... loading ...
سابق صدر نے اپنے پیاروں کے ذریعے پی پی کے وفاداروں کو ہانکنے کا منصوبہ بنالیا‘ راﺅ انوار بھی خاموشی سے بحال
نثار مورائی رہا‘ ڈاکٹر عاصم کو پی پی کراچی کا صدر بنا کر خطرہ ٹلنے کا اشارہ دیا گیا ہے‘ خصوصی تجزیہ
سابق صدر آصف علی زرداری نے ایک ایسے وقت میں ملک میں واپسی کافیصلہ کیا ہے جب پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اپنی جادوئی چھڑی نئے فوجی سربراہ کے ہاتھ تھمانے والے ہیں۔ سابق صدر کی طرف سے 16 جون 2015 کے بیان میں فوج کی طرف بالواسطہ اشارہ کرتے ہوئے ا±نہوں نے کہا تھا کہ سیاست دانوں کے راستے میں رکاو¿ٹیں کھڑی نہ کی جائیں ورنہ وہ اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ سابق صدر نے تب فوجی قیادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ تین سال کے لیے آئے ہیں اور چلے جائیں گے، جبکہ سیاست دانوں نے ساری عمر پاکستان میں رہناہے۔ سابق صدر نے یہ باتیں جس سیاق وسباق میں کہی ہوں درحقیقت حالات نے واقعات کا کچھ ایسا ہی سلسلہ بنادیا ہے۔ اور وہ ایک ایسے وقت میں ملک میں قدم رکھنے آرہے ہیں جب سابق فوجی سربراہ تین سال کی مدت گزار کر رخصتی کے دروازے پر کھڑے ہیں۔ مگر اس سے کہیں زیادہ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ آصف علی زرداری کو ملک کے اندر جن جن امور پر پریشانیاں لاحق ہو سکتی تھیں وہ سب کی سب ایک ایک کرکے انتہائی خاموشی سے ختم بھی کی جارہی ہیں۔ اس حیرت انگیز پیش رفت پر بہت کم نگاہیں مرکوز ہیں۔ سابق صد رکے انتہائی قریب سمجھے جانے والے پولیس افسر ایس ایس پی راو¿ انواز خاموشی سے بحال کردیئے گئے ہیں۔ ایک اور حیرت انگیز پیش رفت میں فشریز کے سربراہ نثار مورائی رہا ہوچکے ہیں۔ سندھ انفارمیشن میں بدعنوانیوں کے مرتکب ہونےوالے سابق وزیراطلاعات نیب کی انکوائری میں مرکزی ملزم ہونے کے باعث ملک سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ وہ نیب عدالت میں بغیر پیشی کے ضمانت کے لیے اب پرامید ہیں اور ا±ن کی وطن واپسی کے اشارے مل رہے ہیں۔ اسی طرح پیپلزپارٹی کے بعض اندرونی ذرائع کا اصرار ہے کہ سابق صدر زرداری کے منہ بولے بھائی سمجھے جانے والے اویس ٹپی بھی ناراضی کا طویل چلہ کاٹ کر اب کسی بھی وقت پاکستان تشریف لانے والے ہیں۔ یکے بعد دیگرے ہونے والے ان واقعات سے اندازا ہورہا ہے کہ آصف علی زرادی کو اب کچھ زیادہ خطرات لاحق نہیں رہے۔ اور وہ اب کافی اطمینان محسوس کررہے ہیں۔ اس لیے وہ ا±ن افرا د کو بھی ملک واپسی کے اشارے دے رہے ہیں جو کبھی بھی ا±ن کے لیے ملک کے اندر خطرے کی گھنٹی بجا سکتے تھے۔ اس تناظر میں بجا طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آصف علی زرداری کو واقعتا ً اسٹیبلشمنٹ سے کوئی خطرہ لاحق نہیں رہا یا حالات نے ا±ن کے حق میں ایسا کوئی پلٹا کھا لیا ہے کہ ا±ن کے لیے یہ خطرات اب کوئی پریشانی کا باعث نہیں بن سکتے؟ا س کا جواب کچھ بھی ہو،آصف علی زرداری اپنے حالیہ فیصلوں میں کچھ زیادہ ہی پ±ر اعتماد دکھائی دیتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ا±نہوں نے بغیر کسی خطرے کے ڈاکٹر عاصم کو پیپلز پارٹی کراچی کا صدر بنانے کا اعلان بھی کردیا ہے۔ ڈاکٹر عاصم حسین ابھی اپنے حصے کے کالا پانی کی سزا کاٹ رہے ہیں اور گزشتہ اٹھا رہ مہینے ا±نہیں تفتیش میں ملزم سمجھے جانے کے باوجود انتہائی اہتمام سے عدالتوں سے سزا دلانے یا مقدمہ ثابت کرنے سے گریز کیا گیا ہے۔ اب وہی ڈاکٹر عاصم کسی بھی وقت رہا ہونے کے قریب ہے۔ا±نہیں ایک طویل عرصے تک آصف علی زرداری کا دوست سمجھا جاتا رہا اور پیپلزپارٹی کی جانب سے ا±نہیں پارٹی پر ایک بوجھ قرار دیا جاتا رہا، مگر اب ا±نہیں اچانک نہ صرف پارٹی نے بھرپور طریقے سے اپنا لیا ہے، بلکہ گزشتہ دنوں بلاول بھٹو نے نہ صرف ا±ن کی عیادت کی، بلکہ ا±ن کے حق میں ایسی گفتگو بھی کی جس سے لگ رہا تھا کہ وہ پارٹی کابوجھ نہیں بلکہ ایک اثاثہ ہے۔ڈاکٹر عاصم کو کراچی پیپلزپارٹی کا صدر بنا کر آصف علی زرداری نے واضح پیغام دیا ہے کہ ا±نہیں اب کسی سے کوئی خطرہ نہیں رہا۔ یہاں تک کہ قانون کی تحویل میں ہونے کے باوجود ڈاکٹر عاصم پیپلزپارٹی کے صدر بھی بنائے جاسکتے ہیں۔ اس طرح سابق صدر نے اپنے وفاداروں کے ذریعے پیپلزپارٹی کے جیالوں کو ہانکنے کا ایک منصوبہ بنا لیا ہے۔ پاکستان کے سیاسی حلقوں میں یہ تمام پیش رفت بہت حیر ت سے دیکھی جارہی ہے کیونکہ سابق صدر آصف علی زرداری کی راہ کے تقریباً تمام کانٹے ایک ایسے وقت میں چنے جارہے ہیں جب فوجی سربراہ رخصت ہورہے ہیں۔ اس معنی خیز پیش رفت میں یہ پہلو انتہائی قابل ِ لحاظ ہے کہ یہ سارے معاملات ہرگز ایسے نہیں جو سابق صدر خود سے طے کرسکتے ہوں یقیناً اس کایا پلٹ پیش رفت میں ا±نہیں کوئی “مدد” بھی مل رہی ہے جو واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے مگر کھلے عام بیان نہیں کی جارہی۔
لاپتا شہریوں کی تعداد 86 ہوگئی،دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی، 30 لاشیں کراکری کی دکان سے ملیں،ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن اسی جگہ کی آئی تھی،ڈی آئی جی ساؤتھ لاشوں کی باقیات سرچ آپریشن کے دوران ملیں،ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہ...
ایم کیو ایم پر برستے برستے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کرکام کرنے کی دعوت قومی اسمبلی اجلاس میں تقریر کے دوران ایم کیو ایم پر شدید تنقید کر رہے تھے قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کے دوران آصفہ بھٹو کی پرچی پڑھتے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی عبد القادر پٹیل کا لہجہ بدل گ...
اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کامیابی حاصل ہو گی،پاکستان مشکلات سے باہر آ چکاہے شہباز شریف کی ڈیوس میں پاکستان پویلین میں بریک فاسٹ میں شرکت،شرکاء سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مستقبل انتہائی پُرامید،ملکی ترقی کی راہیں روشن ہیں، اتحاد اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے...
غزہ کا بورڈ آف پیس نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل، ٹونی بلیئر جیسے مجرم موجود ہیں فلسطینیوں کے وسائل اور زمینوں پر قبضے کانیانظام ہے، ایکس پر جاری بیان جماعت اسلامی پاکستان کے حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے غزہ کے لیے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے امر...
چیف جسٹس کی زیر صدارت ماہانہ اصلاحات ایکشن پلان اجلاس،بار کے صدر، سیکریٹری دیگر حکام کی شرکت کیس کیٹیگرائزیشن کا عمل دوماہ میں مکمل ہو گا،سزائے موت ، فوجداری مقدمات کی جیل اپیلوں کا جائزہ،اعلامیہ سپریم کورٹ نے سزائے موت کی تمام زیر التوا اپیلیں 45 دنوں میں نمٹانے کا فیصلہ کر ...
جنگ بندی کے بعد پہلا بڑا اقدام،گھروں اور خیمہ بستیوں سے نکلنے کے احکامات جاری اسرائیلی فوج نے پمفلٹس گرائے ،اس میںلکھا تھا علاقہ اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اسرائیلی فوج نے اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد پہلی بار جنوبی غزہ میں فلسطینی خاندانوں کو اپنے گھروں اور خیمہ ب...
18ویں ترمیم ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی اس کے نتیجے میں زیادہ تر اختیارات صوبائی دارالحکومت میں جمع ہو گئے ہیں( خواجہ آصف)یہ آگ ہے، ہوجاتا ہے،شہلا رضا کا گل پلازہ آتشزدگی پر تبصرہ الطاف حسین کے گن مین گوگا نے ایک دکان کو دو میں تقسیم کیا( عبدالقادر پٹیل)جب گوگا پلازہ بنوا رہا تھا ی...
27 افراد کا پوسٹ مارٹم مکمل ،گلے میں پہنے لاکٹ کی مدد سے خاتون کو مصباح کے نام سے شناخت کر لیا ، تاجر تعاون کریں، ریڈ زون سے دور رہیں، دیگر حصے انتہائی کمزورہیں،ماہرین ایس بی سی اے ریسکیو اہلکاروں کو کوئی لاش نہیں ملی البتہ شک ہیعمارت کی بائیں جانب زیادہ لاشیں ہوں گی،وہاں راستہ ...
صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو دیگر صوبوں میں دکھائی دیتی ہے، شہباز شریف وفاق اور صوبے میںسرد جنگ کا تاثر درست نہیں،قومی ورکشاپ میں خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برس میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہی...
داخلی سلامتی، قانون کی حکمرانی کیلئے مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پولیس ناگزیر ہے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیشنل پولیس اکیڈمی، اسلام آباد کا دورہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیرچیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے کہا ہے کہ مضبوط، پیشہ ور اور عوام دوست پ...
گل پلازہ آتشزدگی کوسانحہ قراردیاجائے، ہم چاہتے ہیں صوبائی حکومت کیساتھ تعاون کریں آئیے ملکرکراچی کو ممدانی کانیویارک بنائیں یا صادق خان کا لندن بنائیں،ایم کیو ایم رہنما ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ گل پلازہ میں نہیں کراچی کے ہرشہری کے دل میں آگ لگی ...
پورے ملک کی 90فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے، سینئر وزیر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی کمیٹی تمام جائزے لے کر اپنی رپورٹ دے گی، خصوصی گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پورے ملک کی 90 فیصد بلڈنگز میں فائر الارم اور ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہے۔کراچی...