وجود

... loading ...

وجود

شفیع برفت کی سیاست کا جنازہ نکلنے لگا

منگل 28 فروری 2017 شفیع برفت کی سیاست کا جنازہ نکلنے لگا

سندھ کی سیاست میں قوم پرستی کا بھی ایک اپنا کردار رہا ہے۔ یہاں جی ایم سید نے قوم پرستی کی بنیاد ڈالی۔ مرحومہ حمیدہ کھوڑو، جلال محمودشاہ،رسول بخش پلیجو، ڈاکٹر قادر مگسی، ایاز لطیف پلیجو جیسے کئی ایسے نام ہیں جو پاکستان کے آئین کے دائرہ کا رمیں رہ کر پاکستان کی سیاست کرنے کے خواہشمند رہے ہیں۔ حالانکہ ان کی سیاست سندھ تک محدود ہے لیکن وہ پاکستان کے آئین کے دائرہ کار میں رہ کر سیاست کررہے ہیں جو اچھی بات ہے۔ جی ایم سید خود عدم تشدد کے حامی تھے، ان کی پارٹی میں اس وقت کچھ لوگ جرائم پیشہ ضرور تھے مگر جی ایم سید ہمیشہ تشدد کی سیاست کی مذمت کرتے تھے۔ جی ایم سید کے بعد جئے سندھ کے نام سے دس بارہ پارٹیاں بنیں، ان میں سے ایک پارٹی جئے سندھ محاذ نے تو پارٹی پرچم سے کلہاڑی کا نشان ختم کرکے سندھ کا نقشہ شامل کرلیا اور سندھودیش سے بھی دستبرداری اختیارکرلی۔ جئے سندھ محاذ کے دوسرے دھڑے کے صدر ریاض چانڈیو ہیں، وہ بھی عدم تشدد کے حامی ہیں۔ اسی طرح جئے سندھ قومی محاذ کے دو گروپ بنے ،ایک کے صدر بشیر خان قریشی کے بیٹے صنعان قریشی اور دوسرے دھڑے کے سربراہ میر عالم مری ہیں۔ بلا شبہ وہ بھی تشدد کو کسی بھی طور پرپسند نہیں کرتے۔ لیکن ان سب کو چھوڑ کر الگ گروپ بنانے والے جئے سندھ متحدہ محاذ کے سربراہ شفیع برفت نے بلوچستان کے قوم پرستوں کی طرز پر تشدد کی سیاست کو پروان چڑھایا۔ اُن کی جماعت ریاستی اداروں کے ساتھ بھی ہروقت رسہ کشی کی حالت میں رہتی ہے۔ وہ اپنے متعلقین میں سے پچاس کے قریب افراد کی مسخ شدہ لاشوں کے حوالے سے ایک انتہاپسندانہ بیانیہ بھی تشکیل دے چکے ہیں۔ سندھ کی اہم قوم پرست جماعتوں نے شفیع برفت سے اپیل بھی کی ہے کہ وہ تشدد کی سیاست کو خیرباد کہیں مگر وہ پیچھے ہٹنے سے انکاری ہیں۔
جئے سندھ متحدہ محاذ کے سینئر ترین رہنما استاد محمد راہموں ہیں۔ جی ایم سید اور حفیظ قریشی کے بعدقوم پرستوں میںاستاد محمد راہموںایسے شخص ہیں جن پر کوئی بھی الزام نہیں۔ وہ 85 سالہ بزرگ ہیں اور کبھی بھی تشدد ،یا سیاست میں کرپشن کے قائل نہیں رہے۔ وہ جئے سندھ متحدہ محاذ کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر بن گئے تو سندھ کے سیاسی حلقوں میں تعجب کا اظہار کیا گیا کہ جس شخص نے کبھی تشدد کی حمایت نہیں کی وہ آج کیونکر ایک دہشت گرد تنظیم کے رابطہ کمیٹی کے کنوینر بن بیٹھے ہیں؟ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں نے اسی تعجب کی بناء پراستاد محمد راہموں کو ضلع بدین سے حراست میں لیااور ان سے 95 روز تک پوچھ گچھ کی گئی ۔باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران ان کے سامنے حقائق رکھے گئے اور پھر جب وہ اس بات پر قائل ہوگئے کہ سیاست میں تشدد کا عنصر نہیںہونا چاہئے تو پھر ان کو چھوڑ دیاگیا۔اُنہوں نے حراست سے اگلے دن اپنے علاقے ’’کٹریو گہنور‘‘ ضلع بدین میں میڈیا سے بات چیت کرکے دنیا کو حیران کردیا ۔ استاد محمد راہموں نے سب سے پہلے دھماکا خیز اعلان کردیا کہ وہ اب سیاست سے ہی کنارہ کشی اختیار کررہے ہیں اور وہ سیاست میں تشدد کے قطعی حامی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جب اٹھا لیے گئے تو افسوس اس بات کا ہے کہ اُن کی آزادی کے لیے کسی نے آواز نہیں اٹھائی۔ حتیٰ کہ سندھ کے عوام نے بھی کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ ان کی قدر نہیں کی گئی۔ صرف ان کے اہل خانہ اور میڈیا نے ان کی آزادی کے لیے آواز بلند کی جس کے وہ مشکور ہیں۔ اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ میںنے ایک تجربہ ضرور حاصل کیا ہے کہ حساس اداروں کے لیے جو منفی بات کہی جاتی ہے وہ بالکل غلط ہے ،ان اداروں کے لوگ بھی انسان ہوتے ہیں ۔استاد راہموں کے مطابق ان کو جب حراست میں لیا گیا تو انہوں نے ان کو بتایا کہ وہ بیمار ہیں تو ان کا روزانہ چیک اپ کیاجاتا تھا ،روزانہ ادویات دی جاتی تھیں ۔ اُنہوں نے یہ حیران کن انکشاف بھی کیا کہ خود اُن کے اپنے ہم زبان افسر نے اُنہیں گالیاں دیں جس پر دوسری زبان کے افسران نے اُنہیں تحقیقاتی ٹیم سے ہی نکال دیااور اُن سے نہایت خندہ پیشانی سے پیش آئے۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ اُن کے ساتھ نرم رویے میں بات کی جاتی تھی اور ان کے سامنے حقائق رکھے جاتے تھے جس سے وہ متاثر ہوئے ۔اور پھر ان کی سوچ بدلی کہ سیاست میں تشدد سے مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ مسئلہ پیچیدہ ہوجاتا ہے ۔استاد محمد راہموں نے کہا کہ وہ جس شہر میں رہتے ہیں ،وہاں پنجابی اور پٹھان بھی رہتے ہیں اور انہوں نے کبھی ان کے ساتھ تعصب نہیں کیا ،اور کبھی ان کے ساتھ نفرت آمیز رویہ نہیں اپنایا۔
قوم پرست سیاست کے ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے شفیع برفت کا نام تو نہیں لیا لیکن سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے اور سیاست سے تشدد کو نکالنے کی کھل کر بات کرنے کے علاوہ ریاستی اداروں کے افسران کی تعریف کرکے شفیع برفت کی سیاست کے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔ کیونکہ استاد محمد راہموں نے ہمیشہ صاف ستھری سیاست کی ہے اور ان کی سیاسی زندگی پر آج تک کوئی الزام نہیں لگا ۔وہ شفیع برفت کے گروپ میں گئے تو ان پر انگلیاں اٹھنے لگیں اور اب جب وہ 94 دن زیر حراست رہنے کے بعد واپس آئے ہیں تو پرتشدد سیاست کی حامی جماعت سے تائب ہوچکے ہیں۔
ناقدین کا خیال ہے کہ استاد راہموں کے اس طرزِ سیاست نے شفیع برفت گروپ میں کام کرنے والے سینکڑوں نوجوانوں کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ آخر یہ کیسی قوم پرستی ہے کہ خود جرمنی جاکر پناہ لے بیٹھے ، اپنی اولادوں، رشتہ داروں کو توتشدد کی سیاست سے دور رکھااور غریبوں کے بچوں سے بم دھماکے کروائے اور ان کو مروا دے ؟اگر شفیع برفت کو تشدد کی سیاست اتنی ہی پیاری ہے تو خود سندھ میں واپس کیوں نہیں آتا؟بہرحال استاد محمد راہموں نے شفیع برفت کی سیاست کا جنازہ نکال دیا ہے۔


متعلقہ خبریں


عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...

عمران خان کی رہائی تک ہر منگل کو اسلام آباد میں احتجاج کا فیصلہ

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...

190ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...

مسلم و پاکستان مخالف درجنوں ایکس اکاؤنٹس بھارت سے فعال ہونے کا انکشاف

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...

کراچی میں وکلا کا احتجاج، کارونجھر پہاڑ کے تحفظ اور بقا کا مطالبہ

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ وجود - جمعرات 27 نومبر 2025

معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...

54 ہزار خالی اسامیاں ختم، سالانہ 56 ارب کی بچت ہوگی، وزیر خزانہ

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...

فیض حمید کا کورٹ مارشل قانونی اور عدالتی عمل ہے ،قیاس آرائیوں سے گریزکریں ،ترجمان پاک فوج

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا وجود - بدھ 26 نومبر 2025

  خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...

ترمیم کی منظوری جبری اور جعلی تھی،مولانا فضل الرحمان نے 27ویں آئینی ترمیم کو مسترد کر دیا

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس وجود - بدھ 26 نومبر 2025

حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...

ایف سی ہیڈکوارٹر حملے کے ذمہ دار افغان شہری ہیں،آئی جی خیبر پختونخواپولیس

پانچ مقدمات،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم وجود - بدھ 26 نومبر 2025

عدالت نے9مئی مقدمات میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ضمانت میں توسیع کر دی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 23دسمبر تک ملتوی،بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف 9 مئی ودیگر 5 کیسز کی سماعت کے دور ان 9 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات ...

پانچ مقدمات،عمران خان اور بشریٰ بی بی کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے، رپورٹ جمع وجود - بدھ 26 نومبر 2025

بانی پی ٹی آئی جیل میں سخت سرویلنس میں ہیں ، کسی ممنوع چیز کی موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے عمران خان کے اکاؤنٹ سے متعلق وضاحت عدالت میں جمع کرادی بانی پی ٹی آئی عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست پر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں سپرنٹن...

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے آپریٹ ہونے کا تاثر غلط ہے، رپورٹ جمع

ضمنی انتخابات ،نون لیگ کاکلین سویپ ،قومی اسمبلی میں نمبر تبدیل وجود - منگل 25 نومبر 2025

مزید 6سیٹیںملنے سے قومی اسمبلی میں حکمران جماعت کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 132ہوگئی حکمران جماعت کا سادہ اکثریت کیلئے سب سے بڑی اتحادی پیپلز پارٹی پر انحصار بھی ختم ہوگیا ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے کلین سویپ سے قومی اسمبلی میں نمبر گیم تبدیل ہوگئی ،حکمران جماعت کا سادہ ...

ضمنی انتخابات ،نون لیگ کاکلین سویپ ،قومی اسمبلی میں نمبر تبدیل

2600ارب گردشی قرضے کا بوجھ غریب طبقے پر ڈالا گیا وجود - منگل 25 نومبر 2025

غریب صارفین کیلئے ٹیرف 11.72سے بڑھ کر 22.44روپے ہو چکا ہے نان انرجی کاسٹ کا بوجھ غریب پر 60فیصد، امیروں پر صرف 30فیصد رہ گیا معاشی تھنک ٹینک پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس نے پاکستان میں توانائی کے شعبے کا کچا چٹھا کھول دیا،2600 ارب سے زائد گردشی قرضے کا سب سے زیادہ ب...

2600ارب گردشی قرضے کا بوجھ غریب طبقے پر ڈالا گیا

مضامین
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ وجود جمعه 28 نومبر 2025
منو واد کا ننگا ناچ اور امریکی رپورٹ

بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث وجود جمعه 28 نومبر 2025
بھارت سکھوں کے قتل میں ملوث

بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
بھارتی وزیر دفاع کا اشتعال انگیز بیان ، نیا اُبھرتا خطرہ

اسموگ انسانی صحت کیلئے اک روگ وجود جمعرات 27 نومبر 2025
اسموگ انسانی صحت کیلئے اک روگ

مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن وجود جمعرات 27 نومبر 2025
مقبوضہ کشمیر میں کریک ڈاؤن

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر