وجود

... loading ...

وجود

عوام پر گیس بم گرانے کی تیاریاں

هفته 01 اپریل 2017 عوام پر گیس بم گرانے کی تیاریاں


باوثوق اطلاعات کے مطابق حکومت نے گیس کے شعبے کو زیادہ مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے اوراس مقصد کیلئے ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک سے قرضوں کے حصول کیلئے گیس کی ٹرانسمیشن اور تقسیم کے شعبوں کوایک دوسرے سے علیحدہ کرنے کے کام کاآغاز کردیاہے،سرکاری حلقوںنے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنزلمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) میںٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن یعنی تقسیم کے آپریشنل اور اکائونٹنگ کے شعبے یکم جنوری سے علیحدہ کئے جاچکے ہیں۔اطلاعات کے مطابق یہ کارروائی انرجی کے شعبے میں اصلاحات کے طورپر کی گئی ہے، کیونکہ قرض دینے والے بین الاقوامی اداروں نے ایسا کرنے کی شرط عاید کی تھی ، اس طرح اس کارروائی کے ذریعے اس شرط کی تکمیل کی گئی ہے۔اس کے ساتھ ہی بعض حلقے یہ بھی خدشہ ظاہر کررہے ہیں کہ گیس کے شعبے کو مستحکم بنانے کی اس کارروائی کے دوران گیس کمپنیوں کو درپیش موجودہ زبردست مالی دبائو سے نجات دلانے کیلئے گیس کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کی تجویز بھی حکام کے زیر غو رہے اور عین ممکن ہے کہ نئے سال کے بجٹ کے اعلان سے قبل ہی حکومت اس اضافے کی منظوری دیدے۔اس طرح یہ کہاجاسکتاہے کہ گیس کمپنی نے غریب عوام پر گیس بم گرانے کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔
ذرائع کے مطابق گیس یوٹلیٹیز کو مختلف یونٹوں میں تقسیم کرنے کے حوالے سے مینجمنٹ کے اسٹرکچر اور فنانشیل رپورٹنگ کے حوالے سے کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے بعض اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سوئی ناردرن گیس پائپ لائنزلمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) دونوں کمپنیوں کو کہاگیاہے کہ جتنی جلد ممکن ہوسکے آپریشنل اور اکائونٹنگ کے شعبوں کو ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک کی ہدایت کے مطابق علیحدہ علیحدہ کرنے کاکام مکمل کرلیاجائے۔
ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا کہ حکومت چاہتی ہے کہ گیس کے شعبے میں ان اصلاحات سے تمام متعلقہ حلقوں کو فائدہ اٹھانے کاموقع مل سکے اس لئے مجوزہ اصلاحات کے عمل میں احتیاط برتی جارہی ہے۔خیال کیاجاتاہے کہ گیس کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے مختلف حلقوں کی جانب سے ظاہرکی جانے والی تشویش اور اس حوالے سے قیاس آرائیوں کاخاتمہ کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے جلد ہی اس عمل کے بارے میں وضاحتی بیان جاری کردیاجائے گا۔حکومت کی جانب سے جاری کردہ اس بیان میں اس بات کی یقین دہانی کرائی جائے گی کہ اصلاحات کے اس عمل سے کسی کے بھی مفادات پر ضرب نہیں پڑے گی نہ کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا اورتمام فریقوں کے مفادات کا مکمل طورپرتحفظ کیاجائے گا۔حکومت کے جاری کردہ بیان میں یہ بھی یقین دہانی کرائی جائے گی کہ گیس کے شعبے میں اصلاحات کے اس عمل کے دوران مارکیٹ اصلاحات کیلئے ریگولیٹری ماحول کو زیادہ دوستانہ بنایاجائے گا ۔
اطلاعات یہ بھی ہیں کہ گیس کے شعبے میں اصلاحات کے اس عمل کے دوران تیسرے فریق کی رسائی کے حوالے سے بھی قوانین بنائے جائیں گے کیونکہ بہت سی پارٹیاں موجودہ نیٹ ورک کے ذریعے گیس کی ٹرانسمیشن کے کام میں شریک ہونے کی خواہاں ہیں اور انھوںنے اس حوالے سے اپنی دلچسپی کااظہار کیاہے۔جس کی بنیاد پر آئل اور گیس ریگولیٹری اتھارٹی یعنی اوگرا پہلے ہی اس حوالے سے طویل مشاورتی عمل اور سوچ بچار کے قوانین میں تیسرے فریق کی رسائی کی گنجائش پیدا کرنے کا مشورہ دے چکا ہے اور کابینہ ڈویژن کو اس حوالے سے نوٹیفیکشن جاری کرنے کی تجویز بھجواچکاہے۔
گیس کے شعبے میں تیسرے فریق کی رسائی کے حوالے سے عالمی بینک کے ماہرین یہ مشورہ دے چکے ہیں کہ اس حوالے سے بنائے جانے والے قوانین وسیع تر اصولوں پر مبنی ہونے چاہئیں اور انھیں نیٹ ورک کوڈ میں شامل کرکے اس میں اس کی وضاحت کی جانی چاہئے۔یہ قوانین ایسے ہونے چاہئیں جن میں ضرورت پڑنے پر بآسانی ترمیم وتبدیلی کی جاسکے اوربدلتی ہوئی صورتحال کو دیکھتے ہوئے انھیں وقتاً فوقتاً تبدیل کیاجاتارہے۔
ذرائع کے مطابق ان اصلاحات کابنیادی مقصد ٹرانسمیشن نیٹ ورک کی ایک مشترکہ ملکیت کاقیام ہے جس تک ہر ایک کو رسائی حاصل ہو، اس لئے دونوں گیس کمپنیوں کا کام ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن میں تبدیل کیاجارہاہے کیونکہ یہی ان اصلاحات کا بنیادی مقصد ہے۔
گیس کمپنیوں کے اندرونی ذرائع حکومت کے اس موقف سے متفق نظر نہیں آتے بلکہ ان کا خیال ہے کہ اصلاحات کے نام پر ہونے والی تبدیلیوں کابنیادی مقصد گیس کی ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے شعبے میں مزید اعلیٰ عہدے نکالنا اور ان پر اپنے من پسند لوگوں کوتعینات کرنے کے سوا کچھ نظر نہیں آتاکیونکہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے شعبوں کے علیحدہ کرنے سے بظاہر ان کی کارکردگی میں کسی طرح کی بہتری پیدا ہونے کاکوئی امکان نہیں ہے، ان حلقوں کاکہناہے کہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن بنیادی طورپر دو علیحدہ علیحدہ ہی شعبے ہیں جن کے سربراہ بھی الگ ہوتے ہیں تاہم یہ دونوں شعبے فی الوقت ایک ہی سربراہ کے ماتحت اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں جبکہ ان کی تقسیم کے بعد ان دونوں شعبوں کے علیحدہ علیحدہ سربراہ مقرر کئے جائیں اور ان کو ماتحت عملہ بھی فراہم کیاجائے گا جس سے گیس کمپنی جو گزشتہ کئی سال سے یہ منافع کمانے والی کمپنی اب خسارے کاشکار ہے یہاں تک کہ اب اسے اپنے اخراجات پورے کرنے کیلئے کے الیکٹرک کی طرح گیس کے گھریلو صارفین سے بھاری جعلی بل وصول کرنے پر مجبور ہونا پڑا، مزید زیر بار آجائے گی اور اس کے اخراجات میں کروڑوں روپے ماہانہ کاا ضافہ ہوجائے گا۔ان اخراجات کو پور اکرنے کیلئے حکومت کو گیس صارفین پر مزید بوجھ ڈالنے کے طریقے تلاش کرنا پڑیں گے۔اس حوالے سے یہ بھی خدشہ ظاہرکیاجارہاہے کہ ان اصلاحات کے بعد اگر ایشیائی ترقیاتی بینک اور عالمی بینک سے مزید قرض حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تو کمپنی کو ان قرضوں پر سود اور ان کی اصل رقم کی واپسی کیلئے بھی اضافی رقم گیس کے صارفین سے ہی وصول کرنا ہوگی اور اس طرح اصلاحات کے نام پر ہونے والی تبدیلیاں گیس صارفین کیلئے گیس بم سے کم ثابت نہیں ہوں گی۔اس طرح یہ کہاجاسکتاہے کہ گیس کے شعبے میں اصلاحات کے نام پر صارفین پر گیس بم گرانے کی تیاریوں کو آخری شکل دی جارہی ہے اور اگلے بجٹ سے پہلے ہی صارفین کو ایک نیا بوجھ برداشت کرنے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔
ایچ اے نقوی


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر