... loading ...
یہ بات تو اب راز نہیں رہی کہ آصف علی زرداری ایسے سیاستدان ہیںجن کو بے نظیر بھٹو نے ہمیشہ آخری صفوں میں جگہ دی ۔ان کو کبھی اگلی صفوں میں آنے کی جرأت بھی نہیں ہوئی ،اور یہی وجہ تھی کہ آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو کے درمیان جھگڑوں کی خبریں آتی رہیں ،کیونکہ آصف زرداری نے ہمیشہ اپنے مخصوص ذہنی سوچ کو آگے رکھا اور یہی بات بے نظیر کو پسند نہیں تھی ۔بس پھر کئی کہانیاں عام ہوئیں، ظاہر ہے ان میں کچھ سچ اور کچھ جھوٹ شامل تھا۔ لیکن بی بی کے بعد آصف زرداری مطلق العنان بن گئے اور سیاہ و سفید کے مالک بن گئے ۔اس وقت وہ جو بات کرتے ہیں وہ پارٹی کے اندر پتھر پر لکیر سمجھی جاتی ہے۔ محترمہ کے بعد آصف زرداری کا اصل چہرہ کھل کر سامنے آیا اور انہوں نے اجلاسوں اور نشستوں میں پارٹی رہنمائوں کے ساتھ بھی بہت ہی خراب یا بازاری زبان استعمال کرنا شروع کی۔ کسی نے اگر اختلاف رائے رکھا تو اسے سختی سے باورکرایاکہ’’ تمہیں اگر اصول پسند ہیں تومہربانی کرکے پارٹی چھوڑ دو ورنہ ایسا نہ ہو کہ تمہیں دھکے دے کر پارٹی سے نہ نکال دیا جائے ‘‘۔اندرونی ذرائع کا اس حوالے سے یہ کہنا ہے کہ وہ ایسی ایسی باتیں انہوں نے کہی کہ کسی کو جرأت بھی نہیں کہ وہ پارٹی کے اندر یا پھر میڈیا میں آکر اس پر اختلاف رائے رکھے۔ پارٹی میں یہاں تک بات پھیل گئی کہ پارٹی میں رہنا ہے تو پھر ہونٹوں پر تالا لگانا ہے۔ کان بند رکھنے ہیں اور اندھے‘ بہرے ‘ گونگوں کی طرح ہاں میں ہاں ملانی ہے اور اگر پارٹی چھوڑنے کا حوصلہ ہے توہی کھل کر باتیں کریں۔باوثوق ذرائع بتاتے ہیںکہ تاج حیدر‘ میاں رضا ربانی‘ اعتزاز احسن جیسے شانداروباوقار سیاسی حیثیت کے حامل سیاست دان بھی اپنی تضحیک برداشت کرکے خاموش ہوگئے ہیں۔ ان کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا وہ شاید رقم کرنا مشکل ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ آصف زرداری نے اپنی مرضی سے فیصلے کرنے شروع کردیے اور خود کو عوام سے دور کرتے گئے۔رواں صورتحال میں وہ صرف بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار بھٹو کی برسی پر اسٹیج پر خطاب کرتے ہیں وہ بھی بلٹ پروف میں، بس اس کے بعد خدا حافظ اور پھر جاکر اپنی ’’مصروفیات‘‘ میں لگ جاتے ہیں۔ پچھلے دور میں جب انہوں نے خود کو صدر بنوایا، یوسف رضا گیلانی کو وزیر اعظم بنوایا، قائم علی شاہ کو وزیر اعلیٰ بنایا۔ پھر آگے چل کر 2013 ء میں پارٹی کا تین صوبوں میں صفایا ہوگیا لیکن اس کا بھی آصف زرداری پر کوئی اثر نہ پڑا۔ سندھ میں ’’چمک‘‘ پر دوسری مرتبہ عام الیکشن میں کامیابی حاصل کی ، پہلے قائم علی شاہ کو دوسری مدت کے لئے وزیر اعلیٰ بنایا پھر آگے چل کر اب مراد علی شاہ کو وزیر اعلیٰ بنایا۔ کس کو وزارت دینی‘ کس سے واپس لینی ہے، یہ سب ان کے زبانی فیصلے ہوتے ہیں جو حرف آخر تصور کئے جاتے ہیں۔ وہ جب دبئی میں رہے یا امریکا میں رہے ،حکومت سندھ پر ان کی گرفت مضبوط تھی۔
ذرائع کا تجزیہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری صرف جلسے جلوسوں اور نعروں کی حد تک لیڈر ہیں ان کو ایک یونین کونسل کے پارٹی عہدیدار رکھنے یا ہٹانے کا اختیار نہیں‘ حکومت سندھ میں بلاول بھٹو زرداری نے ایک مشیر یا معاون خصوصی تک نہیں رکھا۔
یہاں اگر آصف زرداری کے بعد فیصلے کا اختیار ہے تو وہ فریال تالپر ہیں ۔فریال تالپر کو وزراء‘ مشیر‘ معاونین خصوصی رکھنے یا نکالنے یا پھر بیورو کریسی میں تقرریوں و تبادلوں کا مکمل اختیار ہے۔ آصف زرداری طویل عرصہ جلاوطن رہنے کے بعد وطن واپس آئے تو ان کا پارٹی نے شاندار استقبال کیا اور چند روز یہاں رہے اور پھر واپس چلے گئے اور حال ہی میں واپس آئے تو پارٹی کے سینیئر رہنمائوں کا اجلاس بلانے کی زحمت بھی نہیں کی لیکن اپنی مرضی سے مختلف پارٹی رہنمائوں کو پی پی میں شامل کرنے لگے۔ سب سے پہلے نبیل گبول کو پارٹی میں شامل کیا۔ پھر تحریک انصاف سندھ کے صدر نادر اکمل لغاری کو پارٹی میں شامل کیا۔ پھر خالد احمد لوند کو اپنی پارٹی میں لائے اور آخر میں عرفان مروت کو بلاول ہائوس ملاقات کے لئے بلا کر پارٹی میں شامل کرایا۔ نبیل گبول‘ نادر اکمل لغاری‘ خالد احمد لوند کی حد تک تو پارٹی خاموش رہی‘ مگر عرفان مروت پر سب سے زیادہ ردعمل بلاول بھٹو زرداری نے دکھایا۔ کیونکہ وہ اور ان کی بہنیں اپنی والدہ کی گود میں ہوتے تھے جب وہ عرفان مروت کی زیادتیوں کے خلاف پریس میں اور عدالت میں روزانہ جاتے تھے ان کو وہ دن یاد تھے۔ وینا حیات‘ شہلا رضا‘ راحیلہ ٹوانہ کے ساتھ غیر انسانی سلوک ان کویاد تھا۔ بلاول بھٹو نے جیسے ہی ناراضگی کا اظہار کیا تو آصف زرداری نے ان کو خاموش رہنے کا پیغام دے دیا۔ جس پر بلاول نے کمر کس لی اور اپنی دونوں بہنوں سے کہا کہ اب اس پر کوئی سخت موقف اختیار کرنا چاہئے۔ بہنوں نے سوچ بچار کئے بغیر ٹوئیٹر پر دھماکا کردیا اور اپنے بھائی سے کہا کہ اگر اس ایشو پر والد کو چھوڑنا پڑا تو وہ ان کو چھوڑ کر اپنے بھائی کے ساتھ کھڑی ہوجائیں گی۔ بس ان کا دھماکہ اصل میں اپنے والد کے خلاف تھا۔ ٹوئیٹر پر بختاور اور آصفہ نے ایک ہی پیغام لکھا کہ عرفان مروت جیسے بدبودار انسان کو پی پی میں نہیں بلکہ جیل میں ہونا چاہئے۔ پارٹی کے اندرونی حلقوں نے بتایا کہ جیسے ہی دونوں بہنوں کا ٹوئٹ سامنے آیا اور الیکٹرانک میڈیا میں بریکنگ نیوز کے طور پر ٹوئٹ چلا تو آصف زرداری کے چھکے چھوٹ گئے ان کو ماتھے پر پسینہ آگیا اور انہوں نے تین چار گلاس پانی پی لیا پھر انہوں نے اپنی بیٹیوں سے رابطہ کیا تو دونوں بیٹیوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ تینوں بہن بھائی عرفان مروت کا دور اپنی والدہ کے ساتھ دھکے کھاتے دیکھ چکے ہیں، اس لئے ان پر کوئی سودے بازی نہیں ہوگی اور یہ حتمی فیصلہ ہے۔ اس پر آصف زرداری کچھ کہے بغیر ادویات لے کر وقت سے پہلے سوگئے لیکن پوری رات ان کو نیند نہیں آئی ‘ کئی بار ذاتی ملازمین کو بلا کر کبھی کوئی ادویات‘ کبھی سونے کی کوئی چیز‘ کبھی کھانے پینے کی چیزیں منگواتے رہے۔ دوسرے روز بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنی بہنوں کی حمایت کردی تو آصف زرداری کو پختہ یقین ہوگیا کہ تینوں بہن بھائی اب اکٹھے ہوگئے ہیں، اس لئے انہوں نے خاموشی اختیار کرلی اور دو روز بعد جب وہ حب کے دورے پر گئے تو انہوں نے عرفان مروت کے معاملے پر اتنا کہا کہ ’’ٹوئیٹر بریگیڈ کی کہانیاں ہیں‘‘۔ ان سے کوئی پوچھے کہ ٹوئیٹر پر تو ان کی دونوں بیٹیوں نے پہلے دن اور بیٹے نے دوسرے دن اپنے والد کے فیصلے کے خلاف ٹوئٹ کیا تو دوسروں کو موردالزام ٹھہرانے کا کیا مقصد ہے؟اندرونی ذرائع اصل میں پہلی مرتبہ آصف زرداری کے فیصلے کو ان کی اولاد نے چیلنج کیا ہے جس پر وہ سخت پریشان ہیں۔
قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...
ایک خاص مقصد کے تحت تھرپارکر اور صوبے پر تنقید کی جاتی ہے،کہا جاتا ہے پیپلز پارٹی نے کچھ نہیں کیا، اختیارات اسلام آباد کو دیے جائیں، کوئی دوسرا صوبہ سندھ سے مقابلہ نہیں جیت سکتا،چیئرمین کوئلہ یہاں کے عوام کا اثاثہ ہے ،تھر میں پیپلزپارٹی کا کیا گیا کام ان قوتوں کو بہترین جواب ہے...
ان لوگوں نے گمراہ کن ایجنڈے کیلئے کچھ احادیث گھڑ لیں ہیں ایسے گمراہ لوگ سفاک مجرم اور قاتل ہیں،تقریب سے خطاب ملک میں جگہ جگہ علماء کرام کو قتل کیا جا رہا ہے، وزیرستان میں فتنۃ الخوارج کے ہاتھوں عالم دین کی شہادت پر مولانا کا شدید ردعمل اسلام آباد(بیورورپورٹ)خیبرپختونخوا کے علا...
فلسطینی علاقوں میں کم از کم 60 لڑکے اور 40 لڑکیاں لقمہ اجل بن چکے ہیں بچے خودکش ڈرون ، فضائی حملوں، گولہ باری میں شہید کیے جاچکے ہیں،یونیسیف غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور زمینی کارروائیوں کے نتیجے میں اب تک کم از کم 100 بچے جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ بین ا...
ا سپیکر قومی اسمبلی نے کل تک محمود خان اچکزئی کی بطورقائد حزب اختلاف تقرری کی یقین دہانی کرا دی ،پی ٹی آئی وفدبیرسٹر گوہر علی، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور اقبال آفریدی کی سردار ایاز صادق سے ملاقات اسپیکر جب چاہے نوٹیفکیشن کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی میں کوئی فارورڈ بلاک نہیں،بانی چیئر...
موجودہ حالات میں پی ٹی آئی سامنے آئے یا نہ، ہم ضرورآئیں گے،پیپلز پارٹی اور ن لیگ آپس میںگرتے پڑتے چل رہے ہیں،مدارس کی آزادی اور خودمختاری ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے بلدیاتی الیکشن آئینی تقاضہ، حکومت کو ہر صورت کروانا ہوں گے ،ملک مزید غیر یقینی صورتحال کا متحمل نہیں ہو سکتا...
پی ٹی آئی نے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہدہرانے کی کوشش کی مگر سندھ حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا پولیس پر پتھراؤ ہوا،میڈیا کی گاڑیاں توڑیں، 8 فروری کو پہیہ جام نہیں کرنے دینگے، پریس کانفرنس سینئر وزیر سندھ اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی میں 9 مئی ج...
امن کمیٹی کے ممبران گلبدین لنڈائی ڈاک میں جرگے سے واپس آرہے تھے،پولیس ہوید کے علاقے میںگھات لگائے دہشتگردوں نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کردی بنوں میں امن کمیٹی پر دہشتگردوں کی فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق بنوں میں ہوید کے علاقے میں امن کمیٹی ممبران پردہشتگرد...
محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی کی سربراہی میں اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات نئے نظام کا آغاز ابتدائی طور پر پائلٹ منصوبے کے تحت کراچی سے کیا جائے گا،وفاقی وزیر داخلہ و فاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ڈائریکٹر جنرل کسٹمز و پورٹ سکیورٹی احمد بن لاحج الفلاسی کی سربراہی ...
حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...
3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...
ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...