وجود

... loading ...

وجود
منگل 09 جون 2026

سہیل انور پر نوازشات ۔۔۔۔کیا بھایا کہ سب پایا!!!

منگل 21 مارچ 2017 سہیل انور پر نوازشات ۔۔۔۔کیا بھایا کہ سب پایا!!!

محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد پیپلز پارٹی کی بنیاد ہی بدل گئی۔ اب قربانی دینا‘ پارٹی سے وفادار رہنا‘ پارٹی کے لیے دن رات محنت کرنا کوئی بڑی بات نہیں سمجھی جاتی، بلکہ جو خوشامد کرے‘ کرپشن کرے‘ جی حضوری کرے، وہ صف او ل کا حق ٹھہرتا ہے٭ سہیل انور سیال وزیر داخلہ بنے سب سے پہلے ان ہی بابو سرور سیال کے خلاف انتقامی کارروائیاں کیں۔ ان کے گھر پر حملہ کرایا جس کے نتیجہ میں بابو سرور سیال کا بھانجا قتل ہوا۔ لیکن بابو سرور سیال پھر بھی ان کے سامنے نہ جھک سکے اور انہوں نے دو درخواستیں نیب اور رینجرز کے علاوہ حساس اداروں کو دی ہیں ۔
الیاس احمد
پاکستان کی سیاست بھی عجیب و غریب ہے، یہاں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کون زیادہ قابل ہے؟ کون زیادہ تعلیم یافتہ ہے؟ کون زیادہ باشعور ہے؟ کس کا ماضی اور کردار صاف ستھرا ہے؟ یہاں صرف خوشامد اور جی حضوری ہی چلتی ہے۔ سندھ کی سیاست میں 2014 ءمیں ایک نئے نام کا اضافہ ہوا، یہ اضافہ لاڑکانہ سے ضمنی الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے والے سہیل انور سیال کی شکل میں سامنے آیا۔ سہیل انور سیال ضلع لاڑکانہ کی تحصیل ڈوکری سے تعلق رکھتے ہیں ،ان کے دادا کا نام محمد خان سیال تھا۔ وہ سیشن کورٹ لاڑکانہ میں کلرک تھے۔ سہیل انور سیال کے والد کا نام محمد انور سیال تھا۔ وہ محکمہ آبپاشی میں سب انجینئر تھے۔ سہیل انور سیال نے انجینئرنگ کی ڈگری لینے کے بعد ایل ایل بی کی بھی ڈگری حاصل کی۔ سہیل انور سیال کے دادا اور والد نے کبھی الیکشن میں حصہ نہیں لیا۔ 2005 ءمیں سہیل انور سیال یونین کونسل وڈامہر میں ناظم کے الیکشن میں مسلم لیگی کارکن سکندر علی شاہ کے ہاتھوں شکست کھاگئے اور سکندر علی شاہ یو سی وڈا مہر کے ناظم بن گئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد پیپلز پارٹی کی بنیاد ہی تبدیل کردی گئی۔ اب قربانی دینا‘ پارٹی سے وفادار رہنا‘ پارٹی کے لیے دن رات محنت کرنا کوئی بڑی بات نہیں سمجھی جاتی، بلکہ جو خوشامد کرے‘ کرپشن کرے‘ جی حضوری کرے، وہ صف اول میں آجاتا ہے۔ محترمہ بے نظیر کے بعد فریال ٹالپر نے نؤں دیرو ہاؤس سنبھالا تو خوشامدیوں کا ایک ٹولہ اُمڈ آیا ،جس میں سہیل انور سیال بھی شامل تھے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سہیل انور سیال پارٹی کی قیادت کا آنکھ کا تارا بن گئے۔ 2013 ءکے عام الیکشن میں حاجی الطاف حسین انڑ کو پہلے پی پی کا ٹکٹ دیا گیا ،انتخابی نشان الاٹ ہونے کے بعد فریال ٹالپر اور دیگر الطاف حسین انڑ سے ناراض ہوگئے اور سہیل انور سیال کو آزاد امیدوار کھڑا کیا گیا اور اس کی مہم بھی فریال ٹالپر نے چلائی، لیکن سہیل انور سیال ہار گئے اور حاجی الطاف حسین انڑ کامیاب ہوگئے۔ 2014 ءمیں حاجی الطاف حسین انڑ انتقال کرگئے۔ پھر تو پارٹی اور صوبائی مشینری ایک ہوگئیں اور سہیل انور سیال کو کامیاب کرایا گیا۔ انہیں وزیر داخلہ بھی بنایا گیا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ لاڑکانہ میں نیب‘ حساس اداروں اور رینجرز نے ایک ٹھیکیدار اسد کھرل کو گرفتار کیا تو سہیل انور سیال کے حکم پر ان کے بھائی طارق سیال نے مسلح افراد کے ساتھ مل کر زبردستی اسد کھرل کو چھڑالیا۔ یوں بڑا سنگین معاملہ ہوگیا اور حکومت سندھ کے نیب‘ رینجرز اور حساس اداروں سے تعلقات بھی کشیدہ ہوگئے اور جب مراد علی شاہ وزیر اعلیٰ بنے تو سہیل انور سیال کو دوبارہ وزارت کی کلیئرنس نہیں دی جارہی تھی۔ تب پی پی کی قیادت نے ضد کرلی بالآخر ان کو وزیر بننے کی کلیئرنس تو ملی، لیکن وزیر داخلہ بنانے کی قطعی مخالفت کی گئی۔ یوں اتنے بڑے سنگین جرم کے باوجود وہ دوبارہ وزارت لینے میں کامیاب ہوگئے۔ وہ صرف اس وجہ سے کہ وہ خوشامد‘ جی حضوری‘ چاپلوسی‘ نوکری چاکری میں تمام حدود پھلانگ چکے تھے۔ وہ جب وزیر تھے تو ایک مرتبہ فریال ٹالپر گھوٹکی گئیں، وہاں ان کو سابق وزیر اعلیٰ علی محمد مہر کی دعوت پر جانا تھا، جیسے ہی محترمہ فریال ٹالپر ہیلی کاپٹر سے اتریں تو ان کا پرس سہیل انور سیال نے اٹھایا اور پھر ذاتی ملازم کی طرح کبھی فریال ٹالپر کے لیے گاڑی کا دروازہ کھولتے تو کبھی ان کے جوتے سیدھے کرتے‘ کبھی ان کو پانی پیش کرتے‘ کبھی ان کے لیے کھانے کے لیے طعام پیش کرتے۔ یوں انہوں نے خوشامد کی حد کردی اور اسی عادت کی بنا پر وہ فریال ٹالپر کی گڈ بک میں شامل ہوگئے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی، بلکہ حال ہی میں سابق صدر آصف علی زرداری جب بلاول ہاؤس سے نکلے تو سہیل انور سیال ایک نچلی سطح کے نوکر کی طرح پاؤں چھو کر آصف زرداری سے ملے، ان کی اس عادت کو آصف زرداری نے بڑے غرورو تکبر میں پسند بھی کیا۔ سہیل انور سیال کی یہ تصاویر سوشل میڈیا اور اخبارات کی زینت بن چکی ہیں۔ وہ ضمنی الیکشن میں جس امیدوار کو اپنے حق میں دستبردار کرانے کے لیے فریال ٹالپر کو ان کے گھر لے گیے وہ مسلم لیگ (ق) سندھ کے جنرل سیکریٹری بابو غلام سرور سیال ہیں، لیکن جیسے ہی وزیر داخلہ بنے سب سے پہلے ان ہی بابو سرور سیال کے خلاف انتقامی کارروائیاں کیں۔ پولیس اور اپنے حامیوں کے ذریعہ ان کے گھر پر حملہ کرایا جس کے نتیجہ میں بابو سرور سیال کا بھانجا قتل ہوا۔ لیکن بابو سرور سیال پھر بھی ان کے سامنے نہ جھک سکے اور انہوں نے دو درخواستیں نیب اور رینجرز کے علاوہ حساس اداروں کو دی ہیں ۔ایک یہ کہ اسد کھرل کے ذریعہ لاڑکانہ میں اربوں روپے کے ٹھیکے لیے اور رقوم ہڑپ کیں اور دوسرا یہ کہ انہوں نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سید سجاد علی شاہ پر دباؤ ڈالنے کے لیے ان کے بیٹے اویس شاہ کو اغوا کرایا بعد میں اویس شاہ کو خیبر پختونخوا کے ضلع کرک سے بازیاب کرایا مگر انہوں نے اپنے ابتدائی بیان میں یہ ضرور کہا کہ اغوا کے بعد ان کو سکھر کے قریب رکھا گیا۔ اب دونوں درخواستوں پر اعلیٰ سطح کی تحقیقات ہورہی ہے لیکن چونکہ وہ خوشامد‘ چاپلوسی میں حد سے بڑھ گئے ہیں اس لیے فی الحال پارٹی قیادت ان کے دفاع میں آگے آچکی ہے۔


متعلقہ خبریں


گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات وجود - پیر 08 جون 2026

تحریک انصاف اس وقت 70 فیصد حلقوں پر لیڈ کررہی ہے،8 فروری کا ری پلے شروع ہو چکا، آخری محاذ بھی عمران خان کے نام ہوگا، گلگت بلتستان الیکشن پر شفیع جان کا دعویٰ غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری، پی پی 3، آزاد امیدوار ایک نشست پر کامیاب ،نون لیگ ،اسلامی تحریک پاکستان...

گلگت بلتستان میں انتخابات مکمل،تحریک انصاف کی برتری کا دعویٰ،نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے پر الزامات

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی وجود - پیر 08 جون 2026

حکومتی وفد اور پیپلزپارٹی میں بجٹ سے ہنگامی اجلاس ، ڈیڈ لاک ختم کرنیکیلئے دونوں اطراف سے کوشش جاری ،پیپلزپارٹی کو صوبوں سے اضافی سبسڈیز اور ترقیاتی بجٹ سے متعلق تحفظات ہیں کے فور منصوبہ، ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز نہ ملنا، سکھر کراچی موٹر ویز کا منصوبہ ڈیڈ لاک کی وجوہات ہیں،حکومت ...

حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پر ڈیڈلاک برقرار، اتحادی جماعت نے تحریری سفارشات حکومت کے حوالے کردی

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو وجود - هفته 06 جون 2026

گلگت، بلتستان کے عوام نے بھاری اکثریت کے ساتھ میڈنٹ دلوایا تو جیالا وزیراعلیٰ آنے کے بعد عوام کو زمین کا مالک بنادیں گے، پہلے مرحلے میں 28 ہزار مربع میل کا مالک بنوائیں گے پی ٹی آئی والے کے پی میں کام نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں ہمیں قیدی نمبر 420 کو چھڑوانا ہے، پنجاب والے گلگت بلت...

عوام کا مینڈیٹ نہیں چھیننے دیں گے(پنجاب نے اٹھارویں ترمیم کا فائدہ اٹھایا،مگر دفاع کو تیار نہیں، بلاول بھٹو

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ وجود - هفته 06 جون 2026

یکم جولائی سے اسٹیشنری آئٹمز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہونے سے کاپیاں، رجسٹر، قلم، پینسل سمیت تعلیمی سامان مہنگا ہونے کا امکان،آئی ایم ایف کی اسٹیشنری پر 18 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری سیلز ٹیکس بڑھنے سے تعلیمی اور دفتری اخراجات میں اضافے کا خدشہ،حکومت بجٹ کا ٹیکس استثنا محدود کر...

آئی ایم ایف کا اسٹیشنری پر سیلز ٹیکس رعایت ختم کرنے پر زور، تعلیمی سامان مہنگا ہونے کاخدشہ

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی وجود - هفته 06 جون 2026

ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ، کراچی کے شہری مہنگا ترین آٹا خریدنے پر مجبورہیں حیدرآباد 2600 ،پشاور 2750 ، اسلام آباد 2733، راولپنڈی میں 2707روپے تک پہنچ گئی ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور 20کلو آٹے کے تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت 2800 روپے تک پہنچ...

کراچی ، 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800روپے تک پہنچ گئی

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ وجود - هفته 06 جون 2026

اسٹریٹجک ذخائر کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو مناسب قیمت پر آٹے کی فراہمی یقینی بنائی جائے،وزیراعلیٰ سندھ اس سال گندم خریداری کا ہدف 10لاکھ میٹرک ٹن تھا مگر محکمہ خوراک ایک لاکھ ٹن بھی نہیں خرید سکا، اجلاس میںبریفنگ وزیراعلی سندھ نے گندم کی ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کو...

گندم کی ذخیرہ اندوزی،مصنوعی مہنگائی برداشت نہیں کی جائے گی،مراد علی شاہ

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 06 جون 2026

سیلاب، خشک سالی اور گلیشیٔرز کا تیزی سے پگھلنا موسمیاتی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں پاکستان ماحول کے تحفظ کیلئے عالمی برادری کے ساتھ کھڑا ہے،عالمی یومِ ماحولیات پر پیغام وزیراعظم شہباز شریف نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان م...

ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے عالمی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیراعظم

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف وجود - جمعه 05 جون 2026

جو لوگ اپنے ذاتی حلقے ہار گئے، وہ گلگت بلتستان میں ووٹ مانگنے وہاں پہنچ چکے ہیں، موجودہ حکمرانوں کی کی کارکردگی صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو روکو تاکہ یہ الیکشن نہ جیت سکیں، بیرسٹر گوہر گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے ، عوام اب ان کے کسی بھی دھوکے...

ہمیں دیوار سے لگانا بند نہ کیا تو سسٹم سے الک ہو جائیں گے، تحریک انصاف

تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند سطح پر، 11 ماہ میں 34 ارب ڈالر نقصان وجود - جمعه 05 جون 2026

پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، 11 ماہ میں تجارتی خسارہ 34 ارب 75 کروڑ ڈالر ریکارڈ 11 ماہ میں برآمدات 27 ارب 90 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی رہیں، برآمدات میں 5۔61 فیصد کی کمی ہوئی،ادارہ شماریات پاکستان کا تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا...

تجارتی خسارہ تاریخ کی بلند سطح پر، 11 ماہ میں 34 ارب ڈالر نقصان

امریکا کو آئندہ جواب مزید سخت ہو گا، پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی وجود - جمعرات 04 جون 2026

خلیج میں رات گئے ہونے والی کارروائیوں کی مزید تفصیلات جاری، ایرانی مفادات پر کسی بھی حملے کا جواب پہلے سے زیادہ شدید انداز میں دیا جائے گا، امریکا کو سخت پیغام ایرانی بحریہ نے پانایا نامی ایک ایسے بحری جہاز پر میزائل داغے جو امریکی اور اسرائیلی مفادات سے وابستہ تھا،ہم پہلے ہی خب...

امریکا کو آئندہ جواب مزید سخت ہو گا، پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی

بجٹ پر مشاورت ، عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاعدالت سے رجوع وجود - جمعرات 04 جون 2026

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوانے عمران خان سے ملاقات کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی،خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی کے وژن کو ووٹ دیا وفاق اب کے پی کے لوگوں کو اسی بات کی سزا دے رہا ہے، بانی کی آنکھ کا 25 فیصد نقصان ہو چکا، علاج اور ملاقاتوں میں رکاوٹ تشویشناک ہ...

بجٹ پر مشاورت ، عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کاعدالت سے رجوع

سہیل آفریدی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے معاملے سے پارٹی قیادت کو لاعلم رکھا،ذرائع وجود - جمعرات 04 جون 2026

ذرائع نے سہیل آفریدی کی جانب سے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے اعلان سے متعلق کہا ہے کہ سہیل آفریدی نے پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کو احتجاج کے اعلان اور فیصلے سے لاعلم رکھا۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماں اورپی ٹی آئی کی مرکزی قیادت سے احتجاج کے حوالے سے مشاورت نہیں کی گئی۔پی ٹی آئی ذرائ...

سہیل آفریدی نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کے معاملے سے پارٹی قیادت کو لاعلم رکھا،ذرائع

مضامین
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے! وجود بدھ 10 جون 2026
پاکستان کی داستان انسانوں کی خاموش اذیت ہے!

بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز وجود بدھ 10 جون 2026
بنگلہ دیش میں کامیابی کا راز

سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی وجود بدھ 10 جون 2026
سکھوں کے خلاف بھارتی سرکار کی دہشت گردی

دل کا رستہ بھول گیا! وجود منگل 09 جون 2026
دل کا رستہ بھول گیا!

سب سے مشکل سچ وجود پیر 08 جون 2026
سب سے مشکل سچ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر