وجود

... loading ...

وجود

زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دبائو۔۔بینکوں کو ڈالر بانڈ جاری کرنے کی تلقین

بدھ 08 مارچ 2017 زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دبائو۔۔بینکوں کو ڈالر بانڈ جاری کرنے کی تلقین


کوئی تحریری حکم نہیں دیا گیا، زبانی ہدایت دی گئی، یہ بانڈ حکومت بھی جاری کرے گی اور مختلف بینک اپنے طورپر بھی جاری کرسکیں گے،بینکنگ ذرائع
حکومت کو قرضوں پر سود کی ادائیگی اور کرنٹ اکائونٹس کے بڑھتے ہوئے خسارے کی وجہ سے زرمبادلہ کی شدید کمی کا سامنا ، ڈالر بانڈز بھی غیر ملکی قرض ہی کی ایک شکل ہوگی
ایچ اے نقوی
درآمدات اور برآمدات میں بڑھتے ہوئے تفاوت کی وجہ سے بھاری شرح سود پر حاصل کیے قرضوں سے پیداکردہ زرمبادلہ کے ذخائر پر بڑھتے ہوئے دبائو کو کم کرنے کے لیے اب اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو درآمدات کی ادائیگی کے لیے بیرون ملک ڈالر بانڈ جاری کرنے کی تلقین اور اس حوالے سے ان کی حوصلہ افزائی کرنا شروع کردی ہے۔تاہم مالیاتی امور کے ماہرین اس کو ایک خطرناک طریقہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کاکہناہے کہ اگر بینکوں نے ایکسچینج ریٹ میں ہونے والی کمی بیشی کے خطرات درآمد کنندگان کو منتقل نہ کیے تو بینکوں کو خطرناک صورت حال کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتاہے۔
ماہرین مالیات اور تجزیہ کاروں کاکہناہے کہ یہ صورت حال اس لیے پیداہوئی ہے کہ حکومت کو قرضوں پر سود کی ادائیگی اور کرنٹ اکائونٹس کے بڑھتے ہوئے خسارے کی وجہ سے زرمبادلہ کی شدید کمی کا سامنا ہے ، اس صورتحال سے نکلنے کے لیے اسٹیٹ بینک کے سامنے آسان راستہ یہی تھا کہ بینکوں کے ذریعہ زرمبادلہ حاصل کیاجائے۔
اطلاعات کے مطابق اسٹیٹ بینک نے اگرچہ ابھی تک بینکوں کو ڈالر بانڈ جاری کرنے کا کوئی تحریری حکم نہیں دیا ہے لیکن زبانی طورپر انہیں کہاگیاہے کہ وہ لیٹر آف کریڈٹ کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے بین الاقوامی منڈی میں ڈالر بانڈ جاری کرنے کے آپشن پر بھی غورکریں۔بینکنگ ذرائع کاکہناہے کہ یہ بانڈ حکومت کی جانب سے بھی جاری کیے جائیں گے اور مختلف بینک اپنے طورپر بھی جاری کرسکیں گے۔ذرائع کے مطابق اسٹیٹ بینک کی خواہش ہے کہ بھاری مشینریز اور دیگر میگاپراجیکٹس کے لیے بھاری درآمدات کے لیے کھولے جانے والے لیٹر آف کریڈٹ کی ادائیگیاں ملک میں نہیں بلکہ بیرون ملک پیدا کردہ وسائل کے ذریعہ ہی کی جائیں تاکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر کوئی اثر نہ پڑے اورحکومت پر واجب الادا قرضوں میں بھی اضافہ نظر نہ آئے۔اس صورت حال میں بینکوں کے سامنے دو ہی راستے رہ جاتے ہیں یاتو وہ بین الاقوامی منڈی سے قرض حاصل کریں یاڈالر بانڈ کی فروخت کے ذریعے رقم حاصل کریں جبکہ یہ بھی غیر ملکی قرض ہی کی ایک شکل ہوگی۔ذرائع کاکہنا ہے کہ غیر ملی بینکوں سے براہ راست قرض کے حصول کی صورت میں تمام بوجھ درآمد کنندگان کو برداشت کرنا پڑے گا،جبکہ بانڈز کے ذریعہ حاصل کردہ رقم سے بینکوں کو زیادہ خطرات کاسامنا کرناپڑسکتاہے اورایکسچینج ریٹ میں بہت زیادہ اضافے کی صورت میں بینک شدید مشکلات سے دوچار ہوسکتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے ذرائع کاکہناہے کہ بینک کے اعلیٰ حکام کا خیال ہے کہ پاکستانی بینکوں کی ریٹنگ اچھی ہے اورگزشتہ سال اکتوبر میں موڈی کی انویسٹرز سروس نے پاکستان کے بینکاری نظام کو مستحکم قرار دیاتھا اور خیال ظاہر کیاتھا کہ پاکستانی بینک مستحکم ڈیپازٹ کی بنیاد پر مزید ترقی کرسکتے ہیں۔اس لیے وہ بیرون ملک ڈالر بانڈ جاری کرکے بآسانی مطلوبہ رقم حاصل کرسکتے ہیں۔ڈالر بانڈ جاری کرنے کی تجویز کا بنیادی مقصد انٹربینک مارکیٹ سے دبائو کو فنانسنگ کے دیگر ذرائع کی جانب منتقل کرنا ہے ۔ذرائع کے مطابق بھاری مشینری اور خام تیل کی درآمد میں اضافے کی وجہ سے ملک کی درآمدات میں مسلسل اضافہ ہورہاہے جبکہ ہماری برآمدات درآمدات کاساتھ دینے سے قاصر ہیں جس کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر مسلسل دبائو میں رہتے ہیں۔
ملک میں درآمدات میں اضافے کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ جنوری2017ء میں ہماری درآمدات کی مجموعی مالیت 4 ارب 74 کروڑ ڈالر کے مساوی تھیں جو کہ جنوری 2016 ء کے مقابلے میں37 فیصد زیادہ تھیں۔درآمدت کے حوالے سے یہ تمام ادائیگیاں انٹربینک مارکیٹ ذرائع سے کی گئیں۔آئی ایم ایف پروگرام ختم ہونے کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے ہونے والی کمی نے اسٹیٹ بینک کو زرمبادلہ کے حصول کے متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور ہونا پڑا اور ڈالر بانڈ اسی طرح کاایک آسان لیکن ماہرین مالیات کے مطابق ایک پر خطر ذریعہ ہے۔
جہاں تک زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کی صورتحال کاتعلق ہے تو اس کااندازہ اس طرح لگایاجاسکتاہے کہ 10 فروری کو اسٹیٹ بینک کے پاس گزشتہ 9 ماہ میں پہلی مرتبہ زرمبادلہ کے ذخائر مزید کم ہوکر 16 ارب 99 کروڑ 30 لاکھ ڈالر رہ گئے تھے۔جبکہ اعدادوشمار سے ظاہرہوتاہے کہ گزشتہ ساڑھے تین ماہ کے دوران سرکاری طورپر زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ارب90 کروڑ ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
بینکاری ذرائع کاکہناہے کہ اگر بینک اسٹیٹ بینک کے مشورے کے مطابق ڈالر بانڈ جاری کرکے زرمبادلہ جمع کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں کرنسی میں اتار چڑھائو کے شدید خطرات کاسامنا کرنا پڑ سکتاہے جس سے ان کی ریٹنگ بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔بینکاری ذرائع اس طریقہ کار کو غیرمنطقی قرار دیتے ہیں۔ان کاکہناہے کہ اس سے بینکوںکو جو بوجھ برداشت کرناپڑے گا وہ روپے کی صورت میں ہوگا اور اس طرح ان کے رسک میں 8 فیصد سے زیادہ کااضافہ ہوسکتاہے۔
دوسری جانب اسٹیٹ بینک کامؤقف یہ ہے کہ زرمبادلہ کی تمام رقم جس میں کمرشل اورنان کمرشل شامل ہے جس میں برآمدات ،بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیل زر،انٹر بینک مارکیٹ کے ذریعہ ہی وصول ہوتی ہے اور زرمبادلہ سے متعلق قوانین کے تحت اسٹیٹ بینک اس طرح کی ادائیگیوں کے لیے زرمبادلہ فراہم کرنے کاپابند نہیں ہے۔ اسی طرح برآمدات اور بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی رقم کے عوض حاصل ہونے والا زرمبادلہ آتھرائیزڈ ڈیلرز بھی اسٹیٹ بینک کو دینے کے پابند نہیں ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے ترجمان کاکہناہے کہ اسٹیٹ بینک وقتاً فوقتاً اپنے زرمبادلے کے ذخائر میںاضافہ کرنے اور انٹربینک ایف ایکس مارکیٹ میں بہت زیادہ اتارچڑھائو کو کنٹرول کرنے کے لیے فارن کرنسی مارکیٹ میں مداخلت ضرور کرتاہے کیونکہ کرنسی کو مستحکم رکھنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو ایک حد پر قائم رکھنے کے لیے ایسا کرنا ضروری ہوتاہے۔
اب دیکھنایہ ہے کہ کمرشل بینک اپنی زرمبادلہ کی ضروریات اور ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک کے مشورے کے مطابق ڈالر بانڈ جاری کرنے کاآسان طریقہ اختیار کرتے ہیں یاکوئی ایسا متبادل طریقہ اختیارکرتے ہیں جس میں ڈالر بانڈ کے مقابلے میں خطرات کم ہوں اور بینک کے کھاتیدار یعنی لیٹر آف کریڈٹ کھلوانے والے صنعت کار اور تاجر بھی زیادہ زیر بار نہ ہوں۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر