... loading ...
سندھ اور پنجاب کے درمیا ن پانی کی تقسیم کا تنازع ڈھائی سو سال پرانا ہے‘ دستیاب ریکارڈ کے مطابق پچھلے ڈیڑھ سو سال میں چھ مرتبہ کمیشن بٹھانے گئے اور ہر مرتبہ یہ رپورٹ آئی کہ چونکہ سندھ سب سے آخر میں ہے اس لئے پانی پر سندھ کا پہلا حق ہے۔ یہاں تک کہ مذہبی حلقوں نے فتویٰ بھی دیا کہ مذہبی تاریخ میں بھی یہی فیصلے ہوئے تھے جو آخری علاقہ کا ہوگا پانی پر سب سے پہلے اس کا حق ہوگا۔
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو سب سے پہلے کراچی کو پانی فراہم کیا جانا چاہئے۔ کیونکہ کراچی منی پاکستان کہلاتاہے۔ ایوب خان کے دور میں سندھ اور پنجاب کا پانی پرتنازع اُٹھا تو ایوب خان نے اس وقت کے وفاقی سیکریٹری پانی وبجلی شیر محمد بلوچ سے کہا کہ وہ ماہرانہ رپورٹ دیں۔ شیر محمد بلوچ نے جیسے ہی رپورٹ تیار کرنا شروع کی اس وقت کے وزیرخارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک خط لکھ کر ان پر زور دیا کہ وہ اس تنازع کی رپورٹ بھی نہ دیں اور اگر ایوب خان کا دبائو بڑھ جائے تو پھر ایسی رپورٹ نہ دینا جس سے پنجاب ناراض ہوجائے۔ شیر محمد بلوچ نے بھٹو کا دبائو مسترد کردیا اور اپنی ماہرانہ رائے دی کہ پانی پر سب سے پہلاحق سندھ کا تسلیم کیا جائے۔ ایوب خان نے اس رپورٹ پر مکمل عمل درآمد کا حکم دیا مگر جیسے ہی ذوالفقار بھٹو کی حکومت آئی تو سب سے پہلے شیر محمد بلوچ کو ملازمت سے برطرف کردیا۔ پھر اسی شیر محمد بلوچ نے ’’پانی میں ہے آخری ہچکی‘‘ نام سے ایک کتاب تحریر کی جس پر بھی بھٹو حکومت نے پابندی لگادی۔ پھر جام صادق دور میں1991ء میں پانی کا معاہدہ ہوا جس پر اس وقت پی پی نے احتجاج کرتے ہوئے سر پر آسمان اٹھالیا مگر94ء میں جب پی پی حکومت آئی تو اس وقت کے وفاقی وزیر پانی وبجلی غلام مصطفی کھر نے پانی کی تاریخی تقسیم کے نام سے ایک متنازع حکم نامہ جاری کیا جس پر آج تک حکومت سندھ اور وفاقی حکومت میں تنازع برقرار ہے کیونکہ پانی کا معاہدہ1991ء کا ہے۔94ء کا کوئی معاہدہ نہیں ہے۔91ء کے معاہدے کی اہم بات کراچی سے متعلق ہے کہ کم از کم10ملین ایکڑ فٹ پانی کوٹری ڈائون اسٹیڈیم سے نیچے چھوڑنا ہے۔ اس سے ایک طرف کراچی کو پینے کاپانی ملے گا اور دوسری جانب سمندر خشکی کی جانب نہیں بڑھے گا۔ اگر سمندر کو اتنی مقدار کا دریائے سندھ سے پانی نہیں ملے گا تو سمندر خشکی کی جانب بڑھتا چلا جائے گا اور پھر آئندہ بیس پچیس سال میں کراچی سے لے کر بدین تک سینکڑوں ایکڑ زمین سمندر بدر ہوجائے گی اور لاکھوں افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ مگر اس فیصلے پر تاحال عمل نہیں ہوسکا ہے۔
جب پرویزمشرف نے اقتدار سنبھالا تو انہوں نے ریٹائرڈ وفاقی سیکریٹری اے این جی عباسی کی سربراہی میں واٹر کمیشن بنایا۔ جنہوں نے رپورٹ دی کہ8سے10ملین ایکڑ فٹ پانی ہر صورت میں چھوڑنا لازم ہے ۔ ورنہ چند برسوں بعد ضلع ٹھٹھہ اور ضلع بدین کے کئی چھوٹے بڑے شہر سمندر میں چلے جائیں گے اور کراچی کے پوش علاقے سمندر بُردہوجائیں گے۔ اس کمیشن کی سفارشات پر بھی عمل نہیں کیاگیا۔ پرویزمشرف دور میں حکومت سندھ نے کیس تیار کیا کہ کراچی منی پاکستان ہے ملک بھر سے لوگ کراچی میں آباد ہیں اس لئے کراچی کو مجموعی شیئر سے پانی فراہم کیا جائے لیکن حیرت انگیز طور پروفاقی حکومت نے اس تجویز کی مخالفت کی۔ پرویزمشرف نے اس تجویز پر اتفاق کیا تھا مگر وہ بھی طاقتور بیورو کریسی کے سامنے بے بس ہوگئے تھے پھر جب پی پی کی 2008ء میں حکومت آئی تو وفاقی حکومت نے اچانک یہ تجویز پیش کردی کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کو پانی کے مجموعی شیئر سے شیئر فراہم کیا جائے کیونکہ اسلام آباد اور راولپنڈی ملک کے دارالخلافہ اور جڑواں شہر ہیں اور فوجی ہیڈ کوارٹر بھی ہے۔ اس پر حکومت سندھ نے یاددہانی کرائی کہ جب کراچی جیسے منی پاکستان کو مجموعی سیکٹر سے پانی نہیں دیا جارہا تو پھر اسلام آباد اور راولپنڈی کیلئے کیوں مانگا جارہا ہے؟ مگر اس کے باوجود وفاقی حکومت اور حکومت پنجاب کی ضد برقرار رہی کہ اسلام آباد اور راولپنڈی الگ معاملہ ہے ان کو کراچی سے منسلک نہ کیا جائے۔ تاحال حکومت سندھ کے اصولی اور ڈٹ جانے والے موقف کے باعث وفاقی حکومت اس پر حتمی فیصلہ نہیں کرسکی ہے مگر ایک بات نے حیران کردیا ہے کہ وفاقی حکومت نے پانی کے معاملہ پر دہرا معیار اپنایا ہوا ہے۔ ایک طرف کراچی کو منی پاکستان کہا جاتا ہے چاروں صوبوں کے لوگ آکر کراچی میں رہائش پزیر ہیں ان کا روزگار اور گھر بھی کراچی میں ہیں لیکن تین صوبوں کا رویہ افسوسناک ہے حکومت سندھ نے کوٹری ڈائون اسٹیم سے پانی ہونے یا نہ ہونے کے باوجود کراچی کو کینجھر جھیل اور کے بی فیڈر سے پینے کا پانی مسلسل فراہم کیا ہوا ہے اور اب حکومت سندھ نے کے فور منصوبہ بھی تیز کردیا ہے۔ اس منصوبہ کی تکمیل سے کراچی میں پینے کے پانی کی کسی حد تک کمی پر قابو پایا جاسکے گا۔ حکومت سندھ نے کے فور کے علاوہ بھی دو تین نئے متبادل منصوبوں پر غور شروع کردیا ہے۔ اس سے کراچی میں مستقل طور پر پینے کے پانی کا مسئلہ حل کیا جائے گا۔ ایک منصوبہ تو کراچی کے اطراف میں چھوٹے ڈیم بنانے کا ہے۔ تاکہ ان ڈیموں کے ذریعہ کراچی کو پینے کا پانی فراہم کیا جاتا رہے۔ حب ڈیم سے بھی کراچی کو پینے کا پانی فراہم کیا جاتا ہے۔ ان منصوبوں کی افادیت اپنی جگہ پر ہے مگر وفاقی حکومت نے کراچی کو پینے کا پانی فراہم کرنے کے لئے سنجیدگی سے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔
پیچیدہ مسائل بھی بامعنی اور تعمیری مذاکرات کے ذریعے پرامن طور پر حل کیے جا سکتے ہیں،یو این سیکریٹری کا مقبوضہ کشمیر واقعے کے بعد پاکستان، بھارت کے درمیان کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کم کرنے اور بات چیت کے دوبارہ آغاز کے لیے کسی بھی ایسی ک...
پاکستان نے کہا ہے کہ اس کے پاس جعفر ایکسپریس مسافر ٹرین پر حملے کے بارے میں قابل اعتماد شواہد موجود ہیں جس میں کم از کم 30 بے گناہ پاکستانی شہری شہید ہوئے اور درجنوں کو یرغمال بنایا گیا ۔ یہ حملہ اس کے علاقائی حریفوں کی بیرونی معاونت سے کیا گیا تھا۔اقوام متحدہ میں دہشت ...
دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے ،قونصلر جواد اجمل پاکستان نے کہا ہے کہ اس کے پاس جعفر ایکسپریس مسافر ٹرین پر حملے کے بارے میں قابل اعتماد شواہد موجود ہیں جس میں کم از کم 30 بے گناہ پاکستانی شہری شہید ہوئے اور درجنوں کو یرغمال بنایا گیا ۔ یہ حملہ اس کے علاق...
تنازع زدہ علاقوں کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے یکساں نقطہ نظر اپنایا جائے دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے ،قونصلر جواد اجمل پاکستان نے کہا ہے کہ اس کے پاس جعفر ایکسپریس مسافر ٹرین پر حملے کے بارے میں قابل اعتماد شواہد موجود ہیں جس میں کم از کم 30 بے گنا...
زراعت، صنعت، برآمدات اور دیگر شعبوں میں آئی ٹی اور اے آئی سے استفادہ کیا جا رہا ہے 11 ممالک کے آئی ٹی ماہرین کے وفود کو پاکستان آنے پر خوش آمدید کہتے ہیں، شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی سے تبدیلی آئی ہے ، دو دہائیوں کی نسبت آ...
8 رکنی کونسل کے ارکان میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ، وفاقی وزرا اسحٰق ڈار، خواجہ آصف اور امیر مقام شامل ، کونسل کے اجلاس میں 25 افراد نے خصوصی دعوت پر شرکت کی حکومت نے اتفاق رائے سے نہروں کا منصوبہ واپس لے لیا اور اسے ختم کرنے کا اعلان کیا، نہروں کی تعمیر کے مسئلے پر...
دونوں ممالک کی سرحدوں پر فوج کھڑی ہے ، خطرہ موجود ہے ، ایسی صورتحال پیدا ہو تو ہم اس کے لیے بھی سو فیصد تیار ہیں، ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو بھرپور جواب دیں گے ، تینوں مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے تیار کھڑی ہیں پہلگام واقعے پر تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا کوئی جواب نہ...
مودی نے سیاسی حکمت عملی یہ بنائی کہ کیسے مسلمانوں کا قتل عام کرنا ہے، عرفان صدیقی بھارت کی لالچی آنکھیں اب جہلم اور چناب کے پانی پر لگی ہوئی ہیں، سینیٹر علی ظفر سینیٹ اجلاس میں اراکین نے کہاہے کہ دنیا بھر میں کہیں بھی دہشت گردی ہو اس کی مذمت کرتے ہیں، پہلگام واقعہ بھارت کی سو...
پاکستان کی خودمختاری و سلامتی کے تحفظ کی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں پاکستان کے جائز سکیورٹی خدشات کو سمجھتے ہیں ،پہلگام واقعے کی تحقیقات پر زور چین نے پہلگام واقعے کے معاملے پر پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعلان کر دیا۔چین کے وزیر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے ...
مل کر مسئلے کا ذمہ دارانہ حل تلاش کیا جائے،مختلف سطح پر سنجیدہ بات چیت جاری ہے امریکہ نہیں سمجھتا اس میں پاکستان ملوث ہے، سعودیہ و ایران ثالثی پیشکش کرچکے ہیں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں حالیہ واقعے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اور تناؤ کے درمیان امریکا کا ...
بھارت کے پاکستان پر بے بنیاد الزامات کے وقت ، کارروائی سے واضح ہے یہ کس کے اشارے پر کام کر رہے ہیں، دہشت گردی کے خلاف مہم میں کسی ایک کارروائی میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتوں کا ریکارڈ ہے دہشت گرد اپنے غیر ملکی آقاؤںکے اشارے پر پاکستان میں بڑی دہشت گرد کارروائیاں کرنے کے ...
ٹنڈو یوسف قبرستان میں لاوارث میتوں کی تدفین سے روک دیا، ایدھی ترجمان کا احتجاج قبرستان کے گورکن بھی تشدد کرنے والوں میںشامل، ڈپٹی کمشنر حیدرآباد سے مداخلت کی اپیل حیدرآباد کے ٹنڈویوسف قبرستان میں لاوارث میتوں کی تدفین کرنے والے ایدھی رضاکاروں پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا، ج...