... loading ...
دنیا بھر کے آزادی اورامن پسند عوام نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کیخلاف قرارداد کی منظوری کو ایک انہونی کی طرح دیکھا۔اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری روکنے کے حوالے سے فیصلے پر فلسطین قومی و اسلامی قوتوں کے اتحاد نے اس فیصلے کے بعد فلسطینیوں کے معاملے کو عالمی عدالت لے جانے کی اپیل کی ہے جبکہ اسرائیل اس معاملے پر سیخ پا ہے ،قومی سلامتی میں قرارداد منظور ہونے کے بعدگزشتہ دنوں اسرائیل میں موجود امریکی سفیر کو طلب کیا ، یہ ملاقات سلامتی کونسل میں اسرائیلی یہودی بستیوں کی مذمت سے متعلق قرارداد پیش ہونے کے دو روز بعد ہوئی۔ امریکا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جس کے نتیجے میں قرارداد بآسانی منظور ہو گئی تھی۔اسرائیلی وزیراعظم اور امریکی سفیر کی ملاقات سے قبل اسرائیلی وزارت خارجہ نے سلامتی کونسل کی اس تاریخی رائے شماری میں قرارداد کی تائید کرنے والے ممالک کے نمائندوں کو طلب کیا تھاجبکہ انہوںنے اپنی کابینہ کے اجلاس میں دھمکی دی تھی کہ سلامتی کونسل میں مذکورہ قرارداد کے منظور کیے جانے کے بعد اسرائیل اب اقوام متحدہ کے ساتھ اپنے تعلق کا از سر نو جائزہ لے گا۔
اسرائیلی کابینہ کے اجلاس میں نیتن یاہو نے سلامتی کونسل میں اس قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ممالک کو بھی ایک مرتبہ پھر سے دھمکی دی۔ دوسری جانب فلسطینیوں کے ساتھ سول کو آر ڈی نیشن کا سلسلہ بھی روک دیا ہے۔
الفتح، حماس اور جہادِ اسلامی گروہوں کی چھت تلے جمع فلسطین کے قومی و اسلامی قوتوں کے اتحاد کی جانب سے اعلامیے میں اشارہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کو مذکورہ قرار داد پر عمل درآمد پر مجبور کرنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے اوررہائشی بستیوں کی تعمیر کے معاملے کے فلسطینی عوام کے خلاف سر زد کردہ ایک جنگی جرم ہونے کی بنا پر اس معاملے کو عالمی فوجداری عدالت میں لیجانے کی اپیل کی گئی ہے ۔
قبل ازیں امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی اس فیصلے کی شدید مخالفت کی ہے۔ٹرمپ نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ ’’انہیں اس فیصلے پر افسوس ہے، اقوام متحدہ ایک اچھی استعداد کا مالک ایک ادارہ ہے تا ہم اب یہ لوگوں کے یکجا ہوکرگپ شپ لگانے اور وقت گزارنے کا کلب بن چکا ہے۔
حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ خالد مشعل نے ترکی میں یدی ہلال سوسائٹی کی طرف سے’’ بین الاقوامی استنبول ڈیبیٹس فورم ــ‘‘کے فلسطین کے عنوان سے منعقدہ اجلاس میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کی غیر قانونی رہائشی بستیوں کی تعمیر کو روکنے سے متعلق فیصلہ فلسطینی عوام کے اعتماد کی بحالی کا مفہوم رکھتا ہے۔اجلاس سے خطاب میں خالد مشعل نے سلامتی کونسل میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطین میں رہائشی بستیوں کی تعمیر کو فوری اور مکمل طور پر بند کرنے کے مطالبے پر مبنی فیصلے کا جائزہ لیا۔اقوام متحدہ کے اپنی تاریخ میں پہلی دفعہ فلسطینی زمین پر قابضین کے خلاف کوئی فیصلہ کرنے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اس منصفانہ فیصلے کو قبول کرتے ہیں اور سلامتی کونسل سے اس معاملے میں مزید فیصلوں کی توقع رکھتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف قرارداد کی منظوری امریکا کے صدر بارک اوباما کی جانب سے اس قرارداد کی پس پردہ حمایت کی وجہ سے ممکن ہوسکی ،اس لیے اس کی منظوری کاسہرا بڑی حد تک بارک اوباما کے سر جاتاہے جنھوں نے اپنے عہدے کی میعاد ختم ہونے سے چند دن قبل نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخالفت اور دبائو کی پروا نہ کرتے ہوئے اس قرارداد کی منظوری کو یقینی بنانے کے لیے اس موقع پر قرارداد کو ویٹو کرنے سے گریز کیا، اگر بارک اوباما ایسا نہ کرتے اور قرارداد کو ویٹو کرنے کے بجائے اس پر رائے شماری ہی ملتوی کرادیتے تو شاید اگلے 4سال تک یہ قرارداد منظور نہ ہوسکتی اوران 4برسوں کے دوران اسرائیل فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں نا معلوم اور کتنی بستیاں تعمیر کرکے مقامی فلسطینیوں کو دربدر کرنے میں کامیاب ہوجاتا کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں ان قراردادوں کامنظور ہونا ناممکن تھا۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کے خلاف اس قرارداد کی منظوری نے پوری اسرائیلی قیادت کو چکرا کر رکھ دیاہے ، اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس قرارداد کی منظوری کو براہ راست امریکی صدر بارک اوباما کی اسرائیلی دشمنی کاشاخسانہ قرار دیاہے۔واضح رہے کہ جمعہ 23 دسمبر کو سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطین کی زمین پر بستیوں کی تعمیر کے خلاف قرارداد منظور کی تھی جس میں اسرائیل سے بستیوں کی تعمیر ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ فلسطین کی زمین پر بستیوں کی تعمیر کے خلاف قرارداد منظور کرلی، جس میں اسرائیل سے بستیوں کی تعمیر ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سلامتی کونسل میں قرارداد کو پیش کیے جانے کے وقت عالمی سفارتکار اوباما انتظامیہ کی جانب سے خوف زدہ تھے مگر امریکا نے ووٹنگ سے پرہیز کرتے ہوئے قرارداد کو منظور کرنے کی راہ کھلی چھوڑ دی۔قرارداد کے حق میں 14 رکن ممالک نے ووٹ دیے اور قرارداد کو تالیاں بجاکر منظورکیا گیا۔خیال رہے کہ سلامتی کونسل کی جانب سے گزشتہ 8 سال کے بعد فلسطینیوں اور اسرائیل سے متعلق کوئی قرارداد پاس کی گئی ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی اپنی روایتی یہود نوازی کااظہار کرتے ہوئے امریکی صدر بارک اوباما کو ہدف تنقید بنایا ہے اور اس قرارداد کی منظوری کے بعد لکھا کہ امریکا نے اسرائیل کو پیش کی جانے والی اپنی روایتی سفارتی خدمات کے اصولوں کو توڑتے ہوئے اس بار ویٹو کا حق استعمال نہیں کیا اور نہ ہی نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیل کا دبائو برداشت کیا۔
اسرائیلی بستیوں کے خلاف منظور کی جانے والی قرارداد سلامتی کونسل کے ارکان نیوزی لینڈ، ملائیشیا، وینزویلا اور سینیگیال کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔اس سے قبل مصر کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد اسرائیلی اور امریکی دبائو پر واپس لی گئی تھی،اسرائیلی حکومت اور ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی انتظامیہ پر قرارداد کو ویٹو کرنے کے لیے زور دیا تھا۔ اسرائیل مخالف قرارداد میں امریکا کی جانب سے ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کو بارک اوباما کی جانب سے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے درمیان کشیدہ تعلقات کو ثابت کرنے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ بارک اوباما کا خیال تھا کہ اسرائیلی بستیاں امن کوششوں میں بڑی رکاوٹ ہیں، اس لیے بالآخر انہوں نے ووٹنگ میں حصہ نہ لے کر اس بات کو ثابت کردیا۔
اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور کی جانے والی اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل فوری طور مقبوضہ فلسطین کی زمینی حدود سمیت مشرقی بیت المقدس میں بستیوں کی تعمیرات بند کرے۔قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے یہودیوں کے لیے تعمیر کی جانے والی بستیوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور یہ کوششیں عالمی قوانین کی عین خلاف ورزی ہیں۔قرارداد کی منظوری کے لیے 9 ووٹ مطلوب تھے لیکن اس کی منظوری کے لیے امریکا، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کے ووٹوں کی ضرورت نہیں تھی۔فلسطینی مغربی کنارے،غزہ اور مشرقی یروشلم کو آزاد ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں،ان علاقوں پراسرائیل نے 1967 کی جنگ کے بعد قبضہ کرلیا تھا۔اسرائیل کا موقف ہے کہ بستیوں کی تعمیرات سے متعلق حتمی فیصلہ بھی ان مذاکرات میں حل کیا جائے گا جب فلسطین کی خودمختاری کے مذاکرات کیے جائیں گے۔
خارجہ امور اور سیکورٹی پالیسی کے لیے یورپی یونین کے اعلی نمائندے کیتھرین ایشٹن نے کہا ہے کہ یورپی یونین اسرائیل کے منصوبے کی مذمت کرتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ یہ بین الااقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔دوسری جانب روس نے مشرقی القدس میں اسرائیلی حکام کی جانب سے 1500 سے زائد گھروں پر مشتمل نئی آباد کاری کے منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس سمیت عالمی برادری کے دیگر ممبران فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے غیر قانونی آباد کاری کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ، برطانیہ اور روس نے فلسطینی علاقوں میں نئی یہودی بستیوں کے منصوبے مسترد کرتے ہوئے تعمیری منصوبے کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔انہوں نے فلسطینی علاقوں میں یہودیوں کے لیے نیا رہائشی منصوبہ غیر قانونی، غیر آئینی اور عالمی قوانین کے منافی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم فوری طور پر فیصلہ واپس لیں۔
جمال احمد
7 اسرائیلی ڈرونز مار گرائے، دشمن پر 500 سے زیادہ میزائل اور 2 ہزار ڈرونز فائر کیے،ڈرون ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے جنہیں ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، ایران لبنان پر اسرائیلی بمباری جاری، 123 شہادتیں، ہزاروں افراد گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے،تل ا...
قیمتوں میں اضافے کا اثر براہِ راست صارفین تک منتقل کیا جائے بجٹ ، مالیاتی ہدف متاثر نہ ہو، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے 30 جون تک 1468 ارب کے ہدف کو متاثر نہیں ہونا چاہیے، عالمی مالیاتی فنڈ مذاکرات میں اسکول اور کالجز کو آن لائن کلاسز پر منتقل کرنے، دکانوں اور مارکیٹس کے اوقات مقر...
آبنائے ہرمز کی بندش:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے ہفتہ وار تعین کی منظوری، دفاتر کیلئے کام کے دنوں میں کمی پر غور توانائی بحران کے سبب دفاتر و تعلیمی اداروں کیلئے کوڈ 19 والی تعطیلات اپنانے، ورک فراہم ہوم کی تجاویز سامنے آئی ہیں آبنائے ہرمز کی بندش اور توانائی بحران کے خدش...
امریکی آبدوز نے بحیرہ ہند میں’کوایٹ ڈیتھ‘ نامی حملے میں ایرانی جنگی بحری جہاز کو غرق کر دیا ہے یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلا موقع ہے کہ امریکہ نے کسی دشمن جہاز کو ٹارپیڈو سے ڈبویا ، امریکی وزیر دفاع امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کا دائرہ اس وقت وسیع ہو گیا جب بدھ کو پینٹاگو...
ایف بی آر نے نظرثانی شدہ 13 ہزار 979ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کرنا مشکل قرار دے دیا، آئی ایم ایف کا اصلاحات کو تیز کرنے ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات پر زور 2025کے اختتام تک 54 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کی جا چکیں، سالانہ 56ارب روپے کی بچت متوقع ، آئی ایم ایف وفد کے...
شہباز شریف سے پیپلزپارٹی وفد کی ملاقات، پارلیمان میں قانون سازی سے متعلق امور زیرِ غور آئے وزیرِ اعظم نے حکومتی رہنماؤں کو قانون سازی میں اتحادی جماعت کو اعتماد میں لینے کی ہدایت کی،ذرائع وزیرِ اعظم شہباز شریف سے پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے ملاقات کی ہے۔ذرائع کے مطابق ملاقا...
جو شخص بھی ایران کی قیادت سنبھالے گا اسے بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے،اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل ایران کے خلاف اپنی حکمت عملی میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا،یسرائیل کاٹز فضائی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرنے کے بعد اسرائیل نے تمام عالمی قوانین اور اخل...
امریکی صدر کی اسپین کو تجارتی، معاشی دھمکیوں پر یورپی یونین کا بڑا بیان سامنے آگیا یورپی یونین اپنے رکن ممالک کے مفادات کے مکمل تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی صدر ٹرمپ نے اسپین کو تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسپین کو تجارتی اور معاشی دھمکیوں...
ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید افراد کی تعدادا 787 ہوگئی،176 بچے شامل،آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، پاسداران انقلاب نے خبردار کردیا ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے اب بہت دیر ہو چکی، فوجی مہم چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے(ٹرمپ)ایران کی وزارت...
ہمیں کہا گیا یہ بات آپ وزیراعظم کے سامنے کر دیں تو میں نے کہا ہے کہ ساتھیوں سے مشورہ کریں گے،خطے کے حالات خطرناک ہیں لہٰذا پارلیمنٹ کواعتماد میں لیا جائے،قائد حزب اختلاف آج صبح تک حکومت کو فیصلے سے آگاہ کر دیں گے(محمود خان اچکزئی)خطے کی صورت حال اور ایران پر حملے پر بریفنگ کی...
واضح نہیں میرینزکی فائرکی گئی گولیاں لگیں یا ہلاکت کاسبب بنیں، سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی یا نہیں،امریکی حکام امریکی فوج نے معاملہ محکمہ خارجہ کے سپرد کر دیا ،گولیاں قونصل خانے کے احاطے کے اندر سے چلائی گئیں، پولیس حکام (رپورٹ:افتخار چوہدری)امریکی حکام کے مطابق کراچی قونصل...
سپریم لیڈرکی بیٹی، نواسی، داماد اور بہو شہید ، علی شمخانی اور کمانڈر پاکپور کی شہادت کی تصدیق ، سات روز کیلئے چھٹی ، چالیس روزہ سوگ کا اعلان،مقدس روضوں پر انقلاب کی علامت سرخ لائٹیں روشن کردی گئیں مشہد میں حرم امام رضا کے گنبد پر سیاہ پرچم لہرایا دیا گیا، ویڈیو جاری ،کئی افراد غ...