وجود

... loading ...

وجود

بلوچستان کی ترقی :انتخابی نعرے یاکچھ حقیقت بھی۔۔۔!!

اتوار 09 اپریل 2017 بلوچستان کی ترقی :انتخابی نعرے یاکچھ حقیقت بھی۔۔۔!!

بلوچ نوجوانوں کو حقیقی معنوں میں روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہیں تو پہلے ان کی تعلیم اور ان کو ہنر سکھانے پر توجہ دینا ہوگی ورنہ سڑکیں اور صنعتیں صوبے کو ترقی نہیں دے سکتیں،ناقدین بلوچستان میں تعلیم کی زبوں حالی تخریبی سرگرمیوں کابنیادی سبب ،دوسرے صوبوں کے تعلیم یافتہ وسہولت یافتہ نوجوانوں کو دیکھ کر احساس محرومی میں اضافہ ہوتا ہے سابق صدرآصف زرداری نے بلوچستان کے حالیہ دورے میں میں صنعتوں کے قیام،بے روزگاری کے خاتمے اور وسط ایشیائی ممالک سے پانی لانے کے منصوبے قائم کرنے کے دعوے کیے

پاکستان پیپلز پارٹی کے روح رواں اور شریک چیئرمین آصف زرداری نے گزشتہ روز بلوچستان کادورہ کیا اور وہاں پارٹی کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حسب عادت بڑے بلند بانگ دعوے کئے ،انھوں نے اس پسماندہ صوبے کے زبوں حال لوگوں کی غربت دور کرنے کیلئے اس صوبے میں پانی کی کمی دور کرنے کے کئی ایسے منصوبوں کا ذکر کیا جو شاید وہ اپنی زندگی میں مکمل نہیں کرسکتے۔ مثال کے طورپر انھوںنے بلوچستان کی پانی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے وسط ایشیائی ممالک سے پانی لانے کے منصوبے یا خیال کاذکر کیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ وسط ایشیا سے پانی لانے کیلئے نہروں کی کھدائی اور تیاری کیلئے سرمایہ کہاں سے آئے گا ؟یہ کام کتنے سال یاعشروں میں مکمل ہوسکے گا؟ اس دوران بلوچستان میں آبپاشی اور خاص طورپر پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کیا انتظام کیاجائے گا؟ اس طرح آصف زرداری کے ان وعدوں کو ایسے انتخابی وعدوں سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں دی جاسکتی جو کبھی پورے نہیں ہوتے۔
آصف زرداری نے بلوچستان کے لوگوں کوانٹر نیٹ پر بھارتی مسلمانوں کی حالت زار کا مشاہدہ کرنے اور اس سے سبق حاصل کرنے کامشورہ دے کر ملکی سلامتی کے حوالے سے ایک اچھا کام کیاہے جسے سراہا جانا چاہئے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر آصف زرداری کے اس مشورے پر ایک فیصد لوگوں نے بھی عمل کرلیا اوربھارت میں مسلمانوں کی حالت زار اور مودی دور حکومت میں ان کے ساتھ روا رکھے گئے غیر انسانی سلوک کا مشاہدہ کرلیا تو یہ ایک فیصد نوجوان اس صوبے کے بے راہ رو اور گمراہ نوجوانوں کو راہ راست پر لانے کا اہم ذریعے بن سکتے ہیں۔جس سے بلوچستان میں نہ صرف تخریب کاری میں مصروف نوجوان راہ راست اختیار کرسکتے ہیں بلکہ ہمارے دشمن بھارت کو پاکستان کے خلاف کام کرنے کیلئے بلوچ نوجوانوں کی خدمات کاحصول مشکل ہوجائے گا۔
آصف زرداری نے اپنے دورہ بلوچستان کے دوران بہت سی باتیں کیں ،بلوچستان میں صنعتیں قائم کرنے اور ان میں بلوچ نوجوانوں کو ملازمتوں کی فراہمی کے حوالے سے بھی وعدے کئے لیکن انھوں نے بلوچ نوجوانوں کی غربت اور بیروزگاری یا موزوں روزگار نہ ملنے کے بنیادی مسئلے یعنی بلوچ عوام کی ناخواندگی اوران کے بے ہنرہونے کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی،جبکہ بلوچ نوجوانوں کی بیروزگاری اور بد حالی کی بنیادی وجہ تعلیم سے ان کی محرومی اور ان کابے ہنر ہونا ہے، اور جب تک بلوچستان میں تعلیم کو حقیقی معنوں میں عام نہیں کیاجائے گا اور بلوچ نوجوانوں کو مختلف ہنر سکھانے کے مراکز قائم کرکے بلوچ نوجوانوں کو ہنر سیکھنے کی ترغیب نہیں دی جائے گی، صرف صنعتوں کے قیام سے ان کی غربت اوربیروزگاری کاخاتمہ نہیں ہوسکتا۔کیونکہ ناخواندہ اور بے ہنر نوجوانوں کو کمتر درجے کی ملازمتیں ہی مل سکیں گی اور کمتر درجے کی ملازمتیں کرنے والے یہ نوجوان جب دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کواعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے اور بھاری تنخواہیں وصول کرتے دیکھیں گے تو وہ اپنی تعلیمی کم مائیگی کو نظر انداز کرکے احسا س محرومی کا شکار ہوں گے اور ان کی اسی احساس محرومی کو دشمن اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کرے گا ،جیسا کہ اب بھی ہورہا ہے۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ اگر بلوچ عوام کی حالت کوبہتر بنانا ہے اور بلوچ نوجوانوں کو حقیقی معنوں میں روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہیں تو پہلے ان کی تعلیم اور ان کو ہنر سکھانے پر توجہ دینا ہوگی۔
موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد بلوچستان میں تبدیلی لانے کیلئے جن اقدامات کا ذکر کیاتھا ان میں بلوچستان میں اسکولوں کی بحالی اور تمام بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کرنے کاوعدہ سرفہرست تھا ۔حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ان ترجیحات اور وعدوں کی بنیاد پر یہ خیال کیاجارہاتھا کہ اب بلوچستان کے عوام کو حصول تعلیم کے آسان ذرائع میسر آجائیں گے اور ان کے بچے آوارہ گردی کرنے کے بجائے اسکولوں کی رونق بنیں گے ،لیکن موجودہ حکومت کو اقتدار سنبھالے 4سال کا عرصہ گزرجانے کے باوجود ابھی بلوچ عوام کو تعلیم کی سہولتیں بہم پہنچانے کی جانب ایک انچ بھی پیش رفت نظر نہیں آرہی ہے۔
بلوچستان میں تعلیمی شعبے کی زبوں حالی یا اس شعبے سے حکومت کی عدم توجہی کاعالم یہ ہے کہ ایک اندازے کے مطابق بلوچستان کا ہر آٹھواں بچہ اب بھی اسکولوں میں داخلے سے محروم ہے اور خواندگی کی شرح اب بھی 39 فیصد پر اٹکی ہوئی ہے ، اس حوالے سے یہ خیال رہے کہ خواندگی کی اس شرح میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن میں اکثریت کے پاس سیکنڈری اسکول کی بھی کوئی ڈگری نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کو بھی خواندہ تصور کرلیاگیاہے جو اپنا نام لکھنا اور دوسروں کے نام پتے پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اگر ان لوگوں کو اس فہرست سے نکال دیاجائے اور صرف سیکنڈری اسکول سے فارغ ہونے والوں کو خواندہ تصور کرلیاجائے تو غالبا ً یہ شرح نصف بھی نہ رہے۔
حکومت کی جانب سے 2014-15 کے حوالے سے جو تعلیمی اعدادوشمار جاری کئے گئے ہیں ان کے مطابق پاکستان میں 5سے 16 سال عمر تک کے کم وبیش2کروڑ 40لاکھ بچے اسکولوں کی تعلیم سے محروم ہیں۔جبکہ اس میںبلوچستان میں اسکول کی تعلیم سے محروم بچوں کی شرح70 فیصدہے۔سندھ کی 56 فیصد اور پنجاب کی 44 فیصد ہے ،تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کے اعتبار سے خیبر پختونخوا دیگر صوبوں سے آگے ہے اور وہاں اسکول نہ جانے والے بچوں کی شرح پڑھالکھا پاکستان کی مہم کی تشہیر پر کروڑوں روپے خرچ کرنے والے صوبے پنجاب سے بھی کم یعنی 36 فیصد ہے۔
بلوچستان میں تعلیمی سہولتوں سے محروم بچوں کی شرح سب سے زیادہ ہونے کی بنیادی وجہ ہے کہ بلوچستان کی حکومت نے ابھی تک اس صوبے کی اس اہم ضرورت پر کوئی توجہ نہیں دی ہے اور تعلیمی شعبے کوترقی دینے اور لوگوں کواپنے بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے اور زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی ترغیب دینے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ، یہی نہیں بلکہ بلوچستان کی حکومت اس صوبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروںمیں طلبہ وطالبات کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے بلوچستان جانے والے اساتذہ اور ماہرین تعلیم کو تحفظ دینے میں بھی ناکام رہی ہے جس کا اندازہ آئے روز بلوچستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تدریس کے فرائض انجام دینے والوں کے قتل کے واقعات سے لگایاجاسکتاہے ۔
بلوچستان کے عوام میں موجود احساس محرومی دور کرنے کی کوشش کرنے کے دعویدار بلوچستان کے حکمرانوں کی تعلیم کے شعبے سے یہ بے اعتنائی ظاہر کرتی ہے کہ ان حکمرانوں کو ترقی اور خوشحالی میں تعلیم کے اہم بلکہ بنیادی کردار کا احسا س نہیں ہے،جس صوبے کے 5سے16 سال عمر کے 18 لاکھ بچوں نے اسکول کا منہ ہی نہ دیکھا ہو انھیں یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اسکول کیاہوتاہے اور یہاں بچے کیوں آتے ہیں،اور جس صوبے کے60 فیصد سے زیادہ افراد اپنا نام لکھنا اور پڑھنا بھی نہ جانتے ہوں اس صوبے کو ترقی دینے کے دعوے کس طرح پورے ہوسکتے ہیں؟
ایک اندازے کے مطابق اس وقت بلوچستان کی آبادی ایک کروڑ سے زیادہ ہے لیکن اس ایک کروڑ سے زیادہ آبادی کے صوبے میں صرف 13 ہزار اسکول موجود ہیں جن میںڈھائی ہزار لڑکیوں کی تعلیم کیلئے مخصوص ہیں اوربقیہ لڑکوں کیلئے ہیں ،اس طرح یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ایک کروڑ سے زیادہ آبادی کیلئے صرف 13ہزار سرکاری اسکول پوری آبادی کی تعلیمی ضروریات کس طرح پوری کرسکتے ہیں ، خاص طورپر اس لئے بھی کہ بلوچستان کی آبادی گنجان نہیں ہے بلکہ چھوٹے چھوٹے گائوں فاصلے فاصلے پر واقع ہیں اور اسکولوں کی کمی کی وجہ سے بعض اوقات بچوں کو حصول تعلیم کیلئے ایک گائوں سے دوسرے گائوں یاقریبی شہروں میں جانا پڑتاہے ۔ظاہر ہے کہ چھوٹے بچے روزانہ اتنا فاصلہ طے نہیں کرسکتے جس کی وجہ سے ان کے والدین اپنے بچوں کواسکول میں داخل کرانے ہی سے گریز کرتے ہیں اور وہ گلی محلوں میں آوارہ گردی کرتے کرتے جب جوان ہوجاتے ہیں اور انھیں اپنا مستقبل تاریک نظر آتاہے تو ان کے دلوں میں حکومت اورملک کے خلاف باغیانہ خیالات پیداہونا لازمی امر ہے اور ان کے ان باغیانہ خیالات کی آبیاری کرکے ملک دشمن عناصر اور غیر ملکی ایجنٹ انھیں اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے تخریب کاری کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ اس طرح تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کی ذمہ داری پوری نہ کرکے اور بلوچ نوجوانوں کو تعلیم اور کسی ہنر سے آراستہ کرنے کے وسائل مہیا کرنے سے گریز کرکے خود ہمارے حکمراں ملک دشمنوں اور غیرملکی ایجنٹوں کواپنے ایجنڈے پر عملدرآمد کیلئے نوجوانوں کی پوری پوری کھیپ مہیاکرنے کا ذریعہ بن رہے ہیں ۔اس صورتحال کا تقاضہ ہے کہ ہمارے سیاستدان و اور ارباب حکومت بلوچستان میں تعلیم کی زبوں حالی کی طرف فوری طورپر توجہ دیں اور تعلیم کے شعبے کو اولیت دیتے ہوئے زیادہ سے زیادہ بچوں کو ان کے گھروں کے قریب تر تعلیم کی سہولت مہیا کرنے کے انتظامات کریں۔ارباب حکومت کو یہ بات نظر انداز نہیں کرنی چاہئے کہ جب تک وہ تعلیم کے شعبے کومضبوط نہیں بنائیں گے اور اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کیلئے انھیں تعلیم اور ہنر سے آراستہ نہیں کریں محض سڑکوں کی تعمیر سے ترقی کے فوائد حاصل نہیں کئے جاسکتے اور جب تک بلوچستان کے نوجوان تعلیم کے زیور سے آراستہ اور وقت کی ضرورت کے مطابق ہنر سے آراستہ ہوکر اپنی روزی باعزت طریقے سے کمانے کے قابل نہیں بنادئے جاتے ،تخریب کاری اور انتہاپسندی کے بڑھتے ہوئے سیلاب کے آگے بند باندھنا ممکن نہیں ہوسکتا۔
امید کی جاتی ہے کہ اربا ب حکومت اس جانب توجہ دیں گے اورپورے ملک اور خاص طورپر ملک کے سب سے زیادہ دولت مند لیکن پسماندہ صوبے بلوچستان میں تعلیم عام کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔


متعلقہ خبریں


اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

شاہد خاقان عباسی،مصطفی نواز کھوکھر ، اسد قیصر، اخونزادہ حسین یوسف زئی اور خالد یوسف چوہدری نے بدھ کی شب حکومتی مذاکرات کی آفر پر مشاورتی نشست میں مثبت جواب دینے کا فیصلہ رانا ثنا اللہ کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ ،پی ٹی آئی قیادت کے مشورے پر محمود اچکزئی اور راجا ناصر عباس...

اپوزیشن اتحاد حکومت سے مذاکرات کیلئے آمادہ

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ وجود - جمعه 27 فروری 2026

آئی ایم ایف ممکنہ طور پر یو اے ای کے سفیر سے ملاقات کرکے رول اوور کی نئی یقین دہانی حاصل کرنا چاہے گا، آئی ایم ایف کے اسٹیٹ بینک حکام سے تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری پیر سے آئی ایم ایف وفد اور وزارت خزانہ کے حکام کے مابین اسلام آباد میں مذاکرات ہوں گے، سمجھ نہیں آتی میڈیا رول...

آئی ایم ایف کا امارات کے قرضوں کی واپسی پر اظہار تشویش، رول اوور کا کوئی مسئلہ نہیں، وزیر خزانہ

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی وجود - جمعه 27 فروری 2026

افسوسناک واقعہ تور پل کے قریب پیش آیا ،دھماکے سے گھر کا بیشتر حصہ منہدم ہو گیا دھماکے سے متاثر گھر میں بچے افطاری کیلئے لسی خریدنے کیلئے جمع تھے،سکیورٹی ذرائع بلوچستان کے علاقے چمن میں گھر کے اندر سلنڈردھماکہ ہوا ہے جس میں بچوں سمیت 8افراد جاں بحق ہو گئے ۔واقع تور پل کے ایک ...

چمن میں گھر کے اندر سلنڈر دھماکا ،8افراد جاں بحق ،22زخمی

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت وجود - بدھ 25 فروری 2026

آصف علی زرداری نے مراد علی شاہ اوروہاب مرتضیٰ کی کراچی صورتحال پر پارٹی قیادت کی سخت کلاس لے لی ، فوری نتائج نہ آنے پر برہمی کا اظہار ،اجلاس میں سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا بتائیں پیسے، اختیارات کس چیزکی کمی ہے، یہاں سڑکیں تاخیر سے بنتی ہیں تو محسن نقوی سے پوچھ لیں انڈرپاس ساٹھ...

وزیر اعلیٰ اور میئر کی سرزنش،کراچی کو بہتر کرو،صدر زرداری کی 3 ماہ کی مہلت

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام وجود - بدھ 25 فروری 2026

میرے ڈاکٹروں کو مجھ تک رسائی دی جائے،عمران خان نے کہا تھا کہ یہ لوگ مجھے مار دیں گے، اب سمجھ آتا ہے کہ وہ بالکل ٹھیک کہہ رہے تھے،عمران سے آج کسی کی ملاقات نہ ہوسکی، عظمی خان بانی کو الشفا انٹرنیشنل اسپتال لے کر جائیں ان کا طبی ڈیٹا ان کے ڈاکٹرز کے پاس ہے، یہ لوگ بہت جھوٹ بول چ...

مجھے نظر نہیں آرہا،عمران خان کا جیل سے پیغام

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری وجود - بدھ 25 فروری 2026

کراچی کی سڑکوں کی بحالی کیلئے 8ارب، گل پلازہ متاثرین کیلئے 7ارب معاوضہ منظور آئی آئی چندریگر روڈ پر تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے ایک ارب 57 کروڑ روپے مختص سندھ کابینہ نے شہر کراچی کی سڑکوں کی بحالی کے لیے 8 ارب 53 کروڑ روپے اور گل پلازہ آتشزدگی متاثرین کے لیے 7 ارب روپے معاو...

کراچی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں کی منظوری

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی وجود - بدھ 25 فروری 2026

فورسز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی، زخمی اور لاشیں ڈی ایچ کیو بھکر منتقل وفاقی وزیرداخلہ کاشہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش پنجاب کے ضلع بھکر کی سرحد پر قائم بین الصوبائی چیک پوسٹ داجل پر خودکش حملہ ہوا جس میں 2 پولیس اہلکار شہید اور 1 زخمی ہوگیا۔تفصیلات ک...

بھکر میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ، 2 پولیس اہلکار شہید، ایک زخمی

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ وجود - منگل 24 فروری 2026

ناصر عباس، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، شاہد خٹک و دیگر ارکانِ اسمبلی احتجاج میں شریک احتجاج میں بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین سے معائنہ کرانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر اپوزیشن نے احتجاج شروع کرتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان کے م...

اپوزیشن کا احتجاج، عمران خان کے مقدمات مقرر کرنے کا مطالبہ

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم وجود - منگل 24 فروری 2026

21 جولائی 2025 کا حکم اس بینچ نے دیا جو قانونی طور پر تشکیل ہی نہیں دیا گیا تھا قواعد کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہی ماسٹر آف دی روسٹر ہیں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں بڑا فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کیخلاف توہینِ عدالت کی کار...

عافیہ صدیقی کیس، وزیراعظم اور کابینہ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ختم

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں وجود - منگل 24 فروری 2026

حملہ آوروں نے فائرنگ کے بعد دو گاڑیوں کو آگ لگادی اور فرار ہو گئے، عینی شاہدین حملے کی نوعیت واضح نہیں ہوسکی، علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا، اسسٹنٹ کمشنر بلوچستان کے ضلع پنجگور کے سرحدی علاقے چیدگی دستک میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں 6 افراد جاں بحق ہوگئے، حملہ آورو...

پنجگور میں موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ،6 افراد جاں بحق، 2 گاڑیاں جلادیں

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی وجود - پیر 23 فروری 2026

فضائی کارروائی کے دوران ننگرہار میں چار، پکتیکا میں دو اور خوست میں ایک ٹھکانہ تباہ، بہسود میں ایک ہی گھر کے 17 افراد ہلاک ہوئے ہیں،مارے گئے خوارجیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے، سیکیورٹی ذرائع ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، افغان طالبان کی وزارت...

پاکستان کے تین افغان صوبوں میں حملے، سات مراکز تباہ، 80 خوارج ہلاک، مناسب وقت پر ردعمل دینگے، افغان طالبان کی دھمکی

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید وجود - پیر 23 فروری 2026

یہ کیا ظلم تھا؟ کیسا انصاف ہے 180 سیٹوں والا جیل میں اور 80 سیٹوں والا وزیراعظم ہے،جماعت اسلامی قرارداد کی حمایت سے شریک جرم ، حافظ نعیم سے کوئی جا کر پوچھے کیا وہ سندھودیش کے حامی ہیں؟ ہمارے ہوتے ہوئیسندھو دیش کا خواب خواب ہی رہیگا، سندھو دیش نہیں بن سکتا،جو سب ٹیکس دے اس کو کو...

مصنوعی اکثریت رکھنے والی جماعت کاسندھ پر قبضہ ہے،سندھ اسمبلی میں آئین کیخلاف قراردادپیش کی گئی، ایم کیو ایم کی ھکومت پر سخت تنقید

مضامین
گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے! وجود جمعرات 26 فروری 2026
سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر