وجود

... loading ...

وجود

امریکا افغانستان سے نکل جائے! طالبان کے نئے امیر ہیبت اللہ اخونزادہ کا عید پر مفصل پیغام

اتوار 03 جولائی 2016 امریکا افغانستان سے نکل جائے! طالبان کے نئے امیر ہیبت اللہ اخونزادہ کا عید پر مفصل پیغام

mullah-haibatullah

افغانستان کے نئے امیر ہیبت اللہ اخونزادہ نے عید سے قبل اپنے پہلے مفصل بیان میں اپنے اہل وطن اور مجاہدین کو مخاطب کرتے ہوئے عید کی مبارک باد دی ہے اور تفصیل سے اپنے موقف میں کہا ہے کہ امریکا کو افغانستان میں مکمل ناکامی کا سامنا ہے اور وہ افغانستان سے نکل جائے۔اپنے مفصل پیغام میں افغانستان کے نئے امیر نے جہاں امریکا کو اپنی سرزمین سے نکلنے کے لیے کہا ہے وہاں یہ بھی کہا ہے کہ کچھ عناصر ہماری کامیابیوں کو ایران ، پاکستان یا دیگرعناصر کے ساتھ منسوب کرتے ہیں وہ دھوکے میں ہیں۔ افغان امیر ہیبت اللہ اخونزادہ کا یہ بیان اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں اُنہوں نے اپنے طرزعمل کی طرف بھی اشارہ کیا ہے اور طالبان کے اندرونی امور کے حوالے سے بھی کچھ گوشوں پر روشنی ڈالی ہے۔ چنانچہ افغانستان کے نئے امیر کے اس مفصل موقف کو ذیل میں جوں کا توں پیش کیا جارہا ہے تاکہ مختلف پہلوؤں پر محیط اس پیغام کے تمام گوشے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے سامنے رہیں۔


اهل وطن، مجاہد، مہاجر اور تمام مسلمانوں کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سب سے پہلے عید سعید الفظر کا مبارک باد پیش کرتاہوں۔عیدمبارک ہو!اللہ تعالی آپ کے روزے، تراویح، عبادات، صدقات، جہاد اور تمام حسنہ اعمال کو قبول فرمائیں۔ اللہ تعالی سے دست بدعا ہوں کہ ان مبارک ایام کی برکت سے وطن عزیز کو کفری جارحیت اور فساد سے نجات دلائے اور رنجیدہ عوام کواسلامی نظام اور امن کے عظیم نعمت سے نوازیں۔ آمین یارب العالمین

مسلمان مجاہد عوام !

عیدسعید الفظر کی خوشیاں ایسے حالت میں منارہے ہیں کہ ڈیڑھ ماہ قبل ایک مؤمن، مجاہد اور باجرائت قائد اور امارت اسلامیہ افغانستان کے زعیم جناب امیرالمؤمنین ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ استعمار کی جانب سے شہید ہوئے۔

شہید ملا اخترمحمد منصور رحمہ اللہ ، اللہ تعالی کے دین کے ایک حقیقی اور فداکار خادم تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی خدمتِ دین اور اعلاء کلمۃ اللہ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔امارت اسلامیہ کے دورِاقتدار کی طرح امریکی جارحیت کے خلاف جہاد کے امتحانی سالوں میں بھی اسلام کی سربلندی کے لیے عظیم خدمات سرانجام دیے۔ امارت اسلامیہ کے مؤسس جناب امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ کی وفات کے بعد احسن طریقے سے امارت اسلامیہ کے استحکام، وحدت اور جہادی سلسلے کو آگے بڑھانے کی ذمہ داری اداکی۔ آخرکار جہاد کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا اور اس راہ میں شہادت کے اعلی مقام پر فائز ہوئے۔

مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا ( الأحزاب : ۲۳ )

ترجمہ :مؤمنوں میں کتنے ہی ایسے شخص ہیں کہ جو اقرار انہوں نے اللہ سے کیا تھا اسکو سچ کر دکھایا پھر ان میں بعض ایسے ہیں جنہوں نے اپنی نذر پوری کردی یعنی بان دیدی اور بعض ایسے ہیں کہ انتطار کررہے ہیں۔ اور انہوں نے اپنے قول کو ذرا بھی نہیں بدل۔

شہید ملا اختر محمد منصور رحمہ اللہ کی استقامت، فداکاری اور مایہ ناز شہادت ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہمارے دینِ عزیز اور عالی داعیہ کو امیر سے لیکر ہر رکن تک ہر جان کی قربانی کی ضرورت ہے۔ اس دین کے لیے رسول ﷺ، خلفاء راشدین اور امت کے عظیم ہستیوں نے لہو بہا دی ہیں، تو اسی لیے ہمیں بھی کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ گزرے ہوئے حقیقی مؤمنوں کی طرح اللہ کی راہ میں شہادت کو اپنے لیے فخر سمجھے۔

اگر امارت اسلامیہ افغانستان کے مؤسس ملا محمد عمر مجاہد رحمہ اللہ وفات اور بعد میں جناب ملا اختر محمد منصور شہید ہوئے، تو للہ الحمد اسلام اور غیور ملت ختم نہیں ہوئےہیں۔ مسلمان عوام ، مجاہدین، علماءکرام، طلباء اور شہداء کا وارث جہادی صف (امارت اسلامیہ) تاحال موجود اور ماضی کی طرح مستحکم ہے۔

مجاہدین کے ماضی کی طرح مکمل جہادی نظم وضبط، وسیع اور جامع تشکیلات اور ان کے درمیان محکم اور ناقابل شکست اتحاد موجود ہے۔ وہ نظریہ جس کی رو سے ہم نے سالہا قبل اسلامی شریعت کے نفاذ کی خاطر جہاد شروع کیا تھا، اب تک زندہ ہے۔

وكَأَيِّن مِّن نَّبِيٍّ قَاتَلَ مَعَهُ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ فَمَا وَهَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَمَا ضَعُفُوا وَمَا اسْتَكَانُوا وَاللَّـهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ – آل عمران: ١٤٦

ترجمہ : اور بہت سے نبی ہوئے ہیں جن کے ساتھ ہوکر اکثر اہل اللہ کے دشمنوں سے لڑے ہیں۔ تو جو مصیبتیں ان پر اللہ کی راہ میں واقع ہوئیں ان کے سبب انہوں نے نہ تو ہمت ہاری اور نہ بزدلی کی نہ کافروں سے دبے اور اللہ استقلال رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

امارت اسلامیہ کے زعامت کے عظیم بوجھ کے متعلق کہتاہوں کہ اس عظیم مسؤلیت کو اپنے لیے امتیاز نہیں، بلکہ ایک عظیم ذمہ داری سمجھتا ہوں اور تمام مجاہدین اور مخلص مؤمنوں سے اپیل کرتاہوں کہ میرے لیے اس عظیم ذمہ داری کی صحیح ادائیگی، ثبات اور استقامت کی دعائیں کیا کریں اور جس حصے میں ممکن ہو، تو مجھ سے تعاون کریں۔

امارت اسلامیہ ہمارا اور آپ کا مشترکہ گھر ہے اور اس گھر میں امیرالمؤمنین ملا محمد عمر مجاہد اور شہید امیرالمؤمنین ملا اختر محمد منصور رحمہم اللہ جس راہ پر گامزن تھے، میں بھی ان کا پیروی کرونگا۔ جن پرانہیں اعتماد تھا، وہی میرے قابل اعتماد ہونگے۔ امارت اسلامیہ میں جس نے بھی خدمت کی ہو، اُسی طرح تسلی سے خدمت کرتے رہینگے۔ کسی کیساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جائیگا اور کسی کی قربانی کو کم نگاہ سے نہیں دیکھاجائے گا۔

اللہ تعالی سے توفیق چاہتاہوں اور وعدہ کرتاہوں کہ مقدس شریعت اور امارت اسلامیہ کے جہادی اہداف پر بھرپور توجہ دونگا۔ مسلمان عوام کی مصلحت کو مدنظر رکھوں گا۔فیصلے اور اقدامات مشورے سے کرونگا اور مؤمن و مصیبت زدہ عوام کی رہنمائی، سعادت، خودمختاری، سکون اور رفاہ کی راہ میں کسی جدوجہد سے دریغ نہیں کرونگا۔

شرعی عدالتوں کے بہترین اصلاحات اور کارکردگی، مظلوم قیدیوں کی رہائی، زخمیوں کا بہترین علاج، خواتین کو شرعی حقوق دینے، یتیموں اور لاچاروں کی حوصلہ افزائی، نئی نسل کی تعلیم و تربیت اور محاذوں میں خستہ کن مجاہدین کے رسد اور ہر حصے میں عوام کو بھلائی پہنچانے کا بھرپور کوشش کرونگا اور اللہ تعالی سے توفیق چاہتاہوں۔

امارت اسلامیہ کے موجودہ پالیسی کے متعلق وضاحت کروں کہ امارت اسلامیہ کی فوجی اور سیاسی دونوں حصوں میں واضح پالیسی موجود ہے۔ امارت اسلامیہ کو یقین ہے کہ افغانستان استعمار کی جانب سے قبضہ ہے اور استعمار کو مار بھگانے کی خاطر مقدس جہاد فرض ہے۔

مگر امارت اسلامیہ قبضے کی خاتمے، خودمختار اور واحد ملک اور ملک میں ایک مقدس اسلامی نظام کے قیام کے لیے واضح سیاسی پالیسی بھی رکھتی ہے، جو امارت اسلامیہ کی سیاسی دفتر کی جانب سے دنیا اور اہل وطن کو تشریح کردی گئی ہے اور اسی طرح افغان مسئلہ کے حل کی خاطر جدوجہد کو بھی جاری رکھیں گے۔

امریکی غاصبوں اور ان کے دیگر بیرونی ساتھیوں کو ہمارا پیغام یہ ہے کہ افغان مسلمان عوام تمہاری طاقت اور فریب کے استعمال سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ تم سے مقابلہ میں شہادت اپنی زندگی کی سب سے عظیم مقصد اور آرزو سمجھتے ہیں۔ تم افغانستان میں اپنی افواج کے اوقات میں توسیع، یا انہیں جنگی اختیارات میں اضافے سے افغانوں کے حوصلے اور جہادی جدوجہد کو کمزور نہیں کرسکتے ہو۔

مزید بے فائدے طاقت آزمائی کے بجائے حقائق کو تسلیم اور اپنے قبضے کو ختم کردو۔تمہارے خلاف ہمارا اور ہمارے سلف کا جدوجہد شعوری طور پر اسلامی بنیادوں پر استوار اور آزادی طلب جذبے سے آگے بڑھ رہا ہے۔یہاں تمہارا مقابلہ ایک گروہ یا جماعت سے نہیں ، بلکہ ایک ملت کیساتھ ہے،جسے کبھی بھی جیت نہیں سکوگے۔(ان شاءاللہ) تو بہتر ہے کہ تم طاقت کے بجائے حل کی ایک مناسب پالیسی پیش کریں۔

غاصبوں کے حامیوں کو ہمارا پیغام یہ ہے کہ گذشتہ 15 برس کے دوران تمہیں معلوم ہوا ہے کہ تم امریکی مقاصد کے حصول کی راہ میں استعمال ہورہے ہو۔ استعمار سے تمہارا تعاون اور حمایت اُن بدنام چہروں کا کام ہے، جنہوں نے ہماری گذشتہ تاریخ میں انگریز اور روس کا ساتھ دیا تھا۔ مستقبل اور آئندہ نسل تمہارے متعلق یہی فیصلہ کریگا، تو اپنے ملک کی آزادی کے مقابلے میں استعمار کے حمایت سے دستبردار ہوجاؤ۔ تمہارے لیے ہمارے معافی اور تحمل کے دروازے کھلے ہیں۔ امریکی فالتو امیدوں سے دھوکہ میں نہ پڑیں،ملت تمہارے خلاف کمربستہ ہے۔ یہ کہ تم بیرونی فضائی اور زمینی حمایت کے باوجود پرسکون زندگی نہیں کرسکتے ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تم نے عوامی مطالبات اور امیدوں کے برعکس مؤقف کو اپنا رکھا ہے۔ بیرونی قوتوں کے بنائے ہوئے نظام کو افغان عوام کسی صورت میں نہیں مانتا۔

ہمارا واضح پیغام یہ ہے کہ ہم اقتدار کا انحصار نہیں چاہتے۔ افغانوں کے تمام اقوام اور برداریوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے، بلکہ اسلامی نظام کی ارتقاء، آزادی اور طاقت افغانوں کے اتحاد و اتفاق سے وابستہ ہے۔ اسلام ہمیں اخوت، امانتداری اور اہل افراد کو ذمہ داری سونپنے کا حکم دیتا ہے۔ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ زندگی کے تمام حقوق اور امتیازات سے فائدہ اٹھائیں اور اُن کی سیاسی اور سماجی حیثیت کو اہلیت اور تقوی کے بنیاد پر منتخب کیا جائے۔ آئیے مشترکہ طور پر جارحیت کے خاتمے ، ملک کی خودمختاری اور آبادی کے لیے کمربستہ ہوجائے۔

دنیا میں مسلمانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہماری خودمختاری میں اپنے مجاہد بھائیوں کی حمایت کریں۔ ہر ممکن حصے میں ان کا ہاتھ بٹائے، انہیں دعاؤں میں یاد رکھیں اور رواں جہاد میں ان کے حمایت کو جاری رکھے۔

خطے اور ہمسائیہ ممالک کو یاد دلاتے ہیں کہ افغانستان پر امریکہ قبضہ اور یہاں ان کی موجودگی ہمارے اور تمہارے مشترکہ مفادات کو چیلنج کرتے ہیں۔ یہاں فتنے ابھارتے ہیں، یہاں اپنے اینٹلے جنس اور فوجی جدوجہد کے توسیع سے تمام علاقے کو نا امن بناتاہے۔ تم بھی جارحیت کے خاتمے میں افغانوں کے ہاں میں ہاں ملادیں اور یا کم ازکم ایسے اقدامات نہ کریں،جو امریکی موجودگی کے وقت میں اضافہ کریں۔

ان افراد کو بتاتے ہیں، جو امارت اسلامیہ کے جہادی افتخارات کو پاکستان، ایران اور دیگر کو منسوب کرتے ہیں،کہ ایسے غلط تعبیرات سے کبھی بھی مجاہدین اور بااحساس عوام کو ان کے مسیر سے منحرف نہیں کرسکوگے۔ ہماری مجاہد عوام کو اپنے دین اور ضمیرکی ذمہ داریوں کاگہرا احساس ہے۔ وہ(عوام) مشاہدہ کررہا ہے، کہ ان کے گھر میں امریکی اور نیٹو لشکر گھس آئی ہے۔سرزمین اسلام پر کفری لشکر کے جھنڈے لہرائے جارہے ہیں، تو اسی وجہ سے جہاد کی راہ کو اپنالی ہے۔ امارت اسلامیہ کی جہادی مؤقف، مشروعیت، حقانیت اور استقلال ماضی سے اظہرمن الشمس اور واضح حقیقت ہے، جسے آئندہ تاریخ سنہری حروف میں محفوظ کریگی۔

ملک کے علماءکرام، روحانی پیشوا، مدرسین، جدید علوم کے اساتذہ، طالب علموں، قومی رہنماؤں، تاجرحضرات اور اہل علم و قلم اشخاص کو بتاتا ہوں، کہ اس حساس مرحلے میں اپنے مذہبی اور ملی فریضہ کو ادا کریں۔ کفری جارحیت اور فرض عین جہاد کے قضیہ کو صرف اسلام کی نگاہ سے دیکھ لے اور اپنی ذمہ داری اپنے لیے معلوم کریں۔ راہ حق کے مجاہدین کو اکیلے نہیں چھوڑ نے چاہیے، بلکہ قلم، لسان اور ہر وسیلہ سے ان کا حمایت کریں۔

اگر خدانخواستہ کوئی بھی دشمن کے پروپیگنڈے سے متاثر ہوجائے اور مختلف بہانے اور توجیہ سے مجاہدین سےکنارہ کش اور کافروں کا ساتھ دینے کا میلان کریں، تو دنیا اور آخرت میں اس الہی وعید سے روبرو ہوگا کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:

وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ أَوْلِيَاءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُونَ.( هود۱۱۳)

ترجمہ : اور مسلمانو جو لوگ ظالم ہیں ان کی طرف مائل نہ ہونا ،نہیں تو تمہیں بھی دوزخ کی آگ آلپٹے گی اور اللہ کے سوا تمہارے کوئی دوست نہیں ہونگے پھر تمہیں کوئی مدد بھی نہ ملے گی۔
مجاہد عوام اور خاص کر محاذوں میں سرگرم مجاہد بھائیوں کو تسلی دلاتاہوں کہ للہ الحمد امارت اسلامیہ کے ذمہ داران اور افراد ماضی کی طرح بلند عزم، پختہ ایمان اور اتحاد و اخوت کے جذبے سےسرشار اور جدوجہد کو آمادہ ہیں، تمہیں خوشخبری سناتا ہوں کہ ہم حقیقی مؤمن رہے، تو آخری فتح ہماری ہوگی اور دنیا کی کوئی طاقت ہماری کامیابی کا سدباب نہیں کرسکےگا، اسی لیے اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:

ولاَ تَهِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (آل عمران ۱۳۹)

ترجمہ :اور بددل نہ ہونا اور نہ غم کرنا اگر تم سچے مؤمن ہو تو تم ہی غالب رہوگے۔

مجاہد بھائیوں کو میرا توصیہ یہ ہے کہ :

اپنی نیتوں کا اصلاح کریں، اپنے مقصد کو مالِ دُنیا، منصب، غنیمت اور شہرت نہیں، بلکہ اللہ تعالی کی رضا کو اپنا ہدف بنالے۔جہاد ایک دینی عبادت اور فریضہ ہے، اپنے جہاد کی وجہ سے کسی اور مسلمان پر خود کو فوق سمجھے اور نہ ہی ان پر احسان ڈالے۔

سمجھ جاؤ کہ ہمارے جہاد کا عظیم مقصد اسلامی نظام کا قیام ہے اور اسلامی نظام کی عمدہ ذمہ داریاں مسلمانوں کے دین، نفس، مال، عقل، نسل اور عزت کا تحفظ ہے۔ ایسا کوئی قول، فعل یا سلوک مت کرو، جو مسلمانوں کے اس اقدار(جہاد) کو چیلنج کریں۔

کوشش کریں، کہ جہاد میں مسلمانوں کو تکلیف نہ پہنچ پائیں، اپنی جہادی سرگرمیوں کو نہایت دقت سے عملی کریں۔ عام المنعفعہ مقامات مثلاہسپتال، مدارس، اسکول، پل، آبپاشی کے ذخائر اور دیگر پبلک تنصیبات اور منصوبوں کو نقصان مت پہنچاؤ، بلکہ ان کی حفاظت کریں۔ تمام علاقوں میں خاص کر ان علاقوں میں جہاں امارت اسلامیہ کا کنٹرول ہے، وہاں نئی نسل کے لیے دینی اور عصری علوم کے لیے راہ ہموار کریں۔ اہل وطن کو اذیت پہنچانے سے سختی سے اپنے آپ کو بچاؤ اور رسول ﷺکے اس قول کو یاد رکھوکہ : من ضيق منزلا أو قطع طريقا أو آذى مؤمنا فلا جهاد له – ( رواه ابو داود)

ترجمہ: جو کسی پر جگہ تنگ کریں، یا راستے کو منقطع کریں اور یا مؤمن کو ضرر پہنچائیں، تو ان کے جہاد کا مکمل ثواب نہیں ہے۔

آخر میں سرمایہ دار اور اہل ثروت حضرات سے میرا مطالبہ یہ ہے کہ عید کے ان شب وروز میں اپنے فقیر اور لاچار مسلمان بہن بھائیوں کو بھی فراموش نہ کریں اور حسب توفیق یتیموں، بیواؤں، معذوروں، قیدیوں اور محتاج خاندانوں سے تعاون کریں۔

اللہ تعالی آپ کا حامی و ناصر اور دعا کرتاہوں کہ آئندہ عیدیں اسلامی حاکمیت کے نفاذ اور مکمل استقلال کی فضاء میں ہمارا استقبال کریں۔

والسلام

امیرالمؤمنین شیخ الحدیث مولوی هبة اللہ اخندزادہ زعیم امارت اسلامیہ

۲۷ رمضان المبارک ۱۴۳۷ ھ

02/جولائی/2016 ء


متعلقہ خبریں


بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارتی فوجی قبضے کے 79 برس مکمل ہو گئے، بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں۔ بھارتی جبر کے خلاف کُل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں کی مقبوضہ وادی میں کال...

بھارتی قبضے کے 79 سال مکمل، کشمیری دنیا بھر میں یومِ سیاہ منا رہے ہیں

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

اسٹیل مینوفیکچررز کو 30 دسمبر 2026 تک جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب اور فعال کرنے کی ہدایت کردی گئی سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام اور سٹیل کی پیداوار و ترسیل کی مؤثر نگرانی کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سٹیل سیکٹر میں مانیٹرنگ کا نظام سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا، سٹیل مینوفیکچر...

آئی ایم ایف کی شرط پر ایف بی آر کا سٹیل سیکٹر کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

صوبے میں مردوں کی شرح خواندگی 68 اور خواتین کی 47 فیصد ریکارڈ پنجاب 68 فیصد کے ساتھ سرفہرست، ملک کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ گئی پاکستان میں شرح خواندگی کے حوالے سے سندھ نے دوسری پوزیشن حاصل کرلی، جہاں مجموعی شرح خواندگی 58 فیصد ہوگئی ہے۔ صوبے میں مردوں کی شرح خوا...

شرح خواندگی میں سندھ دوسرے نمبر پر، شرح 58 فیصد ہوگئی

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی وجود - منگل 27 اکتوبر 2026

کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار 40 سالہ وقار ولد مسکین جاں بحق، 35 سالہ اہلیہ شدید زخمی ہو گئی کراچی کے مختلف علاقوں میں ٹریفک حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ریسکیو سروس کے مطابق کورنگی جام صادق پُل پر ٹریلر کی ٹکر سے موٹر سائیکل ...

کراچی، حادثات میں 2 افراد جاں بحق، مشتعل افراد نے ٹریلر کو آگ لگا دی

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

دل کی صحت، جسمانی قوت اور وزن کو قابو میں رکھنے میں مددگار، مونگ پھلی میں پروٹین، فائبر، وٹامنز اور اہم معدنیات موجود مونگ پھلی کو غذائیت سے بھرپور اور کم قیمت خشک میوہ جات میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں پروٹین، صحت بخش چکنائیاں، وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس پائے جاتے ہیں۔...

مونگ پھلی کے حیرت انگیز فوائد، پروٹین اور صحت بخش چکنائی سے بھرپور قدرتی غذا

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

قطر ائیر کی کراچی اسلام آباد کی دونوں پروازوں نے شیڈول کے مطابق محفوظ لینڈ کیا، ذرائع ایران پر امریکی حملے کی دھمکی کے بعد مشرق وسطی میں جی پی ایس سگنلز میں مداخلت سے فلائٹ ٹریکنگ میں خلل آگیا۔ ذرائع کے مطابق دوحہ سے کراچی اور اسلام آباد کی قطر ائیر کی 2 پروازوں کے نمبرز اور ل...

مشرق وسطی تنازع، جی پی ایس سگنلز میں گڑبڑ، پاکستانی فلائٹس کی لوکیشنز پھر بھارت میں ظاہر ہونے لگیں

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

بیٹا خوف کے باعث خاموش رہا، ٹیچر کیخلاف کیس سامنے آنے پر پوچھ گچھ کی تو مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا، والد سرکاری اسکول میں بچوں سے مبینہ زیادتی اور نازیبا ویڈیوز بنانے کا کیس، اہم پیش رفت سامنے آ گئی۔ پولیس کے مطابق انگلش ٹیچر صفدر عباس کے خلاف ایک اور مقدمہ درج، مقدمات کی تعدا...

سرگودھا،بچوں کی نازیبا ویڈیوز بنانے کے کیس میں اہم پیش رفت، ایک اور مقدمہ درج

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

حوثیوں کے اہم کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، انتظامی تنصیبات، مورچوں اور جنگجوں کے اجتماعات کو نشانہ بنایا گیا، ترجمان یمن میں حکومتی فورسز نے 750 سے زائد کارروائیوں میں حوثیوں کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعوی کردیا دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کے اہم ہوائی اڈوں اور نیول بیس کو نشان...

یمنی فورسز کے حوثیوں پر تابڑ توڑ حملے، 218 حوثی باغیوں کی ہلاکت کا دعوی

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم وجود - پیر 26 اکتوبر 2026

فیصلہ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور اہم تنصیبات پر حوثی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے بعد کیا گیاامریکا نے سعودی عرب میں سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اپنے غیر ہنگامی سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کردی۔ عرب ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں امریکی سفارت خانے ...

امریکا کا اپنے ایمرجنسی عملے کے سوا سب کو سعودیہ چھوڑنے کا حکم

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر وجود - اتوار 25 اکتوبر 2026

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر پر اپنے ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے کہاہے کہ فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق بیرسٹر گوہر نے تردید کی کہ فیصلہ سازی می...

فیصلہ سازی میں کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو مائنس کرنے کی خبر درست نہیں،بیرسٹر گوہر

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

اینٹی کرپشن حیدرآباد نے مقدمہ درج کرلیا، چیف اکاؤنٹنٹ فواز اشرف شیخ اور جونیئر اکاؤنٹنٹ وقاص بھٹی نامزد، معاملے کی مزید تفتیش جاریحیدرآباد(این این آئی) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام میں جنوری 2025 سے اگست 2026 کے دوران پنشن کی مد میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر مجاز ا...

سندھ زرعی یونیورسٹی میں 7 کروڑ 10 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ غیر قانونی پنشن ادائیگیوں کا انکشاف، چیف اکاؤنٹنٹ گرفتار

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار وجود - هفته 24 اکتوبر 2026

رجسٹرار آفس کے ذریعے درخواست کم از کم 15 روز قبل جمع کرانا ہوگیمہمانوں کو براہِ راست دعوت نامے جاری کرنے پر پابندی، خلاف ورزی پر کارروائی کا انتباہجامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی میں تمام پروگرامز، سیمینارز، کانفرنسز اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظ...

جامعہ کراچی میں پروگرامز اور تقریبات کے انعقاد کے لیے وائس چانسلر کی پیشگی منظوری لازمی قرار

مضامین
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
تعلیم پر قومی سرمایہ کاری اور برین ڈرین

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد وجود بدھ 28 اکتوبر 2026
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات وجود منگل 27 اکتوبر 2026
گندم کی بڑھتی قیمتیں، ذخیرہ اندوزی اور عوام کی معاشی مشکلات

گونگے انسان وجود پیر 26 اکتوبر 2026
گونگے انسان

مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل وجود پیر 26 اکتوبر 2026
مصنوعی ذہانت کے دور میں استاد کا مستقبل

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر