگ کا سربراہ منتخب کر لیا گیا۔2012ءتک پیپلز پارٹی درپردہ عزیر کو تحفط فراہم کرتی رہی۔ ایک دو بار پولیس نے اسے گرفتار کیا تو پی پی پی کے رہنماؤں،کارکنوںکی مداخلت پر اسے فوراً رہا کر دیا جاتا۔پھراویس مظفرالمعروف ٹپی نے لیاری سے الیکشن لڑنا چاہا مگر عزیر نے انکار کر دیا۔ عزیر کے پیپلز پارٹی کی پیپلز امن کمیٹی سے تعلقات خراب ہونے کے فوراً بعداپریل 2012ءمیں لیاری میں آپریشن کا فیصلہ کر لیا گیا۔پی پی پی کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے آغاز کی وجوہات خالصتاً سیاسی تھیں۔ایک ہفتے بعد آپریشن ختم کر دیا گیا اور نتیجتاً پی پی پی کو 2013ءکے عام انتخابات میں لڑنے کے لیے اپنی قبیل کے لوگ منتخب کرنے کی اجازت دے دی گئی۔لیکن جب اندرونی لڑائیوں کے سبب پیپلز امن کمیٹی ٹوٹ گئی اور یہاں گروہ در گروہ بنتے گئے تو حالات مزید بگڑ گئے، عزیر بلوچ پر درجنوں مقدمات ہیں۔ ان میں اغوا، قتل اور دہشتگردی کے مقدمات بھی ہیں۔لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیز بلوچ نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق صدرزرداری کی بہن کو ماہانہ ایک کروڑ روپے بھتہ جاتا جبکہ گینگ وار کو مکمل سرپرستی حاصل تھی ، اگر پکڑے جاتے تھے تو رہائی بھی دلوائی جاتی تھی ، یہاں تک کہ اعلیٰ سیاسی وسرکاری عہدیداران کی سرپرستی میں گینگ کارندے سرکاری محکموں سے بھی بھتے وصول کرتے رہے ہیں،24اپریل 2016ءکو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کے روبرو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164کے تحت بیان ریکارڈ کراتے ہوئے عزیر بلوچ کا کہنا تھاکہ 2003ءمیں رحمان ڈکیت گروپ میں شرکت کی اور2008ءتک اسی گروپ کے ساتھ کام کرتارہا تاہم رحمان کی ہلاکت کے بعدلیاری گینگ کا گروپ سنبھال لیا، پھر پیپلزامن کمیٹی بناکر اس کا چیئرمین بن گیا۔ساتھیوں کی مدد سے پشین سے اسلحہ منگوایا اوربااثرافراد کی سرپرستی میں بھتہ خوری، منشیات فروشی اور اغواجیسی وارداتیں کرتاتھا، قادر پٹیل ، یوسف بلوچ اور دیگراعلیٰ افسران ہمارا خیال رکھتے تھے اور اگر کوئی پکڑا جاتاتواسے چھڑاتے تھے۔ عزیربلوچ نے انکشاف کیاکہ سرکاری محکموں سے بھی بھتے وصول کیے، فشریز سے 20لاکھ روپے بھتہ ملتاتھا جبکہ2013ءمیں ہونیوالے عام انتخابات تک سینیٹر یوسف بلوچ اور فریال تالپور کے رابطے میں تھا،فریال تالپور کو ماہانہ کروڑ روپے بھتہ ملتا تھا۔ 2013ءمیں کراچی آپریشن میں تیزی آئی تو فریال تالپور نے مجھے قادر پٹیل، یوسف بلوچ کے ذریعے اپنے گھر جو ڈیفنس میں واقع تھا بلوایا، اس موقع پر شرجیل انعام میمن اور نثار میمن بھی موجود تھے، فریال تالپور نے لیاری گینگ وار و دیگر معاملات میں بات چیت کی۔ اس نے ذاتی اسلحہ گولہ بارود چھپانے کو کہا اور انتظامی معاملات شرجیل انعام میمن اور نثار مورائی کے حوالے کرنے جبکہ لیاری کے معاملات قادر پٹیل اور سینیٹر یوسف بلوچ کے حوالے کیے اور مجھے فریال تالپور نے بیرون ملک جانے کو کہا تھا۔عزیربلوچ کاکہناتھاکہ میں نے متعدد غیرقانونی کام کیے ، جن میں جرائم پیشہ افراد کو مختلف محکموں میں نوکریاں دلا کر پہنچانا بھی شامل ہے، زرداری کے کہنے پر جرائم پیشہ افراد بلاول ہاؤس بھجوائے جنہوں نے گردونواح میں بنگلے زبردستی خالی کرائے ۔
٭٭٭
عزیر بلوچ کی بیٹی کے انکشافات نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا
عزیر بلوچ کی بیٹی کا کہنا ہے کہ میرے والد کو پاکستان پیپلزپارٹی کے نام نہاد رہنماؤں نے استعمال کیا۔ میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے عزیر بلوچ کی بیٹی نے انکشاف کیا کہ میرے والد کو پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹر یوسف بلوچ، فریال تالپور، شرمیلا فاروقی اور وزیراعلیٰ سندھ کے فون آتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری وزیراعظم سے درخواست ہے کہ میرے والد کو تحفظ فراہم کیا جائے ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ عزیر بلوچ کی بیٹی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ثانیہ ناز میرے والد کے دل میں جگہ بنانا چاہتی تھی اور یہی وجہ ہے کہ وہ ہمارے گھر میں نوکرانیوں کی طرح رہتی تھی۔عزیر بلوچ کی بیٹی نے مزید کہا کہ ثانیہ ناز یا جاوید ناگوری کی اتنی حیثیت نہیں ہے کہ وہ کسی کو کھانا کھلا سکیں وہ دعوت میرے والد عزیر بلوچ ہی کی جا نب سے دی گئی تھی جس میں شرمیلا فاروقی اور شہلا رضا سمیت پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما شریک ہوئے تھے۔ گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کی بیٹی کا مزید کہنا تھا کہ جب ا س کے پاپا لیاری میں تھے تو سب آتے تھے۔ اب فریال تالپور، شرجیل میمن، شرمیلا فاروقی کوئی فون تک نہیں ا ٹھاتا۔
کل بھوشن یادیو اور عزیر بلوچ ایک ہی سکے کے دو رخ
کل بھوشن یادیو کے بارے میں لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر جان بلوچ نے اپنی گرفتاری کے بعد جو معلومات فراہم کیں ان کی روشنی میں یہ بھارتی جاسوس گرفتار ہوا، عزیر جان بلوچ نے بلوچستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی راکے نیٹ ورک اور پاکستانی سرحد کے قریب ایرانی علاقے میں اسی ایجنسی کے بیس کیمپ سے متعلق اہم انکشافات کیے جہاںبھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری میں اہم کردار ادا کیا وہیں بلوچستان اور ایران کے درمیان دہشتگردوں کے نیٹ ورک اور کئی مراکز میں ان کی تربیت کے بارے میں بڑی معلومات فراہم کیں۔ کلبھوشن یادیو کا مشن پاکستان کیخلاف صرف جاسوسی کرنا نہیں تھا بلکہ وہ پاکستان میں دہشتگردی پھیلاکر ملک کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کے لیے سرگرم تھا۔ وزیر اعظم نوازشریف اور آرمی چیف جنرل قمر زمان باجوہ کا یہ عزم خوش آئند ہے کہ ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا اور ملکی وغیر ملکی پاکستان دشمن عناصر کے ساتھ کوئی نرمی نہیں بر تی جائےگی، پیپلزپارٹی عزیر جان بلوچ کے اقبالی بیان میں میں کیے گئے انکشافات پر سخت ذہنی دباؤ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ سیاسی قیادت عزیر جان بلوچ کے لیے اپنی مصلحتوں کے تحت شاید نرم گوشہ رکھتی ہولیکن عسکری قیادت نے ملک کو تمام سیاسی و غیر سیاسی ملکی و غیر ملکی دہشتگردوں کیخلاف بلا امتیاز کارروائی کرنے میں تیزی کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس میں ملک دشمن اور جرائم پیشہ عناصر ضرور گرفت میں آئیں گے۔ کراچی آپریشن کے دوران لیاری گینگ وار میں ملوث بہت سے افراد ایران، عمان، دبئی اور جنوبی افریقہ فرار ہوگئے تھے ۔عزیر جان بلوچ کے اقبالی بیانات میں انکشافات کیے گئے ناموں کی بھی حساس اداروں نے تلاش شروع کردی ہے۔ ایف آئی اے کاوئنٹر ٹیررازم ونگ کو عزیر جان بلوچ کے ساتھیوں کے سفر کا ریکارڈ حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تحقیقاتی اداروں نے لیاری اور شہر کے دیگر بلوچ اکثریتی علاقوں میں ایسے دہشتگردوں کی تلاش شروع کردی ہے جو کئی برس تک شہر میں حالات خراب کرنے اور قتل و غارت کا بازار گرم کرنے کے علاوہ جاسوسی کے نیٹ ورک کا حصہ بنے رہے۔ بی ایل اے کے ان کیمپوں میں آنے والوں کو فنڈز اور عسکری تربیت بھارتی خفیہ ادارے کی طرف سے فراہم کی جاتی رہی۔ سیکورٹی فورسز نے آپریشن رد الفساد میں اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے بلوچستان اور کراچی میں بھارتی و افغانی خفیہ ایجنسیوں کا نیٹ ورک چلانے والے پانچ دہشتگرد گرفتار کرکے ان سے بھاری اسلحہ و بارود برآمد کرلیا۔ بھارتی اور افغان ایجنسیوں کا نیٹ ورک پکڑا جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک ہمسایہ ملک پاکستان میں دہشتگردی کرکے اس کا امن تباہ کرنے جیسی مذموم کارروائیوں میں مصروف ہیں پاکستان میں رونما ہونے والے دہشتگردی کے متعددواقعات میں بھی یہ ہی دونوں ممالک ملوث ہیں ۔
محمد فہد بلوچ


متعلقہ خبریں


امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ایک خاص مقصد کے تحت تھرپارکر اور صوبے پر تنقید کی جاتی ہے،کہا جاتا ہے پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا، اختیارات اسلام آباد کو دیے جائیں، کوئی دوسرا صوبہ سندھ سے مقابلہ نہیں جیت سکتا،چیئرمین کوئلہ یہاں کے عوام کا اثاثہ ہے ،تھر میں پیپلزپارٹی کا کیا گیا کام ان قوتوں کو بہترین جواب ہے...

سندھ کے حقوق اور وسائل پرکچھ قوتیں ڈاکا ڈالنا چاہتے ہیں،بلاول بھٹو

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

ان لوگوں نے گمراہ کن ایجنڈے کیلئے کچھ احادیث گھڑ لیں ہیں ایسے گمراہ لوگ سفاک مجرم اور قاتل ہیں،تقریب سے خطاب ملک میں جگہ جگہ علماء کرام کو قتل کیا جا رہا ہے، وزیرستان میں فتنۃ الخوارج کے ہاتھوں عالم دین کی شہادت پر مولانا کا شدید ردعمل اسلام آباد(بیورورپورٹ)خیبرپختونخوا کے علا...

دنیا میں کچھ تنظیمیں دھڑلے سے جمہوریت کو کفر کہتی ہیں،فضل الرحمان

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں لقمہ اجل بن چکے ہیں بچے خودکش ڈرون ، فضائی حملوں، گولہ باری میں شہید کیے جاچکے ہیں،یونیسیف غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ بین ا...

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود 100 سے زائد بچے شہید

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا وجود - بدھ 14 جنوری 2026

ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...

محمود اچکزئی کی اپوزیشن لیڈر بننے کی راہ ہموار ، حکومت نے اشارہ دے دیا

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان وجود - بدھ 14 جنوری 2026

موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...

آزمائشوں کیلئے تیار ، مدار س کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کرینگے، آرڈیننس کے اجراء سے حکومتی مکاری عیاں ہوگئی،فضل الرحمان

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن وجود - بدھ 14 جنوری 2026

پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...

سیاسی مخالفین پر کیچڑ اچھالنا پی ٹی آئی قیادت کی تربیت ہے،شرجیل میمن

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق وجود - بدھ 14 جنوری 2026

امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...

بنوں ، دہشت گردوں کی فائرنگ، امن کمیٹی کے 4اراکین جاں بحق

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ وجود - بدھ 14 جنوری 2026

محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...

پاکستان اورمتحدہ عرب امارات میں پری امیگریشن کلیٔرنس پر معاہدہ

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

مضامین
حیوان انسان کے اندربستا ہے! وجود جمعرات 15 جنوری 2026
حیوان انسان کے اندربستا ہے!

پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت وجود جمعرات 15 جنوری 2026
پاکستان میں خیا لات پرکڑی نظر اور سخت گرفت

مکارتھی ازم وجود جمعرات 15 جنوری 2026
مکارتھی ازم

کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟ وجود جمعرات 15 جنوری 2026
کیا واقعی ہندوخطرے میں ہیں؟

بھارتی تعلیمی ادارے،انتہا پسندی کا گڑھ وجود جمعرات 15 جنوری 2026
بھارتی تعلیمی ادارے،انتہا پسندی کا گڑھ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر