وجود

... loading ...

وجود

کبھی تو ظلمت کی شام ہوگی ..’’مشترکہ پاکستان‘‘ کے خواہاں آج بھی سزاوار

جمعه 16 دسمبر 2016 کبھی تو ظلمت کی شام ہوگی ..’’مشترکہ پاکستان‘‘ کے خواہاں آج بھی سزاوار

آج 16دسمبر ہے ،برسوں پہلے 1971کے ایک یخ بستہ دن پاکستان دولخت ہوگیا تھا ۔اپنوں کی ریشہ دوانیوں اور غیر وں کی سازشوں کی وجہ سے اسلام کے نام پر حاصل وطن عزیز کے ٹکڑے کردیے گئے۔اگرچہ یہ دکھ بذات خود ہی بڑا گہرا ہے لیکن مرے پر سو درّے کے مصداق سقوط ڈھاکا کے وقت مشترکہ پاکستان کی خواہش رکھنے والے جماعت اسلامی کے رہنمائوں کو آج بھی پھانسی اور عمرقید کی سزائیں دی جارہی ہیں۔ملا عبدالقادر ہوں یا قمرالزماں شہید،میر قاسم علی ہوں یا علی احسن مجاہدیا پھر سابق امیر جماعت اسلامی بنگلا دیش پروفیسر غلام اعظم ہوں یا امیر جماعت اسلامی مطیع الرحمن نظامی ۔ ۔ ۔ ایک طویل فہرست ہے جنہیں گزشتہ برسوں میں پاکستان سے محبت کے جرم میں بنگلا دیش حکومت نے سزائے موت دی اور سلام ہے ان شہیدان ِ راہ وفا کو ، کہ کس عظیم جذبے سے انہوں نے پھانسی کے پھندے کو چوما ۔
مجھے اپنے بزرگ شہید عبدالقادر ملا کی و ہ سطریں یاد آرہی ہیں جو انہوں نے جیل سے اپنے خاندان اور ساتھیوں کے لیے رقم کیں۔اس خط کو پڑھتا ہوں تورب کریم کا وعدہ یاد آجاتا ہے کہ ’’کامیاب تو دراصل وہ ہیں جوآتش دوزخ سے بچ جائیں اور جنت میں داخل کردیئے جائیں ‘‘۔خط کے الفاظ پرغور کیجئے!!
میں عبد القادر ملا
سکنہ –کا ل کوٹھری
سنٹرل جیل –ڈھاکہ
السلام ورحمۃ اللہ
’’مجھے کپڑے فراہم کردیے گئے ہیں — نہانے کا پانی بالٹی میں موجود ہے … سپاہی کا آرڈر ہے کہ جلد از جلد غسل کر لوں —-
کال کو ٹھری میں بہت زیادہ آنا جانا لگا ہوا ہے، ہر سپاہی جھانک جھانک کر جارہا ہے، کچھ کے چہرے افسردہ اور کچھ چہروں پر خوشی نمایاں ہے۔ ان کا بار بار آنا جانا میری تلاوت میں خلل ڈ ا ل رہا ہے۔ میرے سامنے سید مودودی کی تفہیم القرآن ہے،اور یہ ترجمہ میرے سامنے ہے ” غم نہ کرو ، افسردہ نہ ہو – تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو “سبحان اللہ، کتنا اطمینان ہے ان کلمات میں! میری پوری زندگی کا حاصل مجھے ان آیات میں مل گیا ہے۔ زندگی اور موت کے درمیان کتنی سانسیں ہیں یہ رب کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ مجھے اگر فکر ہے تو اپنی تحریک اور کارکنان کی ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ وہ ان سب پر اپنا فضل اور کرم قائم رکھے. آمین
پاکستان کے مسلمانوں اور میرے بنگلا دیش کے مسلمانوں پر آسانی فرماے۔ دشمنان اسلام کی سازشوں کو ناکام بنا دے (آمین)
عشا کی نماز کی تیاری کرنی ہے، پھر شاید وقت ملے نہ ملے؟ میری آپ سے گزارش ہے کہ ہم سب نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے اس پر ڈٹے رہیں۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ راستہ سیدھا جنت کی طرف جاتا ہے۔‘‘
آپ کا مسلمان بھائی … عبدالقادر ملا
کیا خوب لوگ ہیں جو اپنے رب کے سامنے سرخرو ہونے جارہے ہیں یقینا ان کے لیے نفع کا سودا ہے ۔
لیکن اگر ہم اس خطے کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیں تو حسینہ واجد نے بھارت کی ایماء پر بنگلا دیش کو تختہ مشق بنایا ہوا ہے، نہ صرف جماعت اسلامی بلکہ دیگر جمہوری قوتوں کو بھی دیوار سے لگانے کی کوشش کی جارہی ہے اور نام نہاد انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے ذریعے حکومت مخالف سیاسی جماعتوں کے قائدین کوپھانسیاں دی جارہی ہیں ۔ 9 اپریل 1974 ء کو ہونے والے سہ فریقی معاہدے کی دھجیاں بکھیر دی گئیں ہیں۔اس تمام صورتحال میں یواین او ، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں ، سزائے موت کے خلاف مہم چلانے والی این جی اوزکے بیانات و احتجاج کا کوئی نوٹس نہیں لیا جارہا ہے، نہ ہی اقوام متحدہ نوٹس لے رہی ہے ۔حد تو یہ ہے حکومت ِپاکستان بھی خاموش ہے ،نہ اقوام متحدہ میں کوئی قرار داد لائی جاتی ہے نہ بنگلا دیش کو سہ فریقی معاہدہ یاد دلایا جاتا ہے، ظالم حکومت نے پھانسیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ،حالات کٹھن سے کٹھن ہوتے جارہے ہیں ۔ ان جنگی جرائم کا جو مسئلہ اس وقت اٹھایا جا رہا ہے، اسے خود شیخ مجیب الرحمن نے حل کر دیا تھا۔ شیخ مجیب حکومت نے کڑی تفتیش کے بعد پاکستانی فوج کے افسروں اور دیگر فوجی عہدے داروں کو جنگی مجرم قرار دیا تھا۔ ان لوگوں پر مقدمہ چلانے کے لیے19جولائی 1973ء کو پارلیمنٹ میں انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل ایکٹ پاس کروایا گیا۔ لیکن 9اپریل 1974ء کو دہلی میں بنگلا دیش، بھارت اور پاکستان کے وزراے خارجہ کے سہ فریقی مذاکرات ہوئے جن کے نتیجے میں ان591مجرم قرار دیے جانے والے افراد کو معاف کردیا گیا۔ اہم بات یہ ہے کہ شیخ مجیب نے کبھی بھی کسی سویلین کو جنگی مجرم قرار نہیں دیا۔ جو لوگ بنگلا دیش بنانے کی مہم میں شامل نہ تھے، بلکہ اس کے مخالف تھے اور پاکستانی فوج کے ساتھ تھے، مجیب حکومت نے ان لوگوں کو Collaborator یعنی تعاون کرنے والا قرار دیا تھا۔ یہاں میں اس بات کا ذکرکرنا ضروری سمجھتاہوں کہ1971 میں پاکستان آرمی نے اپنی مدد کے لیے مقامی لوگوں پر مشتمل کئی تنظیمیں تشکیل دیں، ان عسکری تنظیموں میں البدر، الشمس اور رضاکار کے نام شامل ہیں۔ ان کی تشکیل رضاکارانہ اور اس وقت کی حکومت کی رضامندی سے ہوئی تھی۔ ان تنظیموں کے افراد کو بھی شیخ مجیب حکومت نے Collaborator قرار دیا اور ان پر مقدمہ چلانے کے لیے 24 جنوری1972ء کو Collaborator’s Order جاری کیا گیا۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ1980ء کے عشرے میں جمہوریت کی بحالی کے لیے جنرل حسین محمد ارشاد کی حکومت کے خلاف، جماعت اسلامی اور عوامی لیگ نے مل کر جدوجہد کی۔
اس کے بعد 1994ء سے1996ء تک خالدہ ضیا کی جماعت بی این پی کی حکومت کے خلاف جماعت اسلامی نے عوامی لیگ کے ساتھ مل کر عبوری حکومت کی تشکیل کے لیے جدوجہد کی جس کا مقصد بنگلا دیش میں شفاف انتخابات کی راہ ہموار کرنا تھا۔ اس وقت جماعت اسلامی اور عوامی لیگ کی اس جدوجہد میں چھوٹی بڑی دیگر پارٹیاں بھی شامل تھیں۔ ان تمام جماعتوں کے سربراہان پر مشتمل ایک مشاورتی کمیٹی بنائی گئی تھی، جو اس پوری تحریک کے پروگرامات کا شیڈول طے کرتی تھی۔ جماعت اسلامی اور عوامی لیگ کی قیادت اکٹھے بیٹھ کر اجلاس کرتی تھیں۔ اس دوران کبھی کسی نے نہیں کہا کہ ہمارے درمیان کوئی جنگی مجرم بھی بیٹھے ہیں۔
فروری 1991ء میں بنگلا دیش میں جو عام انتخابات ہوئے تھے، ان میں بی این پی اور عوامی لیگ میں سے کسی کو بھی اتنی سیٹیں نہیں ملی تھیں کہ وہ تنہا اپنے بل بوتے پر حکومت تشکیل دے لیں۔ عوامی لیگ کی قیادت حکومت قائم کرنے کی غرض سے جماعت اسلامی کے ووٹوں کے لیے جماعت کی قیادت کے پاس آئی۔ عوامی لیگ کے ایک سینئر مرکزی رہنما امیرحسین عامو نے جماعت اسلامی کے سیکرٹر ی جنرل علی احسن مجاہد کو پیغام دیا کہ ہم لوگ پروفیسر غلام اعظم کو وزیر بنانے کے لیے تیار ہیں۔ کیا اس وقت عوامی لیگ کی نظر میں غلام اعظم صاحب جنگی مجرم نہیں تھے؟ اس کے بعد عوامی لیگ کی طرف سے بنگلا دیش کی صدارت کے امیدوار جسٹس بدرالحیدر چودھری، جماعت اسلامی کا تعاون حاصل کرنے کے لیے آئے تھے۔ اس وقت بھی کسی نے نہیں کہاکہ یہ لوگ جنگی مجرم ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اب ایسا کون سا واقعہ ہوگیا کہ راتوں رات یہ لوگ جنگی مجرم بن گئے؟ان سے کس بات کا انتقام لیا جارہا ہے ؟

فہیم ناز


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر