وجود

... loading ...

وجود

عرفان مروت کی شمولیت:بلاول اور بہنوں میں ایکا۔زرداری پسپا

جمعه 03 مارچ 2017 عرفان مروت کی شمولیت:بلاول اور بہنوں میں ایکا۔زرداری پسپا

یہ بات تو اب راز نہیں رہی کہ آصف علی زرداری ایسے سیاستدان ہیںجن کو بے نظیر بھٹو نے ہمیشہ آخری صفوں میں جگہ دی ۔ان کو کبھی اگلی صفوں میں آنے کی جرأت بھی نہیں ہوئی ،اور یہی وجہ تھی کہ آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو کے درمیان جھگڑوں کی خبریں آتی رہیں ،کیونکہ آصف زرداری نے ہمیشہ اپنے مخصوص ذہنی سوچ کو آگے رکھا اور یہی بات بے نظیر کو پسند نہیں تھی ۔بس پھر کئی کہانیاں عام ہوئیں، ظاہر ہے ان میں کچھ سچ اور کچھ جھوٹ شامل تھا۔ لیکن بی بی کے بعد آصف زرداری مطلق العنان بن گئے اور سیاہ و سفید کے مالک بن گئے ۔اس وقت وہ جو بات کرتے ہیں وہ پارٹی کے اندر پتھر پر لکیر سمجھی جاتی ہے۔ محترمہ کے بعد آصف زرداری کا اصل چہرہ کھل کر سامنے آیا اور انہوں نے اجلاسوں اور نشستوں میں پارٹی رہنمائوں کے ساتھ بھی بہت ہی خراب یا بازاری زبان استعمال کرنا شروع کی۔ کسی نے اگر اختلاف رائے رکھا تو اسے سختی سے باورکرایاکہ’’ تمہیں اگر اصول پسند ہیں تومہربانی کرکے پارٹی چھوڑ دو ورنہ ایسا نہ ہو کہ تمہیں دھکے دے کر پارٹی سے نہ نکال دیا جائے ‘‘۔اندرونی ذرائع کا اس حوالے سے یہ کہنا ہے کہ وہ ایسی ایسی باتیں انہوں نے کہی کہ کسی کو جرأت بھی نہیں کہ وہ پارٹی کے اندر یا پھر میڈیا میں آکر اس پر اختلاف رائے رکھے۔ پارٹی میں یہاں تک بات پھیل گئی کہ پارٹی میں رہنا ہے تو پھر ہونٹوں پر تالا لگانا ہے۔ کان بند رکھنے ہیں اور اندھے‘ بہرے ‘ گونگوں کی طرح ہاں میں ہاں ملانی ہے اور اگر پارٹی چھوڑنے کا حوصلہ ہے توہی کھل کر باتیں کریں۔باوثوق ذرائع بتاتے ہیںکہ تاج حیدر‘ میاں رضا ربانی‘ اعتزاز احسن جیسے شانداروباوقار سیاسی حیثیت کے حامل سیاست دان بھی اپنی تضحیک برداشت کرکے خاموش ہوگئے ہیں۔ ان کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا وہ شاید رقم کرنا مشکل ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ آصف زرداری نے اپنی مرضی سے فیصلے کرنے شروع کردیے اور خود کو عوام سے دور کرتے گئے۔رواں صورتحال میں وہ صرف بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار بھٹو کی برسی پر اسٹیج پر خطاب کرتے ہیں وہ بھی بلٹ پروف میں، بس اس کے بعد خدا حافظ اور پھر جاکر اپنی ’’مصروفیات‘‘ میں لگ جاتے ہیں۔ پچھلے دور میں جب انہوں نے خود کو صدر بنوایا، یوسف رضا گیلانی کو وزیر اعظم بنوایا، قائم علی شاہ کو وزیر اعلیٰ بنایا۔ پھر آگے چل کر 2013 ء میں پارٹی کا تین صوبوں میں صفایا ہوگیا لیکن اس کا بھی آصف زرداری پر کوئی اثر نہ پڑا۔ سندھ میں ’’چمک‘‘ پر دوسری مرتبہ عام الیکشن میں کامیابی حاصل کی ، پہلے قائم علی شاہ کو دوسری مدت کے لئے وزیر اعلیٰ بنایا پھر آگے چل کر اب مراد علی شاہ کو وزیر اعلیٰ بنایا۔ کس کو وزارت دینی‘ کس سے واپس لینی ہے، یہ سب ان کے زبانی فیصلے ہوتے ہیں جو حرف آخر تصور کئے جاتے ہیں۔ وہ جب دبئی میں رہے یا امریکا میں رہے ،حکومت سندھ پر ان کی گرفت مضبوط تھی۔
ذرائع کا تجزیہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری صرف جلسے جلوسوں اور نعروں کی حد تک لیڈر ہیں ان کو ایک یونین کونسل کے پارٹی عہدیدار رکھنے یا ہٹانے کا اختیار نہیں‘ حکومت سندھ میں بلاول بھٹو زرداری نے ایک مشیر یا معاون خصوصی تک نہیں رکھا۔

یہاں اگر آصف زرداری کے بعد فیصلے کا اختیار ہے تو وہ فریال تالپر ہیں ۔فریال تالپر کو وزراء‘ مشیر‘ معاونین خصوصی رکھنے یا نکالنے یا پھر بیورو کریسی میں تقرریوں و تبادلوں کا مکمل اختیار ہے۔ آصف زرداری طویل عرصہ جلاوطن رہنے کے بعد وطن واپس آئے تو ان کا پارٹی نے شاندار استقبال کیا اور چند روز یہاں رہے اور پھر واپس چلے گئے اور حال ہی میں واپس آئے تو پارٹی کے سینیئر رہنمائوں کا اجلاس بلانے کی زحمت بھی نہیں کی لیکن اپنی مرضی سے مختلف پارٹی رہنمائوں کو پی پی میں شامل کرنے لگے۔ سب سے پہلے نبیل گبول کو پارٹی میں شامل کیا۔ پھر تحریک انصاف سندھ کے صدر نادر اکمل لغاری کو پارٹی میں شامل کیا۔ پھر خالد احمد لوند کو اپنی پارٹی میں لائے اور آخر میں عرفان مروت کو بلاول ہائوس ملاقات کے لئے بلا کر پارٹی میں شامل کرایا۔ نبیل گبول‘ نادر اکمل لغاری‘ خالد احمد لوند کی حد تک تو پارٹی خاموش رہی‘ مگر عرفان مروت پر سب سے زیادہ ردعمل بلاول بھٹو زرداری نے دکھایا۔ کیونکہ وہ اور ان کی بہنیں اپنی والدہ کی گود میں ہوتے تھے جب وہ عرفان مروت کی زیادتیوں کے خلاف پریس میں اور عدالت میں روزانہ جاتے تھے ان کو وہ دن یاد تھے۔ وینا حیات‘ شہلا رضا‘ راحیلہ ٹوانہ کے ساتھ غیر انسانی سلوک ان کویاد تھا۔ بلاول بھٹو نے جیسے ہی ناراضگی کا اظہار کیا تو آصف زرداری نے ان کو خاموش رہنے کا پیغام دے دیا۔ جس پر بلاول نے کمر کس لی اور اپنی دونوں بہنوں سے کہا کہ اب اس پر کوئی سخت موقف اختیار کرنا چاہئے۔ بہنوں نے سوچ بچار کئے بغیر ٹوئیٹر پر دھماکا کردیا اور اپنے بھائی سے کہا کہ اگر اس ایشو پر والد کو چھوڑنا پڑا تو وہ ان کو چھوڑ کر اپنے بھائی کے ساتھ کھڑی ہوجائیں گی۔ بس ان کا دھماکہ اصل میں اپنے والد کے خلاف تھا۔ ٹوئیٹر پر بختاور اور آصفہ نے ایک ہی پیغام لکھا کہ عرفان مروت جیسے بدبودار انسان کو پی پی میں نہیں بلکہ جیل میں ہونا چاہئے۔ پارٹی کے اندرونی حلقوں نے بتایا کہ جیسے ہی دونوں بہنوں کا ٹوئٹ سامنے آیا اور الیکٹرانک میڈیا میں بریکنگ نیوز کے طور پر ٹوئٹ چلا تو آصف زرداری کے چھکے چھوٹ گئے ان کو ماتھے پر پسینہ آگیا اور انہوں نے تین چار گلاس پانی پی لیا پھر انہوں نے اپنی بیٹیوں سے رابطہ کیا تو دونوں بیٹیوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ تینوں بہن بھائی عرفان مروت کا دور اپنی والدہ کے ساتھ دھکے کھاتے دیکھ چکے ہیں، اس لئے ان پر کوئی سودے بازی نہیں ہوگی اور یہ حتمی فیصلہ ہے۔ اس پر آصف زرداری کچھ کہے بغیر ادویات لے کر وقت سے پہلے سوگئے لیکن پوری رات ان کو نیند نہیں آئی ‘ کئی بار ذاتی ملازمین کو بلا کر کبھی کوئی ادویات‘ کبھی سونے کی کوئی چیز‘ کبھی کھانے پینے کی چیزیں منگواتے رہے۔ دوسرے روز بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنی بہنوں کی حمایت کردی تو آصف زرداری کو پختہ یقین ہوگیا کہ تینوں بہن بھائی اب اکٹھے ہوگئے ہیں، اس لئے انہوں نے خاموشی اختیار کرلی اور دو روز بعد جب وہ حب کے دورے پر گئے تو انہوں نے عرفان مروت کے معاملے پر اتنا کہا کہ ’’ٹوئیٹر بریگیڈ کی کہانیاں ہیں‘‘۔ ان سے کوئی پوچھے کہ ٹوئیٹر پر تو ان کی دونوں بیٹیوں نے پہلے دن اور بیٹے نے دوسرے دن اپنے والد کے فیصلے کے خلاف ٹوئٹ کیا تو دوسروں کو موردالزام ٹھہرانے کا کیا مقصد ہے؟اندرونی ذرائع اصل میں پہلی مرتبہ آصف زرداری کے فیصلے کو ان کی اولاد نے چیلنج کیا ہے جس پر وہ سخت پریشان ہیں۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر