وجود

... loading ...

وجود

شفیع برفت کی سیاست کا جنازہ نکلنے لگا

منگل 28 فروری 2017 شفیع برفت کی سیاست کا جنازہ نکلنے لگا

سندھ کی سیاست میں قوم پرستی کا بھی ایک اپنا کردار رہا ہے۔ یہاں جی ایم سید نے قوم پرستی کی بنیاد ڈالی۔ مرحومہ حمیدہ کھوڑو، جلال محمودشاہ،رسول بخش پلیجو، ڈاکٹر قادر مگسی، ایاز لطیف پلیجو جیسے کئی ایسے نام ہیں جو پاکستان کے آئین کے دائرہ کا رمیں رہ کر پاکستان کی سیاست کرنے کے خواہشمند رہے ہیں۔ حالانکہ ان کی سیاست سندھ تک محدود ہے لیکن وہ پاکستان کے آئین کے دائرہ کار میں رہ کر سیاست کررہے ہیں جو اچھی بات ہے۔ جی ایم سید خود عدم تشدد کے حامی تھے، ان کی پارٹی میں اس وقت کچھ لوگ جرائم پیشہ ضرور تھے مگر جی ایم سید ہمیشہ تشدد کی سیاست کی مذمت کرتے تھے۔ جی ایم سید کے بعد جئے سندھ کے نام سے دس بارہ پارٹیاں بنیں، ان میں سے ایک پارٹی جئے سندھ محاذ نے تو پارٹی پرچم سے کلہاڑی کا نشان ختم کرکے سندھ کا نقشہ شامل کرلیا اور سندھودیش سے بھی دستبرداری اختیارکرلی۔ جئے سندھ محاذ کے دوسرے دھڑے کے صدر ریاض چانڈیو ہیں، وہ بھی عدم تشدد کے حامی ہیں۔ اسی طرح جئے سندھ قومی محاذ کے دو گروپ بنے ،ایک کے صدر بشیر خان قریشی کے بیٹے صنعان قریشی اور دوسرے دھڑے کے سربراہ میر عالم مری ہیں۔ بلا شبہ وہ بھی تشدد کو کسی بھی طور پرپسند نہیں کرتے۔ لیکن ان سب کو چھوڑ کر الگ گروپ بنانے والے جئے سندھ متحدہ محاذ کے سربراہ شفیع برفت نے بلوچستان کے قوم پرستوں کی طرز پر تشدد کی سیاست کو پروان چڑھایا۔ اُن کی جماعت ریاستی اداروں کے ساتھ بھی ہروقت رسہ کشی کی حالت میں رہتی ہے۔ وہ اپنے متعلقین میں سے پچاس کے قریب افراد کی مسخ شدہ لاشوں کے حوالے سے ایک انتہاپسندانہ بیانیہ بھی تشکیل دے چکے ہیں۔ سندھ کی اہم قوم پرست جماعتوں نے شفیع برفت سے اپیل بھی کی ہے کہ وہ تشدد کی سیاست کو خیرباد کہیں مگر وہ پیچھے ہٹنے سے انکاری ہیں۔
جئے سندھ متحدہ محاذ کے سینئر ترین رہنما استاد محمد راہموں ہیں۔ جی ایم سید اور حفیظ قریشی کے بعدقوم پرستوں میںاستاد محمد راہموںایسے شخص ہیں جن پر کوئی بھی الزام نہیں۔ وہ 85 سالہ بزرگ ہیں اور کبھی بھی تشدد ،یا سیاست میں کرپشن کے قائل نہیں رہے۔ وہ جئے سندھ متحدہ محاذ کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر بن گئے تو سندھ کے سیاسی حلقوں میں تعجب کا اظہار کیا گیا کہ جس شخص نے کبھی تشدد کی حمایت نہیں کی وہ آج کیونکر ایک دہشت گرد تنظیم کے رابطہ کمیٹی کے کنوینر بن بیٹھے ہیں؟ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں نے اسی تعجب کی بناء پراستاد محمد راہموں کو ضلع بدین سے حراست میں لیااور ان سے 95 روز تک پوچھ گچھ کی گئی ۔باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران ان کے سامنے حقائق رکھے گئے اور پھر جب وہ اس بات پر قائل ہوگئے کہ سیاست میں تشدد کا عنصر نہیںہونا چاہئے تو پھر ان کو چھوڑ دیاگیا۔اُنہوں نے حراست سے اگلے دن اپنے علاقے ’’کٹریو گہنور‘‘ ضلع بدین میں میڈیا سے بات چیت کرکے دنیا کو حیران کردیا ۔ استاد محمد راہموں نے سب سے پہلے دھماکا خیز اعلان کردیا کہ وہ اب سیاست سے ہی کنارہ کشی اختیار کررہے ہیں اور وہ سیاست میں تشدد کے قطعی حامی نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جب اٹھا لیے گئے تو افسوس اس بات کا ہے کہ اُن کی آزادی کے لیے کسی نے آواز نہیں اٹھائی۔ حتیٰ کہ سندھ کے عوام نے بھی کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ ان کی قدر نہیں کی گئی۔ صرف ان کے اہل خانہ اور میڈیا نے ان کی آزادی کے لیے آواز بلند کی جس کے وہ مشکور ہیں۔ اس موقع پر ان کا مزید کہنا تھا کہ میںنے ایک تجربہ ضرور حاصل کیا ہے کہ حساس اداروں کے لیے جو منفی بات کہی جاتی ہے وہ بالکل غلط ہے ،ان اداروں کے لوگ بھی انسان ہوتے ہیں ۔استاد راہموں کے مطابق ان کو جب حراست میں لیا گیا تو انہوں نے ان کو بتایا کہ وہ بیمار ہیں تو ان کا روزانہ چیک اپ کیاجاتا تھا ،روزانہ ادویات دی جاتی تھیں ۔ اُنہوں نے یہ حیران کن انکشاف بھی کیا کہ خود اُن کے اپنے ہم زبان افسر نے اُنہیں گالیاں دیں جس پر دوسری زبان کے افسران نے اُنہیں تحقیقاتی ٹیم سے ہی نکال دیااور اُن سے نہایت خندہ پیشانی سے پیش آئے۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ اُن کے ساتھ نرم رویے میں بات کی جاتی تھی اور ان کے سامنے حقائق رکھے جاتے تھے جس سے وہ متاثر ہوئے ۔اور پھر ان کی سوچ بدلی کہ سیاست میں تشدد سے مسئلہ حل نہیں ہوتا بلکہ مسئلہ پیچیدہ ہوجاتا ہے ۔استاد محمد راہموں نے کہا کہ وہ جس شہر میں رہتے ہیں ،وہاں پنجابی اور پٹھان بھی رہتے ہیں اور انہوں نے کبھی ان کے ساتھ تعصب نہیں کیا ،اور کبھی ان کے ساتھ نفرت آمیز رویہ نہیں اپنایا۔
قوم پرست سیاست کے ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے شفیع برفت کا نام تو نہیں لیا لیکن سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے اور سیاست سے تشدد کو نکالنے کی کھل کر بات کرنے کے علاوہ ریاستی اداروں کے افسران کی تعریف کرکے شفیع برفت کی سیاست کے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔ کیونکہ استاد محمد راہموں نے ہمیشہ صاف ستھری سیاست کی ہے اور ان کی سیاسی زندگی پر آج تک کوئی الزام نہیں لگا ۔وہ شفیع برفت کے گروپ میں گئے تو ان پر انگلیاں اٹھنے لگیں اور اب جب وہ 94 دن زیر حراست رہنے کے بعد واپس آئے ہیں تو پرتشدد سیاست کی حامی جماعت سے تائب ہوچکے ہیں۔
ناقدین کا خیال ہے کہ استاد راہموں کے اس طرزِ سیاست نے شفیع برفت گروپ میں کام کرنے والے سینکڑوں نوجوانوں کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ آخر یہ کیسی قوم پرستی ہے کہ خود جرمنی جاکر پناہ لے بیٹھے ، اپنی اولادوں، رشتہ داروں کو توتشدد کی سیاست سے دور رکھااور غریبوں کے بچوں سے بم دھماکے کروائے اور ان کو مروا دے ؟اگر شفیع برفت کو تشدد کی سیاست اتنی ہی پیاری ہے تو خود سندھ میں واپس کیوں نہیں آتا؟بہرحال استاد محمد راہموں نے شفیع برفت کی سیاست کا جنازہ نکال دیا ہے۔


متعلقہ خبریں


ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، باقرقالیباف وجود - جمعه 30 اکتوبر 2026

ایران پر دباؤ ڈالنے اور مراعات دینے کی حکمتِ عملی مؤثر ثابت نہیں ہوگی، بیان ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں۔ ایران کی پارلیمان کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایکس پر بی...

ایران کی سات شرائط پوری ہونے تک مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں، باقرقالیباف

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

مضامین
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
تہران اجلاس ۔۔ نئی صف بندی یا امن کی کوشش

تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر