... loading ...
اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سخت گیر ہندو نظریات کے حامل رہنما ہیں جن کی حکومت نے آتے ہی ان ذبح خانوں کو بند کرنے کا فرمان جاری کیا تھا جن کے پاس قانونی لائسنس نہیں ہیں۔جس کے خلاف اترپردیش کے قصاب میدان میں آگئے ہیں،اوربھارت کی سب سے بڑی ریاست میں غیر قانونی ذبح خانوں کے خلاف وزیر اعلیٰ اور بی جے پی رہنما آدتیہ ناتھ یوگی حکومت کی کارروائی کی مخالفت میں گوشت کے تاجروں نے پیر سے غیر معینہ مدت تک کے لیے ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔خیال رہے کہ یہ ہڑتال غیر اعلانیہ طور پر دو دن پہلے سے ہی جاری ہے لیکن اب یہ ہڑتال ریاستی سطح پر پورے اترپردیش میںشروع کی جا رہی ہے۔
لکھنؤ میں گوشت اور مرغ کے تاجروں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی کمیٹی کے ریاستی صدر چوہدری اقبال قریشی نے برطانوی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ ہڑتال کے دوران گوشت کی تمام دکانیں بند رہیں گی اور مچھلی کے کاروباری بھی ان کے ساتھ ہڑتال میں شامل ہوں گے۔ وہیں گوشت کے تاجروں کی بعض دیگر تنظیموں نے بھی ہڑتال میں شامل ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اقبال قریشی کا دعویٰ ہے کہ ان کی تنظیم پوری ریاست کی نمائندگی کرتی ہے۔دراصل، اتر پردیش میں غیر قانونی ذبح خانوں پر نئی حکومت کی جانب سے قدغن کے اثرات کاروبار سے لے کر لوگوں کے ذائقے تک پر نظر آ رہے ہیں۔بھارت میں بڑے جانور کے گوشت پر ایک عرصے سے تنازع جاری ہے اور اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت کے بعد اس کے خلاف کارروائی جاری ہے۔
اس صورت حال کے سبب ریاستی دارالحکومت لکھنؤ سمیت کئی اضلاع میں گوشت کی فراہمی میں کمی کے سبب بہت سے معروف ہوٹل متاثر ہوئے ہیں جبکہ غیر قانونی ذبح خانوںکے خلاف انتظامیہ کی مسلسل کارروائی جاری ہے اور اب تک سینکڑوں غیر قانونی مذبخ خانے بند کرائے جا چکے ہیں۔ایسی صورت میں گوشت کے تاجروں کی تنظیم نے ریاست بھر میں ہڑتال کی کال دے کر حکومت کے فیصلے کے خلاف اپنا احتجاج ظاہر کیا ہے۔دراصل، بی جے پی نے انتخابات سے پہلے اپنے منشور میں اس کا وعدہ کیا تھا اور ان کی حکومت بنتے ہی انتظامیہ اسے پورا کرنے میں مستعدی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
دوسری جانب وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے گزشتہ روز ایک بار پھر حکومت کے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ جو دکانیں اور ذبح خانے پرمٹ کے ساتھ چل رہے ہیں انہیں کوئی پریشانی نہیں ہے، لیکن جو غیر قانونی ہیں انہیں بخشا نہیں جائے گا۔وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک دفعہ پھر یہ کہا ہے کہ ‘نیشنل گرین ٹریبیونل’ نے گزشتہ 2 برس کے دوران متعدد بار غیر قانونی ذبح خانوں کو ختم کرنے کا کہا ہے لیکن جو معیار پر پورا اتر رہے ہیں حکومت انہیں کچھ نہیں کہے گی۔”جو احکام کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور غیر قانونی طور پر گندگی پھیلا رہے ہیں انہیں ایک عمل کے تحت ہٹایا جائے گا اور کسی کو صحت کے ساتھ کھیلنے کی چھوٹ نہیں ملنی چاہیے۔’ اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے آتے ہی بہت سے ذبح خانے بند ہونا شروع ہو گئے ہیں جس سے اس شعبے میں کام کرنے والے افراد اور کئی دیگر شعبے بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب حکومت کامؤقف یہ ہے کہ عوام کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے کڑوی گولی کھانا پڑے گی،اگر کروڑوں عوام کو صحت مند رکھنے کے لیے کچھ لوگوں کو بیروزگار ہونا پڑے تو یہ مہنگا سود ا نہیں ہے ، وقتی طورپر بیروزگار ہونے والے یہ لوگ ہمیشہ بیروزگار نہیں رہیں گے۔انہیں اس سے بہتر روزگار مل جائے گا، اور یہی غیر قانونی ذبح خانے لائسنس حاصل کرکے حفظان صحت کے انتظامات کرکے اپنے بوچرخانے بحال کرسکیں گے۔اس طرح ان میں کام کرنے والے زیادہ بہتر ماحول میں کام کرسکیں گے۔
گوشت کے تاجروں کا کہنا ہے کہ غیر قانونی ذبح خانوں پر کارروائی کرنا ٹھیک ہے لیکن کم از کم
انہیں کچھ وقت تو دیا جاتا۔ تاجر یہ بھی کہتے ہیں کہ اس معاملے میں لائسنس حاصل کرنے کا عمل انتہائی پیچیدہ ہے۔اقبال قریشی کا کہنا ہے کہ ‘لکھنؤ میں کل لائسنس کی تعداد 603 ہے۔ ان میں سے 340 لائسنس کی تجدید کی گئی۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں دکانیں بغیر لائسنس کے چل رہی ہیں اور لکھنؤ میونسپل نے بڑی تعداد میں ایسی دکانوں کو بند کرا دیا ہے۔’گوشت کی قلت کے سبب معروف ریستوراں بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ‘ کئی لوگوں نے تو پوچھ گچھ اور کارروائی کے خوف سے انہیں از خود بند کر دیا۔ محکمہ خوراک میونسپل کے لائسنس کو تسلیم نہیں کرتا لیکن کارروائی صرف ان دکانوں کے خلاف کی جا رہی ہے جو میونسپل کمشنر کی اجازت کے بغیر کھلی ہیں۔’
بھارت میں ذبح خانوں کے متعلق قانون 1950ء کی دہائی کا ہے۔ جبکہ انہیں رہائشی علاقوں سے دور لے جانے کے بارے میں سپریم کورٹ کے علاوہ قومی گرین ٹربیونل بھی حکم جاری کر چکا ہے۔سپریم کورٹ نے 2012ء میں حکم دیا تھا کہ تمام ریاستی حکومتیں ایک کمیٹی بنائیں جس کا کام شہروں میں ذبح کی جگہ طے کرنا اور ان کی تجدیدکاری کو یقینی بنانا ہو۔ اس کے باوجود بہت سے بوچر خانے غیر قانونی طریقے سے ابھی تک چل رہے ہیں۔حکومت کے اس فیصلے کا اثر لکھنؤ کے معروف ٹنڈے کباب پر بھی پڑا اور کئی دہائیوں میں پہلی بار انہیں اپنی دکانیں بند کرنی پڑی ہیں۔دوسری جانب اطلاعات کے مطابق تاجروں کا ایک طبقہ معاملے کو عدالت میں لے جانے کی تیاری کر رہا ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد سے غازی آباد سمیت کئی علاقوں کے ذبح خانے بند کر دیے گئے۔ اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ بننے کے بعد انہوں نے پولیس کو ہدایات دی تھیں کہ ‘غیر قانونی’ ذبح خانوں کو بند کیا جائے۔
ذبح خانوں اور چمڑے کی صنعت میں مسلمانوں کے علاوہ دلتوں کی بھی ایک بڑی آبادی بھی وابستہ ہے۔میرٹھ یونیورسٹی کے پروفیسر ستیش پرکاش نے برطانوی خبررساں ادارے کو بتایا: ‘ذبح خانے بند ہونے کا سب سے زیادہ اثر دلّتوں پر پڑے گا۔ چمڑے کام دلتوں کا آبائی کاروبار ہے، جو وہ صدیوں سے کرتے آ رہے ہیں۔ ان کے بند ہونے سے بڑی تعداد میں دلتوں کی روزی روٹی ماری جائے گی۔’محکمہ زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک کے 75 قانونی ذبح خانوں میں سے 38 ریاست اترپردیش میں ہیں اور اس میں دلتوں کی بڑی تعداد کام کرتی ہے۔
پیچیدہ مسائل بھی بامعنی اور تعمیری مذاکرات کے ذریعے پرامن طور پر حل کیے جا سکتے ہیں،یو این سیکریٹری کا مقبوضہ کشمیر واقعے کے بعد پاکستان، بھارت کے درمیان کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنے اور بات چیت کے دوبارہ آغاز کے لیے کسی بھی ایسی ک...
پاکستان نے کہا ہے کہ اس کے پاس جعفر ایکسپریس مسافر ٹرین پر حملے کے بارے میں قابل اعتماد شواہد موجود ہیں جس میں کم از کم 30 بے گناہ پاکستانی شہری شہید ہوئے اور درجنوں کو یرغمال بنایا گیا ۔ یہ حملہ اس کے علاقائی حریفوں کی بیرونی معاونت سے کیا گیا تھا۔اقوام متحدہ میں دہشت ...
دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے ،قونصلر جواد اجمل پاکستان نے کہا ہے کہ اس کے پاس جعفر ایکسپریس مسافر ٹرین پر حملے کے بارے میں قابل اعتماد شواہد موجود ہیں جس میں کم از کم 30 بے گناہ پاکستانی شہری شہید ہوئے اور درجنوں کو یرغمال بنایا گیا ۔ یہ حملہ اس کے علاق...
تنازع زدہ علاقوں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے یکساں نقطہ نظر اپنایا جائے دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے ،قونصلر جواد اجمل پاکستان نے کہا ہے کہ اس کے پاس جعفر ایکسپریس مسافر ٹرین پر حملے کے بارے میں قابل اعتماد شواہد موجود ہیں جس میں کم از کم 30 بے گنا...
زراعت، صنعت، برآمدات اور دیگر شعبوں میں آئی ٹی اور اے آئی سے استفادہ کیا جا رہا ہے 11 ممالک کے آئی ٹی ماہرین کے وفود کو پاکستان آنے پر خوش آمدید کہتے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی سے تبدیلی آئی ہے ، دو دہائیوں کی نسبت آ...
8 رکنی کونسل کے ارکان میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزرا اسحٰق ڈار، خواجہ آصف اور امیر مقام شامل ، کونسل کے اجلاس میں 25 افراد نے خصوصی دعوت پر شرکت کی حکومت نے اتفاق رائے سے نہروں کا منصوبہ واپس لے لیا اور اسے ختم کرنے کا اعلان کیا، نہروں کی تعمیر کے مسئلے پر...
دونوں ممالک کی سرحدوں پر فوج کھڑی ہے ، خطرہ موجود ہے ، ایسی صورتحال پیدا ہو تو ہم اس کے لیے بھی سو فیصد تیار ہیں، ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیں گے ، تینوں مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے تیار کھڑی ہیں پہلگام واقعے پر تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا کوئی جواب نہ...
مودی نے سیاسی حکمت عملی یہ بنائی کہ کیسے مسلمانوں کا قتل عام کرنا ہے، عرفان صدیقی بھارت کی لالچی آنکھیں اب جہلم اور چناب کے پانی پر لگی ہوئی ہیں، سینیٹر علی ظفر سینیٹ اجلاس میں اراکین نے کہاہے کہ دنیا بھر میں کہیں بھی دہشت گردی ہو اس کی مذمت کرتے ہیں، پہلگام واقعہ بھارت کی سو...
پاکستان کی خودمختاری و سلامتی کے تحفظ کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو سمجھتے ہیں ،پہلگام واقعے کی تحقیقات پر زور چین نے پہلگام واقعے کے معاملے پر پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعلان کر دیا۔چین کے وزیر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے ...
مل کر مسئلے کا ذمہ دارانہ حل تلاش کیا جائے،مختلف سطح پر سنجیدہ بات چیت جاری ہے امریکہ نہیں سمجھتا اس میں پاکستان ملوث ہے، سعودیہ و ایران ثالثی پیشکش کرچکے ہیں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں حالیہ واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور تناؤ کے درمیان امریکا کا ...
بھارت کے پاکستان پر بے بنیاد الزامات کے وقت ، کارروائی سے واضح ہے یہ کس کے اشارے پر کام کر رہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف مہم میں کسی ایک کارروائی میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتوں کا ریکارڈ ہے دہشت گرد اپنے غیر ملکی آقاؤںکے اشارے پر پاکستان میں بڑی دہشت گرد کارروائیاں کرنے کے ...
ٹنڈو یوسف قبرستان میں لاوارث میتوں کی تدفین سے روک دیا، ایدھی ترجمان کا احتجاج قبرستان کے گورکن بھی تشدد کرنے والوں میںشامل، ڈپٹی کمشنر حیدرآباد سے مداخلت کی اپیل حیدرآباد کے ٹنڈویوسف قبرستان میں لاوارث میتوں کی تدفین کرنے والے ایدھی رضاکاروں پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا، ج...