وجود

... loading ...

وجود

گندم کی عالمی پیداوار میں اضافہ متوقع۔۔۔پاکستان کیلیے برآمدات میں مشکلات کااندیشہ

اتوار 06 نومبر 2016 گندم کی عالمی پیداوار میں اضافہ متوقع۔۔۔پاکستان کیلیے برآمدات میں مشکلات کااندیشہ

پاکستان سے گندم کے بڑے خریدار ایران کیلیے بھی اب پابندی ہٹنے کے بعد عالمی منڈی میں زیادہ متبادل دستیاب ہیں
بہت سے ممالک کو گندم درآمد ہی نہیں کرنی پڑے گی یا پھرکم مقدار میں ضرورت ہوگی،طلب میں کمی کے سبب قیمتیں بھی کم ہونگی
different-types-of-wheat-on-tableاناج کی پیداوار کے حوالے سے عالمی سطح پر کی جانے والی پیش گوئی کے مطابق اس سال پوری دنیا میں گندم کی پیداوار گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ رہنے کی توقع ہے ،اس اعتبار سے حکومت کو رواں سال یعنی2016 کے دوران گندم برآمد کرنے میں مشکلات اور سخت مقابلے کاسامنا کرنا پڑسکتاہے۔رواں سال پوری دنیا میں گندم کی پیداوار بہتر ہونے کی وجہ سے بہت سے ممالک کو یا تو گندم درآمد ہی نہیں کرنی پڑے گی یا پھر پہلے کے مقابلے میں بہت کم مقدار میں گندم درآمد کرنا ہوگی، اس طرح عالمی منڈی میں طلب میں کمی اور رسد میں اضافے کی وجہ سے گندم کی قیمتیں توقع سے کم رہیں گی۔ ایران پاکستان کے گندم کابڑا خریدار رہاہے لیکن امریکاکی جانب سے پابندیاں ختم کیے جانے کے بعد اب اس کے پاس بھی منڈی میں پاکستان کے علاوہ دیگر متبادلات موجود ہوں گے اور وہ نسبتاً کم نرخ اور آسان شرائط پر گندم دینے والے ملک کو ہی ترجیح دے گا۔اس طرح پوری دنیا میں گندم کے استعمال میں اضافے کے باوجود گندم کی دستیابی طلب سے کہیں زیادہ ہوجائے گی۔
عالمی منڈی کی جانب سے دنیا بھر میں اناج کی پیداوار کے بارے میں جوتازہ ترین پیش گوئی کی گئی ہے اس کے مطابق پاکستان میں 2016 کے دوران گندم کی پیداوار کم وبیش26 ملین ٹن یعنی 2 کروڑ 60 لاکھ ٹن رہنے کی توقع ہے۔
پوری دنیا میں وافر گندم پیدا کرنے والے کم وبیش 14 ممالک ہیں ان ممالک میں مجموعی طورپر 735.4 ملین ٹن گندم پیداہونے کاتخمینہ لگایاگیا ہے۔ پاکستان میں گندم خوراک کا بڑا ذریعہ ہے اور کم وبیش 80 فیصد کاشتکار 9 ملین یعنی 90 لاکھ ہیکٹر اراضی یعنی ملک کی 40 فیصد قابل کاشت اراضی پر گندم کاشت کرتے ہیں۔ آبپاشی سہولیات کے سبب سب سے زیادہ گندم پنجاب میں پیداہوتی ہے اور پنجاب ہی میں سب سے زیادہ بڑے رقبے پر گندم کاشت کی جاتی ہے۔ملک میں زیر کاشت رقبے کے جائزے سے ظاہرہوتاہے کہ رواں سال فی ہیکٹر پیداوار میں 6 ٹن اضافہ ہوگا،جبکہ اگر خصوصی توجہ دی جائے تو پاکستان گندم کی موجودہ 25 لاکھ ٹن فی ہیکٹر سے بڑھاکر 32-38 لاکھ ٹن فی ہیکٹر تک کرسکتاہے۔تاہم عالمی ادارہ خوراک نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ گندم کی پیداوار کیلیے اقدامات سے قبل اس کا ذخیرہ کرنے اور عالمی منڈی میں اس کی فروخت کاموثر انتظام کیاجانا چاہیے۔
پاکستان کے 37 فیصدعوام کی اصل غذا گندم ہے لیکن اب چونکہ لوگوں کی آمدنی میں اضافہ ہورہا ہے اور متوسط طبقہ مضبوط ومستحکم ہورہاہے اس لیے توقع کی جاتی ہے کہ لوگوں کی خوراک میں بھی تبدیلی آئے گی اور وہ گندم کی جگہ گوشت اور ڈیری مصنوعات کو اپنی خوراک کاحصہ بنائیں گے۔جس سے ملک میں گندم کی کھپت میں مزید کمی ہوگی۔
عالمی بینک اور عالمی ادارہ خوراک کی جانب سے اجناس کے ذخیرہ کرنے کے انتظامات کے مشترکہ جائزے کے دوران یہ بات نوٹ کی گئی ہے کہ حکومت کی مداخلت کے موجودہ پروگرام کی وجہ سے نجی شعبے کی جانب سے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری محدود ہوکر رہ گئی ہے جس کی وجہ سے زرعی شعبے کو جسے سرمایہ کاری کی شدید ضرورت ہے سرمایہ کاری کی کمی کاسامناہے۔جبکہ کاشتکاروں کی مدد کے لیے مقرر کی جانے والی امدادی قیمت کی وجہ سے خزانے پر بھاری بوجھ پڑ رہاہے جو ملک طویل عرصے تک برداشت کرنے کامتحمل نہیں ہوسکتا۔اس کے علاوہ اس بات کاپتا چلانا بھی ضروری ہے کہ گندم کی امدادی قیمت سے اصل کاشتکار کو کتنی اور اس شعبے میں کارفرما دیگر لوگوں کوکتنا فائدہ پہنچ رہاہے تاکہ اس شعبے میں تبدیلیاں لانے کے لیے پالیسی میں ممکنہ تبدیلی لائی جاسکے۔
پاکستان میں کاشتکار اپنی گندم کی پیداوار کاکم وبیش ایک تہائی حصہ، بیج کیلیے اور ذاتی گھریلو استعمال کے لیے رکھتاہے،کاشتکاروں سے گندم کی بڑی خریدار حکومت ہے جو مجموعی پیداوار کے کم وبیش 30 فیصد تک خرید لیتی ہے۔گندم کی پیداوار کی موجودہ صورت حال کے تحت اب حکومت کو مارکیٹ میں لائی گئی 35 سے50 فیصد تک گندم خریدنا ہوگی۔اگرچہ فوڈ سیکورٹی پاکستان میں ایک بڑا مسئلہ ہے اس امر میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر گندم کی خریداری کے سبب نجی شعبے کے لیے اس شعبے میں بہت کم گنجائش باقی رہتی ہے۔
گندم کی پیداوار اوراس کی نقل وحمل میں نجی شعبہ بنیادی کردار ادا کرتاہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نجی شعبہ اناج کی نقل وحمل ،اس کا ذخیرہ کرنے اور اس کی مارکیٹنگ کے شعبے میں سرمایہ کاری کرناچاہتاہے۔لیکن جب تک حکومت اس شعبے میں اپنا کردار کم اور نجی شعبے کے لیے سرمایہ کاری کا میدان کھلا نہیں چھوڑ تی، ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔
عالمی ادارہ خوراک کے مطابق حکومت کی جانب سے امدادی قیمت مقرر کیے جانے اور کاشتکاروں کو فصل کی نقد قیمت کی ادائیگی کی وجہ سے اب کاشتکاروں کو فصل کی کاشت سے قبل زرعی تاجروں یا بینکوں سے رقم حاصل کرنے کی زیادہ ضرورت باقی نہیں رہتی۔اگرچہ گودام کی رسید حاصل کرنے سے گندم کی تجارت میں لکویڈیٹی میں اضافہ ہوگا اور گندم کی تجارت کی لاگت میں 16-17 فیصد کمی ہوگی لیکن موجودہ صورت حال میں ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔
عالمی ادارہ خوراک نے مشورہ دیا ہے کہ گندم کا ذخیرہ کرنے کی سہولتوں میں اضافے کے لیے حکومت اورنجی شعبے کے اشتراک سے بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔عارضی اسٹوریج کی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بہت محدود ہے جبکہ اناج کے ذخیرے کے لیے مستقل گودام تعمیر کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے گندم کی ہینڈلنگ اور ٹرانسپورٹیشن کے پورے نظام کے ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت ہوگی۔ اس صورتحال کے پیش نظر گندم کا خاص طورپر گندم کے خریداری مراکز پر جہاں کاشتکاروں سے گندم خریدی جاتی ہے عارضی ذخیرہ کرنے کے لیے سیلو بیگ اور دیگر عارضی انتظامات کی ضرورت ہوگی۔
عالمی ادارہ خوراک کے تخمینے کے مطابق گندم کے سالانہ معیاری اور مقداری نقصان سے قومی خزانے کو 3ہزار874 روپے فی ٹن کی شرح سے نقصان برداشت کرنا پڑتاہے جس میں گندم کی ٹرانسپورٹیشن کے لیے اس کو چڑھانے ،اتارنے ، بوریوں میں بھرنے اور نکالنے کے دوران ہونے والے نقصانات شامل ہیں۔اس طرح کہاجاسکتاہے کہ حکومت سالانہ جو گندم خریدتی ہے اس کا 30 فیصد حصہ اس طرح ضائع ہوجاتاہے۔جس سے پاکستانی معیشت کو سالانہ مجموعی طورپر کم وبیش 6-7 ارب روپے کاخسارہ برداشت کرنا پڑتاہے۔رپورٹ میں خیال ظاہر کیاگیاہے کہ حکومت کی جانب سے گندم کافی الوقت جو معیار مقرر ہے اس سے ملک میں فلور ملیں غیر یقینی صورت حال کاشکار ہیں اور اس سے گندم کے معیاری انداز میں ذخیرہ کرنے کی کوئی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔جبکہ فی الوقت گندم کامعیار چیک کرنے اور اس کے لیے نمونے حاصل کرنے کاجو طریقہ کار ہے اسے عام طورپر یکطرفہ تصور کیاجاتاہے۔اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ گندم کامیعار چیک کرنے کے لیے ایک منظم تھرڈ پارٹی یا حکومت کے زیر کنٹرول لیبارٹری کے سپرد کیاجائے جو گندم کا معیار چیک کرکے سرٹیفکٹ جاری کرسکے۔تاکہ گندم کے استعمال سے قبل اس کے معیار کاپتہ چلایاجاسکے۔


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر