وجود

... loading ...

وجود

روس پر امریکی انتخابات ’’ہائی جیک‘‘ کرنے کا دعویٰ

اتوار 11 دسمبر 2016 روس پر امریکی انتخابات ’’ہائی جیک‘‘ کرنے کا دعویٰ

امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ 2016 کے صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت نہ صرف امریکی انتخابی نظام میں کمزوری کی وجہ بنی ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی برتری اور وائٹ ہاؤس تک رسائی بھی اسی مداخلت کا نتیجہ ہے۔امریکی صدر براک اوباما نے امریکی انتخابات کے دنوں میں ہونے والے سلسلہ وار سائبر حملوں کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی افسران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے ایسے افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جن کے روسی حکومت سے رابطے تھے اور جنہوں نے ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی اور ہیلری کلنٹن کی صدارتی مہم کے چیئرمین سمیت دیگر افراد کی ہزاروں ہیکڈ ای میلز وکی لیکس کو فراہم کیں۔افسران کا بتانا ہے کہ یہ افراد اس خفیہ کمیونٹی کا حصہ تھے جو روس کی جانب سے ٹرمپ کی مقبولیت کو بڑھانے اور ہیلری کی جیت کی امید کو کم کرنے کے لیے شروع کیے گئے آپریشن میں شامل تھے۔ہیک شدہ ای میلز کا وکی لیکس تک پہنچنا ہیلری کلنٹن کے لیے دورانِ مہم شرمندگی کا سبب بنا تھا۔
ان کے مطابق انٹیلی جنس حکام اس نتیجے پر پہنچے کہ روس کا مقصد ایک انتخابی امیدوار کو دوسرے پر اہمیت دلوانا اور ٹرمپ کے انتخاب کی راہ آسان کرنا تھی، امریکی اخبار میں ایک سینئر امریکی افسر کا بیان بھی شامل ہے جو اسے اتفاق رائے سے لگایا جانے والے خیال کہتے ہیں۔نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پہ امریکی افسر کا مزید بتانا تھا کہ سی آئی اے کی جانب سے دی جانے والی اس پریزنٹیشن میں کئی اہم امریکی سینٹرز بھی شامل تھے۔سی آئی اے کے اس خفیہ انکشاف کے مطابق اس حوالے سے ثبوتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، سینیٹرز کو دی گئی معلومات میں بتایا گیا کہ اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ روس کا مقصد ٹرمپ کا انتخاب تھا۔دوسری جانب سی آئی اے کی جانب سے دی جانے والی پریزینٹیشن میں امریکا کی تمام 17 خفیہ ایجنسیوں کی باقاعدہ تصدیق شامل نہیں، سینئر امریکی افسر کے مطابق خفیہ ایجنسیاں کچھ باتوں پر متفق نہ ہوسکیں جس کی وجہ سے کچھ جوابات ادھورے ہیں۔ایک اور سینئر افسر کے مطابق خفیہ ایجنسیوں کے پاس تاحال مخصوص معلومات نہیں جس سے اس بات کی تصدیق ہوسکے کہ کریملن کی جانب سے لوگوں کو ہیکڈ ای میلز وکی لیکس کو فراہم کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔یاد رہے کہ وکی لیکس کے بانی جولیان اسانج ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ ای میلز حاصل کرنے کا ذریعہ روسی حکومت نہیں تھی۔
امریکی صدر براک اوباما نے امریکی انتخابات کے دنوں میں ہونے والے سلسلہ وار سائبر حملوں کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ان حملوں کا الزام روس پر عائد کیا جاتا ہے۔روسی حکام کی جانب سے ہیکنگ کے الزامات کی تردید کی گئی ہے۔ ان سائبر حملوں میں ڈیموکریٹک پارٹی اور صدارتی امیدوار کے ایک قریبی ساتھی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔قبل ازیں اکتوبر میں امریکی حکام کی جانب سے روس کی جانب انگلی اٹھائی گئی تھی اور اس پر امریکی انتخابات میں دخل اندازی کا الزام عائد کیا تھا۔تاہم رپبلک پارٹی کے کامیاب امیدوار اور وائٹ ہاؤس میں صدر اوباما کے بعد تخت نشینی کے لیے تیار ڈونلڈ ٹرمپ نے تسلسل سے اس سے اختلاف کیا ہے۔رواں ہفتے انھوں نے ٹائم جریدے کو بتایا کہ ‘میں اس پر یقین نہیں کرتا۔ میں یقین نہیں کر سکتا کہ انھوں (روسیوں) نے مداخلت کی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے خیال میں روس کے خلاف الزامات سیاسی نوعیت کے ہیں جبکہ ڈیموکریٹس کا دعویٰ ہے کہ ہیکنگ ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کو نقصان پہنچانے کی سوچی سمجھی کوشش تھی۔ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق تحقیقات کا یہ عمل صدر اوباما کے سبکدوش ہونے اور جنوری میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارت کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے مکمل کر لیا جائے گا۔تاہم یہ واضح نہیں کہ اس تحقیقاتی جائزے کو عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا نہیں۔
خیال رہے کہ ڈیموکریٹس نے اس وقت انتہائی ناراضی کا اظہار کیا تھا جب ہیکرز نے ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی اور ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کے چیئرمین جان پوڈسٹا کے ای میل اکاؤٹس تک رسائی حاصل کر لی تھی۔ریاست الینوئے اور ایریزونا میں ورٹرز رجسٹریشن ڈیٹابیس کو بھی ہیکنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔پوڈسٹا کی ای میلز تک وکی لیکس کی رسائی ہوگئی تھی اور انھیں آن لائن پوسٹ کر دیا گیا تھا۔ایک موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کا نام لیتے ہوئے حوصلہ افزائی کی تھی کہ وہ ہلیری کلنٹن کی ای میلز ‘تلاش’ کریں، تاہم شدید ردعمل کے بعد ان کا کہنا تھا کہ وہ طنز کر رہے تھے۔
قبل ازیں نیو یارک سے26نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ امریکی جریدے نیو یارک ٹائمز کے مطابق غیر جانبدار محققین اور ماہرین کی تیار کردہ اور ابھی تک غیر شائع شدہ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ماسکو نے قریب تین ہفتے قبل ہونے والے امریکی صدارتی الیکشن سے پہلے تک اپنی ایک ’بہت نفیس پراپیگنڈا مہم‘ کے ذریعے سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کا ایک سیلاب پیدا کر دیا تھا اور اس طرح ڈیموکریٹ امیدوار اور سابق خاتون اول ہلیری کلنٹن کے خلاف اور ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں رائے عامہ راہ ہموار کرنے کی پوری کوشش کی گئی۔
نیو یارک ٹائمز کے ذرائع کے مطابق اس روسی پراپیگنڈے کا مقصد ہلیری کلنٹن کو ’سزا دینا‘، ڈونلڈ ٹرمپ کی ’مدد کرنا‘ اور امریکی عوام کے ’جمہوریت پر یقین کو نقصان پہنچانا‘ تھا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ رپورٹ ماہرین کے PropOrNot نامی ایک ایسے غیر جانبدار گروپ کی طرف سے تیار کی گئی ہے، جو خود کو ’تشویش کے شکار امریکی شہریوں‘ کا نمائندہ گروپ قرار دیتا ہے اور جس میں کمپیوٹر ماہرین کے علاوہ قومی سلامتی اور پبلک پالیسی کے ماہرین کی ایک بڑی تعداد بھی شامل ہے۔
اس رپورٹ کو مرتب کرنے والے ماہرین نے امریکی صدارتی الیکشن سے پہلے کے دنوں اور ہفتوں کے دوران سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے سیاسی پیغامات کے نقطہ ہائے آغاز کا کھوج لگایا اور یہ دیکھنے کی کوشش بھی کی کہ ایک ہی طرح کی ڈیموکریٹ امیدوار ہلیری کلنٹن کے خلاف اور ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں ہزارہا سوشل میڈیا پوسٹس کی ابتدا کہاں سے ہوئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق روسی پراپیگنڈا مہم کے تحت پھیلائی جانے والی ’جھوٹی رپورٹیں‘ دو سو ملین سے زائد افراد تک پہنچیں.نیوز ایجنسی اے پی نے لکھا ہے کہ اس رپورٹ کے نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ ’جعلی خبروں اور غلط معلومات‘ پر مبنی ان پراپیگنڈا رپورٹوں کا اثر کتنا زیادہ تھا اور کس طرح ان کے ذریعے روس نے امریکی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔
اس امریکی ریسرچ گروپ کی نیو یارک ٹائمز کو مہیا کردہ رپورٹ کے مطابق امریکا میں کم از کم 200 سے زائد ویب سائٹس ایسی تھیں، جن کے ذریعے الیکشن کے دنوں میں روسی پراپیگنڈے کو پھیلایا گیا۔
ایسوسی ایٹد پریس کی طرف سے مزید معلومات کے لیے جب اس امریکی ریسرچ گروپ سے رابطہ کیا گیا، تو اس کی طرف سے مقامی وقت کے مطابق خبر کی اشاعت سے ایک روز قبل شام تک کوئی بھی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر