وجود

... loading ...

وجود

ہومیو اور طبِ یونانی کے ادویہ سازوں کا ناطقہ بند

اتوار 08 جنوری 2017 ہومیو اور طبِ یونانی کے ادویہ سازوں کا ناطقہ بند

کسی بھی طریقہ علاج میں دوا کو مرکزی اور کلیدی اہمیت حاصل ہوتی ہے ۔ ایلو پیتھک ادویات کے مہلک اثرات کا ذکر ایک حقیقت کے طور پر ہر کسی کی زبان پر ہے ۔ انگریزی ادویات کو مضر اثرات سے پاک کرنے میں ناکامی کا اعتراف ہو چُکا ہے ۔ ایسے میں سب کی نظریں یونانی اور آیو روویدک اور ہو میو پیتھک طریقہ علاج کی جانب لگی ہوئی ہیں ۔ صدیوں سے یہ ادویات بغیر کسی مضر اثر کے انتہائی مفید چلی آ رہی ہیں ۔اس کے برعکس ایلوپیتھی کی بہت سی ادویات ایسی ہیں جو اس قدر ضرر رساں تھیں کہ ان کو بنانے والوں کو خود ہی ان کو بند کرنا پڑا ، یہ سلسلہ جاری و ساری ہے ۔ یونانی آیوروویدک اور ہومیو پیتھک طریقہ علاج کے ماہرین کا دعویٰ ہے کہ ان کے طریقہ علاج سے متعلق آج تک کوئی دوائی مہلک قرار دے کر ترک نہیں کی گئی ۔اس صورتحال کے تناظر میں یونانی اور آیو روویدک طریقہ علاج کی سرکاری سرپرستی کی ضرورت تھی ۔لیکن پنجاب میں یونانی ادویہ سازی کو جعلی ادویات کے خلاف چلائی جانے والی مہم کی آڑ میں تباہ کیا جا رہا ہے ۔ مخالفین پہلے ہی موجودہ حکومت پر مختلف ادارے تباہ کرنے کا الزام عائد کرتے چلے آ رہے ہیں ،یونانی اور آیوروویدک طریقہ علاج سے وابستہ افراد ان الزامات کی توثیق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حکومتِ پنجاب قدیم اور موثر طریقہ علاج یونانی ادویہ سازی کو تحفظ دینے کی بجائے تباہ و برباد کرنے پر تُلی ہوئی ہے ۔
محکمہ صحت حکومت پنجاب کی تازہ ترین کارروائیوں اور پھرتیوں نے صوبے بھر میں یونانی ادویہ ساز اداروں اور ان سے وابستہ لاکھوں لوگوں کو اضطرابی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ جس کے ردِ عمل کے طور پر صوبے بھر میں فارماسسٹ ، ہو میو ڈاکٹرز ، ہر بل دواساز مالکان ، ہربل ادویات کے وینوٹر اسیوٹیکل کے ماہرین کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔ان سب کا موقف ہے کہ پاکستان میں ابھی تک ہربل ادویات کی رجسٹریشن کا کوئی قانون موجود نہیں ہے ۔ لیکن اس کے باوجود ڈریپ اور محکمہ صحت کے افسران نے قابل فارماسسٹوں اور حکماء کی گرفتاریاں شروع کر رکھی ہیں ۔ ہر بل مینو فیکچرز اداروں کو سیل کیا جا رہا ہے ،محکمہ صحت کے افسران لائسنس یافتہ ہربل اداروں کو بھی ادویات فروخت کرنے سے روک رہے ہیں ۔ انہی طبقات کی جانب سے ڈریپ پر یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ اس ادارے کی ناکامی کی وجہ سے 95 ہزار ادویہ کی انلسٹمنٹ التواء کا شکار ہے ۔ 12 ہزار سے زائد ادویہ ساز ادارے انلسٹمنٹ کے لیے کوائف ، فیسیں اور فائلیں جمع کر وا چُکے ہیں ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت تمام دواساز اداروں کوعارضی طور پر فارم نمبر 6 کے لیے نرم شرائط پر مبنی لائسنس جاری کرے اور فارم نمبر 7 اور 8 دوسال کے لیے موخر کر دیا جائے ۔
ہربل ادویہ ساز اداروں سے وابستہ افراد نے چند دنوں قبل لاہور پریس کلب کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا جس سے خطاب کرتے ہوئے ووان کے نمائندوں نے الزام عائد کیا تھا کہ ’’ ڈریپ کا CEO ملٹی نیشنل کمپنیوں کا حصہ دار اور ان کے مفادات کا محافظ ہے، اس کی نااہلی کی وجہ سے ڈریپ نے کسی کمپنی کو فارم نمبر 8 ایشیو نہیں کیا ۔
ہربل اداروں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ زور پکڑ رہا ہے اس سلسلے میں سب سے توانا آواز ڈاکٹر زاہد اشرف نے بلند کی ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ’’ طب یونانی 1965 ء سے ہمارے ہاں قانونی طور پر تسلیم شدہ طریقہ علاج ہے ۔ اسے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ ، مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح ؒ اور شہید ِ ملت لیاقت علی خان نے طب اسلامی کا نام دے کر مسلمانوں کا ورثہ قراردیا ۔ لیکن اب اس عظیم قومی ورثے کو تباہ کیا جا رہا ہے ،انہوں نے عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ سے اپنا اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل بھی کی ہے ۔
معلوم ہوا ہے کہ یونانی ادویہ سازی کی تیاری کے مراحل کو ایلوپیتھک ادویہ سازی کے ساتھ قانون سازی میں شامل کیا جا رہا ہے جبکہ یونانی ادویہ سازوں کا موقف ہے کہ ان کا طریقہ علاج ایلوپیتھک طریقہ علاج سے یکسر مختلف ہے ۔لہٰذا ان کے لیے علیحدہ سے قانون سازی ہونی چاہیے ۔اس سلسلے میں کہا جا رہا ہے کہ یونانی ادویہ ساز اداروں کے پاس صرف فارم 6 نہیں ہے اس لیے اس پر جعلی ادویہ سازی کا الزام عائد کیا جا رہا ہے ۔
حکمت قدیم طریقہ علاج ہے ۔ اس طریقہ علاج سے پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں کروڑوں لوگ مستفید ہو رہے ہیں ۔ ہزاروں سال سے یہ طریقہ علاج دنیا بھر میں رائج ہے ۔ ان کے حیرت انگیز نتائج کو دنیا بھر میں تسلیم کیا گیا ہے ۔ لیکن ہمارے ہاں پالیسی سازوں نے اس طریقہ علاج کو جعلی قرار دے کر بھونڈے پن کا مظاہرہ کیا ہے ۔
تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ طب و حکمت سے وابستہ لوگوں کی اکثریت نے خدمت ِ انسانیت کو ہمیشہ اپنا شعار بنایا ہے ۔
برصغیر پاک و ہند میں طب کی جڑیں بہت پرانی ہیں، اس چھتنار درخت کی آبیاری میں بہت بڑے بڑے ناموں کا حصہ ہے جن میں مسیح الملک حکیم حافظ محمد اجمل خان کا نام بہت نمایاں ہے ۔ حکیم حافظ محمد اجمل خان نے برصغیر میں حکماء کو 1910 ء میں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا اور ایک فعال تنظیم کی بنیاد ڈالی ۔ انہوں نے طب کے احیاء اور فروغ کے لیے جن کاوشوں کا آغاز کیا تھا ان کے بعد اُن کے شاگرد شفاء الملک حکیم محمد حسن قریشی نے اس عظیم مشن کو جاری رکھا ۔ یہ انہی کاوشوں کا تسلسل تھا کہ 1965 ء میں حکومتِ پاکستان نے طب یونانی کی اہمیت و افادیت کو تسلیم کرتے ہوئے باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے اس شعبے کو تحفظ فراہم کیا ۔
ان دنوں ہمارے ملک میں اس شعبے کو جس بحران کا سامنا ہے اُس کے حل کے لیے حکومت اورطبِ یونانی سے متعلقہ لوگوں کو ایک میز پر بیٹھ کر اس کا کوئی حل نکالنا چاہیے ۔ دنیا بھر میں نباتاتی طریقہ علاج کو تسلیم کیا گیا ہے ۔ چین میں چار ہزار سال سے زائد پرانی کتب کو بنیاد بنا کر چینی میٹریا میڈیکا تیار کیا گیا جو دنیا بھر میں مستند اور اہم دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کے قوانینِ صحت میں ایلو پیتھک اور روایتی چینی طب اور اس کی دواسازی کو یکساں طور پر معیاری بنانے کی طرف توجہ دی گئی ہے ۔ جاپان میں بھی ایلو پیتھی معالج جدید دواؤں کے ساتھ ساتھ نباتاتی دواؤں کو ایک جیسی اہمیت دیتے ہیں ۔ جاپان میں روایتی کمپو (kampo ) ادویات کے ساتھ ساتھ چین کی تقریباً 210 نباتاتی ادویہ وہاں کے ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے رجسٹرڈ کی ہوئی ہیں ۔ کوریا ، جرمنی، فلپائن میں بھی نباتاتی ادویات کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے ۔
حکومت پاکستان کو اس جانب خصوصی توجہ دینی چاہئے تا کہ یہ فن مرنے کی بجائے نئی زندگی پائے ۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس طریقہ علاج سے متعلقہ دواسازی کے معاملات کو بے لگام بھی نہ چھوڑا جائے، یونانی آیورویدک و ہو میو پیتھک پریکٹشنرز ایکٹ 1965-II میں موجودہ حالات کے مطابق مناسب ترامیم کی جائیں ۔ یونانی ادویہ سازی کو سرکاری قوانین اور یونانی میڈیسن کے ایکٹ کے ضابطے میں لا یا جائے ۔ جڑی بوٹیوں پر ریسرچ کے تحقیقی عمل کی سرپرستی کی جائے ۔ اس سلسلہ میں ہر بل ادویہ ساز اداروں کو قانون کے دائرے میں آنے کے لیے حکومت سے تعاون کرنا چاہیے ۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر