... loading ...

ہر سال ماہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے امریکا سمیت دنیا بھر کے ملکوں کے سربراہان خطاب کرتے ہیں۔ یہ روایت وقت گزرنے کے ساتھ مضبوط تر ہوتی جارہی ہے۔ اس اجلاس کو باہم متحارب ملکوں کے سربراہان کے لیے ایک دوسرے پر حملے کرنے اور اپنا زور خطابت آزمانے کا بھی اچھا موقع سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان……دونوں ہی ملکوں کے سربراہان حکومت عام طور پر اس اجلاس میں شرکت کرتے ہیں اور اپنے خطاب میں مدمقابل کو نشانہ بھی بناتے ہیں۔ خاص طور پر بھارت اس فورم پر بھی پاکستان کے خلاف اپنی دائمی عداوت کے اظہار کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتا اور بے جا الزام تراشی کرکے اسے عالمی برادری کے سامنے رسوا کرنے کا خواہاں رہتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے سربراہ حکومت کو بھی یہ فورم بین الاقوامی سطح پر بھارتی الزامات کا مدلل جواب دینے اور اس کا اصل چہرہ دنیا کو دکھانے کا ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال ستمبر میں یہ موقع آتے ہی دونوں ملکوں کے میڈیا اور دیگر طبقات کو پاک، بھارت سربراہان کے مابین اس ’’تقریری مقابلے‘‘ کا انتظار رہتا ہے۔ اس سال تو یہ انتظار اس وجہ سے بھی شدت اختیار کرگیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں ڈھائی ماہ سے جاری تحریک مزاحمت، مسلسل کرفیو اور پیلٹ گنوں کے استعمال سمیت بھارتی سیکورٹی فورسز کے وحشیانہ مظالم کے باعث پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات نہ صرف سردمہری کا شکار ہیں بلکہ ان میں تلخی بھی بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔
ستم بالائے ستم یہ کہ بھارت نے جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے ذرا قبل ہی مقبوضہ کشمیر کے علاقے اُڑی میں واقع ایک فوجی کیمپ پر حملے کا الزام بھی پاکستان پر دھر دیا اور جوابی کارروائی کے طور پر بھارتی میڈیا اور نام نہاد دفاعی ماہرین نے پاکستان کے اندر سرجیکل اسٹرائیکس کے خواب تک دیکھنا شروع کردیئے تھے۔
چنانچہ وطن عزیز میں بجا طور پر یہ توقع کی جارہی تھی کہ وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں جہاں دیگر قومی، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر اظہار خیال فرمائیں گے، وہاں مسئلہ کشمیر کو بھی اچھی طرح نمایاں کریں گے اور مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کے مظالم کو بھی عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کریں گے۔
وزیراعظم نواز شریف نے 21؍ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کیا اور توقعات کے عین مطابق اس میں جموں وکشمیر کے مسئلے کو سب سے زیادہ اجاگر کیا۔ وزیراعظم نواز شریف کے جنرل اسمبلی سے گزشتہ خطابات میں بھی کشمیر کے مسئلے کی طرف بین الاقوامی برادری کی توجہ مبذول کرائی گئی تھی لیکن اس بار وادی کے معروضی حالات کی وجہ سے اس معاملے کو معمول سے کہیں زیادہ اہمیت دی گئی۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب کا 60 تا 70 فیصد حصہ مسئلہ کشمیر کے لیے مختص کیا جبکہ جن دیگر ایشوز کو اہمیت دی گئی، ان میں افغانستان، افغان مہاجرین، دہشت گردی اور ایٹمی عدم پھیلاؤ جیسے معاملات شامل ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے جس انداز میں عالمی برادری کے سامنے اقوام متحدہ کی عدالت میں کشمیری عوام کا مقدمہ پیش کیا، اس پر ملک بھر میں بالعموم اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے۔ زیادہ تر مبصرین نے اس خطاب کو موثر اور جامع قرار دیا، تاہم اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ اسے زیادہ بھرپور بھی بنایا جاسکتا تھا۔
ایک بات جو خاص طور پر محسوس کی گئی، یہ تھی کہ وزیراعظم پاکستان کی تقریر کے جملے تو خاصے زور دار تھے لیکن شاید ان کی ’’بدن بولی‘‘ (باڈی لینگویج) ان کا اس طرح ساتھ نہیں دے پارہی تھی، جس طرح کہ دینا چاہیے تھا۔ اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم نواز شریف کا لب ولہجہ غیرضروری طور پر بے حد دھیما اور ڈھیلا ڈھالا سا تھا، جس نے ان کی تقریر کے مجموعی تاثر کو بھی کسی حد تک گہنا دیا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کوئی شعلہ بیاں مقرر نہیں ہیں اور نہ ہی ان سے فیڈل کاسترو، معمر قذافی یا رجب طیب ایردوان کی مانند جوش خطابت دکھانے کی توقع کی جاتی ہے، تاہم کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے بہیمانہ مظالم اور ان کے ساتھ روا رکھی جانے والی بربریت کا تذکرہ کرتے ہوئے آواز کا جو زیروبم ہونا چاہیے تھا، وہ بھی ان کے خطاب میں عنقا تھا۔ امید کی جانی چاہیے کہ آئندہ ایسے کسی بھی موقع پر وہ اس بات کا خیال رکھیں گے کہ ان کی باڈی لینگویج بھی تقریر کے متن کا ساتھ دے اور ایسا نہ لگے کہ جیسے وہ کسی اور کا لکھا ہوا اسکرپٹ پڑھ رہے ہیں……!!!
حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...
میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...
ملزمہ سادہ کوکین 20ہزار فی گرام جبکہ گولڈن اسٹف40ہزار فی گرام فروخت کرتی تھی مقدمے میں نامزد پانچ ملزمان مفرور قرار ،پولیس نے گرفتاری کیلئے کارروائیاں تیز کر دی کراچی میں منشیات فروشی کے مبینہ بڑے نیٹ ورک کی مرکزی ملزمہ انمول عرف پنکی اور دیگر کے خلاف منشیات کے مقدمے کا عبوری...
منشیات کی ترسیل کے لیے انڈوں کے خول استعمال کیے جاتے تھے،ملزم شاہ فہد سہراب گوٹھ سے مختلف رائیڈرز کے ذریعے مختلف علاقوں میں سپلائی کیا جاتا تھا کراچی سائوتھ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے منشیات سپلائی کرنے والے ایک اور مبینہ منظم نیٹ ورک کا سراغ لگانے کا دعوی کیا ہے۔ گرفتار...
رواں سال ڈبل ڈیکر اور جدید الیکٹرک بسوں کی بڑی تعداد کراچی پہنچ جائے گی،شرجیل میمن نئی ڈبل ڈیکر اور ماحول دوست ای وی بسیں مرحلہ وار مختلف روٹس پر چلائی جائیں گی،گفتگو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی کے شہریوں کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ا...
ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں، مجھے کہا جاتا ہے آپ تو عمران خان کیخلاف تھے، مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو تو اس کیخلاف بات نہیں کرتے،سربراہ جے یو آئی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈروں کی تقریروں کو بلیک آؤٹ کیا جا رہا ہے، ہم نے کشمیریوں کی ماؤں بہنوں کی...
81ہزار ٹن خریداری ہدف سے کم، مقامی مارکیٹ اور پاسکو سے مزید گندم خریدنے کا فیصلہ ہاریوں کو مقررہ امدادی قیمت کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے،اجلاس میں تفصیلی جائزہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلی ہاؤس میں محکمہ خوراک اور محکمہ زراعت کا مشترکہ اجلاس ...
عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس نے اسے بوری بند لاشوں کے تحفے دیے،سینئر صوبائی وزیر کراچی ملک کا معاشی حب اور سندھ کا دارالخلافہ ہے، خالد مقبول کے بیان پر سخت ردعمل سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا خالد مقبول صدیقی کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کراچی کے عوام بخوبی جانتے ہیں ...
تحریکِ انصاف کی قیادت اور اپوزیشن اتحاد 16 جون بروز منگل دوپہر 3 بجے سے شام 7 بجے تک اڈیالہ جیل کے باہر ایک مضبوط اور پرامن عوامی طاقت کا مظاہرہ کرنے جارہے ہیں،خصوصی بیان اس احتجاج کے پیچھے کوئی سیاسی مقاصد یا توڑ پھوڑ نہیں بلکہ خالصتاً قانونی اور انسانی بنیادیں شامل ہیں، احتجاج...
پارٹی میں موجود بدعتوں کو اب نکالنا ہوگا جس کے دل میں پارٹی کی ذمہ داری کا شوق آیا وہ کچھ نہیں کر سکتا، ہم استعمال نہیں ہورہے کوئی اور استعمال ہو رہا ہے ، خالد مقبول صدیقی کی مصطفی کمال پر تنقید ایکسٹینشن والا لیڈر قوم کو کبھی ان کے حقوق نہیں دلوا سکتا جس لیڈر کا کریکٹر نہیں و...
حکومت اب بھی ایک لیٹر پیٹرول پر120 روپے سے زائد پیٹرولیم لیوی وصول کررہی ہے بہت تماشا ہوگیا وسائل پر قابض اشرافیہ عوام کے راستے سے ہٹ جائے،تقریب سے خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے بجٹ میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے کوئی جامع منصوبہ شامل نہیں۔ سات دہائیوں...
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط اتوار کو نہیں ہوں گے جنگ کے خاتمے پر توجہ مرکوز کرنے والے اسلام آباد میمورنڈم پر عمل کیا جا رہا ہے ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ امریکا سے معاہدے پرآج دستخط نہیں کر رہے ہیں۔ایک بیان میں اسماعیل بق...