... loading ...

پربھو ملیکر جونان
جنوبی بھارت کے صوبہ کرناٹک میں قحط کی صورت حال پیداہوگئی ہے،بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے کرناٹک کے بعض اضلاع جس میں دریائے کاویری کے کنارے واقع ضلع ماندیا شامل ہے ،میں کھڑی فصلیں سوکھ رہی ہیں۔ 31اگست کی رات کو ماندیہ میں شدید بارش ہوئی جس سے علاقے کے کاشتکاروں کے چہرے کھل اٹھے لیکن صبح ہوئی تو چمکتی ہوئی دھوپ نکل چکی تھی اوررات کوہونے والی بارش سے زمین پوری طرح سیراب نہیں ہوسکی تھی اس کے بعد سے علاقے کے کسان مزید بارشوں کاانتظار کرتے کرتے اب ناامیدی کاشکار ہورہے ہیں اور ان کو یہ خوف کھائے جارہاہے کہ بارش نہ ہونے کی صورت میں ان کی کھڑی فصل سوکھ کر تباہ ہوجائے گی اور انھوں نے فصلوں کی بوائی کیلیے بیج اور کھاد پر جو خرچ کیا ہے اس کاقرض چکانا بھی ان کیلیے ممکن نہیں رہے گا۔
کرناٹک کاضلع ماندیا چاروں طرف سے نہروں سے گھرا ہوا ہے لیکن بارشیں نہ ہونے سے نہ صرف یہ کہ تمام نہریں خشک ہوچکی ہیں بلکہ ان نہروں کوپانی کی فراہمی کا ذریعہ دریائے کاویری جو کہ اس صوبے کامنہ زور دریا تصورکیاجاتاتھا بھی اب خشک ہوچکا ہے۔
یہ وہی دریائے کاویری ہے جس کے پانی کے تنازع پر کرناٹک اور تامل ناڈوو کے درمیان باقاعدہ جنگ ہوچکی ہے ،اس جنگ کاآغاز سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ہوا تھا جس میں بھارتی سپریم کورٹ نے کرناٹک کو دریا کا پانی تامل ناڈو کوبھی دینے کے احکامات دیے تھے ۔سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد کرناٹک کے کسان سڑکوں پر نکل آئے تھے کیونکہ ان کاموقف تھا کہ دریائے کاویری میں اب اتنا دم نہیں رہا کہ وہ دو صوبوں کے کسانوں کی ضروریات پوری کرسکے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں صوبے پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں۔اس صوبے کے لوگوں کی اکثریت کا گزر بسر کاشتکاری پر ہوتا ہے اور انھیں خود اپنے اور اپنے اہل وعیال کیلیے اناج کے ساتھ ساتھ اپنے مویشیوں کیلیے چارے کی بھی ضرورت ہوتی ہے ۔اس صورتحال می فصلیں سوکھ جانے کی صورت میں ان کے مویشی بھی چارے سے محروم ہوکر موت کے منہ میں جاسکتے ہیں۔کرناٹک اور تامل ناڈوو کے عوام کے شدید احتجاج کے باوجود بھارتی حکمران ان دونوں صوبوں کو کاشتکاری اورپینے کے پانی کی سہولتوں کی فراہمی کیلیے کوئی متبادل انتظام کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔کرناٹک کا ضلع ماندیہ چاول کی کاشت کیلیے مشہور ہے او ر چاول کی کاشت کیلیے پانی کی اشد ضرورت ہوتی ہے کیونکہ چاول وہ فصل ہے جس کاپودا چاہتاہے کہ اس کے پیر یعنی جڑیں پانی میں ڈوبی رہیں اور سر چمکتی ہوئی دھوپ سے دمکتا رہے، لیکن اب چمکتا ہوا سورج اس کے سر کو جھلسا تو رہاہے لیکن اس کی جڑوں کو سیراب کرنے کیلیے پانی کاکہیں پتہ نہیں ہے۔
حکام کاکہنا ہے کہ کرناٹک کے 4اضلاع ماندیہ، میسور ،چمن جانگر اورراما نگر میں نصف اراضی نہری ہے اور نصف کی آبیاری کاانحصار بارشوں پر ہوتاہے لیکن اس مرتبہ نہ تو دریا اور جھیلوں اورنہروں میں پانی ہے اور نہ ہی بارش ہورہی ہے اس لیے چاروں اضلاع کی وسیع عریض قابلِ کاشت اراضی پر دھول اڑ رہی ہے اور ان اضلاع کے کاشتکار مستقبل کے خوف سے لرزہ براندام ہیں۔کیونکہ مقامی حکام نے کاشتکاروں کوصاف صاف بتادیا ہے کہ انھیں کاشت کیلیے اس سال پانی ملنے کاکوئی امکان نہیں ہے۔اگست میں کرناٹک میں بارش کم ہونے اور بعض علاقوں میں بالکل بارش نہ ہونے کی وجہ سے ان اضلاع میں پانی کے 41فیصد سے زیادہ ذخائر ختم ہوچکے ہیں اور دریائے کاویری کا پانی ذخیرہ کرنے کیلیے تعمیر کیے گئے 4ریزروائر بھی تقریبا ً خشک ہوچکے ہیں اور ان میں پانی کی سطح معمول کی نسبت ایک چوتھائی سے بھی کم رہ گئی ہے۔
کرناٹک صوبے کے قدرتی آفات کی مانیٹرنگ کرنے والے ادارے کے سربراہ سری نواس ریڈی کا کہنا ہے کہ لوگوں سے پانی احتیاط سے استعمال کرنے کی اپیل کی گئی ہے کیونکہ ابھی تو کاشت کیلیے پانی نہ ملنے کامسئلہ ہے لیکن بارش نہ ہونے کی وجہ سے اب کرناٹک کے لوگوں کو پینے کیلیے پانی کی فراہمی بھی مشکل ہوجائے گی۔
2ستمبر کو بھارتی سپریم کورٹ نے کرناٹک کی حکومت کو حکم دیا کہ خود بھی زندہ رہو اور دوسروں کو بھی زندہ رہنے دو کے اصول پر عمل کیاجائے اور تامل ناڈوو کوکاویری ندی سے پانی فراہم کیا جائے جس پر کرناٹک نے تامل ناڈو کو 5 دن تک روزانہ 10ہزار مکعب فٹ پانی فی سیکنڈ کی شرح سے فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی لیکن 5ستمبر کو سپریم کورٹ نے ایک دوسرے حکم میں کرناٹک کو حکم دیا کہ تامل ناڈو کو 10دن تک روزانہ15ہزار مکعب فٹ پانی فی سیکنڈ فراہم کیاجائے ،بعد میں دریا میں پانی کی کمی کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں ترمیم کرتے ہوئے 20ستمبر تک15 ہزار مکعب فٹ پانی فی سیکنڈ کی جگہ 12 ہزار مکعب فٹ پانی فی سیکنڈ کی رفتار سے فراہم کرنے کاحکم جاری کیاتھا۔اس کے بعد سے کرناٹک کا ماندیہ ضلع احتجاج کا مرکز بن چکا ہے ،پانی کے حصول کیلیے مظاہروں کے دوران متعدد گاڑیوں کو آگ لگادی گئی اور سڑکیں بلاک کردی گئیں جس پر درجنوں افراد کوگرفتار کرلیاگیا لیکن ان گرفتاریوں کے باوجود پانی کے لیے فسادات کاسلسلہ رکنے میں نہیں آرہا او ر بھارتی حکومت پر پانی کی سیاست کرنے کے الزامات عاید کیے جارہے ہیں۔
پانی کے مسئلے پر ہونے والے مظاہروں نے ٹیکنالوجی کے اعتبار سے پوری دنیا میں مشہور شہر بنگلور کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیاہے جہاں ہنگامہ آرائی اور فسادات کی وجہ سے دفاتر بند کرناپڑے اور ٹریفک کی آمدورفت میں بھی خلل پڑا۔بنگلور پولیس کے مطابق ایک 22سالہ لڑکی مظاہرین کی قیادت کررہی تھی جس نے شہر اور اس کے نواح میں 42بسوں کو آگ لگادی ۔فسادات سے نمٹنے کیلیے پولیس نے ہنگامی صورت حال کااعلان کرتے ہوئے لوگوں کے اجتماع پر پابندی عاید کردی ہے اور فسادیوں سے نمٹنے کیلیے 15ہزار افسران اور اہلکار وں کوتعینات کردیاگیاہے۔
گزشتہ روز سپریم کورٹ نے کرناٹک کو تامل ناڈوو کو مزید 7دن تک یومیہ 6ہزار مکعب فٹ پانی فراہم کرنے کاحکم دیاتھا لیکن کرناٹک کے وزیراعلیٰ سدھر مایا نے یہ حکم تسلیم کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس حکم پر عملدرآمد ممکن نہیں کیونکہ اب صوبے کے پاس اگلے سال مئی تک صرف پینے کی ضرورت کے مساوی پانی باقی رہ گیا ہے۔کرناٹک نے سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہ کرتے ہوئے تامل ناڈو کیلئے مزید پانی جاری نہیں کیا،خیال کیاجاتاہے کہ سپریم کورٹ کاحکم تسلیم نہ کرنے کے اس فیصلے سے ایک آئینی بحران پیدا ہوگا اور ان دونوں صوبوں کے درمیان تلخیوں میں اضافہ ہوگا جس سے ان دونوں صوبوں میں امن وامان کی صورتحال خراب ہوگی جس سے مرکزی حکومت کوبھی مشکلات کاسامنا کرنا پڑ سکتاہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کر انے وانے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ''بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائو '' کے نعرے لگا ئے جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق چلنے والی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وہ بالکل ٹھیک ہیں۔ جمعہ کو سی...
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اڈیالہ جیل فیکٹری ناکے پر جاری دھرنا جمعہ کی صبح ختم کر دیا ۔ دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ علامہ ناصر عباس کے آنے کے بعد ہونے والی مشاورت میں کیا گیا، علامہ ناصر عباس، محمود اچکزئی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی مشاو...
واشنگٹن واقعہ عالمی سطح پر دہشت گردی کی واپسی کو ظاہر کرتا ہے عالمی برادری افغان دہشت گردی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ،تین چین باشندوں کی ہلاکت کی ذمہ داری افغانستان پر عائد ہوتی ہے راج ناتھ کا بیان سرحدوں کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ، بھارتی بیانات خام خیا...
4 نومبر سے اہل خانہ کی ملاقات نہیں ہوئی،عمران خان کی صحت پر تشویش ہے، علیمہ خانم عمران خان کی صحت پر تشویش کے حوالے سے علیمہ خان نے صوبائی محکمہ داخلہ اور آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو خط لکھ دیا۔میڈیارپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور آئی...
ہر منگل کو ارکان اسمبلی کو ایوان سے باہر ہونا چاہیے ، ہر وہ رکن اسمبلی جس کو عمران خان کا ٹکٹ ملا ہے وہ منگل کو اسلام آباد پہنچیں اور جو نہیں پہنچے گا اسے ملامت کریں گے ، اس بار انہیں گولیاں چلانے نہیں دیں گے کچھ طاقت ور عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھ رہے ہیں، طاقت ور لوگ ...
اسلام آباد ہائی کورٹ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی، سیشن جج سے متعل...
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس کے نئے فیچر ‘لوکیشن ٹول’ نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی، جس کے بعد انکشاف ہوا ہے کہ درجنوں اکاؤنٹس سیاسی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعدد بھارتی اکاؤنٹس، جو خود کو اسرائیلی شہریوں، بلوچ قوم پرستوں اور اسلا...
کارونجھر پہاڑ اور دریائے سندھ پر کینالز کی تعمیر کے خلاف وزیر اعلیٰ ہاؤس تک ریلیاں نکالی گئیں سندھ ہائیکورٹ بارکے نمائندوں سے وزیراعلیٰ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 27ویں آئینی ترمیم، کارونجھر پہاڑ اور د...
معاشی استحکام، مسابقت، مالی نظم و ضبط کے لیے اصلاحات آگے بڑھا رہے ہیں 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا پہلا اجلاس 4 دسمبر کو ہوگا، تقریب سے خطاب وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 54 ہزار خالی اسامیاں ختم کی گئی ہیں، سالانہ 56 ارب روپے کی بچت ہوگی، 11ویں این ایف سی...
پاکستان نے افغانستان میں گزشتہ شب کوئی کارروائی نہیں کی ، جب بھی کارروائی کی باقاعدہ اعلان کے بعد کی، پاکستان کبھی سویلینز پرحملہ نہیں کرتا، افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے ملک میں خودکش حملے کرنے والے سب افغانی ہیں،ہماری نظرمیں کوئی گڈ اور بیڈ طالب...
خلفائے راشدین کو کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا رہا ہے تو کیا یہ ان سے بھی بڑے ہیں؟ صدارت کے منصب کے بعد ایسا کیوں؟مسلح افواج کے سربراہان ترمیم کے تحت ملنے والی مراعات سے خود سے انکار کردیں یہ سب کچھ پارلیمنٹ اور جمہورہت کے منافی ہوا، جو قوتیں اس ترمیم کو لانے پر مُصر تھیں ...
حکام نے وہ جگہ شناخت کر لی جہاں دہشت گردوں نے حملے سے قبل رات گزاری تھی انٹیلی جنس ادارے حملے کے پیچھے سہولت کار اور سپورٹ نیٹ ورک کی تلاش میں ہیں انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید نے کہا کہ پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے...