وجود

... loading ...

وجود

عزیر بلوچ کے پاک فوج کی تحویل میں جانے سے سیاست دانوں کی نیندیں اڑگئیں

پیر 17 اپریل 2017 عزیر بلوچ کے پاک فوج کی تحویل میں جانے سے سیاست دانوں کی نیندیں اڑگئیں

فریال تالپور کو ماہانہ ایک کروڑروپے بھتہ دیا جاتا تھا،بلاول ہاوس کے اطراف کے بنگلے اور فلیٹ خالی کرائے عسکری قیادت نے ملکی و غیر ملکی دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کرنے میں تیزی کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس میں ملک دشمن اور جرائم پیشہ عناصر ضرور گرفت میں آئیں گے

لیاری گینگ وار کا مرکزی کردار اس وقت پاک فوج کی تحویل میںہے اور میڈیا پرآئے روز آنے والے انکشافات نے عزیر بلوچ سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔عزیر جان بلوچ کو لیاری میں پاکستان پیپلز پارٹی کا سیاسی نمائندہ سمجھا جاتا تھا۔ پیپلز پارٹی گزشتہ کچھ برسوں سے خود کو اس شناخت سے الگ کرنا چاہتی تھی۔2001ءمیں عزیر نے لیاری کے ناظم کا الیکشن بطور آزاد امیدوار لڑا۔ تاہم پیپلز پارٹی کے ایک جیالے، حبیب خان نے اسے اس انتخاب میں شکست دے دی۔عزیر بلوچ لیاری کے ایک ٹرانسپورٹر فیض محمد عرف فیضو ماما کا بیٹا ہے۔ وہ جرائم کی دنیا میں اس وقت داخل ہوا جب 2003ءمیں ارشد عرف ارشد پپو گینگ نے اس کے باپ کو قتل کیا۔اس نے اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لینے کا فیصلہ کر لیا۔ارشد پپو،عبدالرحمن عرف رحمن ڈکیت کا دشمن تھا۔رحمن ڈکیت، لیاری میں منشیات اور زمین کے معاملات میں ارشد پپو گینگ کے ساتھ ایک پرانی اور تلخ خانہ جنگی میں مبتلا تھا۔عزیر نے رحمن ڈکیت کے گینگ میں شمولیت اختیار کر لی کیونکہ پپو گینگ کے لوگوں نے اسے اپنے باپ کا مقدمہ عدالت لے جانے پر دھمکیاں دینی شروع کر دی تھیں۔ عبدالرحمن کی موت کے بعد عزیر کو گینگ کا سربراہ منتخب کر لیا گیا۔2012ءتک پیپلز پارٹی درپردہ عزیر کو تحفط فراہم کرتی رہی۔ ایک دو بار پولیس نے اسے گرفتار کیا تو پی پی پی کے رہنماؤں،کارکنوںکی مداخلت پر اسے فوراً رہا کر دیا جاتا۔پھراویس مظفرالمعروف ٹپی نے لیاری سے الیکشن لڑنا چاہا مگر عزیر نے انکار کر دیا۔ عزیر کے پیپلز پارٹی کی پیپلز امن کمیٹی سے تعلقات خراب ہونے کے فوراً بعداپریل 2012ءمیں لیاری میں آپریشن کا فیصلہ کر لیا گیا۔پی پی پی کے اندرونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے آغاز کی وجوہات خالصتاً سیاسی تھیں۔ایک ہفتے بعد آپریشن ختم کر دیا گیا اور نتیجتاً پی پی پی کو 2013ءکے عام انتخابات میں لڑنے کے لیے اپنی قبیل کے لوگ منتخب کرنے کی اجازت دے دی گئی۔لیکن جب اندرونی لڑائیوں کے سبب پیپلز امن کمیٹی ٹوٹ گئی اور یہاں گروہ در گروہ بنتے گئے تو حالات مزید بگڑ گئے، عزیر بلوچ پر درجنوں مقدمات ہیں۔ ان میں اغوا، قتل اور دہشتگردی کے مقدمات بھی ہیں۔لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیز بلوچ نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق صدرزرداری کی بہن کو ماہانہ ایک کروڑ روپے بھتہ جاتا جبکہ گینگ وار کو مکمل سرپرستی حاصل تھی ، اگر پکڑے جاتے تھے تو رہائی بھی دلوائی جاتی تھی ، یہاں تک کہ اعلیٰ سیاسی وسرکاری عہدیداران کی سرپرستی میں گینگ کارندے سرکاری محکموں سے بھی بھتے وصول کرتے رہے ہیں،24اپریل 2016ءکو جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کے روبرو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164کے تحت بیان ریکارڈ کراتے ہوئے عزیر بلوچ کا کہنا تھاکہ 2003ءمیں رحمان ڈکیت گروپ میں شرکت کی اور2008ءتک اسی گروپ کے ساتھ کام کرتارہا تاہم رحمان کی ہلاکت کے بعدلیاری گینگ کا گروپ سنبھال لیا، پھر پیپلزامن کمیٹی بناکر اس کا چیئرمین بن گیا۔ساتھیوں کی مدد سے پشین سے اسلحہ منگوایا اوربااثرافراد کی سرپرستی میں بھتہ خوری، منشیات فروشی اور اغواجیسی وارداتیں کرتاتھا، قادر پٹیل ، یوسف بلوچ اور دیگراعلیٰ افسران ہمارا خیال رکھتے تھے اور اگر کوئی پکڑا جاتاتواسے چھڑاتے تھے۔ عزیربلوچ نے انکشاف کیاکہ سرکاری محکموں سے بھی بھتے وصول کیے، فشریز سے 20لاکھ روپے بھتہ ملتاتھا جبکہ2013ءمیں ہونیوالے عام انتخابات تک سینیٹر یوسف بلوچ اور فریال تالپور کے رابطے میں تھا،فریال تالپور کو ماہانہ کروڑ روپے بھتہ ملتا تھا۔ 2013ءمیں کراچی آپریشن میں تیزی آئی تو فریال تالپور نے مجھے قادر پٹیل، یوسف بلوچ کے ذریعے اپنے گھر جو ڈیفنس میں واقع تھا بلوایا، اس موقع پر شرجیل انعام میمن اور نثار میمن بھی موجود تھے، فریال تالپور نے لیاری گینگ وار و دیگر معاملات میں بات چیت کی۔ اس نے ذاتی اسلحہ گولہ بارود چھپانے کو کہا اور انتظامی معاملات شرجیل انعام میمن اور نثار مورائی کے حوالے کرنے جبکہ لیاری کے معاملات قادر پٹیل اور سینیٹر یوسف بلوچ کے حوالے کیے اور مجھے فریال تالپور نے بیرون ملک جانے کو کہا تھا۔عزیربلوچ کاکہناتھاکہ میں نے متعدد غیرقانونی کام کیے ، جن میں جرائم پیشہ افراد کو مختلف محکموں میں نوکریاں دلا کر پہنچانا بھی شامل ہے، زرداری کے کہنے پر جرائم پیشہ افراد بلاول ہاؤس بھجوائے جنہوں نے گردونواح میں بنگلے زبردستی خالی کرائے ۔
٭٭٭
عزیر بلوچ کی بیٹی کے انکشافات نے نیا پنڈورا باکس کھول دیا
عزیر بلوچ کی بیٹی کا کہنا ہے کہ میرے والد کو پاکستان پیپلزپارٹی کے نام نہاد رہنماؤں نے استعمال کیا۔ میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے عزیر بلوچ کی بیٹی نے انکشاف کیا کہ میرے والد کو پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹر یوسف بلوچ، فریال تالپور، شرمیلا فاروقی اور وزیراعلیٰ سندھ کے فون آتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری وزیراعظم سے درخواست ہے کہ میرے والد کو تحفظ فراہم کیا جائے ان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ عزیر بلوچ کی بیٹی نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ثانیہ ناز میرے والد کے دل میں جگہ بنانا چاہتی تھی اور یہی وجہ ہے کہ وہ ہمارے گھر میں نوکرانیوں کی طرح رہتی تھی۔عزیر بلوچ کی بیٹی نے مزید کہا کہ ثانیہ ناز یا جاوید ناگوری کی اتنی حیثیت نہیں ہے کہ وہ کسی کو کھانا کھلا سکیں وہ دعوت میرے والد عزیر بلوچ ہی کی جا نب سے دی گئی تھی جس میں شرمیلا فاروقی اور شہلا رضا سمیت پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما شریک ہوئے تھے۔ گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کی بیٹی کا مزید کہنا تھا کہ جب ا س کے پاپا لیاری میں تھے تو سب آتے تھے۔ اب فریال تالپور، شرجیل میمن، شرمیلا فاروقی کوئی فون تک نہیں ا ٹھاتا۔
کل بھوشن یادیو اور عزیر بلوچ ایک ہی سکے کے دو رخ
کل بھوشن یادیو کے بارے میں لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر جان بلوچ نے اپنی گرفتاری کے بعد جو معلومات فراہم کیں ان کی روشنی میں یہ بھارتی جاسوس گرفتار ہوا، عزیر جان بلوچ نے بلوچستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی راکے نیٹ ورک اور پاکستانی سرحد کے قریب ایرانی علاقے میں اسی ایجنسی کے بیس کیمپ سے متعلق اہم انکشافات کیے جہاںبھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری میں اہم کردار ادا کیا وہیں بلوچستان اور ایران کے درمیان دہشتگردوں کے نیٹ ورک اور کئی مراکز میں ان کی تربیت کے بارے میں بڑی معلومات فراہم کیں۔ کلبھوشن یادیو کا مشن پاکستان کیخلاف صرف جاسوسی کرنا نہیں تھا بلکہ وہ پاکستان میں دہشتگردی پھیلاکر ملک کو عدم استحکام سے دو چار کرنے کے لیے سرگرم تھا۔ وزیر اعظم نوازشریف اور آرمی چیف جنرل قمر زمان باجوہ کا یہ عزم خوش آئند ہے کہ ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا اور ملکی وغیر ملکی پاکستان دشمن عناصر کے ساتھ کوئی نرمی نہیں بر تی جائےگی، پیپلزپارٹی عزیر جان بلوچ کے اقبالی بیان میں میں کیے گئے انکشافات پر سخت ذہنی دباؤ اور بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ سیاسی قیادت عزیر جان بلوچ کے لیے اپنی مصلحتوں کے تحت شاید نرم گوشہ رکھتی ہولیکن عسکری قیادت نے ملک کو تمام سیاسی و غیر سیاسی ملکی و غیر ملکی دہشتگردوں کیخلاف بلا امتیاز کارروائی کرنے میں تیزی کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اس میں ملک دشمن اور جرائم پیشہ عناصر ضرور گرفت میں آئیں گے۔ کراچی آپریشن کے دوران لیاری گینگ وار میں ملوث بہت سے افراد ایران، عمان، دبئی اور جنوبی افریقہ فرار ہوگئے تھے ۔عزیر جان بلوچ کے اقبالی بیانات میں انکشافات کیے گئے ناموں کی بھی حساس اداروں نے تلاش شروع کردی ہے۔ ایف آئی اے کاوئنٹر ٹیررازم ونگ کو عزیر جان بلوچ کے ساتھیوں کے سفر کا ریکارڈ حاصل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تحقیقاتی اداروں نے لیاری اور شہر کے دیگر بلوچ اکثریتی علاقوں میں ایسے دہشتگردوں کی تلاش شروع کردی ہے جو کئی برس تک شہر میں حالات خراب کرنے اور قتل و غارت کا بازار گرم کرنے کے علاوہ جاسوسی کے نیٹ ورک کا حصہ بنے رہے۔ بی ایل اے کے ان کیمپوں میں آنے والوں کو فنڈز اور عسکری تربیت بھارتی خفیہ ادارے کی طرف سے فراہم کی جاتی رہی۔ سیکورٹی فورسز نے آپریشن رد الفساد میں اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے بلوچستان اور کراچی میں بھارتی و افغانی خفیہ ایجنسیوں کا نیٹ ورک چلانے والے پانچ دہشتگرد گرفتار کرکے ان سے بھاری اسلحہ و بارود برآمد کرلیا۔ بھارتی اور افغان ایجنسیوں کا نیٹ ورک پکڑا جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ دونوں ممالک ہمسایہ ملک پاکستان میں دہشتگردی کرکے اس کا امن تباہ کرنے جیسی مذموم کارروائیوں میں مصروف ہیں پاکستان میں رونما ہونے والے دہشتگردی کے متعددواقعات میں بھی یہ ہی دونوں ممالک ملوث ہیں ۔
محمد فہد بلوچ


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر